پی ٹی ایم قبائلی اضلاع کو قومی دھارے میں لانے میں رکاوٹ ہے

38

پچھلے کئی ہفتوں سے مرکزی دھارے کے میڈیا کی پوری توجہ قومی بجٹ سے جڑے مباحث اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جعلی بنک اکاونٹس کیس میں گرفتاری کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹی کانفرنس کے انعقاد جیسی سرگرمیوں پہ مرتکز رہنے کی وجہ سے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی سولہ صوبائی نشستوں پہ انتخابات کی سرگرمیوں کو پوری کوریج نہیں مل سکی۔ تحریک انصاف کے سوا دیگر ملک گیر جماعتوں کی عدم دلچسپی بھی قبائلی اضلاع کے انتخابات کو پس منظر میں دھکیلنے کا سبب بنی۔

ہماری پارلیمنٹ نے 31 مئی 2018 کو 25 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سات قبائلی ایجنسیوں اور ایف آرز کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ کر کے فاٹا کے عوام کو پہلی بار صوبائی اسمبلی کا ووٹ کاسٹ کرنے کا موقع دیا۔ قبل ازیں سنہ 1996میں سابق صدر فاروق لغاری نے ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے قبائلی عوام کو ووٹ کا حق دے کرانہیں قومی اسمبلی  کے لیے براہ راست نمائندے منتخب کرنے کا موقع دیا ورنہ اس سے پہلے تو قبائلی علاقوں کے صرف چند سو متعین کردہ ملکان کو ہی قومی اسمبلی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوا کرتا تھا۔ اگرچہ اُس وقت بھی بارہ ایم این ایز اور آٹھ سینیٹرز سمیت بیس ممبران، پارلیمنٹ کے اندر فاٹا کی نمائندگی کرتے تھے لیکن قبائلی علاقوں کے منتخب ایم این ایز کو فاٹا کے امور میں قانون سازی کا حق حاصل نہیں تھا۔

اب 20 جولائی کوپہلی بارضم شدہ قبائلی اضلاع کی سولہ صوبائی نشستوں کے لئے 26 لاکھ 62 ہزار 550 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے، جن کے لیےالیکشن کمشن آف پاکستان نے 1943 پولنگ اسٹیشن قائم کئے ہیں۔ ان 16 جنرل نشستوں کے لیے آزاد اور سیاسی جماعتوں کے ساڑھے چار سو سے زیادہ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، ٹرائبل ڈسٹرک میں خواتین کی چار مخصوص نشستوں کے لیے بھی سیاسی جماعتوں کی 30 خواتین اور واحد اقلیتی نسشت کیلئے 9 غیر مسلم امیدواروں کی طرف سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے بڑے ضلع باجوڑکی تین صوبائی نشستوں پہ 78 امیدواروں میں مقابلہ ہو گا یہاں 5 لاکھ 22 ہزار480 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ دوسرے بڑے ضلع خیبر کی تین نشستوں کے لیے 85 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ کل 5 لاکھ 19ہزار 290 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ اسی طرح ساوتھ وزیرستان کی دو صوبائی نشستوں کے لئے19 امیدوراوں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ یہاں 3 لاکھ 76 ہزار 635 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ ضلع کرم کی دو نشستوں کے لیے 63 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ یہاں کے 3 لاکھ 52 ہزار 794 بالغ افراد ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ شمالی وزیرستان کی دو صوبائی نشستوں کے لئے کل 2 لاکھ 94 ہزار 820 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے، ڈسٹرک مہمند کی دو صوبائی نشستوں کے  لیے 22 امیدوراوں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، یہاں 2 لاکھ71 ہزار251 افراد ووٹ ڈال سکیں گے۔ ضلع اورکزئی کی ایک نشست کیلئے 1 لاکھ61 ہزار992 ووٹرز اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ پانچ سابق ایف آرز پہ مشتمل نیم قبائلی علاقوں کی ایک نشست کیلئے 1 لاکھ61 ہزار992 ووٹرزکو حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔

ہمارے بندوبستی نظام کا حصہ بن جانے کے باوجود قبائلی اضلاع کے سماجی ماحول میں کسی جوہری تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیتے

گزشتہ سترہ سالوں کے دوران دہشتگردی کی جنگ سے متاثر ہونے والے فاٹا کا دیہی سماج پہ مشتمل گداز خطہ اپنی منفرد ثقافت اور منجمد قبائلی نظام کے باعث تاحال شخصی آزادیوں کا ادراک حاصل نہیں کر سکا۔ اس لیے یہاں کا ووٹرز ابھی برادریوں کے مضبوط بندھن سے الگ نہیں ہو سکے گا، لہذا یہاں بڑی برادریوں کے حامل افراد ہی مضبوط امیدوار تصور کئے جا رہے ہیں۔ دوسرے امن و امان کی نازک صورت حال کے پیش نظر اکثر اضلاع میں دفعہ 144 کے نفاذکی وجہ سے یہاں کی انتخابی مہم میں وہ روایتی سرگرمی دکھائی نہیں دیتی جو بندوبستی علاقوں کے انتخابی مہمات میں رنگ بھرتی نظر آتی ہیں۔ چنانچہ فعال امیدوار نجی روابط اور روایتی جرگوں کے ذریعے ووٹرز تک رسائی پانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جنوبی وزیرستان کی دوصوبائی نشستوں پہ جے یو آئی کے امیدوراوں کی پوزیشن مضبوط بتائی جاتی ہے۔ یہاں پی ٹی ایم کے حامی بھی جے یو آئی کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں تحریک انصاف اور اے این پی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ اگر پی ٹی ایم کے ووٹرز نے اپنا وزن عوامی نشنل پارٹی کے پلڑے میں ڈالا تو نتائج حیران کن ہوں گے۔ کرم،مہمند اور خیبر کے اضلاع میں حکمراں پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری رہے گا، تاہم باجوڑ میں پی ٹی آئی کے ساتھ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے امیدوار بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ناقدین کہتے ہیں۔ الیکشن کے التواء کا فائدہ حکمراں جماعت کو ملاجس نے حالیہ بجٹ میں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر، صحت،تعلیم اور مواصلات کے شعبوں میں ترقیاتی سکیموں کے لیے 190 ارب روپے مختص کر کے ووٹرز کی توجہ حاصل کی۔

19 جون کو وزیراعلی محمود خان نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی پرواہ کیے بغیر  خیبر ہاوس میں ایک پرشکوہ تقریب میں انصاف روزگار سکیم کے تحت 5550 قبائلی نوجوانوں کو بلاسود قرضوں کا اجراء کے لیٹرز تقسیم کیے۔ اگرچہ الیکشن کمشن نے نوٹس لے کر انصاف روزگار سکیم کے فنڈ منجمد کر دیے لیکن سکیم اجراء کے جو اثرات مرتب ہونے تھے ہو گئے۔ اس سے قبل خیبر پختونخوا کے سنئر وزیر عاطف خان اور پی ٹی آئی ایم این اے اقبال آفریدی نے ضلع خیبر اورکرّم میں انتخابی جلسوں میں شرکت کر کے ترقیاتی سکیموں کا اعلان کیا، تاہم صوبائی الیکشن کمشن نے نوٹس لیکر وزیراعلی سمیت صوبائی وزراء اور ممبران اسمبلی سے جواب طلب کر لیا۔ غالب امکان یہی ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے عملیت پسند شہری اپنا وزن حکمراں جماعت کے پلڑے میں ڈال کے علاقائی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں معاونت کریں گے۔

بلاشبہ ہمارے بندوبستی نظام کا حصہ بن جانے کے باوجود قبائلی اضلاع کے سماجی ماحول میں کسی جوہری تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ آج بھی یہاں سوچنے کے انداز اور زندگی گزارنے کے طورطریقے قبائلی اقدار میں گندھے نظر آتے ہیں۔ ان ساتوں اضلاع میں بسنے والے قبائل ذہنی طور پہ ابھی خود کو شہری ثقافت اور سرکاری قوائد و ضوابط سے ہم آہنگ رکھنے کو تیار نہیں، حالانکہ عام خیال یہی تھا کہ ایف سی آر کے خاتمہ کے بعد جب اجتماعی ذمہ داری کا کالا قانون ختم ہو گا تو ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لوگوں میں شہری حقوق کا ادراک اور شخصی آزادیوں کے احساسات جِلا پائیں گے لیکن بدقسمتی سے ایک تو ہمارے پالیسی سازوں نے قبائلی معاشرے کے ذہنی جمود کا درست اندازہ نہیں لگایا، دوسرے انضمام کے ساتھ ہی ابھرنے والی نسلی تحریکوں نے فاٹا کی نئی نسل کیلئے قبائلی عصبیتوں کے آشوب سے نکلنے کی راہیں مسدود بنا دیں۔

خاص طور پہ حادثاتی طور پہ ابھرنے والی نوجوانوں کی تنظیم، پی ٹی ایم کے متنازعہ نعروں نے قبائلی نوجوانوں کی اکثریت کو قومی دھارے کی سیاست سے منسلک ہونے سے روک لیا۔ تحریک کے  مخصوص نعروں کی بدولت پیدا ہونے والی کشیدگی ایسے نادیدہ خوف کا سبب بنی جو قبائلی عوام کے پاکستانی سماج کے مرکزی دھارے کا جُزو بننے کے امکانات کو زائل کر رہی ہے۔ وہ قبائلی نوجوان جو پولیٹیکل ایجنٹ کے عدالتی و انتظامی نظام سے نالاں اور ایف سی آر جیسے ظلیمانہ قوانین سے بیزار دیکھائی دیتے تھے، اب انضمام کے بعد سروسز فراہم کرنے والے سرکاری محکموں کی عملداری کے علاوہ امن عامہ کی ذمہ داری نبھانے والے اداروں کو بھی شک کی نظروں سے دیکھنے لگے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...