فرقہ واریت کی تشکیلِ جدید

11,486

خورشید ندیم کا شمار دورِ حاضر کے معروف دانشوروں میں ہوتا ہے ۔کالم نگار اور اینکر ہونے کے ناطے ان کے ابلاغ کا دائرہ وسیع تر ہے ۔آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر ہیں اور اس سے پیش تر کونسل کے جریدے ’’اجتہاد ‘‘ کے مدیر بھی رہ چکے ہیں ۔آپ ادارہ تعلیم و تحقیق کے سربراہ ہیں اور کئی علمی و تحقیقی کتابیں تصنیف کر چکے ہیں۔ قارئین تجزیات کے لیے وہ باقاعدگی سے لکھتے ہیں ۔ان کا حالیہ مضمون انتہائی اہم موضوع کا احاطہ کرتا ہے۔ انسانی سماج بالخصوص مسلمانوں کو ہر دورمیں فرقہ واریت کا سامنا رہا ہے ۔اس کی جڑیں خالصتاً مذہبی نہیں بلکہ دورِ قدیم کی سیاسی عصبیتوں میں پیوست ہیں۔مسلم سماج میں فرقہ واریت کا موضوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کے سبب مسلم معاشرے افراتفری و باہمی خون ریزی کا شکار رہے ہیں۔ فرقہ واریت کی تاریخ اور اس کے جدید تناظرکے حوالے سے تحریر شدہ ان کا یہ مضمون ایک منفرد نقطہِ نظر کا حامل ہے۔ (مدیر)

فرقہ اور مسلک دو مختلف اصطلاحات ہیں جو سیاسی وعلمی اختلافات کے لیے مسلم تاریخ میں مروج رہی ہیں۔ فرقہ واریت سے مراد وہ اختلافات ہیں جو اصلاً سیاسی تھے لیکن بعد میں جب ان کے لیے مذہبی دلائل تلاش لیے گئے توان اختلافات نے مذہبی رنگ اختیار کرلیا ۔ مسلمانوں میں پہلا اختلاف رسالت ماب ﷺ کی سیاسی جانشینی کے مسئلے پر ہوا ۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں دو سیاسی موقف سامنے آئے ،بعد ازاں جب اہلِ بیت بھی اس میں فریق کے طور پر نمایاں ہوئے توایک تیسرا موقف بھی اس بحث کا حصہ بن گیا ۔مہاجرین، اہلِ بیت اور انصار کی طرف سے جانشینی کے استحقاق کا دعوی کرلیا گیا ۔فیصلہ مہاجرین کے حق میں ہوگیا۔
دوسرا اختلاف سیدنا عثمانؓ کے عہد میں ہوا جب ان کے خلاف ایک سیاسی تحریک چلی اور انہیں منصب سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔اس کا انجام خلیفہ راشد کی شہادت پر ہوا ۔ تیسرا اختلاف سیدنا عثمانؓ کی جانشینی کے مسئلے پر تھا،اس کا انجام اس طرح ہوا کہ سیدنا علیؓ کی شہادت ہوگئی، سیدنا معاویہؓ کا اقتدار مستحکم ہوگیا اور مسلمانوں میں ایک تیسرا گروہ پیدا ہوگیا جسے خوارج کہا گیا ۔گویا ایک بار پھر تین جماعتیں وجود میں آگئیں:شیعانِ علیؓ ،شیعانِ معاویہؓ اور خوارج۔
ان اختلافات نے مسلم ریاست کو عدمِ استحکام سے دوچا ر رکھا۔خانہ جنگی کی ایک تاریخ ہے جو بہت سے خونریزی کے واقعات سے مملو ہے۔ فرقہ، جو سیاسی مفادات کی بنیاد پر وجود میں آتا ہے اس کی آخری منزل اقتدار ہوتا ہے ۔اس لیے غیرجمہوری معاشروں میں اقتدار کی منتقلی کا یہ عمل پرامن نہیں ہوتا ۔مسلم تاریخ بھی اسی کی شہادت دیتی ہے۔
مسلمانوں کے اختلافات کا ایک دائرہ وہ ہے جس کی بنیاد پر مسائل وجود میں آئے ۔مأخذاتِ دین پر غور وفکر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اختلافات فطری حاصل ہیں ۔جب بھی کسی متن کو اس کے زمانہِ نزول کے بعد سمجھنے کی کوشش کی گئی یا اس سے استنباطِ احکامات کی روایت آگے بڑھی ،اختلافات پیدا ہونا فطری تھا ۔ مسلمانوں میں مختلف تفسیری اور فقہی مکاتبِ فکر کا ظہور اسی غوروفکر کا نتیجہ ہے ۔جب تک یہ اختلاف اعلی درجے کے اصحابِ فکر تک محدود تھا یہ اختلاف فکری ارتقاء کا سبب بنا اور اسی کے باعث یہ ممکن ہواکہ غوروفکر کی روایت تسلسل کے ساتھ آگے بڑھی۔
دورِجدید میں ایک بار پھر سیاسی اختلافات کی تشکیلِ نو ہو رہی ہے جو دراصل فرقہ واریت ہی کی تشکیل نو ہے۔ بیسویں صدی میں جب مسلم دنیا میں سیاسی وسماجی احیا کی تحریکیں اٹھیں تو اسلامی ریاست کا مقدمہ سامنے آیا۔نوآبادیاتی عہد سے نکل کر آزاد ہونے والے علاقوں کے لیے جو سیاسی ماڈل تجویز کیا گیا اسے اسلامی ریاست کا نام دیا گیا۔یہ دراصل تصورِ خلافت کی تشکیلِ نو تھی ۔اس کے لیے جو دینی تعبیر اختیار کی گئی علم کی دنیا میں اس کے لیے سیاسی اسلام کی اصطلاح استعمال ہوئی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئی تبدیلیوں کے زیرِاثر مسلم معاشروں میں داخلی طور پر یا بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والے واقعات کی بنا پر ایک نئی کشمکش نے جنم لیا ۔اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی ریاست کی تعبیر مسلم معاشرے کی غالب فکر بن گئی ۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ وہ گروہ جو دورِ اول کے سیاسی اختلافات کے نتیجے میں وجود میں آئے وہ اس مقصد کے لیے یکجا ہوگئے ۔ان کے بالمقابل ایک گروہ کھڑا ہوا جوسیکولر اور لبرل روایت کا علمبردار تھا ۔اس کے نزدیک مسلم معاشروں کی سیاسی تقسیم غیرمذہبی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔
لبرل طبقہ اس نقطہ نظر کے ساتھ سامنے آیا کہ سیکولرازم سے مراد لادینیت نہیں ۔مذہب ایک سماجی قوت کے طور پر موجود رہے گا لیکن ریاست کے امور میں اس کے کردار پر اگر اصرار کیا گیا تواس کا لازمی نتیجہ فساد ہے ۔اس طبقے کے نزدیک ریاست کے معاملات سے مذہب کو الگ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس خیال کا حامل لادین ہوجائے گا۔
اس دور کے اکثر مسلمان معاشروں میں ریاست کی فکری تقسیم کے حوالے سے لوگ دو طبقات میں منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اسلامی ریاست کے علمبردارہیں اور دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو سیکولر ریاست کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے ۔اگر یہ مقدمہ درست ہے کہ فرقہ واریت ریاست کی خاص نظریاتی تشکیل کا اظہار ہے تو یہ دراصل مسلم معاشروں میں فرقہ واریت کی تشکیلِ جدید ہے۔دورِاول میں تین مسلمان فرقے تھے :سنی ،شیعہ اور خوارج۔جبکہ دورِ جدید میں دو فرقے ہیں: اسلامسٹ اور لبرل۔
فرد یا گروہ کی نظریاتی تشکیل ایک خاص طرح کی انتہاپسندی کو جنم دیتی ہے ۔اس سے بقائے باہمی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں ۔نظریہ جب فرد کی شخصی پہچان بنتا ہے تو پھر اس کا امتیازی وصف بن جاتا ہے ۔یہی معاملہ ریاست کا بھی ہے۔اس کی خاص نظریاتی تشکیل کا تصور دراصل ریاست کو فرقہ وارانہ بنا دیتا ہے ۔اس میں پھر وابستگی کسی خاص فکر سے باقی نہیں رہتی ،گروہی بن جاتی ہے۔
مثال کے طور پر جمہوریت،سیکولر یا لبرل نظامِ اقدار کا ناگزیر حصہ ہے ۔اگر ایک مسلمان معاشرے میں عوام کی اکثریت اس پر اتفاق کرلے کہ وہ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں سیاسی نظام کی تشکیل چاہتی ہے تو لبرل طبقے کے لیے یہ قابلِ قبول نہیں کیونکہ یہ اس کے نظامِ فکرکے تحت قائم شدہ تصورات سے متصادم ہے ۔ دوسری طرف یہی مسلمان تحریکیں(اسلامسٹ) جب ایک غیرمسلم اکثریتی ملک میں متحرک ہوتی ہیں تو ایک سیکولر ریاست کا مطالبہ کرتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ جب سیکولرازم کا مطلب لادینیت ہے تو یہ ایسا مطالبہ کیوں کرتی ہیں ،کیا یہ ان کے نظامِ فکر سے متصادم نہیں؟
مسلمان معاشرے آج کل اس نئی فرقہ واریت سے گزر رہے ہیں ۔دورِ اول کی فرقہ واریت اپنی جگہ برقرار ہے لیکن یہ اس وقت رُوبہ عمل ہوتی ہے جب گروہی مفادات کا تقاضا ہوتا ہے ۔سیاسی سطح پر اب تقسیم قدیم فرقہ وا رانہ بنیادوں پر باقی نہیں رہی ۔یہ سب فرقے سیاسی اعتبار سے ایک اتفاقِ رائے تک پہنچ چکے ہیں ۔مثال کے طور پر ایران میں شیعانِ علیؓ اقتدار کے مراکز پر غلبہ رکھتے ہیں ۔انہوں نے تصورِ امامت کی تشکیلِ نو کرتے ہوئے ایک نیم جمہوری نظام اختیارکرلیا ہے ۔دوسری طرف پاکستان کے سنی اکثریتی ملک میں خلافت کی تشکیلِ نو قومی ریاست کے ڈھانچے کو اختیارکرکے کرلی گئی ہے۔
مسلم معاشروں کی تشکیلِ نو کے باب میں مذہب اور ریاست کا باہمی تعلق بنیادی اہمیت اختیارکرچکا ہے۔ نشاۃ ثانیہ کی نفسیاتی ساخت کے ساتھ معاملات کو دیکھنے کے نتیجے میں احیائے خلافت جیسے تصورات کو تقویت ملی جس نے القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کوجنم دیا ۔اسلامی تحریکوں کی آخری منزل اگرچہ یہی عالمی خلافت ہے لیکن انہوں نے مقامی ریاست کے ساتھ ایک مطابقت قائم رکھتے ہوئے اسے ایک پڑاؤ کے طور پر قبول کرلیا ہے ۔ تیسرا گروہ وہ ہے جس کی سوچ کا پیراڈائم قومی ریاست ہے اور وہ مذہب کو اسی پیرائے میں دیکھتا ہے۔تاہم ایک جدید ریاستی ڈھانچے میں سرِدست اس بات کے امکانات دکھائی نہیں دیتے کہ اس باب میں وہ یک سوئی پیدا ہوجائے گی جو مغربی ممالک میں پیدا ہوچکی۔
غوروفکر کا ایک نیا عمل، جس کے بعض مظاہر پہلے انڈونیشیا میں نمودار ہوئے اور اب اس کا جدید ترین مظہر تیونس ہے ،امید کی ایک کرن ہے۔یہ مذہب وریاست کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے ۔پاکستان میں بھی مذہب وریاست کے تعلق پر بحث کا آغاز ہوچکا ہے ،اس کا کوئی نتیجہ سرِدست اس کے علاوہ سامنے نہیں آیا کہ فرقہ واریت تشکیلِ نو کے مرحلے سے گزر رہی ہے ۔یہ اہلِ دانش کا امتحان ہے کہ وہ اس بحث کو کس طرح نتیجہ خیز بناتے ہیں ۔اس کے لیے جہاں ان مذہبی مقدمات پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے جو بیسویں صدی میں قائم کیے گئے ،وہاں مسلم سماج کی نفسیاتی ساخت کو بھی پیشِ نظر رکھنا پڑے گا جس کے اجزائے ترکیبی میں مذہب شامل ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...