کمزور سماج، کمزور ریاست

سہ ماہی تجزیات، شمارہ نمبر 100

509

 ایک مضبوط اور توانا ریاست کا قیام ایک مربوط اور ہم آہنگ سماج کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان ایک مسلسل کشمکش جاری رہتی ہے جو ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی مسائل کے حل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ خودکار عمل ہر سماج میں جاری رہتا ہے اور کئی مرتبہ یہ کشمکش ایک تصادم کا روپ دھار لیتی ہے جس کا نتیجہ سیاسی، سماجی، مذہبی، فرقہ وارانہ یا لسانی ٹکراؤ کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ اکثر یہ ٹکراؤ غیرمتشدد اور جارحانہ دلائل کے تبادلے کی صورت میں ہوتا ہے لیکن اس میں متشدد ہونے کا مکمل امکان موجود رہتا ہے۔ اگرچہ ٹکراؤ کا غیرمتشدد اظہار بھی پسندیدہ نہیں ہے لیکن جب بات تشدد تک آ جائے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ سماج میں توازن قائم رکھنے والی قوتیں کمزور ہو چکی ہیں یا سماج اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ اب وہ باہمی بات چیت اور آپسی رابطے قائم رکھنے کی اہلیت بھی کھو چکا ہے۔

 سماج کی کمزوری کا اظہار ریاست کی کمزوری میں بھی نظر آئے گا۔ ریاست سماج کو مجتمع رکھنے کے لیے اپنی تدبیر لڑائے گی۔ پاکستان میں ریاست نے ہمیشہ سے مذہب ہی کو اکٹھا رکھنے والی ایک قوت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس کی بصیرت میں کوئی اور حل آتا ہی نہیں ہے۔ تاہم مذہب کے اس غیرضروری استعمال نے سماج کو مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر زیادہ کمزور کیا ہے۔

  پاکستانی ریاست نے ہمیشہ طاقت ور مذہبی اور سماجی گروپوں سے انسلاک کیا ہے اور انھی کو  اپنی طاقت کا مرکز مانا ہے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ کم تعداد والے مسالک  ریاست کی ہم آہنگی کی سکیم سے باہر نکلتے گئے۔ لسانی، نسلی اور ثقافتی تنوع کمزور ہوا، اور اپنی ان شناختوں پر اصرار کرنے والوں کو بھی ریاست اور اس کے اتحادی اکثریتی گروہوں نے  قومی شناخت کے دائرے سے باہر نکال دیا ہے۔

 ریاست کو احساس نہیں ہوا کہ ایک کمزور سماج کے ہوتے ہوئے ایک مضبوط معیشت بھی ممکن نہیں ہے کہ سماج ہی سے وہ لوگ نکلتے ہیں جو معیشت، زراعت اور صنعت و حرفت کو چلانے  اور آگے بڑھانے والے ہوتے ہیں۔ ریاست کبھی کبھار اپنی اس غلطی کو تسلیم کرتی ہے لیکن اس کا طرزِعمل تبدیل نہیں ہوتا۔ اور اس کی وجہ بالکل صاف ہے کہ اس کا اقتصادی اور سیاسی مفاد طاقت ور گروہوں سے جڑا ہوا ہے، جنھیں سیاسی اور معاشی اصطلاح میں مافیا بھی کہا جاتا ہے۔ ریاست اور اس کے طاقت ور گروہوں کو مذہبی، لسانی اور ثقافتی اقلیتوں کے حقوق سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ ریاست نے کمزور طبقات کو قابو کرنے کا ٹھیکہ طاقت ور گروہوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔

  آج سے پندرہ برس پہلے جب “تجزیات” کا سفر شروع ہوا تو اس کا ایک مقصد ریاست اور سماج کی ساخت کا مطالعہ بھی تھا، اور یہ کہ کس طرح یہ تجزیے سماجی ہم آہنگی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن ان پندرہ برسوں  میں پاکستانی سماج مزید کمزور ہوا ہے۔ نفرت آمیز بیانیے زیادہ اور سیاسی اور مذہبی مکالمے کی فضا کم ہوئی ہے۔ بات مایوسی کی ہے لیکن ہر تخریب کے عمل کو روکنے کے لیے سماجی عمل میں تعمیری قوتوں کا حصہ رہنا ضروری ہے کہ یہی ایک راستہ ہے اور اسے سوچ اور تجزیے کی قوت ہی سے مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

  بطور مدیر میں اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا ممنون ہوں کہ انھی کی کاوشوں سے “تجزیات” آج اپنی 100 ویں منزل پر پہنچا ہے۔ پہلے معاون مدیر سجاد اظہر اور حالیہ معاون مدیر ڈاکٹر عابد سیال خصوصی شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس کے معیار کو قائم رکھا۔ شوذب عسکری، مجتبیٰ راٹھور، حذیفہ رحمان، شگفتہ حیات اور اب حضرت بلال اس کاروان کے اہم رہنما رہے ہیں، ان سب کا بھی شکریہ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...