پاکستانی لبرل غلط زمانی اور مغالطے

1,390

پاکستانی لبرل غلط زمانی اور مغالطے

از: عزیز علی داد

پاکستان کے موجودہ فکری منظرنامے کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ مختلف مکاتب فکر اور نظریات کے مخفی یا ان کے بے سوچ پہلو اور اس بے سوچی سے جنم لینے والے تضادات اب منصہ شہود پر آرہے ہیں۔ اس کی وجہ سے بہت سارے نئے سوالات “تشکیل” پا رہے ہیں۔ یہاں پہ تشکیل کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ ہمارے سامنے رونما ہونے والے واقعات موجودہ ذہنی و نظری فریم ورک کے فہم میں نہیں آرہے ہیں۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ جواب تو دور کی بات ابھی تک ہم سے سوال تشکیل نہیں ہو پا رہا ہے۔ چونکہ جواب اپنے جنم کے لیے سوال کا محتاج ہوتا ہے، اسی لیے فی الحال پاکستان میں جواب کے پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر پاکستان کی خاص ثقافتی اور عمرانی مزاج کی وجہ سے ہم سوال سے پہلے ہی جواب پیدا کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔

فکر کی اس الٹی منطق کے پیروکاروں میں صرف مذہبی لوگ ہی شامل نہیں بلکہ اس میں ہر قبیل اور فکر کے لوگ چاہے دائیں یا بائیں بازو والے ہوں یا لبرل، سیکولر یا قوم پرست، یا میانہ رو سبھی شامل ہیں۔ اس وجہ سے مختلف سوچ کے حامل لوگوں اور نظریات کے حامیوں کے درمیان ایک کشاکش نظر آتی ہے۔ معاشرے کے اندر اس فکری افراتفری اور تضادات کو اجاگر کرنے میں سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے۔ اسی لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا فکری جدلیات کی تشکیل کررہی ہے۔ مگر یہ جدلیات ہیگل والی تھیسس اینٹی تھیسس اور سنتھیسس والے منطقی جدلیات نہیں ہے بلکہ ہماری جلیبی کی طرح الجھی ہوئی جدل ہے۔ اس معاشرے میں ایک نہ ختم ہونے والی بحث جنم لے رہی ہے جس میں مکالمے کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ سوشل میڈیا جس طرح کام کرتا ہے اس میں دوسروں کو سننے کی بجائے اپنے آپ کو سننا اپنی طرف دیکھنا لازمی ہوتا ہے۔ سیلفی موڈ صرف تصویر تک محدود نہیں رہا ہے۔ یہ اب ہماری ذہنی ساخت میں سرائیت کرچکا ہے۔ اسی لے ہم اپنی بات اور ویڈیو کو اپلوڈ کرکے اپنے آپ کو سننا اور دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

آج عالمیگریت کے اس دور میں نرگیسیت بھی عالمگیر بن چکی ہے۔ یہ فکری مزاج ایک خود کلامی کو جنم دی رہی ہے اور یہ خود کلامی اپنے کلامیے کو جنم دے رہی ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مشل فوکو کے کلامیے کا دور ختم ہوچکا ہے اور ہم خود کلامیے کے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ مگر پاکستانی دانشور اپنے اندر کی اس تبدیلی سے بے خبر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ایک نئے بیانئے کی تشکیل کررہے ہیں۔ یہ حقیقت نہیں ہے۔ یہ محض مابعد جدیدیت کا ایک عام فکری مغالطہ ہی ہے۔

اس مضمون میں ہم اس فکری مغالطے کو پاکستان کے لبرل، سیکولر، ملحدین اور مذہبی سوچ کے حواریوں کے درمیان مباحث اور فکری روش سے سیال جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی روشنی میں واضع کریں گے۔ یہاں پہ سیال کا تصور شوشیالوجسٹ اور فلسفی زیغمونٹ باومن کے تصور “سیال جدیدت” جو اس نے اسی نام کی کتاب Liquid Modernity میں یش کیا ہے سے لیا گیا ہے۔ زیغمونٹ موجودہ دور کو سیال جدیدیت کہتا ہے کیونکہ اس میں تعلقات، شناختوں، عالمی معیشیت اور زندگی اور معاشرے کے دیگر شعبوں تواتر ست تبیدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال ابتدائی جدیدیت سے مختلف ہے جس کو وہ ٹھوس یا بھاری جدیدیت کہتا ہے۔ اگر سوفٹ ویئر پر مبنی تہذیب اور معشیت سیال جدیدیت کا استعارہ ہے تو لوہے سے بنی بڑی دیوہیکل فیکٹریاں ٹھوس/بھاری جدیدیت کی علامت ہے۔

مندرجہ بالا متن میں لبرل، ملحدین اور سیکولر کو ایک رو میں لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں یہ کیٹگریز سیال حالت میں ہیں اور ان کی تعریفیں عام فکری منظر نامے میں ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر نظری طور پر ایک ملحد کیمونسٹ سیکولر ہوسکتا ہے مگر وہ لبرل نہیں ہوسکتا کیونکہ لبرل ہونا بذات خود کیمونزم کی نفی ہے۔ اسی طرح ایک مذہبی سیکولر ہوسکتا ہے مگر پاکستانی لبرلزم میں یہ نہیں ہوسکتا ہے۔ قوم پرستی کلاسیکی مارکسیت کی روح کے خلاف ہے مگر پاکستان میں قوم پرست مارکسسٹ ہونے کا بھی دعوی کرتے ہیں۔ پاکستان کا یہ سیال نظریاتی صورتحال اور فکری اختلاط کا منظر نامہ افکار کے مورخ کے لیے ایک دلچسپ فکری تجربہ گاہ فراہم کرتا ہے۔ ہم سیال فکری منظرنامے کو سیکولرزم اور مذہب/اسلامزم کی بحث سے واضح کریں گے۔ اس مضمون میں زیادہ توجہ لبرلزم پہ کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی سوچ پر نقد پاکستان میں وافر مقدار میں ہوئی ہے مگر لبرل سوچ اور اس کے نتائج پر تنقید بہت کم ملتی ہے۔ اگر کچھ تنقید ہوتی ہے تو بھی ایک مذہبی طبقے کی طرف سے ہوتی ہے۔ کسی عمرانی یا سیاسی فلسفے کے نقطہ نظر سے لبرل سوچ پہ تنقید پاکستان میں تقریباً ناپید ہے۔ اسی طرح مذہب پر تنقید میں موضوعی عنصر زیادہ اور علمی کم ہے۔ میرا ماننا ہے کہ پاکستان کے تناظر میں مذہب پر تنقید ادھوری رہے گی جب تک پاکستانی لبرلزم پہ تنقید نہیں ہوگی۔ یہ مضمون اس وسیع تنقید کی طرف ایک قدم ہے۔

پاکستان میں عموماً سیاسی یا سماجی بحث سیکولرزم اور مذہب کی ثنویت میں پھنسی ہوئی ہے۔ جس چیز کو آج ہم مذہب کہہ رہے ہیں اس کی ساخت جدیدیت نے بدل دی ہے اور اسی طرح لبرلزم/سیکولرازم جدید ریاستی نظریے کے تحت مذہب بن چکا ہے۔ طلال اسد کولمبیا یونیورسٹی کے علم بشریات کے شعبے میں پروفیسر ہیں۔ ان کا دعویٰ کہ ہے مذہب کی موجودہ تعریف خود روشن خیالی کے متعین کردہ ہے۔ وہ اپنی کتاب
Geneologies of Religion, and Formation of the Secular
میں ہمیں بتاتے ہیں کہ کس طرح مذہب مغرب میں ایک تاریخی کیٹگری کے دور پر نمودار ہوا اور کس طرح اس کا اطلاق باقی دنیا پر ایک آفاقی تعریف کے طور پر ہوا۔

اس لیے آج جب ہم مذہب کی بات کررہے ہوتے ہیں تو مذہب سے زیادہ دوسرے غیر مذہبی عناصر اور چیزوں کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ اس دعوے کی روشنی میں دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے سیکولرز کا ذہن اٹھارویں اور انیسویں صدی کے مباحث میں پھنسا ہوا ہے۔ اس کی واضح مثال سیکولرز کا یہ دعویٰ ہے کہ اسلام میں فکری جمود کی وجہ سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس لیے وہ تبدیلی لانے کے لیے لبرلزم تاریخ کے بنائے گئے یک سمتی راستے یا عمل سے گزرنا لازمی سمجھتے ہیں۔ یہ تاریخی جبریت کے خیال کے سامنے ڈھیر ہونے کی مثال ہے۔ شکاگو یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر دپیش چکرورتی اس رویہ کو یورپ مرکز قرار دیتا ہے جس میں حاشیے پر رہنے والے معاشرے استعمار کی اس منطق کہ “پہلے ہم اور بعد میں تم” کو قبول کرتے ہیں۔ یہ یک سمتی تاریخ کا وہ نظریہ ہے جس میں تاریخ ایک لکیر کی صورت میں آگے بڑھتی ہے۔ لکیر میں چونکہ ایک آغاز کا نقطہ ہوتا ہے اور دور اختتام کا۔ اس منطق میں جو آغاز میں ہے وہ پیچھے ہے اور جو اختتام پہ ہے وہ آگے ہے۔ اسی سے ترقی، تہزیب اور علم کے تصورات ابھرتے ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ فرانسس فوکویاما نے اپنے مضمون “تاریخ کا خاتمہ؟” میں آج مغرب کے عروج کے اس دور کو تاریخ کا خاتمہ قرار دیا ہے۔ اب دوسرے معاشروں کو مغرب کی طرح بننے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ جو معاشرے مغرب کو نہیں اپنائینگے وہ تاریخ کے کوڈا دان میں پھینک دیئے جائینگے۔ اکیسویں صدی کی لبرل جنگیں بعض معاشروں کو کوڈا دان میں پھیکنے کے لیے شروع کی گئی ہیں۔اس یک سمتی تاریخ کی لکیر میں جو معاشرہ جتنا پیچھے ہوگا وہ اتنا ہی وحشی ہوگا۔ تاریخی طور پر اس نظریے نے استعمار اور نوآبادیت کے لیے مضبوط عقلی اور علمی توجیہات فراہم کی ہیں۔ اور لبرل نظریہ ہمارے ہاں کالونیل دور میں آیا ہے۔ ہمارے لبرل دانشوروں نے اس کالونیل اور فوکویاما کے یورپ مرکز منطق کو اپنے اپنی موضوعیت ور ذہنیت میں سمو لیا ہے اور اپنے معروضی حالات اور فکر رجحانوں کو اسی طرح بیان کرتے ہیں جس طرح حاکم بیانیے نے محکوم معاشروں کو بیان کیا تھا۔ اس یک سمتی تصور تاریخ مثالیں پاکستانی لبرل دلیلوں میں واضع طور پر نظر آتی ہیں۔ پاکستانی سیکولر اور لبرل کلاس کی طرف سے یہ مسلسل دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں بھی مغرب کی طرح نشاة ثانیہ لازمی ہے۔ اس بیانیے کے حامی انجانے میں لبرل تاریخ کے یک سمتی سفر کے جبر کو اپنے اندر سما چکے ہوتے ہیں اس لیے ان میں اپنا اختیار کم اور دوسروں کی لکیروں پر چلنے کی احتیاج زیادہ نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لبرل طنقے نے وجودی معاملات اور معروضی حالات دیکھنے کے لیے خود اپنی آنکھ پیدا نہیں کرسکے۔ اسی مجبوری میں دوسروں کی آنکھ مستعار لے بیٹھے۔ لازمی نہیں کہ
دنیا کی تاریخ اس یک سمتی سفر کو اپنائے۔ کائنات کی طرح تاریخ کے کوئی کائنات قوانین نہیں ہوتے ہیں۔ اسی لیے لازمی نہیں کہ ہر مذہبی روایت لبرل تاریخ کے قیمے کی مشین سے ایک ہی شکل میں نکلے۔ جدیدیت کے ساتھ مختلف مذاہب کے تفاعل کی مختلف شکلیں سامنے آئی ہیں۔ خود اسلام قبل از جدیدیت والا اسلام نہیں رہا۔ جدیدیت کے ساتھ اس کے تفاعل نے اس کی ہیئت، ماہیت اور فکر بدل کرکے رکھ دیا ہے۔ حتیٰ کہ جدیدیت مخالف اسلام اس مخالفت کے عمل کے دوران خود تبدیل ہوکر نئی شکل و صورت اختیار کرچکا ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ جدید زمانے میں اسلام ان سوالات کا جواب دے رہا تھا جو جدیدیت نے جنم دیے تھے۔ یوں جدید زمانے میں اسلام نے اپنے آپ کو ان ذرائع سے بیان کیا جن کا تاریخی طور پر مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ یوں ایک غیر مذہبی فکر اور تاریخی تناظر اور بے اعتقادی کی ثقافت سے اٹھنے والے سوالات ہی اسلام کو بیان کرنے لگے۔ ویسے بھی جدیدیت کو اعتقاد کی ثقافت قرار دیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ جو لوگ جدیدیت کی مخالفت کررہے ہیں اور اس کی مابعدالطبعیات سے جتنا گریز کررہے ہیں، وہ اتنا ہی اس میں الجھتے جاتے ہیں۔ ہم آج اسلام کو جدید عینکوں سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ہماری فکری ساخت جدید علمیات اور اس کی ثقافتی بنیادوں نے تشکیل دی ہیں۔ آج کے اسلام سے جدیدیت نکال کر پھر دیکھیں، آپ کو اسلام کی شکل پہچانے میں مشکل پیش آئے گی۔ زمانے کے تغیرات نے ہر چیز کی شکل بدل دی ہے۔ اسلام بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔جدیدیت وہ شیر ہے جس پر اسلام نہ چاہتے ہوئے سوار ہوا ہے اور اب اس شیر کی پیٹھ سے اتر بھی نہیں سکتا۔

مندرجہ بالا بیان کردہ فکری صورتحال سے پاکستانی لبرل بھی دوچار ہیں۔ سوشل میڈیا ان باتوں کو جو لوگوں کی بیٹھکوں تک محدود رہتی تھیں، اب سب کے سامنے لارہا ہے۔ اب یہ بحث جامعات یا لائبریریوں میں بیٹھے دو مفکرین اور محققین کے درمیان نہیں بلکہ ڈرائنگ روم میں سوشل میڈیا پہ بیٹھے لوگوں کے درمیان ہے۔

مذہب اور ریاست اور دیگر معاملات کے متعلق مذہبی اور لبرل سوچ کے حامی لوگوں کے درمیان بحث سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ پاکستانی لبرل ذہن انیسویں صدی کے لبرلرزم میں پھنسا ہوا ہے۔ اس پہ مستزاد یہ کہ پاکستان کے پاس کوئی بڑا مفکر ہے ہی نہیں جو اس کے عمرانی تناظر میں مذہب اور دیگر معاشرتی و ریاستی معاملات پر نقد کرسکے۔ جو معدودے چند لبرل مفکرین گزرے ہیں وہ پچھلی صدی کا قصہ ہیں۔اب لبرل بیانیہ یا سوشل میڈیا کے بلاگرز سے آرہا ہے یا ان مذہب سے بیزار اور ستائے ہوئے لوگوں سے جن کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے سوائے ہر واقعے پہ ردعملی پوسٹ کرنے اور ردعمل کرنے کہ تاکہ مذہبی طبقے کو زچ کیا جاسکے۔ ایسی تنقید میرٹ یا سکالرشپ پہ مبنی نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ نفسیاتی الجھنوں اور موضوعی پیچیدگیوں سے جنم لیتی ہے۔ کہاں جان اسٹیوارٹ مل، جریمی بینتھم اور چارلس ٹیلر کے لبرل افکار اور تحریریں اور کہاں خود نمائی کے دلدادہ پاکستانی لبرلرز۔

پاکستان میں مذہب کو مذہبی ہی نہیں، لبرل طبقہ بھی استعمال کرتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں مذہب کا کارڈ اچھا چلتا ہے، اس پہ نقد کرنے سے اس کا زیادہ اور طاقتور ردعمل پیدا کرنے کی امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے ردعملی لبرل کو اپنی فین فالونگ بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح کی لبرل ذہنیت مشرف دور میں آگاہ میانہ روی کے نظریے سے ابھرنا شروع ہوئی تھی۔ اب یہ ذہنیت سوشل میڈیا کے دور میں بالکل واضح ہو کے سامنے آئی ہے۔

پاکستانی لبرل فکر آج اتنی ہی فکری غربت کا شکار ہے جتنا کہ وہ مذہبی طبقے پر جاہل ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین کی جنگ میں یہ ذہنیت کھل کے سامنے آگئی۔ لبرل تبصروں اور کلامیوں میں جو چیزیں مشترک پائی جاتی ہیں وہ یہ کہ آپ نے ہر واقعے پر ردعمل دینا ہے اور اگر کہنے کو کچھ نہ ہو تو کچھ اس طرح کا کہنا ہے کہ آپ کا تبصرہ اچھوتا نظر آجائے۔ ایسی ردعملی سوچ اور فکر ہمیشہ فکری غربت کا شکار رہتی ہے کیونکہ یہ ہمیشہ اپنے ردعمل کے لیے اپنے مخالف کے کسی عمل کے انتظار میں رہتی ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں لبرل اور مذہبی شدت پسند ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ یہ اپنے وجود کے لیے ایک دوسرے کی موجودگی کے محتاج ہیں۔ آپ اسے جدیدیت کی بگڑی ہوئی وجودیت کہہ سکتے ہیں۔ تجربے کے طور پر آپ موجودہ پاکستانی لبرل طبقے سے مذہب کی مخالفت نکال دیں تو ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچے گا۔

انسیویں صدی میں لبرل معاشرے اور معشیت کے خدوخال کے پیچھے افادی فلسفے کے فلسفی اسٹیوارٹ مل اور بینتھم جیسے لوگ تھے جنہوں نے نہ صرف اپنی کتابوں اور کام سے معاشرے کا رخ موڑا، بلکہ ایسے علمی اداروں کی بنیاد رکھی جو نئی فکری رجحانات اور میلانات کو جنم دیتے ہیں۔ مجھے انگلینڈ کی جن چند یونیورسٹیوں میں تھوڑا کچھ پڑھنا نصیب ہوا ہے ان میں سے ایک یونیورسٹی کالج لندن شامل ہیں جہاں میں نے کچھ کورسز پڑھے ہیں۔ یونیورسٹی کی مین بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی آپ کو جریمی بینتھم کا مجسمہ نظر آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اس یونیورسٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کے علاوہ ان کا معاشرتی، پولیس اور جیل ریفارم پہ بڑا کام ہے۔ ہمارے لبرلرز وہ ہیں جو ڈیفنس اور بحریہ ٹاون کے گھروں میں بیٹھ کر پاکستان میں فوجی مداخلت اور کرپشن پہ بولتے نہیں تھکتے۔
چونکہ پاکستانی یونیورسٹیوں نے علم پیدا اور تحقیق کرنا تقریباً چھوڑ دی ہیں اب پاکستانیوں کے علم کے حصول کا مقبول ترین ذریعہ سوشل میڈیا کے مباحث ہوگئے ہیں۔ اب مذہبی اور لبرل سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں۔ جب دماغ کم ہو تو زبان زیادہ چلتی ہے اور دکھاوا زیادہ ہوجاتا ہے۔ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا جو پاکستان میں ہورہا ہے جہاں سوشل میڈیا پر لوگ بغیر کتاب کے مصنف، بغیر فکر کے مفکر، بغیر تعلیم کے ماہر تعلیم، بغیر نفسیات کے نفسیات دان، بغیر پڑھائے اور تحقیق کیے پروفیسر اور بغیر سائنس کے سائنس دان بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں سوشل میڈیا میں جہاں لبرلرز اور مذہبیوں کے درمیان ایک لاحاصل بحث ہورہی ہے۔ اس میڈیم کا مقصد ہی اس کے صارف کو سوائے اپنی نرگیست کی تسکین کے کچھ بھی حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اسی لیے سوشل میڈیا مکالمہ پیدا نہیں کرتا۔ مکالمہ ایک تخیلقی اور فکری بحث سے پیدا ہوتا ہے جو کہ علم سے ہی ممکن ہے۔ آج کا پاکستانی لبرل طبقہ علم کی تخلیق میں بانجھ ہوگیا ہے۔ ہمارے ہاں کے مخالف خیال لبرلرز اور مذہبیوں کا موازنہ مشل فوکو اور نوم چومسکی کی 1971 والی بحث سے کروائیں تو ہمارے مناظروں میں علم کا فقدان واضح طور پہ نظر آئے گا۔ فوکو چومسکی کی بحث کو بعد میں کتاب

The Chomsky-Foucault Debate: On Human Nature
کی شکل میں ترتیب دیا گیا۔ اس کتاب کو آج عمرانیات، بشریات، لسانیات، ادب، فلسفہ اور دیگر شعبوں میں بطور کورس پڑھایا جاتا ہے۔ اس کو کہتے ہیں بحث جو علم پہ منتج ہو۔ پتہ نہیں ہماری باتوں کا کیا بنے گا۔

دوسری اہم بات پاکستانی لبرلزم کی ہے وہ یہ کہ اس کی سوچ انیسویں صدی میں اٹکی ہوئی ہے۔ مارکسزم پہ بات کرتے ہوئے مشل فوکو نے کہا تھا کہ مارکسزم کی فکر وہ مچھلی ہے جو انیسویں صدی کے پانی میں رہتی ہے۔ اس سے باہر وہ زندہ رہ نہیں پائی گی۔ فوکو یہاں سیاسی سے زیادہ علمی بات کر رہا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ انیسویں صدی کی صورتحال ہی مارکسزم کو جنم دے سکتی ہے۔ یہی بات پاکستانی لبرلزم پہ پوری اترتی ہے۔ ہمارے یہاں یہ بیسویں صدی کی جدیدیت کی وہ مچھلی ہے جو اکیسویں صدی کی پس جدیدیت میں سانس لینا چاہتی ہے۔

پاکستانی لبرلزم کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ اس میں نئے مباحث پہ گفتگو نہیں ہورہی ہے۔ لبرل ذہنیت جدیدیت کے ابتدائی دور میں رائج ذہنی میلان کے اندر پھنسی ہوئی ہے جہاں پہ ثنویت دنیا کو دیکھنے کے لیے ذہنی سانچہ فراہم کررہی تھی۔ اسی وجہ سے لبرل ذہن موجودہ معاملات اور حالات کو نئی جہت سے دیکھنے سے قاصر ہے۔ مثال کے طور پر اسلام کی چودہ سو سالوں تاریخ پاکستانی لبرل نائن الیون کے بعد کے 22 سالوں کے واقعات سے جانچیں گے۔ یوں ان کی فکر تحقیقاتی یا اسکالری ہونے سے زیادہ واقعاتی ہوگئی ہے۔ اسی وجہ سے وہ پاکستانی اسلام کو دوسرے معاشروں میں رائج اسلام جیسا ہی سمجھیں گے۔ اسلام کو صدیوں سے جامد ایک سسٹم سمجھ کہ اس کا جدیدیت اور پس جدیدیت کے ساتھ تفاعل اور اس سے تشکیل پاتی مذہب کی نئی اشکال، ہیئتوں، زبان اور بیانیوں کی تشکیل کی طرف غور نہیں کریں گے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اپنے بنیادی مفروضے کو چیلنج کئے بغیر مذہب کو چیلنج کرتے ہیں۔ یوں نئی ابھرتی مذہبی حقیقتوں سے ناآشنا رھ کر بغیر آگاہی کے تبصرے کرتے جاتے ہیں۔ میرے اس دعوے کے لیے لبرلرز کا مذہبی دہشت گردی اور مسلمانوں کی جدیدیت کی مخالفت کے متعلق مقبول عام بیانیوں کا تجزیہ کیجئے جس میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس ذہن کی پیداوار ہے جو چودہ سو سال پہلے کی دنیا میں پھنسا ہوا ہے۔ یہ وہ منترا ہے جو سیاسیات کے لبرل پنڈت جدید زمانے سے دعوی کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ جبکہ آج کی جدید تحقیق اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔ اس کے برخلاف جدید تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ موجودہ اسلام اور اس کی دہشت گردی جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا نتیجہ ہیں۔ ڈاکٹر فیصل دیوجی نے اسلام اور جدیدیت کے بارے میں کچھ معرکتہ آرا کتابیں لکھی ہیں جس نے مذہب سے متعلق لبرل بیانیوں پر سخت نقد کی ہے۔ ان کتابوں کے ٹائٹل بھی بڑے دلچسپ ہیں۔
1. Landscapes of Jihad: Jihad, Militancy, Morality
2. Militant in Search of Humanity: Militant Islam and Global Politics
3. Muslim Zion: Pakistan as a Political Idea

فیصل دیوجی آجکل آکسفورڈ یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ وہ اکیڈیمیا میں رائج الوقت بیانیوں اور نقط نظر سے جو القاعدہ کو ایک سیاسی تنظیم کے طور پر دیکھتے ہیں، سے ہٹ کر تجزیہ کرتے ہوئے اس کی اخلاقی مابعدالطبعیات جدید زمانے میں تلاش کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ اسی طرح ہی عالمگیریت کی پیداوار ہیں جس طرج گرین پیس جیسی تحریکیں ہیں۔ جب عالمگیریت کے زیر اثر ہر چیز اور تحریکیں جیسے ماحولیاتی آلودگی کی مخالف اور سماجی انصاف کی تحریکیں اور ملٹی نیشنلز کمپنیاں عالمگیر ہوگئیں، تو اسی طرح القاعدہ بھی عالمگیر بن گئی۔ اس لیے القاعدہ کی بنیادیں جدیدیت میں ہیں نہ کہ چودہ سو سال پہلے کے غاروں میں۔ فیصل دیوجی اور ظہیر کاظمی اپنی حالیہ کتاب
Islam after Liberalism
میں اسلام اور لبرلزم کے تعلق کا ایک نئے زاویے سے جائزہ لیتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ آخرالذکر اپنی نظری کیٹگریز کو بیان کرنے کے لیے اسلام کی جدیدیت کی مخالفت پہ بھروسا کرتا ہے۔اسی کو بنیاد بنا کر لبرل سیاست اور معشیت اپنی آزاد منڈی اور معاشرتی آزادیوں کی بات کرتا ہے۔ لبرل سیاسی فلسفے کی کیٹیگریز یا الفاظ جیسے اسلام ازم، البرلزم، لبرل اسلام، ریڈیکل اسلام، ماڈریٹ اسلام، پوسٹ اسلام ازم وغیرہ یہ سب جدیدیت کو مسترد کرنے کا نتیجہ نہیں بلکہ قبولیت کا نتیجہ ہیں۔

چونکہ ہمارے ذہن تڑکے والے تجزیوں کا عادی ہے اس لئے اس طرح کی باریک بینی سے کی گئی علمی تحقیق ہمارے ذہن کو راس نہیں آتی ہے۔ ہماری ذہنی خوراک میں جب تک سازشی تڑکہ یا شاعرانہ غلو نہیں ہوگا، ہمیں ہر علمی بیان پھیکا لگتا ہے۔ اس لیے ہمیں ایسے نئے خیالات کو نظرانداز کرنے میں ہی عافیت نظر آتی ہے جو ہماری سوچ اور نقطہ نظر کو چیلنج کرتے ہیں۔ دوسرا اہم پہلو جو لبرل غفالت کو جنم دے رہا ہے وہ عصر حاضر کے فکری رویوں اور چیزوں کا مذہب پہ اثرات کو نظر انداز کرنے کا رجحان ہے۔ کلاسیک جدیدیت کا مارا پاکستانی لبرل ذہن اب تک جدیدیت کی پیدا کردہ ثنویت کے فریم ورک میں پھنسا ہوا ہے۔ چیزیں ایک دوسرے سے الگ اور مختلف ضرور ہوتی ہیں مگر یہی فرق ہی تعلق کا سبب بنتا ہے۔ ورنہ کون اپنے آپ سے تعلق بناتا ہے۔ مذہب کا تعلق بھی زمانے سے جدلیاتی ہوتا ہے نہ کہ ٹکراؤ کا۔ اسلام کے تناظر میں جدیدیت ساتھ تناؤ ضرور نظر آتا ہے، مگر یہ ایک تخلیقی تناؤ ہے جس میں لین دین یا ابلاغی عمل تشکیل پاتا ہے۔ اسی لیے ہمیں بعض مذہبی طبقوں میں جدیدیت کی مخالفت نظر آتی ہے تو بعض قبولیت۔ مخالفت کی مثالیں پرنٹنگ پریس، لاوڈسپیکر، ٹی وی، کیمرہ وغیرہ کی دی جاسکتی ہیں۔ یہ مادی جدیدیت کی ابتدائی مراحل ہیں۔ بعد میں سیال جدیدیت کے زیر اثر مذہب جدیدیت کے ساتھ تفاعل کرتے کرتے پس جدیدیت میں داخل ہوا ہے۔ جدیدیت کی قبولیت میں مسلمانوں کو ہچکچاہٹ تھی مگر لگتا ہے وہ مابعد جدیدیت کو اپنا سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ آج کے کٹر مذہبی بھی پس جدیدیت کے ثمرات اور خیالات کو ایسے ہی قبول کررہے ہیں جیسا کہ لبرلز کرتے ہیں۔ آج مفتی اور آج کے مولانا یوٹیوٹ سے نہ صرف کماتے ہیں بلکہ یوٹیوِب سے جیتے ہوئے گولڈ، ڈائمنڈ اور ریڈ ڈائمنڈ ایوارڈز کو فخر سے دکھاتے بھی ہیں۔ اس کو کہتے ہیں ہم خرما و ہم ثواب۔

جس طرح سیال جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی آمیزشی ماحول نے ابلاغ کے ذریعے تبدیل کر دیے ہیں اسی طرح علمی زاویے بھی تبدیل کرکے رکھ دیے ہیں۔ سیال پس جدیدیت میں ہر چیز کی آمیزش ہوتی ہے۔ اسی لیے ثنویت کے دور کی فکری پاکیزگی اب نہیں رہے گی۔ اب عظیم اور عالمگیر کا دور ہے۔ اب مارکس بغل میں بائبل اٹھائے ہوئے پایا جاسکتا ہے، مولوی مارکس کو پیغمبر نہیں مانے گا مگر اس کے مزدوروں کے بائبل سرمایہ سے اقتباسات سنائے گا، مذہب اور سیکولر خلط ملط ہوں گے، اصلی اور مصنوعی کی دوئی ختم ہوگی، فسانہ حقیقت سے اختلاط کرکے ایک نئی حقیقت جنم دے سکتا ہے اور برقی ذہن انسان ذہن سے جڑ کر دیکھنے اور کام کرنے کے انداز بدل دے گا۔ لیوتارڈ اس کو “پوسٹ ماڈرن کنڈیشن (مابعد جدیدیت کی صورتحال)” کا نام دیتا ہے۔ علم بھی ان تغیرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔ پچھلی صدی کی توجیہات اور تشریحات کوئی معنی فراہم نہیں کرسکیں گی۔ ایسے میں پاکستانی لبرلز کا دوئی پر مبنی نقطہ نظر سیال جدیدیت کی حققیقت سمجھ نہیں پائے گا اور لبرلز کی پچھلی صدی کی سوچ ایک دوسرے زمان میں موجود مذہب کی تفہیم نہیں کر پائے گی۔ اب زمانہ لبرلزم سے آگے نکل چکا ہے۔ اسی لیے مذہب اور سیکولرازم کی ثنویت پر مبنی بحث ہی فضول ہے۔ آج کا مذہب الہامی سے زیادہ برقی ذہنی ماحول سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ اور یہ مابعد جدیدیت کے علمیات مذہبی اور لبرل دونوں بیانیوں کی پرورش کررہا ہے۔ یوں مذہب اور سیکولرزم ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی بطن میں پلنے والے دو جڑواں بچے نظر آتے ہیں۔ ابھی لبرل اور اسلامی فکر دونوں اس ایک صورتحال سے گزر رہی ہیں۔ جب دونوں کی معروضی حقیقت اور ذات اور بیانیوں کا سرچشمہ ایک ہی ہوگا تو بعید نہیں کہ دونوں میں مشترکہ چیزیں زیادہ نظر آئیں گی نہ کہ مخالف۔ اسلام اور لبرلزم وہ دو جڑواں ہیں جو مابعد جدیدیت کے بطن میں پرورش پا رہے ہیں۔ وہ پس لبرل دور میں اپنی خوراک اور وجود کے لیے پس جدیدی ماں کی خوراک کے محتاج ہیں۔ اب ان میں جنس کی شناخت نہیں ہوسکتی کیونکہ بطن کے اندر ہر شے سیال حالت میں ہے۔ شناخت کے مباحث اب نیٹورک سوسائٹی کے زیر اثر قصہ پارینہ بن جائیں گے۔ لیکن پاکستانی لبرل کی سوچ اس برقی ذہن کے دور میں بھی جدیدیت کی صنعتی دور کی پیدا کردہ لوہے کی تہذیب اور اس سے وابستہ خیالات میں پھنسی ہوئی ہے۔ یوں برقی ذہن اور مصنوعی ذہانت کے دور میں لبرل ذہن غلط زمانی کا شکار ہو رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ کسی اور کے اندر روشنی ڈالنے سے پہلے اپنے اندر کے اندھیروں سے آگاہی لازمی ہے۔ پاکستانی لبرلرز کی روشن خیالی میں بھی بہت اندھیرا ہے۔ گو یہ الگ بات ہے کہ لبرل طبقہ اپنے آپ کو روشنی کا مینار سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا ہے۔

(مصنف فلسفے اور افکار کی تاریخ کے قاری ہیں)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...