ہم آزادی سے خائف ہیں؟

ہمارے سماج میں جس سرعت کے ساتھ سیاسی تبدیلیوں کے عمل کو ہوا دی گئی اس سے عدم استحکام کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں،انیس سو نوے کی دہائی میں سیاسی جماعتوں نے کھینچاتانی کے نامطلوب نتائج اور جنرل مشرف کے مارشل لاء کے تلخ تجربات کے بعد میثاق…

پشتون تحفط موومنٹ

پچھلے پندرہ سال سے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کی غیرمعمولی طوالت نے قبائل کے مضبوط ڈھانچے کو منہدم  کر کے  پولیٹکل سسٹم کو درھم برہم کر دیا ہے جو ڈیڑھ سو سال سے قبائل کی حیات اجتماعی کو ریگولیٹ کرتا رہا۔اسلئے حالات کا جبر جب  ان…

حالات خود لیڈر پیدا کرتے ہیں

طویل اور اعصاب شکن کشمکش کے بعد بلآخر  سینٹ الیکشن کے انعقاد نے سیاسی جدلیات میں وہ توازن قائم کر لیا جو سسٹم کی ہموار روانی کے لیے  لازمی تھا۔ول ڈیورانٹ نے کہا تھا کہ سیاست زندگی نہیں بلکہ عکس زندگی ہے،سینٹ انتخابات کے دوران پروان پانے…

ڈیرہ اسماعیل خان ۔۔۔ شہر کی روح تھک گئی

ہمیں یہ سوال کرنے کی اجازت تو نہیں کہ ملک کو افغانیوں کی اس جنگ میں کس نے دھکیل کے وسیع پیمانے پہ موت کا خوف اور بھوک وافلاس پھیلائی، جس نے  پاکستانیوں کی روح کو تاریک کر دیا،اس سے بھی بڑھ کر مہیب دہشتگردی نے معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والی…

طاقتور کی اصلاح ممکن نہیں

عام طور پہ ہماری قومی سیاست کا محور مقتدرہ کو سمجھا گیا،اسی لئے ماضی میں بحالی جمہوریت کی ساری تحریکیوں کا نشانہ اسٹیبلشمنٹ رہی۔ایسا پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے کہ پنجاب سے اٹھنے والی طاقتور سیاسی مزاحمت کا ہدف جی ایچ کیو کی بجائے عدالتی…

نوشتہِ دیوار

مقتدرہ اور حکمران  جماعت میں شدید تناؤ کے باوجود سیاسی عمل کا بہاؤ رکا نہیں،ہماری سیاست نے سمندر کی مانند اوپر سے  پرشور ہونے کے باوجود سطح کے نیچے زندگی کو قدرے پرسکون رکھا۔اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریکیں محدود دائروں میں محو خرام…

امید و بیم کے درمیان پنپتی زندگی

سیاسی جماعتوں اور مقتدرہ کے درمیان حصول اختیار کی روایتی کشمکش  کے جلُو میں دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کا مرحلہ قریب آن پہنچا ہے اور اقتدار کی سیاست کرنے والی جماعتیں نہایت احتیاط کے ساتھ کارزار انتخاب میں اترنے کی تیاریوں میں مشغول…

غیر متوقع تبدیلی

ملکی سیاست میں تیزی سے رونما ہونے والی ہمہ جہت تبدیلیوں کے ساتھ بدلتی سیاسی ترجیحات کو از سر نو مدون کرنے کا عمل لاشعوری طور پر اس متعین قومی پالیسی کو تحلیل کر دے گا جس نے پچھلے چالیس سالوں سے مملکت خداداد سمیت پورے جنوبی ایشیا کی…

ملک داخلی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے؟

مشرقی و مغربی سرحدات پر ابھرتے خطرات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی پیکار ہمیں ایک قوم کی طرح متحد کر دے گا یا پھر ہمارا داخلی انتشار مملکت خداداد کو پھر کسی حادثہ سے دوچار کرے گا ؟بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سن دوہزار اٹھارہ کی الیکشن مہم…

سیاسی ارتقاء کا ابطال

حالیہ عدالتی فعالیت کی بدولت ملک میں ستر سالوں سے جاری سیاسی کشمکش فیصلہ کن مر حلہ تک آ پہنچی ہے لیکن اسٹیٹس کو کی قوتیں اس  کی جدلیات کو تحلیل کر کے اسی پرانی ڈگر پہ لانا چاہتی ہیں جس میں سیاستدانوں کو اپنی حقیرانہ  حثیت پہ قانع ہونا پڑے…