’دوٹوک‘ سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ کی بے لاگ تبصروں پر مشتمل کتاب

265

اس وقت،سابق آئی جی موٹروے پولیس ذوالفقار چیمہ کے کالموں پہ مشتمل کتاب ”دوٹوک“ میرے سامنے ہے، جس میں شامل قومی اور سماجی مسائل پہ  بے لاگ تبصروں اور سیاسی ایشوز پر ان کے بیباک خیالات کو پڑھ کے میرے احساسات کو نئی تازگی ملی ہے۔ ان کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ محض اچھے منتظم اور دیانتدار پولیس آفیسر ہی نہیں بلکہ زندگی کے شعور سے لبریز اور خیر و شیر میں تمیز کرنے والی قوت مشاہدہ کے حامل بہترین نقاد بھی ہیں۔ جس کا عکس ان کے ”ایک، خطرناک، مگر یاد گار تقریر“ اور”کیس تو ٹریس ہے“جیسے کالموں میں صاف نظر آتا ہے۔

چیمہ صاحب سے میرا پہلا تعارف مارچ 2005 میں ڈی آئی جی آفس ڈیرہ اسماعیل خان کے سبزازار پہ ہوا، جب وہ پہلی بار بطور ڈی آئی جی یہاں تعینات ہوئے تھے اور پھر یہی تعلق رفتہ رفتہ ذہنی ہم آہنگی اور فکر یگانگت کے لافانی رشتوں میں ڈھلتا گیا۔ 16 سالوں پہ محیط یہی مشترکہ ذہنی سفر اب بھی رواں دواں ہے بلکہ میرے لئے ان کی مستقل مزاجی اور مہرباں فطرت کا متاثر کن پہلو یہی تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے تبدیل ہونے کے بعد بھی پورے خلوص کے ساتھ وہ ان ذہنی رشتوں کو نبھاتے رہے۔ جس ذوالفقار چیمہ کو ہم جانتے ہیں ان کی اصل شناخت اگرچہ فرض شناسی اورپیشہ ورانہ مہارت ہو گی لیکن وہ اپنی ذہنی لچک اورکردار کی بوقلمونی کی وجہ سے ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں،جو اس فانی زندگی کے ہر پہلو میں رنگ بھرنے کا سلیقہ جانتے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان رینج میں  تعیناتی کے دوران فرض کی ادائیگی کے علاوہ انہوں نے فوجداری نظام عدل کی تفہیم، سماجی انصاف کی فراہمی کا طریقہ کار، معاشرتی تنظیم، فن و ادب کی آبیاری، انسانی دکھوں کے مداوا کی سعی اور سوسائٹی کی اجتماعی فلاح کی خاطر گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ وزیراعلی اکرم درانی نے انہیں دوسری بار جب خیبر پختونخوا کے انتہائی جنوب میں واقع ڈیرہ اسماعیل خان جیسے جنگ زدہ خطہ میں ڈی آئی جی بنا کے بھیجا تو اُس وقت اِس شہر بے نوا میں ابھرنے والی فرقہ وارانہ کشیدگی، افغان بارڈر کے اطراف پھیلی عالمی دہشتگردی سے ہم آغوش ہو رہی تھی۔ سماجی اجتماعات، مساجد، امام بارگاہیں اور جنازوں کے جلوس خودکش حملوں کی زد پہ تھے۔ پولیس چیک پوسٹوں پر دہشتگردوں کے تباہ کن حملوں کی وجہ سے فورس کا مورال گر چکا تھا۔ دہشتگردی کی ناگہانی کاروائیوں کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں محدود، شہریوں کی مذہبی و سماجی آزادیاں مفقود اورہر ذی روح کی زندگی غیر محفوظ تھی۔ ان حالات میں ذوالفقار چیمہ نے اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں اور دلیرانہ پیشقدمی سے دہشتگردی کے عفریت پہ قابو پایا اور پولیس فورس کا مورال بہتر بنانے کے علاوہ شہریوں کو احساس تحفظ دینے میں کامیاب ہوئے۔ انہی کی بہترین حکمت عملی سے شہر کی سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی کی رونقیں بحال ہوئیں۔ طویل عرصہ بعد پہلی بار انہوں نے پولیس لائن میں بڑے کھانے کا اہتمام کر کے علماء کرام، عمائدین شہر اور پولیس کو باہم قریب لانے کے مواقع پیدا کئے۔

’حرف کا اعتبار ہی قلم کو طاقت بخشتا ہے‘

جن دنوں مذہبی انتہا پسندوں کے خوف سے شہری شادی بیاہ کی تقاریب میں شہنائیاں اور شادیانے بجانے سے ڈرتے تھے، عین اسی وقت آشوب میں الجھے شہریوں کی تفریح اور تھکی ہوئی فورس کی زندگی کی نئی توانائی دینے کیلئے پولیس لائن کے سبزازار پہ محفل موسیقی سجانے کے علاوہ پنجاب پولیس کے زندہ دل جوانوں کی مزاح نگاری سے لطف اندوز ہونے کا اہتمام کر کے منہ موڑتی زندگی کو واپس پلٹنے کی آواز دی۔ انہوں نے گومل تھنکر فورم کی بنیاد رکھ کے مقامی دانشوروں کو انسانی دکھوں پہ سوچنے اور حیات اجتماعی کے مسائل پہ غور و فکری کرنے کی راہ دکھائی۔ یہ ذوالفقار چیمہ ہی تھے جنہوں نے اسی گومل تھنکر فورم کے پلیٹ فارم سے پچاس سال بعد اس شہر میں کل پاکستان مشاعرہ کا انعقاد کر کے مقامی ادب کی قدیم روایات کو زندہ کر دکھایا۔ 2005 کے زلزلہ متاثرین کی مددکے لئے ریسکیو سروس کے سامنے خود امدادی کیمپ لگا کے عام شہریوں اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔ انہوں نے اس شہر کی محرومیوں اور دکھوں کو اپنے خون خون جگر سے سینچنے کی کوشش کر کے سول سروس کو نئی روایت عطا کی، وہ خطہ دامان کے بے آب و گیاہ علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی اور درختووں کی افزائش کے لیےبھی کام کرتے رہے۔ بلاشبہ ان کا پیکر خاکی زندگی کی توانائیوں کا حامل اور ان کا دل و دماغ سماج کی سچی خیر خواہی اور انسانیت کی محبت سے لبریز ہے۔

ان کے کالموں کا پہلا مجموعہ”دوٹوک باتیں“جب شائع ہوا تو کتاب پہ تبصرہ کے لیے انہوں نے ایک نسخہ مجھے بھجوایا لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس وقت وہ آئی جی موٹروے پولیس تھے اس لیے مصنف اور کتاب بارے لکھنے کی وہ اہمیت نہ ملتی جو اس وقت مل سکتی ہے، جب وہ سروس سے ریٹائرڈ ہوکے عام سی زندگی بسر رہے ہیں۔ حالیہ 25 جُون کو اسلام آباد میں ان کی رہائشگاہ پہ ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے کالموں کے دوسرے مجموعہ”دوٹوک“ کی کاپی مجھے پیش کی تو اسی وقت میں نے اس پہ تبصرہ لکھنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ ان کی تحریروں کی زبان نہایت سادہ مگر ان کا پیغام نہایت واضح اور مرکزی خیال مقصدیت سے لبریز ہے۔ وہ ایک پیشہ ور صحافی کی مانند واقعات کے صرف گواہ نہیں بنتے بلکہ وہ خود کو واقعات کے بہاؤ کا حصہ سمجھتے ہوئے بے لاگ تنقید کرتے ہیں اور روایتی انداز سے ہٹ کے ان کا تنقیدی شعورہمدردانہ ہے اور ہر کالم لفظوں کے ادراک سے بہرور ہے۔

وہ مرکزی دھارے کے میڈیا کی کاروباری پالیسی اوربڑے لکھاری صحافیوں کی صداقت کے ہر محاذ سے پسپائی اختیار کر کے مصلحت کی تنگ و تاریک گلیوں میں پناہ لینے کی روش کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔”حرف کی حرمت“ کے عنوان سے لکھے گئے کالم کی ابتداء وہ ان الفاط سے کرتے ہیں ”اتنا بڑا صاحب نظر ٹھیک کہتا ہے کہ ہمارے بحرانوں کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لکھنے اور بولنے والے حرف کی حرمت قائم نہیں رکھ سکتے۔۔۔بولے ہوئے لفظ کا اعتبار ہے نہ لکھے ہوئے کا۔۔۔۔گفتار بے وقار اور تحریر بے توقیر ہے، حرف اور صوت دونوں سچائی کے جوہر سے محروم ہیں۔ اسی مضمون میں آگے چل کے لکھتے ہیں ”قلم کے تقدس کی خود خالق کون و مکاں نے قسم کھائی۔ قلم! جس کی عزت و عصمت کو صاحبان دانش نے ماں اور بیٹی کی عزت وعصمت کے برابر قرار دیا، اسے ہم نے ادنی ترین مقاصد کا نگہبان بنا لیا“۔ اگلے پیراگراف میں لکھتے ہیں کہ ”حرف کی یہ شان ہے کہ وہ وقار و اعتبار کے لبادے میں ملبوس اور سچائی کے نور میں لپٹا ہو اور اس کے سر پر حقائق کا تاج سجا ہو۔۔۔حرف کا اعتبار ہی قلم کو طاقت بخشتا ہے۔ قلم کی ایسی طاقت جس سے مقتدر افراد اور اداروں کا احتساب بھی کیا جا سکتا ہے“۔

علی ہذالقیاس! ”ملک کی تقدیر بدلنے کا نسخہ“ پاکستانی قوم کو لاحق پانچ خطرناک امراض، دل فریب ہنر اور جرنیل روتے نہیں،، جیسے کئی معرکۃ الآراء کالم لکھ کے ایک بیدار مغز سماجی سائنسدان کی مانند انہوں نے قومی قیادت، حکمراں اشرافیہ، سول سرونٹ، فوجی قیادت اور پولیس کی کمانڈ کو نہایت دلنشیں انداز میں فرض کی ادائیگی اور ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں۔ بلاشہ ذولفقار چیمہ ایک سچا محب الوطن، اعلی پائے کا دانشور، بیباک لکھاری اور قابل پولیس افیسر ہونے کے علاوہ دلِ دردمند رکھنے والا شفیق دوست بھی ہے جن کی بے ریا انکساری، ہر غرض سے بالاتر وفاداری اور سچی ہمدردی کو ہم کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...