خیبر پختونخوا اور پیپلزپارٹی کی سرگرانی

73

ان دنوں پیپلزپارٹی اپنے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے لیے مختلف شہروں میں جلسوں کا انعقاد کر کے خیبر پختونخوا میں پارٹی کی نشاۃ ثانیہ میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ بلاول بھٹو کو چارسدہ  کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے حق نواز پارک میں جلسہ عام سے خطاب کرا کے ذوالفقارعلی بھٹو کی روایت دہرانے کی رسم نبھائی گئی لیکن یہ جلسہ کوئی بڑی امید کا پیش خیمہ ثابت ہوسکا۔ بلاول بھٹو پچھلے کئی ماہ سے قبائلی اضلاع میں ابھرنے والی پی ٹی ایم کی حمایت کے ذریعے پشتون سماج میں پیپلزپارٹی کے لیے جگہ بنانے کی سرگرانی میں مشغول رہے۔ ان کا خیال تھا، جب وہ خیبر پختونخوا میں داخل ہوں گے تو پختون نوجوانوں کی قابل لحاظ تعداد ان کا والہانہ استقبال کرے گی، مگرا ایسا نظر نہیں آیا، چارسدہ کے جلسہ میں بھی پیپلزپارٹی والوں کے سوا وسطی پختونخوا کا کوئی نیا عنصر ان کا خطاب سننے نہیں آیا۔

تاریخ کے طالب علموں کی آگاہی کیلئے یہاں یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ 1968 میں ذوالفقار علی بھٹو جب پہلی بار ڈیرہ اسماعیل خان آ رہے تھے تو ان کا استقبال کرنے والوں میں حق نواز گنڈہ پور اور شائستہ بلوچ جیسے چند غیریب کارکنون کے سوا کوئی قابل ذکر سیاسی لیڈر موجود نہیں تھا۔ اس وقت کے کمشنر  وجہیہ الدین خان بھٹو کے دوست تھے، انہوں نے مسٹر بھٹو کی ایما پہ شہر کے دونوں پارکس اور پولو و بیساکھی گروانڈز میں پانی چھوڑ کے کسی کھلی جگہ جلسہ کے امکانات کو معدوم کر دیا، کمشنر کے کہنے پہ پولیس نے استقبال کے لئے جانے والے چالیس پچاس کارکنوں پہ لاٹھی چارج کر کے بھٹو کے آنے کی خبر کو شہر میں پھیلا دیا، ان حالات میں ذوالفقار علی بھٹو نے بازار توپانوالہ میں ایک پرانے بالاخانہ کی بالکونی میں کھڑے ہو کے کوئی ڈیڑھ دو سو لوگوں سے بغیر لاورڈ سپیکر کے خطاب کیا۔ پولیس نے اس چھوٹے سے پرامن مجمع پہ آنسوگیس کی شلنگ کر کے شہر میں بھٹو کی مقبولیت بڑھانے کے علاوہ اس معمولی سے واقعہ کو عالمی خبربنا دیا جسے بی بی سی جیسے نشریاتی اداروں نے اٹھا۔

روز اول سے  پیپلزپارٹی کا المیہ یہی رہا کہ اس کے بانی چیئرمیں ذولفقارعلی بھٹو سمیت کوئی لیڈر بھی پشتونوں کے سیاسی کلچر اور پختون عوام کی سماجی نفسیات کا درست ادراک نہ کر سکا،اس لیے ترقیاتی کاموں کے باوجود پی پی پی کو یہاں کبھی ویسی پذیرائی نہیں ملی جو لسانی تحریکوں اور مذہبی جماعتوں کے حصہ میں آئی یا پھر اب پی ٹی آئی جیسی لبرل پارٹی کو ملی۔ پیپلزپارٹی ستّر کی دہائی میں اپنے عروج کے زمانہ میں بھی صوبہ بھر سے کوئی ایک صوبائی نشست نہ جیت سکی،انیس سو ستّر کے الیکشن میں  نیپ(اے این پی) نے این ڈبلیو ایف پی(خیبرپختون خوا) کی بیس میں سے آٹھ نشستیں جیت کربرتری حاصل کی لیکن خان عبدالولی خان نے قیوم لیگ کی راہ روکنے کی خاطر وزارت اعلی دونشستوں والی جے یو آئی کے سپرد کر کے مولانا مفتی محمود کو وزیراعلی قبول کر لیا۔ مفتی صاحب ساڑھے تین ماہ تک صوبہ سرحد کے وزیراعلی رہے، بعد میں جب وزیراعظم بھٹو نے بلوچستان میں نیپ کی صوبائی حکومت برطرف کی تو مفتی صاحب احتجاجاً مستفعی ہو گئے جس کے بعد پیپلزپارٹی نے قیوم لیگ اور آزاد امیدواروں کی مدد سے یہاں ”ہم خیال“حکومت بنائی۔

تمام تر مساعی کے باوجود پیپلزپارٹی خیبر پختونخوا میں جڑیں گہری نہ کر سکی، چنانچہ آفتاب شیرپاو نے جب پارٹی چھوڑی تو یہاں پیپلزپارٹی ریت کی دیوار کی مانند گر گئی

انہی دنوں این ڈبلیو ایف پی کے گورنر حیات محمد خان شیرپاو کی بم دھماکہ میں ہلاکت کے بعد گورنمنٹ نے نیپ پہ پابندی لگاکے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرخان عبدلوالی کو گرفتار کرکے حیدرآباد ٹربیونل میں ان پہ غداری کا مقدمہ چلایا۔ دریں اثنا مسٹر بھٹو نے قبائلی علاقوں اوراین ڈبلیو ایف میں تعلیم اور کیمونیکشن کے شعبہ میں بے شمار ترقیاتی کام کرائے، ان میں کیڈٹ کالج رزمک اور گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان نمایاں ہیں، بھٹو صاحب نے پہلی بار غربت و افلاس کے قعر مذلت میں پڑے قبائلی طلبہ کیلئے میڈیکل اور انجنیئرنگ کالجز اور سول سروس میں کوٹہ مقرر کر کے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دیے، بھٹو دور میں قبائلیوں کو اس وقت پاکستانی پاسپورٹ دے کرمزدوری کیلئے گلف اور عرب ممالک بھجوایا گیا جس وقت کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے شہریوں کو پاسپورٹ نہیں ملتا تھا۔ گلف جانے کے بعد قبائل میں مادی خوشحالی آئی لیکن اس سب کے باوجود قبائلی عوام کی اکثریت بھٹو کو دین دشمن اور پختون قوم پرست گروہ انہیں پنجاب کا ایجنٹ سمجھتے رہے۔

بہت زیادہ ترقیاتی کام کرانے کے باوجود پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا میں جگہ نہ بنا سکی تاہم بینظیر بھٹو نے ایم آر ڈی کے سہارے اے این پی اور مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرکے پشتون معاشرے میں پیپلزپارٹی بارے پائے جانے والے منفی پرسپشن کو ختم کر کے بھٹوز کے لیے یہاں کچھ گنجائش نکالی جس کی بدولت پیپلزپارٹی کو 1988 اور 1993 میں یہاں مخلوط حکومتیں بنانے کے مواقع ملے۔ لیکن تمام تر مساعی کے باوجود پیپلزپارٹی خیبر پختونخوا میں جڑیں گہری نہ کر سکیں، چنانچہ آفتاب شیرپاو نے جب پارٹی چھوڑی تو یہاں پیپلزپارٹی ریت کی دیوار کی مانند گر گئی۔

صدر بنتے ہی آصف علی زرداری نے بھی این ڈبلیو ایف پی کا نام خیبر پختون خوا رکھ کے اس گداز صوبہ میں پذیرائی پانے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے اس وقت صوبائی حکومت اے این پی کے ہاتھ تھی، اس لیے صوبہ کے نام کی تبدیلی کا کریڈٹ اسفندیار لے اڑے، ادھر صوبہ کے نام کی تبدیلی غیرپشتون آبادی کے اندر پیپلزپارٹی کے خلاف نفرت کے ایسے جذبات بھڑکا گئی جس نے بے نظیر بھٹو کی جانب سے کی گئی مساعی کو ملیامیٹ کر دیا۔ لہذا دوہزار تیرہ کے الیکشن میں پیپلزپارٹی چھ  اور دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں پانچ صوبائی نشستوں تک محدود ہوگئی۔

اب پھر اپنے والد آصف زرداری کی طرح بلاول بھٹو زرادری بھی پی ٹی ایم کی پرجوش حمایت کے ذریعے پشتون سماج میں سرایت کی کوشش کرتے نظر آئے لیکن بے وقت کی یہ راگنی انہیں پھر نامراد بنا دے گی۔ ایسی سرسری کوششوں سے پیپلزپارٹی کبھی پختون سماج کا اعتماد حاصل نہیں کر پائے گی بلکہ غیر پشتونوں میں موجود اپنے حامیوں کو بھی کھو دے گی۔ بلاول کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خیبر پختونخوا کی پشتونوں کی قوم پرست جماعتوں یا پھر مذہبی تحریکوں سے وابستگی گہری ہے،ان پہ وقت ضائع کرنے کی بجائے ساٹھ فیصد غیرپشتون آبادی کی حمایت کے حصول کو ہی اپنا ہدف بنائیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...