پولیس کو مزید کتنے اختیارات چاہئیں؟

210

ہمارے مہربان دوست، ہزارہ رینج کے آر پی او، محمد علی بابا خیل کا شمار خیبر پختون خوا پو لیس کے ایماندار اور فرض شناس افسران میں ہوتا ہے۔ وہ ذاتی طور پہ سماجی اقدار سے آشنا اور نہایت باوقار شخصیت کے مالک ہیں۔ بابا خیل پولیس میں آنے سے کچھ عرصہ قبل صحافت سے بھی وابستہ رہے، اسی لیے پولیس سروس جوائن کرنے کے بعد بھی انہوں نے خود کو لکھنے پڑھنے سے منسلک رکھا، تاہم اب ان کی تحریروں کے موضوعات پولیسنگ اور پولیس اصلاحات تک محدود رہ گئے ہیں۔ بلاشبہ وہ ایک باکمال افیسر کی طرح پولیس کے مسائل کی نشاندہی اوراپنے ادارے کے مفادات کی ترجمانی کا حق ادا کرتے ہیں۔

21 جولائی کے انگریزی روزنامہ ڈان میں چھپنے والے اپنے تازہ مضمون(Sisyphean task)میں انہوں نے سندھ اسمبلی کی طرف سے پولیس ایکٹ 1961 کو ریپیل کر کے پولیس آرڈر 2002 کی جولائی 2011 کی سطح پہ دوبارہ بحالی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے برصغیر میں پولیس اصلاحات کے پورے عمل کو کارلاحاصل قرار دیا۔ اپنے مضمون میں انہوں نے انڈین نیشنل پولیس کمشن 1979-81 کی تجویز کردہ اصلاحات اور 2005 میں سنٹرل گورنمنٹ کی طرف سے بنائی گئی سولی سوراب کمیٹی کے پیش کردہ ماڈل پولیس ایکٹ کی ناکامی کا وبال بھی مقننہ اور سیاسی قیادت کے سر ڈالتے ہوئے نہایت تاسف کا اظہار کیا۔

مضمون نگار پولیس کے کام میں مبینہ سیاسی مداخلت اور درپیش ہمہ جہت مسائل کا ذکر تو نہایت تفصیل سے کرتے ہیں لیکن پولیس کی کارکردگی اور جوابدہی کے کسی میکانزم کی وضاحت سے دانستہ پہلو تہی کر جاتے ہیں۔ پولیس ریفارمز کی بات ہر کوئی کرتا ہے لیکن کس قسم کی اصلاحات اور کونسے ماڈل کی پیروی کرنی ہے اس میں کافی ابہام پایا جاتا ہے۔ خود پولیس والے جب ریفارمز کی بات کرتے ہیں توان کی مراد ایسی داخلی خود مختاری ہوتی ہے جو جوابدہی کے ہر نظام سے بالاتر ہو، حتّی کہ صوبہ کے چیف ایگزیکٹیو کی بازپرس کو بھی وہ سیاسی مداخلت تصور کرتے ہیں۔ بابا خیل جب سندھ کے نئے پولیس ایکٹ پہ تنقید کرتے ہیں تو ان کا بھی اصل ہدف اس ایکٹ کے تحت وزیراعلیٰ کو دیے گئے اختیارات ہیں۔

پولیس ریفارمز کی بات ہر کوئی کرتا ہے لیکن کس قسم کی اصلاحات اور کونسے ماڈل کی پیروی کرنی ہے اس میں کافی ابہام پایا جاتا ہے، خود پولیس والے جب ریفارمز کی بات کرتے ہیں توان کی مراد ایسی داخلی خود مختاری ہوتی ہے جو جوابدہی کے ہر نظام سے بالاتر ہو

اس حقیقت سے محمدعلی باباخیل سمیت ہر کوئی واقف ہے کہ تحریک انصاف کی ناتجربہ کار قیادت نے خیبر پختونخوا میں پولیس ایکٹ دوہزار سترہ/ اٹھارہ کی منظوری کے ذریعے لامحدود اختیارات تفویض کر کے پولیس کو سسٹم سے ماوراء کر دیا لیکن پھر بھی پولیس ڈلیور نہیں کر سکی۔ سنہ 2000 سے قبل آئی جی پولیس ہوم سیکریٹری کے ماتحت ہوتا تھا لیکن آج آئی جی پی سے چیف سیکریٹری اور وزیراعلیٰ بھی پوچھ نہیں سکتے۔ پچھلے دور میں تحریک انصاف کے ایم این اے علی محمد خان کو سوال جواب کرنے کی پاداش میں مردان پولیس کے ہاتھوں بے آبرو ہونا پڑا۔ یہ بات ذاتی طور پہ میرے علم میں ہے کہ پشاور میں تھانوں کے ایس ایچ اوز کسی صوبائی وزیر کی فون کال وصول نہیں کرتے۔ پولیس کے مالیاتی امور اور ترقیوں و تبادلوں کے نظام پہ آئی جی پی پوری طرح حاوی ہیں، چیف سیکریٹری تو اٹھارہ اور اس سے اوپر والے گریڈ کے افسرکا تبادلہ وزیر اعلی کی پیشگی اجازت کے بغیرنہیں کر سکتا لیکن آئی جی پی کو 20 گریڈ کے ڈی آئی جیز کی تبدیلی و تعیناتی کا حتمی اختیار حاصل ہے۔ پولیس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ سے بھی استثنا دیا گیا۔ کوئی شہری ان سے معمول کے کرائم کا ڈیٹا بھی نہیں مانگ سکتا۔

پولیس آرڈر 2002 میں نہتے شہریوں کے خلاف پولیس کی جارحیت کے سدباب کے کے لیے پبلک سیفٹی کمشن کا قیام شامل تھا لیکن بیس سال ہونے کو آئے پولیس نے پبلک سیفٹی کمشن بننے نہیں دیا۔ بلکہ مصالحتی کمیٹوں کے ذریعے متوازی عدالتی نظام کھڑا کرکے خودسری کی انتہا کر دی۔ سنہ 2017 کے ایکٹ میں شامل پبلک سیفٹی کمشن کے ممبران کے انتخاب کے لیے ڈسٹرک اینڈ سشن ججز کی سربراہی میں سکرونٹی کمیٹیوں کے قیام کو ہائی کورٹ میں چیلنج کروا کے غیر معینہ مدت کے لیے حکم امتناعی حاصل کر لیا گیا۔ اس سے قبل جب صوبائی حکومت نے ڈپٹی کمشنرز کو سیفٹی کمشن کا سیکریٹری بنانے کا تہیہ کیا تو پولیس نے مزاحمت کر کے منتخب اتھارٹی کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کر دیا۔ اب کہتے ہیں سول آفیسرز نہیں بلکہ کسی کنٹریکٹ ملازم کو تین سال کے لیے پبلک سیفٹی کمشن کا سیکریٹری بنایا جائے۔ گویا پولیس خود کو عوام، ریاست یا حکومت کے سامنے جوابدہ بنانے کو تیار نہیں۔ یہ طرز عمل قانون فطرت کے منافی اوراس عالمگیر سچائی سے متصادم ہے جس میں اختیارات کے حامل ہر شخص کو کسی نہ کسی اتھارٹی کے سامنے جوابدہ لازمی ہونا چاہیے۔ خصوصاََ ڈنڈے کو تو آزاد چھوڑنا شرف آدمیت کی تذلیل کے مترادف ہو گا لیکن پولیس ہر قانونی حدود سے مبّرا اور جوابدہی کے ہر میکانزم سے نجات کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔

انسداد رشوت ستانی ڈیپارٹمنٹ پہ پولیس خودقابض ہے۔ تحریک انصاف حکومت نے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو پولیس سے الگ کرنے کی جسارت کی تو اسے باغیانہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔علیٰ ہذالقیاس، اس سب کے باوجود بھی عمران خان کو توقع تھی کہ سیاسی اتھارٹی کے جائز کنٹرول سے مطلقاََ آزادی اور لامحدود اختیارات کی حامل خیبر پختونخوا پولیس کچھ ڈلیور کرے گی تو ان کی سیاسی ساکھ بہتر ہو جائے گی لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔ گزشتہ چھ سالوں میں کرائم ریٹ بڑھتا رہا، چوری، ڈکیتی، موٹر سائیکل چھننے اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کنٹرول ہوئیں، نہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ایرانی پٹرول کی ترسیل کا دھندہ بندکیا جا سکا۔ صوبہ بھر میں پولیس گھروں، دکانوں اور موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں کی ایف آئی آر درج کرنا بھول گئی۔ اگر کوئی متاثرہ شہری ایف آئی آر کے اندراج پہ اصرار کرے تو شک کی بنیاد بنا کے اس کے بیوی بچوں اور قریبی رشتوں داروں کو دھر لیا جاتا ہے، جس کے بعد مجبوراً شریف شہری کوایف آئی آر کے اندارج سے دستبردار ہونا پڑتاہے۔

جو پولیس پشاور میں ٹریفک نظام نہیں چلا سکتی وہی پولیس ہم سے چاروں صوبوں کی غیرمشروط و غیر محدود کمانڈ طلب کرتی ہے۔ ہم پی ایس پی افسران کی بات تو نہیں کر سکتے کہ وہ تنقید اور جوابدہی کے ہر عمل سے بالاتر ہیں، یہاں ہم صرف گیارہ سے سترہ گریڈ کے  ان رینکرز کی بات کریں گے جن کی ناگوار حیثیت اورتکلیف دہی کی قیمت(Nuisance value)اور معیار زندگی دیکھ کے ہم احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ چودہ گریڈ کے ایس ایچ کے پاس متعدد ایکٹس تلے ساڑھے چار سو سے زیادہ اختیارات ہیں۔ وہ قتل کے ملزم کوشخصی ضمانت پہ چھوڑنے اور کسی بھی شہری کو 107 میں گرفتار کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اب تو پولیس کو دیکھتے ہی گولی مارنے(Shoot to kill)کا اختیار بھی  مل گیا ہے۔

2004 میں پشاور پولیس کے ایک انسپکٹر نے عدالت میں تلخ نوائی کے بعد سیشن جج کے خلاف تھانہ میں آیف آئی آر درج کرا ڈالی۔ بعد میں اعلی افسران نے مداخلت کر کے شریف النفس جج کی عزت بچائی۔ 2003 میں ایس ایچ او کینٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان کے پہلے اور نہایت طاقتور ضلع ناظم لطیف اللہ خان علیزئی کے خلاف ایف آر دے کر جنرل مشرف کے ضلعی حکومتوں کے پورے نظام کی چولیں ہلا ڈالیں۔ خیبر پختون خوا پولیس کے اچھی شہرت کے حامل، بااصول اور بہادر پولیس آفیسر جسے حال ہی میں دہشتگردوں نے شہید کردیا، کا آبائی گھر بنوں میں تھا لیکن ان کے زیراستعمال پشاور کے پوش ایریا حیات آباد اور اسلام آباد میں بھی دو بنگلے تھے۔ نیب سمیت احتساب کا کوئی ادارہ ایسا ہے جو صرف رینکرزپولیس افسران کی تنخواہ اورمعیار زندگی میں مماثلت تلاش کر سکے۔ اگرجرائم کی افزائش نہ ہوتی تو پولیس والے امیر نہیں ہو سکتے تھے۔ لہذا حکومت صرف پولیس اختیارات میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر توجہ مرکوز نہ رکھے، ان کے احتساب اور جوابدہی کو بھی یقینی بنائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...