افغان تنازع کے حل کے بعد خِطے میں پاکستان کا کردار

143

وزیراعظم عمران خان کے امریکی انتظامیہ کے ساتھ اپنے تلخ تعلقات کی بحالی کے لیے مذاکرات اور دونوں مملکتوں کے مابین نیٹو فورسز کی افغانستان سے محفوظ واپسی پہ اتفاق رائے کے باوجود امر واقعہ میں کسی جوہری تبدیلی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں، بلکہ افغان تنازعہ کو جلدی میں نمٹانے کی کوشش اس خطہ میں کئی نئے تنازعات کو جنم دینے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

حالیہ میل میلاپ کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ نیٹو فورسیز کی افغانستان سے واپسی کا فیصلہ کر لینے کے باوجود مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ کی اس تعلّی میں کہ ”وہ ہفتہ کے اندر افغان جنگ جیت سکتے ہیں لیکن اس میں دس ملین لوگ مارے جائیں گے“ دراصل ایک سپرپاور کی بے بسی کا اظہار دکھائی دیتا تھا۔ اسی لیے خود امریکی دانشوروں کا ایک موثر حلقہ اس ”امن معاہدہ“ کو ”پسپائی معاہدہ‘‘ سے تشبیہ دے رہا ہے۔ بلاشبہ امریکی تاریخ کی یہ طویل ترین جنگ ایسے سنڈروم کی صورت اختیار کر چکی ہے، فریقین کے لیے جس سے دامن چھڑانا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد چیئرمین آف دی جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل مارک ملّے  نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو افغان وار پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ، افغان جنگ سے جلدی میں نکلنے کی کوشش تزویری غلطی ہو گی، انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں یہ جنگ اگرچہ سست رفتار، دردناک، اور سخت ہے لیکن ضروری بھی ہے“۔

ہرچند کہ بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ افغان جنگ کے فریقین اور علاقائی طاقتیں اس تنازعہ کا ”پرامن“ حل چاہتی ہیں، لیکن پھر بھی تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات میں توازن اور جنگ کے بہتے دھارے کو کنٹرول کرنا آسان نہیں ہو گا۔ جس دن وزیر اعظم عمران خان امریکی انتظامیہ کے ساتھ افغان تنازعہ کے پرامن حل کے لیے بات چیت میں مصروف تھے عین اسی وقت طالبان کا خراسانی گروپ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ اور ڈسٹرک ٹیچنگ ہسپتال کے ٹراما سنٹر میں ہونے والے خودکش دھماکہ کی ذمہ داری قبول کر رہا تھا۔ 28 جولائی کی صبح کابل شہر میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق چیف اور اشرف غنی کے ہمراہ نائب صدارت کے امیدوار امراللہ صالح کے چار منزلہ پارٹی ہیڈکوارٹر پہ ہونے والا خودکش حملہ، جس میں 20 سے زیادہ لوگ ہلاک اور پچاس کے لگ بھگ زخمی ہوگئے، صدرٹرمپ کی دس ملین افراد ہلاک کرنے کی تعلّی کا جواب تھا۔ یہ خودکش حملہ کابل کے قلب میں واقع ایک ایسی کمپلکس عمارت کے چوتھے فلور پہ ہوا جہاں سخت ترین سیکورٹی انتظامات اور نہایت مشّاق محافظ فورس ہمہ وقت چوکس کھڑی رہتی ہے۔ اگرچہ امراللہ صالح اس جان لیوا حملہ سے بچ نکلے ہیں لیکن اس مہلک حملہ کا پیغام یہی تھا کہ غیر ملکی فورسیز کی موجودگی کے باوجود کابل میں اشرف غنی حکومت کا وجود بتدریج تحلیل ہوتا جائے گا۔

امریکہ کے لیے چین کی مربوط اقتصادی پیشقدمی سے زیادہ مڈل ایسٹ میں ایران کی جارحانہ پیشقدمی کو کنٹرول میں رکھنے کا مسئلہ زیادہ اہم ہے

طالبان کے ترجمان شیرمحمد ستانکزئی کہتے ہیں کہ ”امریکہ شکست کے دہانے پہ کھڑا ہے، وہ کسی مہمل سے معاہدہ کا سہارا لے کر یہاں سے نکل جائے گا یا پھر نکال دیا جائے گا“۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی فورسز افغان جنگ کی حرکیات پہ قابو پانے میں ناکام رہی ہیں۔ امریکی اگر اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کی طاقت رکھتے تو کسی حد تک ان کے لئے میدان جنگ کے میرٹس و مفادات کو اپنے ہاتھ میں رکھنا ممکن ہوتا لیکن نیٹو فورسز کی کمزوری انہیں افغان جنگ کو حتمی نتیجے تک پہنچانے سے پہلے ہی کسی عبوری بندوبست کے ذریعے میدان جنگ سے نکل جانے پہ مجبور کر رہی ہے، بلکہ افغانستان میں عام انتخابات کا التواء بھی امن مذاکرات سے قبل طالبان کی بڑی کامیابی سمجھا گیا۔ لہذا ایسے ناگفتہ بہ حالات میں امن معاہدات یا انخلا کے عمل کو امریکی ضرورتوں کے مطابق ڈیزائین کرنا دشوار ہوگا۔

جنوبی ایشیا کے لیےنئی امریکی پالیسی کے تحت افغان تنازعہ کے کسی قابل عمل حل سے قبل صدر ٹرمپ اپنے تزویری مفادات کے تحفظ کی خاطر بلگرام ائربیس سمیت افغانستان میں کچھ مستقل فوجی اڈوں کی موجودگی اور پاکستان میں ایک کوارڈی نیٹنگ آرمی کی فراہمی یقینی بناناچاہتے ہیں۔ اس لیے وہ افغانستان میں طالبان کی بجائے ”عوام“ کی نمائندہ ایک ایسی مخلوط حکومت بنانے کے خواہش مند ہیں جو فیصلہ سازی کی قوت سے عاری ہو۔ شاید اسی لئے امریکی ہر قیمت پہ پاکستان کو سیٹو، سینٹو سے مماثل معاہدات کی طرف واپس لانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں تاکہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی انہیں جنوبی ایشیا میں ایک مضبوط آرمی کی موثر شراکت داری میسر رہے۔ لیکن اب شاید ان دونوں منصوبوں کو ویسے عملی جامہ پہنانا ممکن نہ ہو جس طرح سنہ 50 کی دہائی میں ایک خاص قسم کی صورت حال میں اسے یقینی بنایا گیا تھا۔ ایک تو طالبان اپنے مقاصد و نطریات سے متضاد کسی ایسے تجویز کو قبول نہیں کریں گے جو ان کی طویل جدوجہد اور ناقابل فراموش قربانیوں کے ثمرات کو ضائع اور ان کی نظریاتی وحدت کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بنے۔ دوسرے طالبان فوری طور پہ سیزفائر کریں گے نہ افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کو قبول کریں گے۔ وہ اس تنازعہ کے کسی ایسے سیاسی حل کو بھی نہیں مانیں گے جس میں ان کی پوزیشن ثانوی رہ جائے۔

پھر آج کے حالات میں، جب جنوبی ایشیا میں امریکہ کا اثر ورسوخ گھٹ رہا ہے، پاکستان کے لیے بھی پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں واپس پلٹ کے زندہ رہنا ممکن نہیں ہو گا۔ اس لیے برطانیہ و امریکہ کو کوارڈینیٹنگ آرمی کے فرسودہ تصور سے دستبردارہونا پڑے گا۔ بلاشبہ اس وقت افغان جنگ کو اپنے فطری انجام کی طرف بڑھنے سے روکنا ممکن نہیں رہا اس لیےاس خطہ میں اپنی موجودگی یقینی بنانے کی خاطر امریکہ کو یا تو اس جنگ کو جاری رکھنا پڑے گا یا پھر اسے پرامن پسپائی کی ایسی شرائط قبول کرنا ہوں گی جو مڈل ایسٹ کی اسٹرٹیجک حیثیت کو بدل ڈالیں گی۔

اگر ہم جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال پہ نظر ڈالیں تو امریکہ کے لیے چین کی مربوط اقتصادی پیشقدمی سے زیادہ مڈل ایسٹ میں ایران کی جارحانہ پیشقدمی کو کنٹرول میں رکھنے کا مسئلہ زیادہ اہم ہے۔ امریکہ کو عراق جنگ کے نتیجہ میں ابھرنے والی ابومصف الزرقاوی کی جماعت التوحید، القاعدہ، جبّۃ النصر اور داعش جیسی مہلک تحریکوں کا سر کچلنے کی خاطر ایران کی زمینی فورسز کو عراق اور شام میں داخل کرانے کی حکمت عملی مہنگی پڑی ہے۔ خوف و ترغیب کے تمام تر ہتھکنڈے کا سامنا کرنے کے باوجود ایران اپنی گراونڈ فورسز کو مڈل ایسٹ سے نکالنے پہ آمادہ نہیں ہو رہا۔ مغرب والوں کے لیے مڈل ایسٹ میں ایرانی فوج کی موجودگی داعش و القاعدہ کی مزاحمت سے کہیں زیادہ پُرخطرناک اور تباہ کن نتائج کی حامل ہو گی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ ایران پہ حملہ کرنے سے اس لیے ہچکچا رہا ہے کہ ایران اگر جنگ کی لپیٹ میں آیا تو افغانستان سے لے کر شام تک پھیلا پورا مسلم خطہ مہیب خانہ جنگی کے ایسے سیلاب کی لپیٹ میں آجائے گا جو مستحکم عرب ریاستوں سمیت اسرائیل کو بھی بہا لے جائے گا۔ چنانچہ آبنائے ہرمز اورمڈل ایسٹ کے بحران سے نمٹنے کے لیے انہیں کابل میں فرینڈلی حکومت کے علاوہ جنوبی ایشیا میں کوارڈنیٹنگ آرمی کی ضرورت ہے۔ شاید اسی تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے یو ایس اے انسٹیٹیوٹ آف پیس میں گفتگو کے دوران کہا تھا کہ شیعہ مسلم زیادہ بہادر اور جفاکش ہیں، ان میں شہادت کا جذبہ اور مزاحمت کی بے پناہ قوت پائی جاتی ہے۔ بہرحال، اب افغان  تنازعہ کاجنگی یا پُرامن حل ہی پاکستان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...