شاہ محمد مری، ایک چھوٹی سی کتاب کی دیوانی: فہمیدہ ریاض

تبصرہ نگار: شوذب عسکری

33

برصغیر پاک و ہند کی مشہور شاعرہ مترجم اور مصنفہ فہمیدہ ریاض کی زندگی اور حالات سے متعلق ڈاکٹر شاہ محمد مری کی کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع ہو ا ہے۔ جس کے پیش لفظ میں مصنف لکھتے ہیں: ذرا شمار کریں آج کے پاکستان میں کتنے لوگ ہوں گے جنہیں ہم اپنے عوام کا کلچرل ترجمان کہہ سکتے ہیں۔ہاتھوں کی انگلیوں کی جتنے بھی نہ ہوں گے۔ میرا دعوی ٰ ہے کہ ان میں سے ایک نام فہمیدہ ریاض کا بھی ہوگا۔ جالب اور گل خان نصیر کے بعد مزاحمت اور احتجاج کے ادب میں اس سے بڑانام اب کوئی اور نہیں ہے۔
فہمیدہ ریاض کی پہلی پہچان ان کی شاعری ہے مگر انہوں نے نثر میں بھی قابل ذکر سرمایہ چھوڑا ہے ۔ وہ اپنی تحریروں میں کبھی غیر جانبدار نہ رہیں۔ انہوں نے اپنی تحریر میں ہمیشہ کمزوروں، ضعیفوں، مقروضوں، مقہوروں اور مجبوروں کا ساتھ دیا۔ وہ اپنے وقت سے پہلے پیدا شدہ لوگوں میں شمار ہوتی ہیں جس کی قیمت بہت بھاری ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ پہ سچ بولا۔ وہ خود کہتی ہیں کہ جن لوگوں نے کبھی احتجاج کا نعر ہ نہیں لگایا ہو وہ کبھی نہیں جان سکتے کہ یہ کیسی جگر خراش صدا ہوتی ہے۔ یہ نعرہ بلند کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ محسوس کرنے اور صدائے احتجاج کے لب تک آنے کے دوران آدمی پر کیا گزرتی ہے۔فہمیدہ کی شاعری میں مشرقی عورت کی مجبوریاں بھی نظر آتی ہیں اور بیسویں صدی کی عورت کی روایات سے آزاد اورخود مختار ہونے کی خواہش بھی۔ ان کا خواب ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں عورت اور مرد کو برابری مل سکے، جہاں عورت دوسرے درجے کی محکوم نہ ہو۔انہوں نے معروف سندھی شاعر شیخ ایاز کے کلام کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔
اگرچہ اپنی زندگی میں انہوں نے بہت سے دکھ دیکھے اور جلاوطنی کاٹی مگر و طن اور اس کے باسیوں سے ان کا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہا۔ شاہ محمد مری صاحب کی کتاب فہمید ہ آپا کی زندگی کے بہت سے ایسے گوشوں کی داستان ہے جوشاید عام قاری کی آنکھ سے اوجھ رہے ہیں۔ اگر آپ فہمیدہ ریاض کی شاعری، نثر، حالات ِ زندگی اور فن کے متعلق جاننا چاہتے ہیں تو ۲۰۰ روپے کی یہ کتاب آپ کی بہت سی خواہشات پوری کردے گی۔ اسے سنگت اکیڈمی آف سائنسسز مری لیب فاطمہ جناح روڈ کوئٹہ نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب کو 0300-3829300پہ فون کرکے بھی منگوایا جا سکتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...