ادھورے اور غیر معیاری ترقیاتی کام شہریوں کے لیے تکلیف کا باعث

73

تحریک انصاف نے پچھلے دور حکومت میں جتنے ترقیاتی کام شروع کرائے ان میں سے کچھ منصوبے تو تاحال پایا تکمیل کو نہیں پہنچے، جیسے سو ارب روپے مالیت کا بی آر ٹی منصوبہ یا پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں نکاسی آب کا میگا پراجیکٹ جو گزشتہ پانچ سالوں سے شہریوں کے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے۔ کئی ایسے منصوبے بھی ہیں جن کی تکمیل کے باوجود افادیت صفر رہ گئی، جیسے صوبہ بھر میں اضلاع کی بیوٹیفکیشن کے منفرد پراجیکٹ کا حال ہوا۔

پچھلے دورانیہ میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ترقیاتی کاموں کی ابتدا دس ارب روپے کی خطیر رقم سے صوبہ بھر کے پچیس اضلاع کی تزئین وآرائش پراجیکٹ سے کی تھی۔ اس منصوبہ کی نگرانی کے لئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں اعلی سطحی کمیٹی بنائی گئی اورکام کے معیار کو بہتر بنانے اور شفافیت قائم رکھنے کی خاطر بھاری معاوضہ پہ لاہور کی الائیڈ کنسلٹنٹ فرم کی خدمات بھی حاصل کی گئیں، لیکن اس گراں قدر پراجیکٹ پہ عمل درامد کے دوران سینہ زور اہلکاروں کی مزاحمت اس قدر بڑھ گئی کہ سیکریٹری بلدیات کو بلآخر اس کنسلٹنٹ کمپنی کو فارغ کرکے پورا پراجیکٹ ہی انہی فرسودہ محکموں کے حوالے کرنا پڑا جنہوں نے پہلے ہی ان ہستے بستے شہروں کو کھنڈر بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ بدقسمتی سے ہمارا مسئلہ اب دیانتداری نہیں رہا بلکہ مخمصہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں ڈھنگ سے کوئی بدعنوانی بھی نہیں کر سکتا۔

الائیڈ کنسلٹنٹ کمپنی جس نے اس منصوبہ کے تحت ہونے والے تمام کاموں کے پی سی ون بنائے، ڈرائینگ، ڈیزائن تیار کی اور نرخوں کے تعین کے علاوہ کام کی کوالٹی جانچنے کی ذمہ داری بھی اسی نے نبھانی تھی، کو چند ماہ کے اندر فارغ کرکے نہایت بے حجابی کے ساتھ بدعنوانی کے دروازے کھو دیے گئے، لیکن اس غیرمعمولی پیش دستی کاکسی کج کلاہ نے نوٹس لیا نہ کسی تحقیقاتی ادارے کو اس کھلی قانون شکنی میں کوئی قباحت نظرآئی۔ علی ہذالقیاس! اسی بیوٹیفکیشن پروگرام کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان کی تزائین و آرائش کےلیے پہلے مرحلہ میں کم وبیش تیس کروڑ اور دوسرے مرحلہ میں ستائیس کروڑ خرچ کئے گئے لیکن دو چار سالوں کے اندر اب تزائین و آرائش کا کہیں نام ونشان نظر نہیں آتا۔ شہر اسی طرح فرسودہ اور بدحال ہے جسے کروڑوں کے اس منصوبہ کے روبعمل لانے سے قبل تھا۔ بلکہ اب تو بدانتظامی کے وبال نے شکست و ریخت کے عمل کو زیادہ گمبھیر بنا دیا، جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم اور ٹیلی کمیونیکشن کی لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ اسی سرگرمی کی بدولت صفائی کی حالت پہلے سے زیادہ ناگفتہ بہ ہو گئی، اندرون شہر میں ہر طرف گندگی و غلاظت کے ڈھیر لگے نظر آتے ہیں۔ نکاسی آب کے تقریباً سارے نالے ادھیڑ دیئے گئے ہیں۔ تنخواہوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے عملہ صفائی کی آئے روز کی ہڑتالوں سے میونسپل سسٹم بیکار ہوتا جا رہاہے۔

تزائین و آرائش کی بجائے اگر یہی رقم صفائی کے لیے جدید مشینری منگوانے اور عملہ صفائی کی استعداد کار بڑھانے پہ خرچ کی جاتی توکم از کم اس بدقسمت شہر کی صفائی تو ممکن بنائی جا سکتی

تزائین و آرائش کی بجائے اگر یہی رقم صفائی کے لیے جدید مشینری منگوانے اور عملہ صفائی کی استعداد کار بڑھانے پہ خرچ کی جاتی توکم از کم اس بدقسمت شہر کی صفائی تو ممکن بنائی جا سکتی تھی۔ اس جدید اور پیچیدہ دور میں واسا والے بڑے بڑے نالوں اور انتہائی خطرناک مین ہول کی صفائی کا کام کم تنخواہوں والے ایسے لاچار انسانوں سے لیتے ہیں، جو جسمانی طور پہ کام کرنے کی طاقت نہیں رکھتے بلکہ عملہ صفائی کے زیادہ تر کارکنوں میں چلنے پھرنے کی سکت بھی باقی نہیں بچی۔ ہمارے ہاں کوئی ایسا میکانزم موجود نہیں جو سرکاری اداروں میں کام کرنے والے اہلکاروں کی فٹنس کو چیک کر سکے خاص طور پہ واسا کے عملہ صفائی میں کام کرنے والے ساٹھ فیصد اہلکار منشیات کی لت میں مبتلا ہیں اور چالیس فی صد سے زیادہ  ہیپاٹیٹس اور ٹی بی جیسی دیگر مہلک امراض کا شکار بن جاتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے منصوبہ سازوں کی مہارت کا اندازہ صرف اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 2014 میں پہلے سرکلرروڈ بنائی گئی اور اس کے فوری بعد نکاسی آب کے میگا پراجیکٹ لانچ کر کے ان نوتعمیرشدہ سڑکوں کی اکھاڑ پچھاڑ شروع کر دی گئی۔ بیوٹیفکیشن منصوبہ کے تحت سرکلر روڈ کے درمیان کھجوروں کے درخت اور جو سینکڑوں قد آدم پودے لگائے گئے تھے، ٹی ایم اے کی غفلت کے باعث وہ سارے باغ اُجڑ چکے ہیں۔ سرکاری محکموں کی دیواروں پہ کرائی گئی آرائشی پینٹنگز مٹتی جا رہی ہیں اورسٹریٹ لائٹس بجھ رہی ہیں۔ سرکلرروڈ سمیت متعلقہ سڑکوں پہ سولر لائٹس کا قیمتی نیٹ ورک از خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا، مرمت و بحالی کے فقدان کی وجہ سے حق نواز پارک اور تاریخی لیاقت باغ کی ویرانیاں دوچند ہیں۔ دریا کنارے تفریح گاہ کو ڈویلپ کرنے کا پروگرام ابھی ادھورا پڑا ہے لیکن نوتعمیرشدہ جاگنگ ٹریک ٹوٹ پھوٹ کا شکار بن گئی، ہمارے ماہرین ایک طرف دریا کنارے کو خوبصورت تفریح گاہ بنانے پہ کروڑوں خرچ کر رہے ہیں تو دوسری طرف شہر بھر کے نکاسی آب کے گندے نالوں کو دریا میں ڈال کے دریا سندھ کے پاکیزہ پانیوں کو آلودہ اور ماحول کو متعفن بنانے میں مشغول نظر آتے ہیں۔ ہسپتالوں کا آلودہ مواد اور فیکٹریوں کا زہریلا پانی دریا میں گرانے کی وجہ سے قیمتی آبی حیات تلف ہوتی جا رہی ہیں۔ یہاں کی مشہور کھگامچھلی، ساٹھ کلو وزنی بڑے کچھوے اور بلائنڈ ڈالفن کی نسلیں تقریباً نایاب ہو گئی ہیں۔ دریا کو آلودگی سے بچانے کی خاطر سماجی تنظیموں نے بار ہا احتجاج ریکارڈ کرائے لیکن  ماحولیات کا محافظ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ تحفظ آبی حیات والوں کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔

پانچ سالوں سے جاری نکاسی آب کے نالوں کی تعمیر کا کام اسقدر سست روئی کا شکار ہے کہ گرڈ روڑ، سرکلرروڈ، صدر بازار اور موسمیات روڈ جیسے گنجان آباد علاقوں سے گزرنے والے نالے کے تعمیراتی عمل کو لگ بھگ تین سال بیت جانے کے باوجود یہ انوکھا منصوبہ تکمیل کے مراحل سر نہیں کر سکا۔ انہی سڑکوں پہ درجنوں سرکاری و غیر سرکاری سکولز اور بوائز وگرلز کالجز کے علاوہ بسوں اور کوچیز کے اڈے واقع ہیں۔ پائب لائن بچھانے کی خاطر وسیع پیمانہ پہ سڑکوں کی کھدائی کی وجہ سے گھنٹوں پہ محیط ٹریفک جام کے علاوہ شہریوں کو ہر روز کئی ناقابل بیان حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ضلعی انتظامیہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی تماشا دیکھ رہی ہے، شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ خدا خدا کر کے تین سال بعد مکمل ہونے والی شمالی سرکلرروڈ کی سیوریج لائن کا کام اس قدر غیرمیعاری نکلا کہ عید کے دن وہاں سے گزرنے والا لوڈ ٹرک سیوریج لائنوں کے اندر دھنس گیا جسے کرینوں کی مدد سے نکال کے راستے بحال کرنا پڑے۔ اب ایک بار پھر اس بچھائی گئی سیوریج لائن کی دوبارہ کھدائی شروع کر دی گئی تاکہ تعمیراتی کام کی خامیوں پہ لیپاپوتی کی جا سکے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پہ مقامی انجینئر نے بتایا کہ، پی سی ون کے مطابق پائپ لائن کے نیچے ریت سے لیولنگ کے بعد کنکریٹ  کی فاونڈیشن اور اردگرد نئے مواد سے کمپکشن کے بعد پائپ لائن کے اوپر بھی کنکریٹ کی سلیٹ ڈالنا لازمی تھی مگر تعمیراتی کمپنی نے مبینہ طور پہ اوپر نیچے کنکریٹ کے استعمال سے گریز اور نئے مواد کی بجائے کھدائی کے دوران نکالا گیا پرانا مٹیریل استعمال کیا۔ ماہرین کہتے ہیں اسلامیہ سکول سے لیکر امامیہ گیٹ تک پائپ لائن کا لیول ٹھیک نہیں یہاں پانی آگے کی بجائے پیچھے جا رہا ہے۔ اس لیے عیدگاہ کلاں،فقیرہ آباد،امامیہ گیٹ اورکنیراں والا گیٹ سے ملحقہ آبادیوں کو نکاسی کی سہولت نہیں مل سکتی۔

سرکاری اداروں کی طرف سے فراہم کردہ اعداد شمار کے مطابق شہر میں سیوریج کی پائپ لائن بچھانے پر اب تک پینتالیس کروڑ خرچ اٹھ چکا ہے، اس پراجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے والے محکمہ پبلک ہیلتھ انجنئرنگ کے ذمہ دارکہتے ہیں، نکاسی آب کے اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے چالیس کروڑ روپے مزید درکار ہوں گے لیکن تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے انجینئرز فنڈ فراہم کرنے والے ادارے ایم ایس پی کو قائل نہیں کر سکے چنانچہ فنڈ کی فراہمی رک گئی۔ گویا جب تک فنڈ نہیں ملتے یہ ادھورا منصوبہ اسی طرح شہریوں کے لیے وبال جان بنا رہے گا۔ ترقیاتی امور کے تمام شعبوں میں اس طرح کی  غلط منصوبہ بندیوں اور ناقص کارکردگی سے کمزور معیشت کے حامل ملک پر کتنا بوجھ پڑ رہا ہے؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...