پولیس حراست کے دوران تذلیل و تشدد کے معاملے پر ریاست اور سماج کے رویے

145

حالیہ کچھ دنوں کے دوران ملک میں کچھ سیاسی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ اس دوران یہ دعوی بھی کیا گیا کہ پولیس نے حراست کے دوران کچھ لوگوں کی تذلیل کی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ یہ الزامات حقیقت ہیں نہیں، اس سے قطع نظر یہ بات اہم ہے کہ اس پر عمومی رویہ کیا سامنے آیا اور اس مسئلے کو کیسے غیرسنجیدگی سے لیا گیا۔ کسی بھی سیاسی طبقاتی وابستگی کے بغیر یہ ضروری ہے کہ پولیس حراست میں تشدد کی بھرپور مذمت کی جائے، کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے اور عوام اس سے بخوبی واقف ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سی قربانیاں دی ہیں اور ان کی کئی خدمات بھی ہیں۔ تاہم مجموعی طور پہ دیکھا جائے تو یہ محکمہ تنقید کی زد میں میں رہتا ہے جس کی اپنی حقیقی وجوہات ہیں، جن میں سیاسی اشرافیہ کا کردار نمایاں ہے۔ تھانوں میں عام شہریوں کے ساتھ جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس محکمے میں کئی دیگر مسائل کی طرح حراست کے دوران انسانوں کی تذیلیل اور تشدد ایک بڑا مسئلہ ہے اور وقفے وقفے سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ تشدد کو قانونی طور پہ جرام قرار دیا جائے۔

رواں ماہ کے شروع میں پولیس حراست کے دوران تشدد کے حوالے سے ایک بل پاس کیا گیا ہے لیکن اسے قانونی شکل نہیں دی گئی۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ کم ازکم اب اسے مزید طول نہ دیا جائے، کیونکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ تشدد اور انسانی تذلیل کو قانونی جرم قرار دینے میں تاخیر کی ایک بنیادی وجہ سیاسی اشرافیہ کو سمجھا جاتا ہے۔

تشدد کو تفتیش کے دوران اعترافی بیان اگلوانے کے لیے تو استعمال کیا ہی جاتا ہے لیکن اس کو ریاست کی جانب سے اس طور بھی حوصلہ افزائی میسر ہے کہ وہ اسے اپنی رِٹ قائم کرنے کا ایک کارگر وسیلہ خیال کرتی ہے۔ اگر اب تک حراست کے دوران تشدد اور تذلیل کو قانونی جرم قرار نہیں دیا جاسکا ہے تو اس کا ذمہ دار کافی حد تک خود سماج بھی ہے کہ اس کی جانب سے کبھی سخت احتجاج نہیں کیا گیا۔ اس مسئلے پر حالیہ سیاسی گرفتاریوں کے دوران تشدد اور انسانی تذلیل کے الزامات کے بعد نظر آنے والی تقسیم اور طبقاتی سردمہری اجتماعی رویوں کا ایک افسوسناک پہلو آشکار کرتی ہے۔ حالانکہ اس مسئلے کا زیادہ اور بدترین شکار سیاسی اشرافیہ سے زیادہ خود عام لوگ بنتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ یہ الزامات درست ہیں یا نہیں، پولیس حراست میں تذلیل و تشدد کا مسئلہ ایک حقیقت ہے جس سے سب بخوبی واقف ہیں، اور اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جاتی رہنی چاہیے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...