مقدس شخصیات کی توہین اور جدید قانونی تصورات

10,210

عمار خان ناصرماہنامہ ’’الشریعہ‘‘کے مدیر ہیں اور گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں درس و تدریس سے منسلک ہیں ۔’’امام ابو حنیفہ اور عمل باالحدیث ‘‘آپ کی پہلی کتاب تھی جو1996ء میں شائع ہوئی ۔اس کے بعد ’’حدود و تعزیریت ،چند اہم مباحث‘‘دوسری کتاب تھی جو ’’المورد‘‘نے شائع کی ۔آپ کا شمار مذہبی مفکرین کی نئی اور توانا آوازوں میں ہوتا ہے۔آپ کا زیر نظر مضمون مقدس شخصیات کی توہین کے حوالے سے عالمی سطح پر جاری بحث کے حوالے سے ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے بھی حال ہی میں معروف قانون دان احمر بلال صوفی کو اپنا مشیر نامزد کیا ہے جنہیں عالمی سطح پر کسی ایسے چارٹر کی منظوری کا ہدف دیا گیا ہے جس کے بعد مقدس شخصیات کی توہین کو آزادی اظہار رائے سے ہٹ کر دیکھا جائے ۔اس پس منظر میں عمار خان ناصر کایہ مضمون سوچ کے کئی در وا کرتا ہے ۔(مدیر)

یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں آسٹریا کی عدالتوں میں 2010ء سے 2014ء تک چلنے والے ایک مقدمے کے متعلق یہ قرار دیا ہے کہ آسٹروی عدالتوں نے ملزم کو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نفرت انگیز القاب استعمال کرنے پر جو سزا دی ہے، وہ قانون کے مطابق ہے اور آزادیِ اظہار کے حق کے منافی نہیں ہے۔2009ء میں ایک خاتون نے آسٹریا میں ایک عمومی اجتماع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں طفل پرست قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ محمد ﷺاخلاقی طور پر کوئی رول ماڈل نہیں ہیں جیسا کہ مسلمان ایمان رکھتے ہیں۔ اجتماع میں موجود ایک خفیہ صحافی نے اس کے خلاف ویانا کی علاقائی فوجداری عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا جس نے متعدد سماعتوں کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ ملزمہ نے محمدﷺ پر ایک بے بنیاد الزام عائد کر کے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کوئی قابل احترام شخصیت نہیں ہیں اور یوں وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے جرم کی مرتکب ہوئی ہے۔ عدالت نے سزا کے طور پر ملزمہ کو جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے خلاف ویانا کورٹ آف اپیل اور پھر اس کے بعد آسٹریا کی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی، تاہم دونوں عدالتوں نے علاقائی عدالت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے سزا کو برقرار رکھا۔ آخری چارے کے طور پر اس فیصلے کے خلاف یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں اپیل دائر کی گئی جس کا فیصلہ عدالت کے آٹھ رکنی بنچ نے 2 اکتوبر2018ء کو کیا اور متفقہ طور پر آسٹریا کی عدالتوں کو انسانی حقوق کے اصولوں اور جمہوری قوانین کے مطابق قرار دیا۔ یہ فیصلہE.S. v. Austria کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کا انگریزی متن عدالت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔
https://hudoc.echr.coe.int/eng#{%22itemid%22:[%22001-187188%22]}
یورپی عدالت کے اس فیصلے پر مغرب کے لبرل اور سیکولر حلقوں کی طرف سے سخت تنقید سامنے آئی ہے جو آزادی اظہار کے حق کو غیر محدود سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کی رائے کی آزادی کو پابندیوں میں جکڑنے کے بجائے ان لوگوں کو جن کے مذہبی جذبات کو کسی تنقید سے یا طنز واستہزا سے ٹھیس پہنچتی ہے، اپنا رویہ بدلنا چاہیے اور تنقید، طنز اور تضحیک وغیرہ کو آزادی اظہار کی ایک جائز صورت کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔ لبرل حلقوں کا یہ نقطہ نظر مغربی تاریخ کے تناظر میں قرون وسطیٰ میں کلیسا کے سرکاری موقف کے مقابلے میں دوسری انتہا کی نمائندگی کرتا ہے۔ قرون وسطیٰ میں مسیحیت کو یورپ میں سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل تھی اور مسیحی عقائد وتعلیمات اور مقدس شخصیات پر تنقید کرنا، چہ جائیکہ ان کا مذاق اڑانا، ریاست کے خلاف جرم سمجھا جاتا تھا۔ اس تناظر میں مسیحی مذہب کی توہین کے حوالے سے تعزیری قوانین مغربی قانونی روایت کا حصہ رہے ہیں اور پیو ریسرچ سنٹر کی رپورٹ کے مطابق2014ء تک براعظم امریکا کے29 فیصد ممالک جبکہ یورپ کے16 فی صد ممالک میں توہین مذہب کے خلاف قوانین موجود تھے، تاہم بنیادی نوعیت کے سماجی وسیاسی تغیرات اور آزادی فکر کی تحریکوں کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں سیاست اور قانون کے دائرے میں مذہب کا اثر مسلسل کم ہوتا چلا آ رہا ہے اور اس کی جگہ سیکولر اقدار نے قانون سازی اور ریاستی پالیسیوں میں بنیادی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ ان جدید اقدار میں آزادی اظہار ایک بنیادی قدر ہے جسے مذہبی جذبات واحساسات کے مقابلے میں بالاتر قدر سمجھا جاتا ہے اور اس کے زیر اثر مغربی ملکوں میں توہین مذہب پر سزا کے قوانین کو ایک تدریج کے ساتھ کتاب قانون سے حذف کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکا میں وفاقی سطح پر ایسی کوئی قانون سازی موجود نہیں، لیکن بہت سی امریکی ریاستوں کو چونکہ برطانوی کامن لاء ورثے میں ملا تھا، اس لیے بعض ریاستوں، مثلاً میساچوسٹس اور مشی گن میں اب تک ایسے قوانین موجود ہیں۔ البتہ انھیں امریکی دستور کی پہلی ترمیم کے منافی ہونے کے باعث، جس میں آزادی اظہار کو بنیادی انسانی حق قرار دیا گیا ہے، عملاً کالعدم سمجھا جاتا ہے اور امریکی سپریم کورٹ1952ء میں ایسے قوانین کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔
یورپی ممالک میں توہین کے خلاف قانون کے خاتمے کا آغاز1789ء میں فرانس سے ہوا۔ فرانس کے بعض علاقوں میں ،جو کچھ عرصے کے لیے جرمنی کا حصہ بن گئے تھے یہ قانون نافذ العمل تھا، لیکن وہاں بھی2016ء میں اس کو منسوخ کر دیا گیا۔ سویڈن میں اسے1970ء میں اور برطانیہ میں2008ء میں منسوخ کیا گیا، جبکہ انسانی حقوق کے علمبردار حلقوں کی طرف سے شدید تنقید اور دباو کے نتیجے میں نیدر لینڈز، ڈنمارک، فرانس، آئس لینڈ، مالٹا اور ناروے نے بھی گزشتہ چار سال کے دوران ایسے قوانین کو منسوخ کر دیا ہے۔ نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں ان قوانین کی تنسیخ کے حوالے سے بل پارلیمنٹ میں پیش کیے جا چکے ہیں۔ آئر لینڈ میں، جہاں چند ہی سال پہلے 2009ء میں کسی بھی مذہب کے خلاف توہین کو جرم قرار دینے کے حوالے سے قانون سازی کی گئی تھی، حال ہی میں ایک عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں یہ قانون غیر موثر قرار پا چکا ہے۔
البتہ بعض یورپی ممالک میں ابھی تک یہ قانون موجود ہے اور اس کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ مثلا حال ہی میں اسپین میں ولی ٹولیڈو نامی اداکار کو خدا اور مقدسہ مریم کے بارے میں توہین پر مبنی پوسٹ لکھنے پر گرفتار کیا گیا اور اس پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے جس پر پورے مغرب کے سیکولر حلقوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا اور اسے اظہارِ رائے کی آزادی کو سلب کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ (دی گارڈین،16و20 ستمبر 2018ء) اسپین کے علاوہ جرمنی، روس، یونان اور پولینڈ وغیرہ میں بھی توہین مذہب کے خلاف قوانین موجود ہیں۔
ان تعزیری قوانین پر آزادی اظہار کے حق کے منافی ہونے کے علاوہ ایک اہم اعتراض یہ بھی ہے کہ یہ مذہبی امتیاز پر مبنی ہیں اور خاص طور پر مسیحی مذہب کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی طور پر توہین مذہب کے خلاف قوانین بنیادی طور پر مغربی معاشروں میں مسیحی مذہب کی حیثیت اور کردار کو محفوظ ومستحکم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے اور مسیحی مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب، خاص طور پر اسلام ان کے دائرہِ اطلاق میں شامل نہیں ہیں۔ چنانچہ90ء میں جب مسلمانوں کی طرف سے سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے برطانوی عدالتوں سے رجوع کیا گیا تو جواب یہ دیا گیا کہ یہ قوانین صرف مسیحی مذہب کوتوہین کے خلاف تحفظ دیتے ہیں، دوسرے کسی مذہب کو ایسا تحفظ دینا قانون کا حصہ نہیں ہے۔ مقامی برطانوی عدالتوں کے ان فیصلوں کو جب یورپی کمیشن آن ہیومن رائٹس میں مذہبی امتیاز کے نکتے کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا تو کمیشن کا جواب بھی یہی تھا کہ چونکہ برطانوی قانون برطانوی حکومت کو پابند نہیں کرتا کہ وہ تمام مذاہب کے مقدس احساسات کا تحفظ کرے، اس لیے برطانوی حکومت کا رشدی اور کتاب کے ناشر کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنا مذہبی امتیاز کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس کے مقابلے میں اسی عرصے میںیورپی کمیشن نے متعدد مقدمات میں مختلف مغربی حکومتوں کے ایسے فیصلوں کو جائز اور درست قرار دیا جن میں مسیحیوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے اقدامات کے خلاف پابندی عائد کی گئی تھی۔

Peter G. Danchin, Islam in the Secular Nomos of the European Court of Human Rights, 32 Mich. J. Int’l L. 663 (2011). Available at: http://repository.law.umich.edu/mjil/vol32/iss4/2
ان اعتراضات کی بنیاد پر مغرب کے سیکولر اور لبرل حلقوں کا، جو معاشرتی اقدار اور حکومتی پالیسیوں کی تشکیل میں مذہبی عقائد یا احساسات کا کسی درجے میں کوئی کردار قبول نہیں کرنا چاہتے، یہ مطالبہ ہے کہ مذہبی حساسیتوں کو قابل تحفظ سمجھنے اور اس کے لیے قانونی تحفظات فراہم کرنے کا زاویہ نظر بالکل ترک کر دیا جائے اور کسی بھی انداز میں کسی بھی مذہب یا اس کی مقدس شخصیات پر تنقید یا تضحیک کو ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر قبول کیا جائے۔اس کے مقابلے میں مغربی حکومتوں، قانون ساز اداروں اور عدالتوں کا زاویہ نظر یہ ہے کہ کسی بھی مذہب کو اعتراض یا تنقید سے تحفظ مانگنے کا حق نہیں اور آزادی اظہار کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شخص کو کسی بھی عقیدے یا نظریے پر، جسے وہ غلط سمجھتا ہے، تنقید یا اعتراض کرنے کا حق حاصل ہو، تاہم اس کے ساتھ معاشرتی امن وامان کو برقرار رکھنا اور کسی بھی گروہ کو نفرت یا تحقیر کا نشانہ بننے سے بچانا بھی ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا ہر قانونی نظام اپنے باشندوں کو نہ صرف جان ومال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، بلکہ ان کی عزت اور آبرو کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے اور ہتک عزت اور ازالہِ حیثیت عرفی وغیرہ سے متعلق تادیبی سزائیں اسی اصول پر مبنی ہوتی ہیں۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ راسخ العقیدہ اہل مذہب اپنے مذہبی شعائر، شخصیات اور جذبات کو جان ومال اور آبرو سے زیادہ محترم سمجھتے ہیں اور ان میں سے کسی بھی چیز کی توہین لازماً مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور نتیجتاً اشتعال انگیزی کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی مذہبی عقیدے یا عمل پر تنقید کرتے ہوئے ایسا انداز اختیار کیا جائے جس کا مقصد کسی مذہبی گروہ کو محض طعن وتشنیع اور نفرت کا نشانہ بنانا نہیں، بلکہ مفاد عامہ کو بڑھانا اور بحث ومباحثے سے درست تر نتیجے تک پہنچنا ہو۔ چنانچہ اگر کوئی بھی تنقید اس حد سے متجاوز ہو تو اسے ’جرم‘ قرار دے کر اس کے سدِباب کے لیے سزا مقرر کرنا ہر لحاظ سے جمہوری اصولوں اور تصورات کے مطابق ہے۔
زیرِ بحث مقدمے میں بھی آسٹریا کی عدالتوں اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے فیصلوں میں یہی موقف اختیار کیا گیا ہے۔ چنانچہ یورپی عدالت کے فیصلے میں آسٹریا کی علاقائی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ
’’علاقائی عدالت نے مزید کہا ہے کہ کوئی بھی شخص جو کنونشن کے آرٹیکل ۱۰ کے تحت (آزادی اظہار سے متعلق) اپنے حقوق استعمال کرنا چاہتا ہو، اس پر فرائض اور ذمہ داریوں کی پابندی بھی لازم ہے، مثلا ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا جو کسی معقول جواز کے بغیر دوسروں کے جذبات کو مجروح کرتے ہوں اور مفاد عامہ سے متعلق کسی بحث میں کوئی (مفید) حصہ نہ ڈالتے ہوں۔ آرٹیکل 9 اور آرٹیکل 10 میں دیے گئے حقوق کے مابین ایک توازن کو قائم رکھنا ضروری ہے۔ علاقائی عدالت نے ملاحظہ کیا کہ مدعی (یعنی ملزمہ) کے بیانات واقعاتی حقائق کو بیان نہیں کر رہے تھے بلکہ تحقیر پر مبنی اقداری حکم لگا رہے تھے جو جائز حدود سے متجاوز تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمہ کی نیت مسئلے پر معروضی انداز میں غور کرنے کی نہیں بلکہ براہ راست محمدﷺکی شخصیت کو مجروح کرنے کی تھی۔ عدالت نے کہا کہ نابالغ لڑکی کے ساتھ شادی کرنا اور طفل پرست ہونا، ایک جیسے عمل نہیں ہیں اور صغر سنی کی شادیاں صرف اسلام میں نہیں تھیں بلکہ یورپ کے حکمران خاندانوں میں بھی ان کا عام رواج رہا ہے۔ مزید برآں عدالت نے یہ دلیل بھی دی کہ کنونشن کے آرٹیکل 9میں آزادی مذہب کا جو حق بیان کیا گیا ہے، وہ ایک جمہوری معاشرے کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ وہ لوگ جو آزادی مذہب کے اصول کا حوالہ دیتے ہیں، یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ تنقید سے مستثنیٰ ہیں اور اگر کوئی ان کے عقائد کی نفی کرے تو انھیں اس کو بھی گوارا کرنا ہوگا۔ تاہم جس انداز میں مذہبی خیالات کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے، وہ ریاست کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی دعوت دے سکتا ہے تاکہ وہ آرٹیکل 9 کے تحت دیے گئے حقوق کے پرامن استعمال کو یقینی بنا سکے۔ ایسی چیزیں جو مذہبی عقیدت کا مرکز ہوں، انھیں اگر ایسے اشتعال انگیز انداز میں پیش کیا جائے جس سے اس مذہب کے پیروکاروں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں تو اسے بد نیتی کے ساتھ رواداری کی روح کو ،جو جمہوری معاشرے کی اساسات میں سے ایک ہے، پامال کرنے والا عمل تصور کیا جا سکتا ہے۔ عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ملزمہ کو جرم کا مرتکب قرار دے کر اس کی آزادی اظہار پر قدغن لگانے کا پورا جواز ہے اور اس کی بنیاد قانون میں موجود ہے بلکہ جمہوری معاشرے میں ایسا کرنا ضروری ہے تاکہ آسٹریا میں مذہبی امن کو محفوظ رکھا جا سکے۔‘‘
ہماری رائے میں عدالت نے ایک بہت اہم اصول کی وضاحت کی ہے جس کی گلوبلائزیشن کے اس دور میں غیر معمولی عملی اہمیت ہے اور وہ عالم اسلام اور مغرب کے مابین ایک بنیادی تہذیبی واقداری اختلاف میں مفاہمت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مغرب اور اسلام کے باہمی تعلقات کے تناظر میں اس بحث کا نقطہ آغاز سلمان رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات’’بنی تھی جو 1988ء میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب کی اشاعت وتشہیر اور اس پر سامنے آنے والے بین الاقوامی رد عمل نے عالم اسلام اور مغرب کے باہمی تعلقات کی بحث میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا جس کی اہمیت اور اثرات کئی لحاظ سے افغانستان میں سوویت افواج کے داخلے، خلیج میں امریکی افواج کی آمد اور نائن الیون جیسے تہلکہ خیز سیاسی وعسکری واقعات سے بڑھ کر ہیں۔ اس بحث کا مرکزی نکتہ دو مختلف نظام ہائے اقدار اور سماجی آزادیوں کے دو متخالف تصورات کا باہمی تصادم ہے، اور یہ بحث اس فالٹ لائن کو نمایاں کرتی ہے جو اقدار کی سطح پر مسلم معاشروں اور جدید مغربی تہذیب کے مابین پائی جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ ایک نئی صورت حال تھی جس سے دور جدید سے پہلے ان دونوں تہذیبوں کو واسطہ پیش نہیں آیا تھا۔
دور جدید سے پہلے قانون بین الاقوام کی نوعیت بہت مختلف تھی اور اس نوعیت کے واقعات ریاستوں اور حکومتوں کے باہمی تعلقات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی قانونی روایت میں یہ مسئلہ اس تناظر میں زیر بحث آتا ہے جب اسلامی ریاست میں مقیم کسی غیر مسلم نے اس فعل شنیع کا ارتکاب کیا ہو۔ اگر مسلم ریاست کے دائرہِ اختیار سے باہر کسی فرد نے ایسا کیا ہو تو کلاسیکی اسلامی قانون اس صورت سے تصریحاً کوئی تعرض نہیں کرتا اور چونکہ فقہی دور میں رائج قانون بین الاقوام کے تصور کے تحت کسی محارب قوم کے قانونی دائرہِاختیار میں رونما ہونے والے اس طرح کے واقعات سے زیادہ سروکار نہیں رکھا جاتا تھا، اس لیے اس سے کوئی عملی مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوتا تھا، تاہم دنیا کے سیاسی وتہذیبی ارتقا اور قانون بین الاقوام میں پیدا ہونے والے تغیرات کے نتیجے میں اس صورت حال میں ایک جوہری تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اب دنیا کی کم وبیش تمام اقوام ایک بین الاقوامی معاہدے کی فریق اور اس کی پاس داری کی پابند ہیں اور اس کے نتیجے میں اقوام عالم ایک دوسرے سے جذبات واحساسات کے باہمی احترام کی توقع بھی رکھتی ہیں اور اگر ان کو پامال کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے اثرات براہ راست قانون بین الاقوام اور عالمی سیاست کے پورے ڈھانچے پرمرتب ہوتے ہیں۔ مزید برآں معاصر مغربی معاشروں میں مسلمانوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جس کے مذہبی جذبات مسلم معاشروں میں مقیم مسلمانوں سے کسی طرح کم نہیں، بلکہ مغرب کے اندر رہنے والی ایک کمیونٹی کے طور پر وہ اس بحث کے بنیادی فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس صورت حال میں توہین رسالت کی بحث نے، جو اس سے پہلے اسلامی قانون کی ایک داخلی بحث تھی، عالم اسلام اور مغرب کے مابین ایک نہایت حساس اور نازک نزاعی مسئلے کی صورت اختیار کر لی ہے۔
عالم اسلام کی مذہبی وسیاسی قیادت نے مغربی معاشروں کی داخلی صورت حال سے براہ راست واقف نہ ہونے نیز ٹھنڈے دل ودماغ سے معاملات کا جائزہ نہ لینے کی وجہ سے اس پر جو بالکل ابتدائی رد عمل ظاہر کیا، اس کی عالمی ترجمانی آیت اللہ خمینی کے فتوے کی صورت میں ہوئی جس میں رشدی کو واجب القتل قرار دے کر گویا اس بات کو مسلمانوں پر فرض کفایہ قرار دیا گیا کہ ان میں سے جس کو بھی موقع ملے، وہ سلمان رشدی کو قتل کر دے۔ یوں رشدی کی کتاب سے جو کشیدگی اور تناو پیدا ہوا تھا، اس فتوے نے اسے مزید بڑھا دیا اور عملًا اس کا نتیجہ عالم اسلام کی توقعات اور خواہشات کے برعکس نکلا۔ رشدی نے یہ کتاب اپنی ذاتی حیثیت میں لکھی تھی اور برطانوی حکومت ابتداًً اس میں کسی بھی حوالے سے فریق نہیں تھی، لیکن قتل کے فتوے نے اسے ایک حکومتی اور سیاسی مسئلہ بنا دیا اور حکومت برطانیہ نے نہ صرف رشدی کو سرکاری طور پر تحفظ فراہم کیا، بلکہ فتوے کے رد عمل میں اسے مغرب کے لبرل حلقوں میں آزادیِ اظہار کے ہیرو کا درجہ حاصل ہو گیا۔ یوں بین الاقوامی قانون اور سیاسی حکمت عملی، دونوں اعتبار سے فتوائے قتل کی اپروچ غلط اور ناکام ثابت ہوئی۔
اس کے بعد اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے 1998ء میں اس حوالے سے سیاسی وسفارتی جدوجہد شروع کی اور اسلامی قانونی ومذہبی تصورات کے پس منظر میں اس کی کوششوں کا ہدف یہ رہا کہ مذہبی مفہوم میں توہینکو ایک جرم قرار دلوایا جائے۔ مغربی معاشرے کے فکری ارتقا اور قانونی وسیاسی تصورات کے موجودہ منظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں تھا کہ ان کوششوں میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی، تاہم او آئی سی کو اس نتیجے تک پہنچنے میں کم وبیش پندرہ سال لگے اور بالآخر2012ء میں تنظیم کی طرف سے باقاعدہ اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا۔
رویٹرز کی رپورٹ (15اکتوبر2012ء ) کے مطابق او آئی سی کے سیکرٹری جنرل احسان الدین اوغلو نے بتایا کہ او آئی سی کی طرف سے1998ء سے 2011ء تک اس بات کی ان تھک کوشش کی جاتی رہی ہے کہ اقوام متحدہ کی تائید سے عالمی سطح پر توہین مذہب پر قانونی پابندی عائد کی جائے، لیکن ہم اقوام متحدہ کو قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، کیونکہ مغربی حکومتوں کے ہاں ایک عجیب تصور ہے جو دوسروں کے احساسات کو مجروح کرنے اور ان کی توہین کرنے کو بھی آزادی اظہار میں شمار کرتا ہے اور وہ اس کے خلاف قانون سازی کو آزادی رائے کے خلاف سمجھتے ہیں۔ احسان الدین اوغلو نے کہا کہ اس لیے اب ہم نے یہ طے کیا ہے کہ اس عنوان سے عالمی قانون سازی کے لیے مزید کوئی کوشش نہیں کریں گے اور اس کے بجائے مغربی ممالک سے اپیل کریں گے کہ ان کے ہاں مقامی طور پر توہین مذہب یا نفرت انگیزی کے خلاف جو قوانین موجود ہیں ان کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات واحساسات کو مجروح کرنے والے اقدامات کا قانونی سد باب کریں۔ اوغلو نے کہا کہ اس کے سدباب کے لیے مغربی ممالک میں مناسب قوانین اور اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی قراردادیں پہلے ہی موجود ہیں اور ان کو بس لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔
رویٹرز کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ1998ء کے بعد سے او آئی سی کی طرف سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی مختلف کمیٹیوں اور جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں ہر سال پیش کردہ قرادادوں کو اکثریت کی تائید حاصل ہوتی رہی جن میں مذاہب کو بدنام کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا تھا، لیکن مغربی حکومتوں کی طرف سے ایسی قراردادوں کو آزادی اظہار کے لیے خطرہ قرار دیا گیا اور یوں یورپی وامریکی ممالک کی مخالفت کی وجہ سے 2010ء تک ان کو حاصل تائید 50 فی صد تک رہ گئی۔
(https://www.reuters.com/article/us-islam-blasphemy/wests-free -speech-stand-bars-blasphemy-ban-oic-idUSBRE89E18U20121015)
حاصل کلام یہ کہ مذہبی قانونی روایتوں میں،چاہے وہ اسلام ہو یا مسیحیت، توہین مذہب پر سزا کی بنیاد تقدس کی پامالی کے مذہبی تصور پر تھی۔ جدید مغربی معاشروں میں یہ تصور اپنی تاثیر کھو چکا ہے اور ہیومن ازم کے فلسفے کے زیر اثر اس کی جگہ آزادی رائے کے تقدس نے حاصل کر لی ہے۔ تاہم ہیومن ازم ہی کا فلسفہ ایک دوسرے اصول یعنی انسانی جذبات واحساسات کے احترام کو بھی تقدس دیتا ہے۔ یوں مذہبی تقدس کے تصور کے تحت نہ سہی، انسان دوستی کے تصور کے تحت آزادی اظہار کے ایسے اسالیب پر قدغن عائد کرنے کی فلسفیانہ وقانونی بنیاد موجود ہے جو ایک ہی دنیا میں رہنے والے مختلف گروہوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے اور نتیجتاً بدامنی اور فساد کو جنم دیتے ہوں۔ چنانچہ پچھلی تین دہائیوں پر محیط اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ تہذیبوں، معاشروں اور قانونی وسیاسی تصورات کے باہمی تعامل میں تصادم سے بچنے اور پرامن بقائے باہمی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکات کو دریافت کرنا اور یہ سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ ایک عالمی ماحول میں قانونی ضابطے یک طرفہ طور پر کسی ایک تہذیبی روایت یا قانونی نظام پر مبنی نہیں ہو سکتے۔ یہاں عملیت کا زاویہ نظر اختیار کرنا ناگزیر ہے اور کوشش کا ہدف کسی ناگوار صورت حال کے مکمل خاتمے کے بجائے اسے کم سے کم کرنے کو ہی بنایا جا سکتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...