جب بات احمدی برادری کی ہو تو خاموشی کیوں طاری ہوجاتی ہے؟

210

میڈیا اطلاعات کے مطابق چند دن قبل اٹک میں ایک سکول نے مذہبی بنیادوں پر چار احمدی بچوں کا داخلہ ختم کرکے انہیں ادارے سے نکال دیا۔ جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس میں واضح طور پہ باقاعدہ ان کے مذہب کو وجہ بتایا گیا۔

احمدی برادری کے حوالے سے پاکستان میں وقتا فوقتا خبریں آتی رہتی ہیں جن میں اسی قسم کے مسائل نمایاں ہوتے ہیں کہ ان کے کسی فرد کو نشانہ بنایا گیا ہوتا ہے۔ ایسی خبریں اب معمول بن گئی ہیں اور ریاست و سماج، دونوں کی طرف سے ان خبروں کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلکہ اب لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس طرح کے واقعات کا دفاع بھی کرتی پائی جاتی ہے۔ سول سائٹی کے کچھ افراد اور ادارے اس پر شور مچاتے ہیں، مگر ایسے مسائل رکتے نہیں ہیں اور چند دن بعد کوئی نیا واقعہ رونما ہوجاتا ہے۔

احمدی برادری کا مسئلہ اس حد تک حساسیت کا حامل ہوچکا ہے کہ لوگ اس طبقے کے شہری حقوق بارے بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں، حالانکہ یہ ان کے بنیادی آئینی حقوق ہیں۔ اقلیتی حلقے میں سے یہ وہ طبقہ ہے جس کے خلاف ملک کے ہر بڑے مسلک میں باقاعدہ الگ سے تحریکیں اور جماعتیں موجود ہیں جو اسی مدعے پر کام کرتی ہیں۔ 2017ء کے بعد سے احمدیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوئی ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس ماحول کی تشکیل میں حالیہ برسوں میں سیاسی جماعتوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ سماجی نفسیات کو اس حد تک ان کے خلاف بنا دیا گیا ہے کہ اب ایسے واقعات کے بعد بھی خود ریاست ان کے شہری حقوق پر ٹھوس پیغام دینے اور ان کے تحفظ کے لیے کوئی قدم اٹھانے سے کتراتی ہے۔ لیکن کیا یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ان مسائل پر خاموشی مذہب کے نام پر خوف کی فضا کو مزید گھٹن زدہ بناتی جائے گی۔

ریاست کو ادراک کرنا ہوگا کہ مذہبی بنیادوں پر بڑھتی یہ گھٹن کسی کے لیے بھی سودمند نہیں ہوگی۔ احمدیوں کے شہری و مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے ان تحریکوں اور جماعتوں کے کردار پر نظرثانی کرنی ہوگی جو اس مسئلے کو ہوا دیتی ہیں اور لوگوں کے جذبات کو اس برادری کے خلاف ابھارتی ہیں۔ اس کے لیے علما سے بھی مطالبہ کیا جائے کہ وہ عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کریں اور انہیں تعلیم دیں کہ جو حقوق انہیں آئین میں دیے گئے ان سے کسی طور ان کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔

اگر تعلیمی اداے ہی اقلیتی برادریوں کے لیے ایسا منفی رویہ اختیار کریں گے تو پھر سماج میں کس ادارے سے توقعات رہ جاتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ سماج کے ہوش مند عناصر اور ریاست کی جانب سے کھل کر اس مسئلے پر بات کی جائے اور اس طبقے کے حق کے لیے آواز اٹھائی جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...