فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

290

کچھ دن سے پاکستانی میڈیا میں میں فلم لیجنڈ آف مولا جٹ کو لے کر  ایک بھرپور اشتہار بازی نظر آ رہی ہے ۔ بڑے بڑے ناقدین کے تبصرے۔۔ فلم کی تعریفیں۔۔ان سب چیزوں نے  مجبور کیا کہ اس فلم کو دیکھا جائے ۔ کیوں کہ یہ فقیر پنجابی ہے،او رلاہوریا ہے۔ فلموں خصوصا پنجابی فلموں کا شوقین ہے۔ تویہ سمجھ لیں کہ یہ ایک عام لوئر سٹال میں بیٹھنے والے کی ایک معمولی سی رائےہے  جس سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں ۔

سلطان راہی اور مصطفی قریشی کی فلم مولا جٹ پنجابی فلم انڈسٹری کی ایک بہت بڑی فلم تھی اور ہے۔  اس فلم کی مقبولیت کا اندازہ  اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس فلم کے کردار مولا جٹ اور نوری نت آج بھی اسی طرح سے مشہور ہیں جس طرح چالیس سال پہلے مشہور تھے۔ اس لئے اگر کوئی مولا جٹ کے نام سے فلم آئے تو لامحالہ اس کا مقابلہ پرانی مولا جٹ سے کیا جاتا ہے۔نئی آنے والی فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ  کے بیشتر کرداروں کے نام کم و بیش وہی ہیں۔ فلم کی کہانی تھوڑی سی تبدیل ہے۔

پہلے اس فلم کی مثبت باتیں۔ ۔فلم کا کیمرہ ورک کمال ہے۔ پرانی فلم کے برعکس اس فلم کا بجٹ بہت زیادہ ہے۔ ایک پورے کا پورا نیا گاؤں تیار کیا گیا ہے۔ ایکشن سین اچھے فلمائے ہوئے ہیں۔ایک اور  اچھی بات کہ فلم کی  بہترین ایڈورٹا ئزنگ کی وجہ سے عوام کی اچھی تعداد اسے دیکھنے آ رہی ہے۔ ممی ڈیڈی گروپ جو ماضی میں پنجابی فلموں سے اجتناب کرتا تھا اور پنجابی فلموں کے شائقین کا مذاق اڑایا کرتا تھا وہ بھی بڑی تعداد میں اسے دیکھنے کے لئے آرہا ہے۔

پتا نہیں یہ فلم ڈسٹری بیوٹرز کا رویہ ہے یا سینما مالکان کی بدنیتی ۔ جس کی وجہ سے اس فلم کا ٹکٹ مہنگا،بلکہ بہت مہنگا ہے، جو پنجابی فلموں کے عام شائقین کے ساتھ  بہت بڑی زیادتی ہے۔ کسی فلم کو کامیاببلکہ غیر معمولی طور پر کامیاب  کرانے میں عام آدمی، مزدور، رکشہ ڈرائیور،پھیری لگانے والے وغیرہ کا اہم کردار  ہوتا ہے۔یہ  کمی اس فلم کے حوالے سے محسوس کی جائے گی۔ عین ممکن ہے کہ فلم کی کمائی تو اپنے بجٹ سے کہیں زیادہ ہو جائے لیکن عام فلم بین طبقہ   کی عدم موجودگی شاید  اسے ہمیشہ ایک یاد رکھی جانے والی فلم کے طور پرپہچان بنانے  والی فلموں کی فہرست میں شامل نہ کیا جا سکے۔

اس مضمون کے شروع میں اس حقیر نے عرض کیا تھا کہ جب کبھی کوئی فلم مولا جٹ کے نام سے آئے گی ،اس کا موازنہ سلطان راہی والی مولا جٹ سے ضرور ہوگا۔ اس فلم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔سلطان راہی والی مولا جٹ کسی حد تک اس زمانے کے حالات سے جڑی ہوئی تھی۔ کم و بیش اسی زمانے کا ماحول تھا۔ جاگیر دار کا ، ظالم اور مظلوم کا، اور پولیس کا کردار ،  ان سب چیزوں کا مقابلہ عام آدمی کو اس فلم کی طرف کھینچتا تھا۔ اس فلم کے برعکس دی لیجنڈ آف مولا جٹ میں اس سے شاید سینکڑوں سال پہلے کےحالات کو دکھانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس فلم کا ہدایتکارماضی قریب کی کئی فلموں سے متاثر ہے۔ وہ ایک ہی فلم میں ہرتیک روشن کی فلم موہنجوداڑو۔ رنویر سنگھ کی فلم پدماوت، رسل کرو کی گلیڈئیٹر اور اسی طرح کی دیگر فلموں کو اکٹھا بنانے کی کوشش میں تھا۔فلم کے آغاز میں روایتی پنجابی اکھاڑ ادکھایا جاتا ہے جو کچھ سالوں بعد رومن اکھاڑے میں بدل جاتا ہے۔

جو لوگ ماضی میں پنجابی فلم دیکھتے رہے ہیں وہ پنجابی مٹیاراور جٹی کے بارے میں علم رکھتے ہیں۔ فردوس ،نیلو، آسیہ، انجمن اور صائمہ ایسی   مٹیاریں ، پنجابی فلموں کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی تھیں، لیکن دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی خواتین کہیں سے پنجابی جٹی نظر نہیں  آئیں۔ چونکہ یہ فلم کئی سو سال پہلے کے پنجاب کو دکھا رہی ہے،ممکن ہے تب کی پنجابی مٹیاریں ڈائیٹنگ کرتی ہوں ۔پرانی فلم مولا جٹ میں آسیہ نے مکھو جٹی اور اور اداکارہ چکوری نے دارو نتنی کا لازوال کردار ادا کیا تھا۔ نئی والی فلم میں یہ کردار بالترتیب مائرہ خان اور حمائما ملک نے ادا کیے ہیں اور پنجابی الفاظ کی ادائیگی میں دونوں ہی ناکام رہی ہیں خصوصا مائرہ خان، جو نہ پنجابی صحیح طریقے سے بول سکیں اور نہ ہی اداکاری میں کوئی کمال کرسکیں۔

پرانی فلم میں سلطان راہی اور مصطفی قریشی کے اکھٹے سین تھے اور کمال کے مکالموں کی ادائیگی کا مقابلہ تھا۔ اس فلم میں مولا جٹ اور نوری نت کے اکھٹے بہت کم سین اور مکالمے ہیں۔اس فلم میں نوری نت کو بے حد ظالم اور خطرناک مشہور کیا گیا لیکن اس کے اس برے کردار کو فلم میں کہیں اجاگر نہیں کیا گیا۔ حمزہ علی عباسی اپنے گیٹ اپ میں کہیں رنویر سنگھ کے پدماوت کے کردار علاءالدین خلجی اور کہیں ترکی ڈرامے ارطغرل کے ہیرو سے متاثر نظر آئے۔

اس حقیر کی طرف سے اس فلم کو ٹو سٹار۔ ۔ایک سٹار اس فلم کے ایکشن کے مناظرکے لئے اور  دوسرا  سٹار اس کے کیمرا ورک کے لئے۔

آخر میں ایک سوال ناصر ادیب صاحب سے۔۔ عمومی طور پر ہم پنجابی ، سرسوں کا ساگ مکئی کی روٹی کے ساتھ کھاتے ہیں لیکن اس فلم میں کردار سرسوں کا ساگ بیسن کی روٹی سے کھاتے اور تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ براہ کرم ایسے کسی پنجابی شہر یا گاؤں کی نشاندہی کرکے اس فقیر کی رہنمائی فرمائیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...