موسمیاتی تبدیلی کے بیچ انفراسٹرکچر کیسا ہونا چاہیے؟

1,220

ہر سال وفاقی حکومت اور صوبے انفراسٹرکچر کے ترقیاتی پروگراموں پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ یہ اخراجات بنیادی طور پر معیشت کو فروغ دینے، ملازمتیں اور دیگر صنعتوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے شروع کرتے ہیں۔ بحیثیت قوم، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بلند شرح سود پر ادھار کی رقم سے ان منصوبوں کو منتخب کرنے کے پیچھے کیا سیاسی عوامل ہوتے ہیں۔
تاہم، پاکستان کی موجودہ معاشی بدحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کے درمیان، ہمیں صرف ایسے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے جو بار بار آنے والی آفات کے اثرات کو جھیلنے کے قابل ہو۔

گزشتہ سال پاکستان میں سیلاب سے 33 ملین افراد متاثر ہوئے اور ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا۔ جس کے نتیجے میں 1731 اموات ہوئیں اور 2.2 ملین سے زیادہ مکانات مکمل اور جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ تباہ شدہ انفراسٹرکچر میں 13,000 کلومیٹر سڑکیں اور 439 پل شامل ہیں اور تقریباً دس ڈیم تباہ ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے پاکستان بھر میں مون سون کے سیلاب سے متاثرہ 116 اضلاع کی باضابطہ نشاندہی کی تھی۔
آفات سے متاثرہ 90 میں سے 32 اضلاع بلوچستان میں، جب کہ 24 سندھ میں تھے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے سب سے کم ترقی یافتہ سندھ اور بلوچستان کے صوبوں کے یہ اضلاع گزشتہ سال کے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ سب سے زیادہ نقصان ان تحصیلوں اور شہروں میں ہوا جو پہلے ہی شدید پسماندہ تھے۔ ایسی معاشی اور سماجی تباہی سے بحالی میں دہائیاں نہیں تو برسوں تو ضرور لگیں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق ان کے صوبے میں گزشتہ سال کے سیلاب کے بعد 60 فیصد سڑکوں کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا تھا۔ کئی ہزار کلومیٹر سڑکیں اور سیکڑوں پل بہہ گئے، جس سے شہروں کے رابطے ملک کے باقی حصوں سے کٹ گئے اور کئی دنوں تک رابطہ بحال نہیں ہو سکا تھا۔ ان میں سے بہت سے سڑکیں اور پل 2010 کے سیلاب کے بعد پچھلے دس سالوں میں تعمیر یا مرمت کیے گئے تھے۔ بلوچستان میں تباہ ہونے والے ڈیم علاقے کی پسماندہ ترین کمیونٹیز کی اہم ضروریات پوری کر رہے تھے۔
پچھلے سال کے سیلاب سے پہلے بھی ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں ہمارے منصوبہ ساز ڈیزائن اور تعمیر میں ماحولیاتی تبدیلی اور آفات کے تحفظات کو مربوط کرنے میں ناکام رہے۔ لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) کینال منصوبے کی ناکامی کی بہترین مثال ہے۔ مزید، کراچی-حیدرآباد موٹر وے ایم نائن شدید بارشوں کی وجہ سے متعدد بار ناکام ہوا۔ یہ واحد مثال نہیں ہے جس کا یہاں حوالہ دیا جائے، سندھ کی اہم ترین سڑکوں پر جہاں کلورٹس کو یا تو شامل نہیں کیا گیا تھا یا بارش کے پانی کو نکالنے کے لیے مناسب طریقے سے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا تھا۔
پچھلے سال کا سیلاب ‘غیر معمولی’ نہیں تھا، اور اب ہمارے پاس اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ یہ ہزاروں کلومیٹر سڑکیں، سینکڑوں پل اور دیگر کلیدی بنیادی ڈھانچہ آماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو برداشت نہیں کر سکتے اور اتنی شدت کی آفات کے میں ناکام رہے۔ اس لیے ہمارے ترقیاتی پروگراموں کو موسمیاتی تبدیلی کے موافقت اور آفات کے خطرے میں کمی کے اقدامات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔
متعدد مقامی اور بین الاقوامی رپورٹس، جو مشترکہ طور پر ہماری اپنی ہی حکومت کی طرف سے تیار کی گئی ہیں، نے انکشاف کیا ہے کہ اس طرح کی آفات کی تعداد اور شدت مستقبل میں بڑھے گی اور اس سے بدتر اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن اس طرح کی سخت انتباہ کے باوجود کبھی بھی پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو برداشت کرنے والا انفراسٹرکچر یعنی Climate Resilient Infrastructure تعمیر نہیں کروایا گیا۔
عالمی بینک کے جائزے کے مطابق، کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر کی سرمایہ کاری ہر ڈالر خرچ کرنے پر تقریباً 4 امریکی ڈالر کے مجموعی فوائد فراہم کر سکتی ہے۔ زیادہ لچکدار بنیادی ڈھانچہ اپنی زندگی کے دور کو بڑھا کر اور زیادہ قابل اعتماد سروس فراہم کر کے اپنے لیے ریٹرن فراہم کرتا ہے، خاص طور پر جب ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہو۔
Climate Resilient Infrastructure کی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ “یہ منصوبہ بندی، ڈیزائن، تعمیر اور اس طریقے سے سروس فراہم کی جاۓ جو آفات کے بدلتے ہوئے حالات کی توقع، تیاری اور موافقت کرتی ہے۔ یہ ان موسمیاتی تبدیلی کے حالات کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو برداشت کر سکتا ہے اور تیزی سے بحالی میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ ان سے مراد ایسے کلیدی اثاثے اور نظام ہیں جن میں سڑکیں، پل، موٹر ویز، اور سپلائی لائنیں جیسے بجلی، انٹرنیٹ، موبائل، گیس، اور پانی کی فراہمی۔ یہ وہ اہم اعضاء ہیں جو ملک کو چلانے میں مدد کرتے ہیں بلکہ آفت کے دوران اور بعد میں بہتر ردعمل اور بحالی کے دوران بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر، موسمیاتی لچکدار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر بہت کام کیا جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے موافقت کے متوقع اخراجات کا 88% انفراسٹرکچر کا ہے۔ موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر سروس کی انحصار کو بہتر بنانے، اثاثہ کی زندگی کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کی منافع بخش واپسی کی ضمانت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انفراسٹرکچر نہ صرف آفات سے براہ راست نقصانات اٹھاتا ہے بلکہ نقل و حمل اور بجلی کی فراہمی میں خلل کی وجہ سے براہ راست کاروبار اور زراعت کے نقصانات میں بھی حصہ ڈالتا ہے۔ آفات سے بالواسطہ اور بالواسطہ نقصانات کو کم کرنے کے لیے آب و ہوا کے لیے لچکدار بنیادی ڈھانچہ ضروری ہے۔ بنگلہ دیش، کینیا، ویتنام اور پیرو جیسے ترقی پذیر ممالک نے مختلف شعبوں میں بہت سے موسمیاتی لچکدار بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔
ہم بنگلہ دیش سے سیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح Resilient Infrastructure بنایا جائے اور کیسے تباہی کے خطرے کو کم کرنے میں سرمایہ کاری کی جائے۔ 1970 میں سائیکلون بھولا نے تقریباً 300,000 افراد کو ہلاک کیا اور یہ تاریخ کا بدترین طوفان تھا۔ پانچ دہائیوں بعد، 2020 میں، کیٹیگری فائیو کے سپر سائیکلون امفان نے بنگلہ دیش میں تقریباً 20 افراد کو ہلاک کیا۔
بنگلہ دیش نے ابتدائی انتباہی نظام، 14,000 سائکلون شیلٹرز کے نیٹ ورک، انخلاء کے منصوبوں، اور طوفان سے بچنے والے مینگرووز کی بحالی کے ساتھ ساتھ خطرے سے دوچار علاقوں میں کمزور آبادی کی حفاظت کے لیے عوامی رضاکاروں کی فوج میں سرمایہ کاری کی جس سے آفات سے جانی نقصان کی سطح کو دو ہندسوں تک کم کرنے میں مدد دی۔
جب ہم آب و ہوا کی لچک کو انفراسٹرکچر میں ضم کرنے کے لیے اپنے ڈیزائن کے معیارات کو بہتر نہیں کر سکتے تو سالانہ اربوں روپے خرچ کرنا فضول ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سیاسی طور پر یہ منصوبے معاشرے کے ایک مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں اور ان کا اصل ضروریات سے بہت کم تعلق ہوتا ہے۔
ہماری سیاست پر مبنی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کرنے کی عادت ختم ہونی چاہیے۔ مستبقل میں بین الاقوامی عطیہ دہندگان اور اداروں سے قرض کی رقم آنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم ہر ہر پائی بہت ہی سمجھداری سے خرچ کریں جو مستقبل میں فوائد اور بچت دے۔
اہم سوال یہ ہے کہ “کیا پاکستان کے پاس موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر کو ڈیزائن اور بنانے کی صلاحیت ہے؟” کیا ہمارے پاس بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مقامی علم کو قدرتی آفات کے خطرے میں کمی کو شامل کرنے کا طریقہ کار ہے؟” فیصلہ سازی کے حلقوں میں اس بارے میں افہام و تفہیم کے باوجود، اس کا آسان جواب ‘نہیں’ ہے، پاکستان کے پاس ڈیزائن اور تعمیر کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

References

https://cms.ndma.gov.pk/storage/app/public/situation-reports/October2022/UHRvf9zuvcSKDu3eo2Eq.pdf
https://reliefweb.int/report/pakistan/ndma-monsoon-2022-daily-situation-report-no-158-dated-18th-nov-2022
https://www.dawn.com/news/1699107
https://reliefweb.int/report/pakistan/pakistan-2022-monsoon-floods-situation-report-no-03-26-august-2022
https://www.geo.tv/latest/492322-cm-murad-unveils-rs22tr-sindh-budget-with-focus-on-flood-rehabilitation
https://www.geo.tv/latest/492322-cm-murad-unveils-rs22tr-sindh-budget-with-focus-on-flood-rehabilitation
https://www.dawn.com/news/1737278
https://www.dawn.com/news/1497174
https://www.worldbank.org/en/news/press-release/2019/06/19/42-trillion-can-be-saved-by-investing-in-more-resilient-infrastructure-new-world-bank-report-finds
https://www.oecd.org/environment/cc/policy-perspectives-climate-resilient-infrastructure.pdf
https://www.oecd-ilibrary.org/environment/climate-resilient-infrastructure_02f74d61-en
https://www.unep.org/resources/report/infrastructure-climate-action
https://www.worldbank.org/en/results/2022/08/29/shelter-from-the-storm-protecting-bangladesh-s-coastal-communities-from-natural-disasters#:~:text=The%20project%2C%20which%20runs%20through,primary%20schools%20during%20regular%20weather.
https://www.context.news/climate-risks/opinion/what-bangladesh-can-teach-us-about-climate-disaster-preparation

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...