پاکستان کا علمی وفکری منظر نامہ اور نظامِ تعلیم

12,430

ڈاکٹر سید جعفر احمد سماجی علوم کے ممتاز سکالر ہیں۔ وہ 1974سے جنوری 2017 تک پاکستان اسٹڈی سینٹر، جامعہ کراچی سے وابستہ رہے۔ اس طویل رفاقت کے آخری سترہ برسوں میں وہ ادارے کے ڈائریکٹر کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ ان دنوں وہ انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ (IHSR)کے ڈائریکٹر ہیں۔ڈاکٹر سید جعفر احمد نے برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے سماجی و سیاسی علوم میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔جامعہ کراچی میں تین عشروں سے زیادہ عرصے تک انہوں نے پاکستان کی سیاسیات بالخصوص وفاقیت، آئینی ارتقا، انسانی حقوق، تعلیمی مسائل اور مناہجِ تحقیق جیسے مضامین کی تدریس کی۔ تاریخ، سیاسیات اور ادب پر مجموعی طور پر پچیس کتابیں تصنیف اور مرتب کر چکے ہیں جو اپنی معروضیت اور سائنسی طرزِ فکر کے حوالے سے ایک نمایاں پہچان رکھتی ہیں۔ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل بھی ہیں ۔ان کا حالیہ مضمون پاکستان کے علمی و فکری منظر نامے اور اس سے جڑے تعلیمی مسائل کا نمایاں طور پر احاطہ کرتا ہے (مدیر)

علم اور فکر کے دھارے سماج سے جُڑ کر ہی آگے بڑھتے ہیں۔ جو علم اپنے سماج سے تعلق کا حامل نہیں ہوتا یا جس فکر کے تانے بانے معاشرتی حقائق کے ساتھ جڑے ہوئے نہیں ہوتے وہ بعض عمائدین کی خواہشات اور چند مخلص دانشوروں کی موشگافیوں کامظہر تو ہو سکتی ہے مگر وہ معاشرے کی عکاسی کرتی ہے نہ ہی اس میں معاشرے کو آگے لے جانے کا حقیقی داعیہ موجود ہوتا ہے۔ بغور دیکھا جائے تو آزادی کے بعد سے اب تک ہمارے یہاں جو نظریاتی بیانیے ریاست کی طرف سے براہِ راست یا سرکار کے حُدی خواں اہلِ دانش کی طرف سے مشتہر کیے جاتے رہے یا جن کو ریاست کی قوتِ نافذہ کے ذریعے ذہنوں میں اتارنے کی کوشش کی گئی، انہوں نے محض ایک نوع کی منتشرالخیالی کو ملکی سطح پر عام کیاہے اور وہ قوم کو فکری یکسوئی اور شرحِ صدر سے ہمکنار نہیں کرسکے۔ نتیجتاً اگلی منزلوں کے تعین اور ان کی طرف قوم کو آمادۂ سفر کرنے کی اہلیت بھی ان بیانیوں میں یکسر ناپید رہی۔
افکار اور خیالات، یا پھر نظریے اگر مادی دنیا کے حقائق سے مخاطب نہیں ہوتے ، ان کے پیچھے اگر مناسب غوروفکر ہواورنہ سماج کے تضادات کے حل کا کوئی پیغام تو وہ خیالی دنیا کی باتیں ہی بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے افکار ہجوم درہجوم ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہیں اور ان کی موجودگی میں رفتہ رفتہ وہ نظر ہی مفقود ہوتی چلی جاتی ہے جو فکرِ صحیح کی نشاندہی کرسکتی اور صحیح و غلط میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ بظاہر انسان یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اُس نے کتابیں گھول کر پی لی ہیں اور افکاروخیالات کی دنیا کے ہفت خواں طے کر لیے ہیں مگر سائنسی نظر اور عقل وخرد کے ذریعے حاصل ہونے والی بصیرت بہم نہ ہو، تو افکاروعلوم محض معلوماتِ عامہ کا ذخیرہ ثابت ہوتے ہیں۔ اقبالؔ نے اسی لیے کہا تھا کہ ؂
آزادئ افکار سے ہے اُن کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر وتدبر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادئ افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ
آج انسانوں کے روپ میں حیوانیت کے جو مظاہر ہم اپنے آس پاس دیکھ رہے ہیں، وہ اسی فکرِ خام اور خلفشارِ ذہن کا نتیجہ ہیں۔
پاکستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے جب منصّۂ شہود پر آیا تو اُس نے عہدِ وسطیٰ اور دورِ استعمار کے بنائے ہوئے سماجی ڈھانچے ورثے میں حاصل کیے تھے۔ ہماری آزادی صرف ان معنوں میں آزادی تھی کہ ہم نے سلطنتِ برطانیہ کی براہِ راست عملداری سے نکل اور باقی ماندہ ہندوستان سے الگ ہو کر متحدہ ہندوستان کے مسلم اکثریتی صوبوں پر مشتمل ایک الگ وفاق بنا لیا تھا۔ محدود معنوں میں حاصل ہونے والی اس آزادی کو حقیقی آزادی بنانے کے تقاضے اعلان نامۂ آزادی سے سوا تھے۔
ہماری حقیقی آزادی اس وقت ممکن ہوسکتی تھی جب ہم عہد وسطیٰ کے پسماندہ سماجی نظام اور دورِ استعمارمیں اس نظام میں ہونے والے استحصالی عناصر کے اضافے سے گلو خلاصی حاصل کر تے۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں صحیح معنوں میں آزاد ہونے کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت تھی جو دیہی اور قبائلی معاشرے کی سماجی بنیادوں کو تبدیل کر کے ہمارے اندر صنعتی عہد میں داخل ہونے کی صلاحیت پیدا کرتے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کے نتیجے میں ہمارا سیاسی نظام،سماجی ادارے، نظامِ تعلیم اور معاشرتی اقدار سب میں تبدیلی واقع ہوتی۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا، ہم پرانی غلامی سے ایک نئی غلامی کی طرف بڑھے۔1947 صرف ایک حدِ فاصل ثابت ہوا، نوآبادیاتی نظام (Colonialism)اور جدید نو آبادیاتی نظام(Neo-colonialism)کے درمیان۔ اگر نوآبادیاتی نظام کا سرغنہ برطانیہ تھا جس نے ہمیں 190سال تک غلامی کے شکنجے میں جکڑے رکھا تو جدید نوآبادیاتی نظام امریکہ اور مغربی سرمایہ دار بلاک کی بالادستی اور ہمارے اس دائرۂ استحصال میں شامل ہوجانے سے عبارت تھا۔ مغربی طاقتوں کے نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جائے تو عالمی نظام کایہ مرحلہ سرمایہ دار بلاک کی قیادت کے برطانیہ سے امریکہ کی طرف مکمل طور پر منتقل ہوجانے کا مرحلہ تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سلطنتِ برطانیہ کے لیے عالمی سطح پر اپنی نوآبادیات کو قابو میں رکھنے اور اپنی فوجی طاقت کو دور دراز خطوں تک پھیلا ئے رکھنے کی راہ میں دشواریاں حائل ہوچکی تھیں۔ جنگِ عظیم یورپ کی تباہی پر منتج ہوئی تھی اور یورپ کے وہ تمام ممالک جنہوں نے اپنے براعظم سے دور دنیا کے دوسرے براعظموں اور سمندروں میں واقع جزیروں پر اپنے نوآبادیاتی جھنڈے لہرا رکھے تھے، ان کو اب مراجعت کی ضرورت پیش آئی۔ نوآبادیات پر سے جھنڈے اتار لیے گئے لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک حکمتِ عملی کے تحت عالمی بالادستی اور چوکیداری کی ذمہ داریاں امریکہ کو منتقل کر دی گئیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سرد جنگ کا بھی آغاز ہوا جس کے نتیجے میں ایک جانب سوویت یونین اور اس کے زیرِ اثر اشتراکی ممالک اور دوسری طرف امریکہ اور اس کے حلقۂ اثر میں شامل ممالک کے درمیان مبارزآرائی شروع ہوئی۔ یہ مبارز آرائی اور کشمکش اگلے تقریباً چالیس پچاس سال تک جاری رہی اوراس دوران دونوں بلاکوں کے درمیان کوئی جنگ تو نہ ہوئی اور یالٹا کانفرنس (4-11فروری1945) کے زیرِ اثر دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے حلقۂ اثر پر حملہ آور نہ ہونے کی افہام وتفہیم چار پانچ عشروں تک باقی بھی رہی لیکن نو آزاد ملکوں کے نقطۂ نظر سے سرد جنگ کا زمانہ یہ طے کرنے کا زمانہ بھی تھا کہ ہمارا قومی مفاد ان دونوں میں سے کس بلاک کے ساتھ وابستہ ہونے میں ہے، یا یہ کہ کیا ہم ان دونوں بلاکوں سے فاصلہ رکھتے ہوئے خود کو ایک غیر جانبدار ملک قرار دے کر اپنے مفادات کا زیادہ بہتر طور پر تحفظ کرسکتے ہیں۔
1947 میں ہماری آزادی کا مرحلہ اگر تاریخی نقطۂ نظر سے کو ئی بامعنی اور فیصلہ کن موقع تھا تو وہ یہی تھا کہ ہم اس وقت اور اس لمحے کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے اپنی حقیقی آزادی کے تقاضوں کو سمجھتے۔ ہماری بدقسمتی یہی ثابت ہوئی کہ آزادی کی قیادت کرنے والی مسلم لیگ کسی ایسے انقلابی پروگرام پر عمل درآمد کی اہل تھی نہ ہی اس نے کبھی اس انداز میں غوروفکرکیا تھا۔ مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کا حصول زیادہ سے زیادہ ہندوستان کے ہندو اکثریت اور مسلم اقلیت کے سیاسی مناقشے جسے اس زمانے میں فرقہ وارانہ (Communal) مسئلہ کہا جاتا تھا، کا حل اور وہ بھی ایک محدود معنوں میں کہ تقسیم کے باوجود ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود رہی، قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سے زیادہ جو کچھ تھا وہ سیاسی نعرے تھے۔ مسلمانوں کی تاریخ کا رومانوی استعمال تھا اورعامۃ الناس کے جذبات کو ایک نئے مدینہ کی تشکیل کے گرد بیدار کرنا تھا۔
حصولِ آزادی کے بعد مسلم لیگ کی تنظیمی کمزوریوں اور اس کی علاقائی قیادتوں کے اندر موجود تقسیم در تقسیم کا رجحان اس افسر شاہی کے لیے بڑا کارآمد ثابت ہوا جس نے نو زائیدہ مملکت کی اس وقت کی غیر یقینی صورت حال کے تناظر میں ریاست کے اقتدار پر قبضہ کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ یہ افسر شاہی جس میں سول اور ملٹری دونوں شعبوں کے اعلیٰ ترین افسران شامل تھے، استعمار کے ز مانے میں بھی برسرِ کار رہی تھی اور تقسیمِ ہند کے ہیجان انگیز حالات نے کم از کم دونوں اداروں سے وابستہ لوگوں کو اس طرح متاثر نہیں کیا تھا جس طرح سے عام شہری متاثر ہوئے تھے۔ اس افسر شاہی سے کسی انقلابی فیصلے یا سماجی انقلاب کی سمت بڑھنے کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی بلکہ اس کو تو جلدی تھی اس بات کی کہ برطانیہ سے امریکہ کو سرمایہ دارانہ نظام کی قیادت کے منتقل ہونے کے اس مرحلے میں فوراً ہی پاکستان کو امریکی دائرہ اثر میں شامل کروا لیا جائے۔ امریکہ شروع کے ایک دو برسوں میں پاکستان کی طرف زیادہ متوجہ بھی نہیں تھا۔ امریکہ کی پہلی ترجیح ہندوستان کو اپنے حلقۂ اثر میں لانے کی تھی کیونکہ وہ رقبے اور آبادی، نیزوسائل کے لحاظ سے پاکستان سے کہیں بڑا ملک تھا اور امریکہ اشتراکی بلاک کے گرد براعظم ایشیا میں جو اپنے ہمنوا ممالک کی زنجیر بنا رہا تھا اس میں ہندوستان اپنے وسیع رقبے کی وجہ سے بہت کارآمد کڑی ثابت ہوسکتا تھا۔ ہندوستان کی سیاسی قیادت نے زیادہ دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ملک کو غیر جانبدار رکھنا پسند کیا۔ اس حکمت عملی کا ہندوستان کو دوہرا فائدہ پہنچا، سوشلسٹ بلاک اور سوویت یونین نے ہندوستان کے اس تشخص کو اور اُس کے براہِ راست امریکی حلقۂ اثر میں جانے سے انکار کو مفیدسمجھا اور اس کو ہندوستان کے قریب ہونے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ جبکہ دوسری طرف امریکہ کی سوچ یہ تھی کہ گو ہندوستان اس کے حلقۂ اثر میں نہیں آیا تاہم اس کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے لہٰذا جس حد تک ہوسکے اس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے جائیں۔ 1960 کے عشرے کے اوائل میں ہندوستان میں مقیم امریکی سفیر، معروف ماہر اقتصادیات جان کینتھ گالبریتھ(John Kenneth Galbraith)نے اپنی یادداشتوں میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ امریکہ ہندوستان سے دوستی کو اپنے لیے کتنا ضروری سمجھتا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان اور چین کی1962کی جنگ کے موقع پر امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے اپنے پاکستانی ہم منصب، ایوب خان کو تنبیہ کی تھی کہ وہ ہندوستان کے چین کے ساتھ جنگ میں ملوث ہوجانے کے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں۔
محولہ بالا تفصیلات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں جنوبی ایشیا کے حوالے سے سوویت یونین کی پالیسی عین اس کے مفادات کے مطابق تھی۔ امریکہ کے بھی ہندوستان کے ساتھ تعلقات اس کی اس حکمتِ عملی کا مظہر تھے کہ ہندوستان اگرمکمل طور پر اس کے حلقۂ اثر میں آنے سے گریزاں ہے تو جس حد تک بھی اس کی آمادگی ہے، اس کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھے جائیں ۔ہندوستان نے بھی دستیاب صورتحال میں اپنے قومی نقطۂ نظر سے بہترین فیصلہ کیا۔ دونوں عالمی طاقتوں کو ناراض نہیں کیا، اور دونوں کے حلقۂ اثر میں شمولیت کے بغیر دونوں سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے۔دفاعی اور سفارتی سطح پر جو فائدے اس کو حاصل ہوئے وہ تو ہوئے ہی ، سب سے بڑا فائدہ جو ہندوستان نے حاصل کیا وہ یہ تھا کہ داخلی طور پر اس کی قیادت اور شہری جو نظام اپنے لیے منتخب کر رہے تھے، یعنی آئین کی بالادستی اور اس کے زیرِ اثر جمہوری اداروں کا قیام اور استحکام، ہندوستان کا یہ راستہ محفوظ رہا۔ اس کے برعکس پاکستان کیونکہ دومیں سے ایک سپرپاور کے حلقۂ اثر میں چلا گیا لہٰذا اس کی قومی ترجیحات کی ترتیب اسی تعلق کی روشنی میں وضع ہوئیں۔ اگر پاکستان میں جمہوریت آغازِ کار ہی پر نظر انداز کر دی گئی بلکہ افسر شاہی کو اپنی من مانی کرنے اور ریاستی اقتدار پر اپنے تصرف کو مستحکم کرنے کا موقع ملا تو اس کی پشت پر سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ اور مغربی بلاک کی طرف چلے جانے کاہمارا اقدام بھی ایک اہم عامل تھا۔ امریکہ کو پاکستان میں جمہوری استحکام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ پاکستان میں ایسی حکومت چاہتا تھا جو کمیونسٹ بلاک کے خلاف اپنے ملک کے وعدے وعید سے منحرف نہ ہو بلکہ اس سلسلے میں تفویض کردہ کردار ادا کرنے کی اس کی آمادگی روز افزوں رہے۔ تاریخ کے ان حقائق کو اب کسی کے لیے بھی جھٹلانا ممکن نہیں کہ ہماری سول ملٹری بیوروکریسی نے یہ کردار امریکہ کی توقعات سے کہیں بڑھ کر ادا کیا۔
یہی نہیں بلکہ ایک دوسرے عامل نے بھی جمہوریت کشی اور آئین شکنی کے ہمارے ریاستی کردار کو جلا بخشی۔ یہ عامل ہندوستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کا مسئلہ تھا۔ تقسیمِ ہند جس فرقہ وارانہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے عمل میں لائی گئی تھی وہ اس حد تک تو کارگر رہی کہ ایک برصغیر کی تقسیم کر دی گئی اور ایک نیا ملک پاکستان کے نام سے وجود میں آگیا لیکن تقسیمِ ہند کو جس انداز میں ممکن بنایا گیا وہ تاریخی نوعیت کی مجرمانہ غفلت اور مختلف محکموں کی مکمل ناکامی کا مظہر ثابت ہوئی۔ اتنا بڑا کام یعنی ایک برصغیر کا تقسیم کیا جانا، جس قدر غوروفکراور پالیسی سازی کا متقاضی تھا، اور امکانی خطرات اور خدشات کی پیش بندی اور تقسیم کے کام کو کامیابی کے ساتھ روبہ کار لانے کے لیے جس قدر سرکاری انتظامات کی ضرورت تھی، اس سب کا کہیں اہتمام نظر نہیں آیا۔ نتیجتاً ایک کروڑ بیس لاکھ افراد کو ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف ہجرت کرنی پڑی اور وہ بے گھری کی کلفتوں سے دوچار ہوئے۔ دس لاکھ کے قریب انسان ہلاک ہوئے، انسانی حقوق کی بیخ کنی کے وہ مناظر دیکھنے میں آئے جن کی نظیر تاریخ میں موجود نہیں تھی۔ ان سب کا وقوعہ اس لحاظ سے اور بھی خطرناک تھا کہ جو کچھ بھی ہوا یہ چند ماہ وسال کی بات نہیں تھی، اگریہ سب دوچار سال میں ہو کر ختم ہوجاتا تب بھی ہم اس کو تاریخ کا ایک المیہ تصور کر کے صبر کر لیتے۔ المیہ در المیہ یہ ہوا کہ1947 کی اس تقسیم نے ہمارے آئندہ کے سفر کو مستقلاً داغ دار کیے رکھا۔ اب سے کوئی دو تین سال قبل چھپ کر آنے والی دلیپ ہائرو(Dilip Hiro)کی کتاب کا نام بڑا معنی خیز ہے۔ برصغیر کے موضوع پر کئی کتابیں لکھنے والے اس مصنف نے مذکورہ کتاب کا نام ’سب سے طویل اگست‘ (The Longest August)رکھا ہے۔ مفہوم اس کا یہی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اگست 1947 میں جو کچھ ہوا، وہ اگست ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا اور اس کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔ تقسیمِ ہند کے اس خون آشام ورثے نے ہندوستان پر شاید اتنا بُرا اثر نہیں ڈالا جتنا ہم پر ڈالا ہے۔ ہندوستان کیونکہ ایک بڑا ملک ہے، وہاں آزادی کے بعد ایک زیادہ بڑی اور مستحکم سیاسی جماعت یعنی کانگریس مستقبل کی نقشہ گری میں سرکردہ کردار ادا کر رہی تھی۔ کانگریس اور ہندوستانی بیوروکریسی میں ہم آہنگی بھی موجود تھی۔ پھر ہندوستان کی صنعتی اور کاروباری اشرافیہ اقتصادی لحاظ سے اتنی طاقتور تھی کہ کانگریس اور ہندوستانی بیوروکریسی کی پشت پناہی بھی کرسکتی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندوستان کی فوج کو وہاں کے تناظر میں اتنا اختیار اور طاقت حاصل نہیں تھی کہ اس کا کردار ریاست سازی میں فیصلہ کن بن جاتا۔ چنانچہ ہندوستان کے آئندہ کے سیاسی سفر میں تقسیمِ ہند کی ٹوٹ پھوٹ نے کوئی زیادہ گہرا اثر نہیں ڈالا۔
پاکستان کا معاملہ اس کے بالکل الٹ تھا۔ اس مملکت کا نو زائیدہ ہونا ہی بڑا بامعنی تھا۔ پاکستان کوسب کچھ اس طرح کرنا پڑا جس طرح ایک نیا گھر بنایا جاتا ہے۔ یہاں مرکزی حکومت بنائی گئی، وزارتیں تشکیل دی گئیں، سیکریٹیرئیٹ بنایا گیا، سفارت خانے بنائے گئے، وزرا، سرکاری افسران اور غیر ملکی سفیروں کی رہائش گاہیں بنائی گئیں، کرنسی ڈھالی گئی، مرکزی بنک بنایا گیا، دارالحکومت کی تشکیل ہوئی۔ غرض جملہ ریاستی اداروں کی داغ بیل ڈالی گئی جو اس سے پہلے موجود نہیں تھے۔ جو کچھ پاکستان کے حصے میں آیا وہ سب ایک غیر یقینی کی فضا سے آلودہ تھا۔ مہاجرین کا سیلاب سرحدیں عبور کر رہا تھا، سرکار کے پاس دھیلا نام کو پیسہ نہیں تھا، مانگے تانگے سے ایک سرکاری خزانے کی بنیاد رکھی جارہی تھی۔ غرض ایک غیر مرتب اور سیال معاشرے میں ریاست بنائی جارہی تھی۔ ظاہر ہے شروع ہی میں اس کی چُولیں ہلی ہوئی تھیں۔ ریاست کے اقتدار پر قابض ہو جانے والی سول اور فوجی افسر شاہی کوئی انقلابی راستہ اختیار کرنا تو دور کی بات، آئین اور جمہوری راستے کے انتخاب کو بھی مصلحت کے خلاف سمجھتی تھی۔ ایک خوف تھا کہ ہندوستان ہم کو نیست ونابود نہ کر دے۔ ہندوستان کی طرف سے بعض دھمکی آمیز بیانات اور بھی ہاتھ پیر پھُلانے کا سبب بن رہے تھے۔ اتنی سیاسی بصیرت کسی میں نہیں تھی کہ یہ فیصلہ کر پاتا کہ آئینی اور سیاسی راستے سے حاصل کردہ مملکت اپنی بقا کے لیے بھی آئین اور سیاسی راستے پرانحصار کرسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جناح کے ساتھ جناح کی لیاقت اور بصیرت بھی ہمارے قومی افق سے رخصت ہوچکی تھی۔ اب جو لوگ کا ر پردازانِ ریاست تھے، اُس وقت اگر اپنے گروہی اور ذاتی مفادات کے مطابق فیصلے نہیں بھی کر رہے تھے اور ان کی فیصلہ سازی تمام تر اُن کی سوچ بچار اور ان کے پاکستان کے مفادات کے تصور کا نتیجہ تھی تب بھی یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ پاکستان کے مفادات کو سمجھنے اور ہندوستان کے خطرے کی حقیقت کے تعین کی صلاحیت سے عاری ثابت ہوئے۔ ہندوستان کی دھمکیاں اس کی پاکستان کے لیے عملی مشکلات پیدا کرنے کی ریت، یہ سب اپنی جگہ، مگرہمارے لیے اصل امتحان ہی یہ تھا کہ ہم یہ فیصلہ کرتے کہ کس طرح ایک آئینی اور سیاسی راہ پر بھی گامزن رہتے اور ہندوستان کے خطرے سے بھی نہ صرف باخبر رہتے بلکہ اس کے خلاف اپنا دفاع بھی مضبوط بناتے رہتے۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ہندوستان کے خوف اور خطرے کی روشنی میں اپنا قومی لائحہ عمل بنائیں یا پھر اپنے قومی لائحہ عمل کی روشنی میں ہندوستان کے خوف اور خطرے سے عہدہ برا ہونے کی حکمتِ عملی بنائی جائے۔ اور بھی زیادہ آسان الفاظ میں بیان کیا جائے تو ہمیں دراصل یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ہم پاکستان کو بانیانِ پاکستان کے وعدوں اور ہندوستان کے مسلمانوں کی توقعات کے مطابق ایک وفاقی، جمہوری اور فلاحی مملکت بنا کر اس دائرے کے اندر قومی سلامتی کے مسئلہ کو دیکھیں یا پھر پاکستان کو ایک قومی سلامتی کی ریاست بنا کر اس کے اندر سیاست اور جمہوریت کی گنجائش کے بارے میں غور کریں۔ بد قسمتی سے ہم نے دوسرا راستہ منتخب کیا۔ ہم نے یہ جائزہ لیے بغیر کہ ہندوستان کا خطرہ کتنا حقیقی اور واقعی ہے، اور کتنا اس خطرے میں غیر حقیقی اور افسانوی عناصر شامل ہیں، پاکستان کو ایک قومی سلامتی کی ریاست بنانا پسند کیا اور جب ایک دفعہ یہ فیصلہ کر لیا گیا تو پھر اس کا مطلب سول اور ملٹری افسر شاہی کی بالادستی، قومی ترجیحات میں دفاع کے اخراجات کی اولیت اور سب سے بڑھ کر فلاحی امور کو ثانوی حیثیت دے دینا قرار پایا۔ اس قومی سلامتی کی ریاست کے اندر جمہوریت اور بنیادی حقوق کے لیے کچھ جگہ تو نکالی جاسکتی تھی لیکن جمہوریت اور بنیادی حقوق کو فوج اور افسر شاہی کے خود وضع کردہ قومی سلامتی کے تصورات پر فائق تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔
پاکستان میں جس قومی سلامتی کی ریاست کی اُٹھان آزادی کے فوراً بعد سے شروع ہوئی وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی ہے۔ اس پورے عرصے میں کئی آئینی تجربات ہوئے۔ اور 1973 میں جو مستقل آئین بنا اور جو اب بھی رائج ہے، وہ دو فوجی آمریتوں کے ہاتھوں مجروح ہوا۔ 71 سال کے سیاسی سفر کے بعد بھی ہم خود کو ایک ایسی جمہوری اور فلاحی مملکت نہیں بنا سکے جس کے جمہوری اور فلاحی ہونے پر سب یکسو اور متفق ہوں۔
قومی سلامتی کی اس ریاست کا نظریاتی سانچہ اور نظریاتی بیانیہ بھی وہ سانچہ اور بیانیہ نہیں تھا جو ایک حقیقی جمہوری اور آئینی ریاست کا ہونا چاہیے۔ آج ہم جس موضوع پر غوروفکر کے لیے یہاں یکجا ہیں ،یعنی ’پاکستان کا علمی اور فکری منظر نامہ اور نظامِ تعلیم‘۔ اس موضوع پر ریاست کے مذکورہ بالا تشخص ہی کے پس منظر میں گفتگو ہوسکتی ہے۔ جب ایک مرتبہ یہ فیصلہ ہم نے کر لیا کہ ہم ایک قومی سلامتی کی ریاست ہیں اور یہ کہ ہماری ساری ترجیحات ایک خوف کے زیرِ اثر طے ہونی چاہییں تو قطعِ نظر اس کے کہ یہ خطرہ درحقیقت اپنی کیفیت اور کمیت میں کتنا بڑا ہے، ہم ایک عمومی خوف کی فضا میں رہنے کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔ خوف کی یہ فضا پچھلے ستّر، اکہترّ سال سے قائم ہے۔ ان برسوں میں ہم تین بار جنگیں بھی لڑ چکے ہیں جن میں ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ ایک جنگ (1971) ہمارے ملک کے ٹوٹ جانے پر منتج ہوئی۔
ہندوستان سے ہماری یا ہم سے ہندوستان کی دشمنی کا ایک بہت بڑا نفسیاتی اثر ہمارے یہاں مرتب ہوا ہے اور وہ یہ کہ ہم ایک شدید قسم کے نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ایک بہت بڑا وجودی بحران(Existentialist Crisis)ہمیں اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔ یہ بحران یہ ہے کہ ہم ہیں، مگر ہمیں یقین نہیں کہ ہم ہیں۔ ہم آزاد ہو چکے ہیں لیکن ہمیں یقین نہیں آرہا کہ ہم آزاد ہوچکے ہیں۔ ہمیں ہر لمحہ یہ خوف پریشان کیے رکھتا ہے کہ کوئی ہے جو ہمیں ختم کر دے گا، ہم ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ ہمارا کوئی مستقبل نہیں، کوئی ہے جو ہمیں تباہ وبرباد کر کے رکھ دے گا۔ یہ ذہنی کیفیت دنیا کے کسی اور ملک میں دیکھنے میں نہیں آتی۔ دنیا کے دوسرے ممالک بڑے بڑے بحرانوں سے گزرتے ہیں، وہاں انتشار کی کیفیت بھی جنم لیتی ہے، معاشروں میں ٹوٹ پھوٹ بھی ہوتی ہے، اضطراب کی لہروں کے سامنے بڑی بڑی حکومتیں ڈھے جاتی ہیں لیکن کوئی شہری دوسرے شہری سے یہ پوچھتا نظر نہیں آتا کہ ہمارا ملک رہے گا یا نہیں۔ یہ سوال صرف ہمارے یہاں ہی پوچھا جاتا ہے، سیمیناروں کے مقالوں میں، کانفرنسوں میں، چائے کے وقفوں میں، شادی بیاہ کی دعوتوں میں کھانا کھلنے سے پہلے جب عزیز واقربا میز کے گرد بیٹھے باتیں کر رہے ہوتے ہیں، خاندان کے افراد یا دوست احباب یا نجی گفتگو میں یہ سوال اتنی تکرار کے ساتھ کیوں پوچھا جاتا ہے۔ اس کی واحد وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے، کہ ہم ایک شدید قسم کے وجودی بحران کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک عدم یقین کا بحران، ایک عدم اعتبار کا بحران۔ یہ بحران اس وقت تک رہے گا جب تک ہم خود کو ہندوستان کے خوف سے آزاد نہیں کر الیتے۔
اب آئیں اس طرف کہ ہم ہندوستان کے اس خوف سے آزاد ہوں گے کس طرح؟ جنگیں ہم نے کر کے دیکھ لیں۔ ایک آدھ جنگ اپنے تئیں ہم نے جیتی بھی ہے، گو اس پر سب سے زیادہ شکوک وشبہات ان جنگوں کے وقت پر ہماری اعلیٰ ترین عسکری قیادت کی طرف سے ظاہر کیے گئے ہیں۔ ہم اسلحے کی ایک ایسی دوڑ میں شامل ہیں جس میں ہر روز تیزی آتی جاتی ہے۔ ہم ایک ایٹمی طاقت بھی بن گئے لیکن ہمارا عدم تحفظ کا احساس کسی طور ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ ہماری دانست میں پاکستانیوں کا وجودی بحران اور ہندوستان کا ایک ہروقت ذہنوں پر طاری رہنے والا خوف اُس وقت تک برقرار رہے گا جب تک کہ ہم قومی سلامتی کی ریاست کے دائرہ کار (Paradigm)سے باہر نہیں نکل آتے۔ اس Paradigmمیں رہتے ہوئے نہ ہم ریاست کی ترجیحات کو درست کرسکیں گے، نہ ہم سیاسی اداروں کو اور آئین کو وہ وقعت دے سکیں گے جو ان کا تقاضا ہے۔ نہ ہم ہندوستان کے خطرے کی اس کمیت اور کیفیت کا تجزیہ کرنے کے لائق ہوں گے اور نہ ہی ہمیں اپنے ہونے کا یقین آئے گا۔ سوال یہی ہے کہ اس Paradigmسے نکل کر ہم جائیں تو جائیں کس طرف۔ ہمارے لیے جانے کی ایک ہی سمت اور ایک ہی راستہ ہے۔ جو کام ستّر سال پہلے ہونا چاہیے تھا اور جو ماضی میں کسی بھی مرحلے پر کیا جاسکتا تھا، وہی کام کرنے کی آج بھی ضرورت ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی سیاسی اور ریاستی ہیئتِ حاکمہ سے ہمکنار کیا جائے جو اپنی روح، اداروں اور حکمتِ عملیوں میں جمہور کی بالادستی کے تصور کی آئینہ دار ہو۔ ہم نے اپنے ملک کے نام میں تو جمہور کا لفظ شامل کر لیا ہے لیکن کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ ہمارے یہاں نہ تو ریاست کے ادارے اور نہ ہی اس کی حکمت عملیاں عوام کی بالادستی کے تصور کی نمائندگی کرتی ہیں۔
پاکستانی ریاست کی جدید نو آبادیاتی نوعیت، اس کے مرکزیت پسندانہ تشخص اور مغربی بلاک سے اس کی وابستگی کے نتیجے میں جو مخصوص نظریاتی بیانیہ ریاست نے وضع کیا وہ اس بیانیے سے مختلف تھا جو اہلِ پاکستان اپنی رضا اور منشا سے، اپنے زمینی حقائق اور تاریخی وسماجی رشتوں کے تناظر میں وضع کرتے۔ اس جدید نوآبادیاتی نظریاتی بیانیے کو اتحاد کے ایک ایسے تصور سے ہم آہنگ کیا گیا جس نے ملک کی تکثیریت کے اعتراف کے بجائے ایک شدید قسم کی مرکزیت پسندی کو شہریوں کے لیے قابلِ قبول بنانے کی کوشش کی۔ اس مقصد سے اسلام کے مقدس نام کا بے دریغ استعمال کیا گیا تا کہ اپنے تہذیبی اور ثقافتی تشخص پر فخر کرنے والے مختلف صوبوں کے باشندے اسلام کے احترام کے پیشِ نظر ریاست کے احکامات کو قبول کرنا شروع کردیں۔ ریاست کا یہی مرکز پسندانہ تصور نظریۂ پاکستان کہلایا۔ یہ ایک ایسی اصطلاح تھی جس کا قیام پاکستان سے پہلے کبھی کوئی ذکر نہیں ہوا تھا۔قائدِ اعظم نے Theory of Pakistanکی اصطلاح تو ضروراستعمال کی تھی لیکن Ideology of Pakistanکی ا صطلاح انہوں نے استعمال نہیں کی۔ کوئی بھی صاحبِ مطالعہ شخص فیصلہ کرسکتا ہے کہ ’تھیوری‘ اور ’آئیڈیالوجی‘ میں کیا فرق ہے۔ تھیوری کا لفظ جس کا اردو میں ترجمہ ’نظریہ‘ ہی کیا جاتا ہے ایک بالکل مختلف مفہوم رکھتا ہے۔ اس سے مراد وہ اصول اور قوانین ہوتے ہیں جو کسی عمل کی تشریح اور وضاحت کرتے ہیں۔ تھیوری مشتق بھی کسی عمل یا تجربے سے ہوتی ہے۔ اگر یہ کسی عمل کے وقوع پذیر ہونے سے قبل وضع کر لی جائے تو اس کو اہلِ علم تھیوری کے بجائے مفروضہ تصور کرتے ہیں۔ البتہ جب ایک عمل وقوع پذیر ہوجاتا ہے تو اس کی تفہیم اور تشریح کے ذیل میں جو اصول اور قوانین مرتب ہوتے ہیں وہ اس عمل کا نظریہ (Theory)قرار پاتے ہیں۔ قائد اعظم جب پاکستان کی تھیوری بیان کرتے تھے تو ان کے پیشِ نظر وہ اصول تھے جو اس مملکت میں روبہ عمل آنے تھے مثلاً ایک پارلیمانی نظام، ایک وفاقی نظام اور ایک عدلِ عمرانی پر مشتمل سماجی ڈھانچہ جس کے اندر اسلام کے عدل وانصاف سے متعلق تصورات کی روح موجود ہوتی، تو یہ سب مفروضات ہیں لیکن قائداعظم ان کو پاکستان میں متشکل ہوتا دیکھنا چاہتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ ایسا کرنے میں وہ اور ان کے دیگر رفقا کامیاب ہوجائیں گے۔ بدقسمتی سے یہ اصول عملدرآمد سے محروم ہی رہے۔
اسلام کا استعمال قومی سلامتی کی ریاست کی داخلی ضروریات اور داخلی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ہی ضروری نہیں سمجھا گیا بلکہ ریاست کی خارجہ حکمت عملی میں بھی اس کا ایک اہم کردار رکھا گیا۔ مغربی بلاک کے ساتھ تعلق قائم کرتے وقت اور پھر1980 کے عشرے کے وسط میں سینٹو اور بغداد پیکٹ اور بعدازاں سینٹو سے ہماری وابستگی کو بھی خداناشناس کمیونسٹ بلاک کے خلاف اہلِ مذہب کے اتحاد میں شمولیت قرار دیا گیا۔1950 میں وزیراعظم لیاقت علی خان نے تو اپنے دورۂ امریکہ کے موقع پر، امریکی سرزمین پر قدم رکھتے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک روحانی پل تعمیر کرنے کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں۔ 1950 کے عشرے سے متعلق منظرِ عام پر آنے والی امریکہ خفیہ دستاویزات سے یہ بات بھی منکشف ہوتی ہے کہ اُس زمانے میں کراچی میں قائم امریکی سفارتخانہ اور ملک میں موجود دیگر قونصل خانے پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں سے بھی روابط قائم کیے ہوئے تھے۔
خارجہ امور میں مذہب کو استعمال کرنے کی سب سے بڑی مثال1979 میں افغانستان میں روس کی مداخلت کے بعد اُس وقت سامنے آئی جب امریکہ اور مغربی یورپی ممالک کی پشت پناہی سے جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت نے پاکستان کو کمیونزم کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے میں ایک طرف امریکہ کی سرد جنگ کے دوران کے سوویت یونین مخالف حکمت عملی تھی اور دوسری طرف پاکستان کی فوجی حکومت کی یہ خواہش کہ اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کو بے کنار فوجی امداد اور اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے نیز فوجی حکومت کو استحکام حاصل ہوگا۔ مگر اس منفعت باہمی کو مذہب کا لبادہ پہنانا ضروری سمجھا گیا۔ سادہ لوح افغانوں کو باور کرایا گیا کہ سوویت یونین کے خلاف جس جنگ کی آگ میں ان کو جھونکا جارہا ہے، وہ دراصل جہاد ہے، جس میں کام آجانے پر وہ شہید اور بچ جانے پر غازی قرار پائیں گے۔ پاکستانی عوام کو بتایا گیا کہ کمیونزم کا اگلا ہدف پاکستان ہوگا لہٰذا اس جہاد میں ان کو افغانوں کا ساتھ دینا چاہیے۔
افغان جہاد کے دوران ہمارے یہاں مذہبی سیاسی جماعتوں کی بن آئی۔ انہوں نے جہاد کے لیے ریکروٹنگ کا کام کیا۔ عرب ممالک سے آنے والے جہادیوں کی میزبانی اور جہاد کے لیے بھرتی کا فرض ادا کیا۔ نو افغان جہادی تنظیمیں ان برسوں میں منظر عام پرآئیں۔ پیٹروڈالرز کی ملک میں ریل پیل ہوئی۔ دینی مدرسے جہاد کی نظریاتی اور عسکری تربیت گاہیں بنائے گئے۔ اس پورے پروجیکٹ کو ہمارے ریاستی قومی سلامتی کے اداروں کی براہِ راست سرپرستی تو حاصل تھی ہی ، خود امریکہ بھی اس ’کارخیر‘ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا۔جس اسلامائزیشن کا دور دورہ فوجی حکومت کے طفیل ہورہا تھا اُس کو امریکہ کی تائید مختلف طریقوں سے حاصل ہو رہی تھی۔ بالخصوص جہاد کے پروجیکٹ کی عسکری ہی نہیں نظریاتی پشت پناہی میں بھی امریکہ سرِ فہرست تھا۔ اس جہادی پروجیکٹ میں پاکستان کے سرکاری تعلیمی ادارے ہی نہیں بلکہ افغان مہاجرین کے لیے بنائے گئے ادارے بھی شامل تھے۔ بلکہ ان مؤخّرالذکر میں امریکہ کا عمل دخل زیادہ نظرآنے والا اور براہ راست تھا۔ افغان بستیوں میں پڑھایا جانے والا بچوں کا نصاب جہادی مواد پر مشتمل تھا اور اس کی کتابیں چار ذریعوں سے تیار کی جاتی تھیں۔ ایک تو بنیاد پرست مذہبی سیاسی جماعتیں یہ کتابیں تیار اور تقسیم کرتی تھیں۔ دوسرا ذریعہ افغان مہاجرین کا کمشنریٹ تھا جو اقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار ریفیوجیز (UNHCR) کے اشتراک سے کتابوں کی تیاری کا کام کرتا تھا۔ کتابوں کی تیاری اور تقسیم کا ایک اور ذریعہ وہ این جی اوز تھیں جو بیرونی ممالک سے ملنے والے خطیر مالی وسائل کے ذریعے یہ کام کرتی تھیں۔ ان سب کے علاوہ براہِ راست امریکہ سے بھی جہادی نصابی کتابیں شائع کر کے افغان مہاجرین کے اسکولوں میں تقسیم کی جاتی تھیں۔ 1980 کے عشرے کے اوائل میں یوایس ایڈ(USAID)کی گرانٹ سے یونیورسٹی آف نبراسکا۔ اوماہا اور اس کے سینٹر فار افغانستان اسٹڈیز کے تحت افغان بستیوں میں قائم پرائمری اسکولوں کے بچوں کے لیے جو ابتدائی تعلیم کے لیے قاعدے تیار کر کے بھجوائے گئے ان کے اسباق اور اُن کے ساتھ شامل تصاویر تشدد، بے رحمی اور عسکریت کی تعلیم پر مشتمل تھے۔ ان میں جو تصورات اور تصاویر پیش کی جاتی تھیں وہ کچھ اس طرح کے تھے__کفار، بے دین، شہید، بندوق، کلاشنکوف، گولیاں، سپاہی، مائنز، وغیرہ وغیرہ __تشدد پر آمادہ کرنے اور جنگ وقتال کو ایک ارفع مقصد باور کرانے کے لیے اس سارے عمل کا نام جہاد رکھ دیا گیا تھا۔ اس جہادی نصاب میں کس طرح کے سبق شامل تھے، اس کی وضاحت ریاضی کی ایک کتاب میں درج مثالوں سے دی جاسکتی ہے۔ مثلاً:
(الف) اگر 10 کافروں میں سے 5کافروں کو ایک مسلمان ہلاک کر دے تو5 کافر بچیں گے۔
(ب) 5 بندوقوں میں5اور بندوقیں جمع کی جائیں، تو کل بندوقوں کی تعداد 10 ہوگی۔
(ج) 15گولیوں میں سے10گولیاں استعمال ہو جائیں تو باقی5 گولیاں بچیں گی۔
یہ کتابیں دری اور پشتو زبانوں میں لکھی جاتی تھیں۔ اسی نہج پر این جی اوز اور دوسرے ادارے پرائمری ہی نہیں سیکنڈری کی سطح پ مستعمل کتابیں تیار کر رہے تھے۔ جہاد کے پردے میں تشدد، بے رحمی اور انتہا پسندی پر مشتمل مواد کو کس طرح نصاب کا حصّہ بنا کر کتابوں میں جگہ دی گئی، اس کی بہت مستند تفصیلات پشاور یونیورسٹی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر سے شائع ہونے والی ڈاکٹر فضل الرحیم مروت کی چشم کشا کتاب ’ مہاجر سے مجاہد تک‘ (From Muhajirs to Mujahid)میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
ان کتابوں اور جہادی نصاب سے جو ذہن تیار کرنا مقصود تھا، اُس کے عملی مظاہر بعد کے برسوں میں افغانستان اور پاکستان، دونوں ملکوں میں دیکھنے میں آئے۔ 1980کے عشرے کے اواخر میں سوویت یونین تو افغانستان سے نکل گیا لیکن افغانستان میں امن وامان کا دور واپس آیا نہ ہی پاکستان کا افغانستان کے معاملات میں ملوث ہونا ختم ہوا۔1994 اور اس کے آس پاس پاکستان نے افغان جہادی تنظیموں کی باہمی خونریز لڑائیوں کے تناظر میں ایک اور مہم شروع کی۔ یہ طالبان کے نام سے بنائے گئے جتھے تھے جن کو تربیت دے کر افغانستان میں بھیجنے، جہادی تنظیموں کو بے اثر کرنے اور کابل کے اقتدار پر قابض ہونے کی ذمہ داری دی گئی۔ طالبان اس کام کو کرنے میں کامیاب بھی رہے اور اگلے چند برس انہوں نے افغانستان پر اپنے طرز کا اسلام بزورِ طاقت نافذ کرنے کی کوشش کی۔ طالبان نے جس شدت پسندی کا مظاہرہ کیا اُس کے اثرات پاکستان میں بھی مرتب ہوئے۔ طالبانائیزیشن کی ہوائیں اب پورے خطے میں چل رہی تھیں۔ افغانستان میں ملاعمر کی حکومت کے وزرا علی الاعلان پاکستان کے دینی مدرسوں سے اپنے فارغ التحصیل ہونے کا ذکر کرتے تھے۔ ایک موقع پر اکوڑہ خٹک کے دارالعلوم کے مہتمم اور طالبان کی تیاری اور نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرنے والے مولانا سمیع الحق نے پاکستان اور افغانستان کے ادغام اور ملا عمر کو ان دونوں پر مشتمل مملکت کا خلیفہ قرار دینے کی تجویز بھی پیش کی۔
افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کے اختتام پر پاکستان سے جانے والے مجاہدین کا ایک بڑا حصہ ملک میں موجود انتہا پسند فرقہ پرست تنظیموں کے کام آیا۔ چنانچہ اب جہاد کے میدان ملک کے اندر بھی کھل گئے۔ اب نہ مسجدیں محفوظ تھیں نہ ہی امام باڑے، خود کش حملے معمول بنتے چلے گئے۔ یہ محاذ آرائی جاری تھی کہ امریکہ میں ٹریڈ ٹاورز کے انہدام کا واقعہ پیش آیا اور یوں امریکہ پورے لاؤلشکر کے ساتھ افغانستان آبیٹھا۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر امریکہ کی مہم کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔2007 میں اسلام آباد میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے کی جانے والی جارحانہ کارروائیوں کو ختم کروانے کے لیے فوجی کارروائی کے دوران شدید قسم کی خونریزی ہوئی تو ردّعمل میں مزید پُر تشدد واقعات کا سلسلہ چل نکلا۔ دہشت گردی کے پے در پے واقعات میں زیادہ نقصان عام شہریوں کا ہوا۔ ہلاکتیں بھی زیادہ تر شہریوں کی ہوئیں۔
2014 اور2015 تک پہنچتے پہنچتے دہشت گردی کے روز افزوں واقعات میں چار باتیں نمایاں ہو کر سامنے آچکی تھیں۔ پہلی بات یہ کہ1979-80 سے اب تک مذہبی انتہا پسندوں کی تین نسلیں میدان میں آچکی تھیں۔ افغانستان میں سوویت یونین کی مزاحمت کے نام پر وجود میں آنے والے جہادیوں کی نسل، پھر طالبان کی شکل میں دوسری نسل کے جہادی اور اس کے بعد9/11 اور لال مسجد و جامعہ حفصہ کی کارروائی سے مشتعل ہونے والے، تیسری نسل کے جہادی۔ دوسری اہم بات یہ کہ گو کہ ان تینوں نسلوں کے جہادیوں کی تشکیل اور پرداخت میں ریاست کے اداروں کا پس پردہ کردار موجود تھا مگر تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے جہادی عناصر خود مختاربنتے چلے گئے تھے اور اب ان کا اسلحے کے حصول اور جہادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے ریاستی اداروں پر سو فیصد انحصار ضروری نہیں تھا۔ وہ عالمی دہشت گرد بازار میں خود کو فروخت کرنے والے آزاد دہشت گرد بن رہے تھے۔ایسے دہشت گردوں کی ISISکی نظروں میں مانگ بڑھ رہی تھی۔ تیسری اہم بات جو دہشت گردی کے حوالے سے نمایاں ہو کر سامنے آئی، وہ یہ تھی کہ ماضی میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی تربیت کی ذمہ داریاں بعض طاقت ور دینی مدارس پر ڈالی جاتی تھیں جو خود کش حملہ آور تک تیار کر رہے تھے۔ مگر اب یونیورسٹیوں اور کالجوں اور بعض اسٹیٹ آف دی آرٹ اداروں میں بھی انتہا پسند عناصر کی موجودگی کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔ چوتھی اہم بات یہ کہ یہ نظر آنے لگا کہ ریاست کی رِٹ رفتہ رفتہ ختم ہوتی جارہی ہے۔
16دسمبر2014 کا دن ہماری ہمعصر تاریخ کا ایک خون آشام دن ثابت ہوا۔ اس سے قبل ہم ۱۹۷۱ء کے 16 دسمبر کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا تاریخی المیہ دیکھ اور بہت جلد اس کو بھلا بھی چکے تھے۔ (بھلانے کا یہ عمل کتنا ’ارادی‘ تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تب سے اب تک ہماری نصابی کتابیں اس کے بارے میں بالکل خاموش ہیں)۔2014 کے 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کی کارروائی کے نتیجے میں ڈیڑھ سو افراد شہید ہوئے جن میں132 بچے شامل تھے۔ اس دلدوز سانحے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ شہری سوال کناں تھے کہ خونریزی اور ہلاکتوں کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ یہ بات بھی معنی خیز تھی کہ مسلح دہشت گردوں نے یہ کارروائی آرمی پبلک اسکول میں کی تھی اور جاں بحق ہونے والے بچوں میں فوجیوں کے بچے بھی شامل تھے۔ دہشت گردوں کے ارادے اور اہداف اب بالکل واضح تھے۔ چنانچہ جلد ہی موزوں اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور مسلح افواج کی قیادت نے یکجا ہو کر چند فیصلے کیے، ایک نیشنل ایکشن پلان تیار کیا گیا جس میں قلیل المدت اور طویل المدت اقدامات پر اکتفا ہوا۔ فوجی عدالتوں کا قیام ان اقدامات میں شامل تھا جس کے لیے آئین میں ۱کیسویں ترمیم کر کے گنجائش پیدا کی گئی ۔۲۰ نکاتی نیشنل ایکشن پلان کے چار بنیادی اہداف قرار دیے گئے۔
1۔ قانون نافذ کرنے سے متعلق اقدامات
2۔ عدالتی اقدامات
3۔ انتظامی اقدامات، اور
4۔ عسکری اقدامات
اس موقع پر نیشنل کاؤنٹر ٹیرورزم اتھارٹی (NACTA)کا قیام عمل میں آیا۔ اگلے چند برسوں میں چند عسکری اور قانون نافذ کرنے سے متعلق اہداف کے حصول میں تو پیش رفت ہو ئی مگر نہ تو ملک کے عدالتی نظام میں اصلاحِ کار کے حوالے سے کوئی سنجیدہ کوشش ہوتی نظرآئی اور نہ ہی انتظامی سطح پر دور رس نوعیت کی پالیسیوں کے بنائے جانے کے اشارے ملے۔
مذکورہ بالا جملہ اہداف کے حصول میں کوئی بڑی کامیابی حاصل ہوجاتی تب بھی یہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی، عدم رواداری اور تشدد پر مائل ذہنیت کے خاتمے کے نقطۂ نظر سے صرف ایک محدود سطح ہی تک نتیجہ خیز ثابت ہوتی۔ کئی عشروں تک جاری رہنے والی ریاست کی اپنی نظریاتی کاوشوں کے نتیجے میں ملک میں جس انتہا پسندانہ فضا کا دور دورہ ہے وہ چند عسکری اور انتظامی نوعیت کے اقدامات سے ختم نہیں ہوسکتی تھی۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ ملک کا نظریاتی بیانیہ تبدیل کیا جاتا۔ مذہب کو ریاست کی مطلب برآری کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی ترک کی جاتی، نصابِ تعلیم کو،نفرت کو فروغ دینے کے بجائے معروضی حقائق اور عقلیت پسندی کا مظہربنایا جاتا۔جنگ وجدل اور قتال کے درس دینے کے بجائے صلح وآشتی، انسانی برادری کی مشترک اقدار پر زور دینے اور ملک کی متنوع ثقافتی اور تہذیبی اساس کو اجاگر کرنے کا راستہ اختیار کیا جاتا۔ بدقسمتی سے اس سمت میں کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس اغماض کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بحیثیتِ مجموعی ملک کانظریاتی بیانیہ کم وبیش وہی ہے جو برسہا برس سے چلا آرہا ہے۔ ذرائع ابلاغ اس کی تشہیر کر رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی اس کا دور دورہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے ادارے بالخصوص جامعات اپنی پرانی ڈگر ہی پر گامزن ہیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد نظریۂ پاکستان کی اصطلاح وضع ہوئی لیکن اس کو بھی زیادہ تکرار کے ساتھ1960 کے عشرے میں استعمال کیا جانا شروع ہوا۔ کہا گیا کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے اور اسلام ہی نظریۂ پاکستان ہے۔ سیاسی علوم سے واقفیت رکھنے والا کوئی بھی شخص اس حقیقت سے واقف ہے کہ ریاستیں شہریوں کی اطاعت حاصل کرنے کے لیے اپنا ایک نظریاتی سانچہ بھی بناتی ہیں۔ یہ نظریاتی سانچہ اگر جمہوری ماحول میں شہریوں کے افہام وتفہیم کے نتیجے میں وضع کیا جائے تو اس کا مواد (Content)اور کردار (Character) بڑی حد تک جمہوری مزاج کا حامل بن جاتا ہے۔ لیکن جمہور کو الگ رکھ کر جب ریاستیں اپنا کوئی نظریہ شہریوں پر تھونپتی ہیں تو اس کی غیر جمہوری اساس اور کردار کو چھپانے کے لیے کسی اعلیٰ اور ارفع تصور ہی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ پاکستان میں شہریوں کی اطاعت کے حصول کے لیے ریاستی نظریہ سازوں نے اسلام کے مقدس نام کو استعمال کرنے کی بھرپور کوششیں کی ہیں۔ ان کوششوں کا سب سے سفاک پہلو یہ ہے کہ ریاست کے عمائدین اور نظریہ سازوں کی معاشی، سیاسی اور سماجی، غرض کوئی بھی پالیسی اسلام کی عدل وانصاف اور رواداری کی اقدار سے کبھی ہم آہنگ نہیں رہی۔ یہی نہیں بلکہ بحیثیتِ مجموعی ان تمام ریاستی اداروں کے اعلیٰ ترین اہلکاروں اور فیصلہ سازوں کی اپنی نجی اور ذاتی زندگی کا بھی اسلام کی اُن قدروں سے کوئی علاقہ نظر نہیں آتا جن کا ذکر روز وشب ہوتا ہے۔ البتہ شہریوں کو تہہ دام رکھنے کے لیے اسلام کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مشرقی پاکستان کی اپنے سیاسی حقوق کے حصول کی جدوجہد اور اپنے وسائل پر تصرف کی بنگالیوں کی قابلِ فہم خواہش کو دشمن کی سازش قرار دے کر طاقت کے بے رحم استعمال کے ذریعے ان کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اپنی تہذیبی وثقافتی شناختوں پر اصرار کرنے والے حلقوں کی زبان بندی کے لیے بھی اسلام کا نام ہی استعمال کیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اور تعلیمی نصاب کی مدد سے ایک ایسا ذہن بنانے کی کوشش کی گئی جو جبر کے اس نظام کو ہی ایک حقیقی اور خوش آئند نظام تصور کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ جابرانہ طرزِ عمل اور ملک کے زمینی حقائق سے لاتعلق نظریاتی بیانیے قبولِ عام حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ ایسے قوانین بنائے گئے جن کا مقصد آزادئ رائے کو سلب کرنا اور تحقیق اور تخلیق کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ ہم سوچ سکتے ہیں کہ پاکستان کے تعلیمی نظام سے اور خاص طور سے ہماری جامعات سے ایسے بلند قامت اور نابغۂ روزگار مفکر اور اہلِ دانش کیوں پیدا نہیں ہوئے جن کے افکار نے عالمی سطح پر اپنا کوئی وزن محسوس کروایا ہوتا۔ ہمارے وہ تاریخ نویس اور ماہرینِ سماجی علوم جنہوں نے عالمی سطح پر نام پیدا کیا،ان کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے باہر کی علمی دنیا اور وہاں کی جامعات میں رہ کر ہی وہ کام کیا جس نے ان کو قبولیت اور شہرت بھی فراہم کی اور ان کے کام سے استفادہ بھی کیا گیا۔ ایسا صرف اسی وجہ سے ہو پایا کیونکہ باہر کی علمی فضا میں ان کو مناسب موقع میسر آیا، اور وہاں کی جامعات میں انہیں وہ آزادی دستیاب ہوئی جو ایک نئی بات اور نیا خیال پیش کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ پاکستان میں اظہار اور تحریر کی آزادیوں پر جو قدغنیں نافذ رہیں ان کے نتیجے میں نہ صرف ہماری جامعات تخلیق کے کلچر سے محروم ہو کر صرف تدریس کے مراکز بن کر رہ گئیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے اندر تخلیق کا جوہر بھی معدوم ہوتا چلا گیا۔ اس جوہر کو بیدار کرنے کے لیے اب کچھ ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے والے سمجھتے ہیں کہ تحقیق اور تخلیق کا کام صرف پیسے کے حصول کی خواہش کو بڑھا کر ہی کروایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والوں کو الاؤنس دیے جاتے ہیں جو اب خاصے خطیر بن چکے ہیں۔ اس حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے لیکن علمی منظر نامے میں کسی جوہری تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے۔
تخلیقی عمل سے محروم اور تحقیق کے کلچر سے کوسوں دور ہمارے اعلیٰ تعلیم کے ادارے بہت آسانی سے ریاستی نظریاتی بیانیے کو قبول کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ لہٰذا ایک طرح کا فکری جمود ہے جو پورے ملک ہی میں نہیں ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بظاہر مصروفیت بہت زیادہ ہے، ماحصل کچھ نظر نہیں آتا۔ کانفرنسیں ہوتی ہیں، لاکھوں کے خرچ سے ان کا انعقاد ہوتا ہے، برے بھلے مضامین کی بھی بھرمار ہوتی ہے لیکن بحیثیت مجموعی کوئی نئی چیز نکل کر نہیں آرہی ہوتی۔
سوال یہ ہے کہ ہم اس صورتِ حال سے نجات کیوں کر حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ نتیجہ نکالنا تو آسان ہے کہ کیونکہ ہمارا بیانیہ عملاً اپنا کوئی مثبت رنگ نہیں جما سکا،نہ تو لوگوں کی مادی ضروریات کو پورا کرسکا نہ ان کو ذہنی اور روحانی آسودگی سے ہمکنار کرسکا۔ نہ ملک میں اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دے سکا اور نہ ہی افہام وتفہیم کی فضا پیدا ہوسکی۔ لہٰذا ایک متبادل بیانیہ ضروری ہے لیکن مسئلہ پھر یہی آکھڑا ہوتا ہے کہ بیانیے نہ تو فیکٹریوں میں بنتے ہیں اور نہ ہی چند ایک بزرجمہر ایک جگہ بیٹھ کر اس کا تاروپود بن سکتے ہیں۔ کرنے کو تو یہ سب ہوسکتا ہے لیکن ایسے بیانیوں کا حشر بھی وہی ہوتا ہے جو ہمارے موجودہ برسرِ کار بیانیے کا ہوا ہے اور ہورہا ہے۔
ایک متبادل بیانیہ متقاضی ہے کہ اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ وہی بیانیے اور نظریے استقلال حاصل کرتے ہیں جو معاشرے کی اجتماعی بصیرت کے حامل ہوتے ہیں، جن کے اندر جمہوری روح روبہ کار ہوتی ہے، جو زمینی حقائق میں اپنی جڑیں رکھتے ہیں، جو تکثیریت کے اعتراف پر استوار ہوتے ہیں، اور جن کے اندر لوگوں کی آس اور پیاس دونوں کی تشفی ہورہی ہوتی ہے۔ ایسے بیانیے کی تشکیل کے لیے دانشوروں کی محفلیں آراستہ کرنے سے پہلے افتادگانِ خاک سے رجوع ضروری ہے۔ ہماری قوم کے وہ عناصر جو بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب، ان سب علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جو پاکستان کے حقیقی باشندے ہیں، ان کی زندگیاں کن حالوں میں ہیں، ان کے مسائل کیا ہیں، ان کی محرومیوں کی نوعیت کیا ہے، وہ استحصال کے کن شکنجوں میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کا حق کیا بنتا ہے، ان کو دستیاب کیا ہے اور کیا دستیاب ہونا چاہیے۔ یہ سب بڑے مادی معاملات ہیں ان پر کسی خوبصورت عقیدے اور کسی مسلک کی چادر ڈالنے کے بجائے ان کو ان کے حقیقی رنگ وآہنگ میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بیس کروڑ سے زیادہ کی آبادی کا یہ ملک ایک حقیقی ملک اور قوم کا تشخص تبھی حاصل کرسکتا ہے جب اس کے سب شہری اور سب وحدتیں ایسے باہمی رشتوں میں مربوط ہوں جو انصاف کے اصولوں پر قائم کیے جائیں۔ سیاسی لغت میں اس کے لیے ایک اصطلاح ’معاہدہ عمرانی‘ کی موجود ہے۔ اس سے مراد شہریوں کا شہریوں سے اور شہریوں کا ریاست کے ساتھ ایسے معاہدوں میں جُڑنا ہے جن میں طرفین کے لیے باہمی اطمینان اور آسودگی کا پہلو پوشیدہ ہو۔ پاکستان اگر اپنی وحدتوں کے درمیان ایک قابلِ اطمینان اور قابلِ عمل انتظام طے اور قائم کر پاتا ہے اور شہریوں اور ریاست کے درمیان معاملات کو مثبت طور پر طے کروانے میں کامیاب رہتا ہے تو ان مادی بنیادوں پر ایک ایسا نظریاتی بیانیہ وضع کیا جاسکے گا جو جمہوری بھی ہوگا ، فلاحی بھی اور یقیناًاس میں اسلام کی روشن خیال قدروں کی نمائندگی بھی ہوگی۔ یہ بیانیہ اوپر سے تھوپا ہوا نہیں بلکہ شہریوں کے حقوق کے احساس اور اعتراف سے ابھرنے والا بیانیہ ہوگا اور یہی صحیح معنوں میں مملکت کے استحکام کا وسیلہ بن سکے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...