لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نکلے بلوچ اسلام آباد میں خود لاپتہ ہوگئے۔

438

گزشتہ سات دہائیوں سے زائد کی مخلتف طریقوں سے بلوچ قوم کی بقا و تشخص کی جدوجہد کئی نشیب و فراز سے گزر کر اب گزشتہ نصف دہائی سے ہر محاذ پر ایک سیاسی و شعوری مرحلے میں داخل ہوتی جا رہی ہے۔ فکری اعتبار سے بلوچ کاز سے وابستہ انفرادی یا اجتماعی طور پر کسی بھی سیاسی کارکن کا نظریہ اور کمٹمنٹ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ سیاسی کارکن چاہے کسی بھی نظریے یا سکول آف تھاٹ سے اس کا تعلق یا سمبندھ ہو وہ قوم کے ایک فرد کی حیثیت سے سیاسی و سماجی اقدار کے تمام معیارات پر پورا اُترتا ہے۔
اب بلوچ قوم اپنی مشکلات کا ادراک کر چکی ہے۔ اپنے اوپر ریاست کی بربریت ، ظلم اور اپنی تکالیف کو منظم اور مہذب انداز میں دنیا کو بتانا اور ایک قوم کی آزادانہ حیثیت کو سلب کر کے ان کی منشا کے بر خلاف تین پیروں والی فیڈریشن میں ایک اور قوم کو جبری طور پر شامل کرنے کی تاریخ کو سیاسی طور پر دنیا کے سامنے لانا میرے خیال میں یہ خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ اب ایسا سیاسی مزاحمتی اظہار ہماری تاریخ کے انمٹ نشانات ہیں، اس سے پہلے بھی ۲۰۰۹ ، ۲۰۱۰ میں بڑے بڑے سیاسی احتجاج ہوئے ہیں ، مگر اب کی بار جو چیزیں منظم و شعوری انداز میں ہورہی ہیں، اس میں بلوچ نوجوان شامل ہیں جس میں بڑی تعداد نہیں بلکہ اکثریت خواتین اور ان بچیوں کی ہے جو اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کے مطالبے کے ساتھ گزشتہ کئی سالوں سے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں۔ یہ وہ بچے بچیاں ہیں جن کی پرورش ایک جنگ زدہ معاشرے میں ہو رہی ہے اور جنگ بھی وہ جس میں وطن ، مٹی اور مظلوم سے محبت کا مسلسل درس شامل ہو۔ ایسی جنگ میں کسی کا جنم یا پرورش ہوتی ہے تو وہ جنگ میں ہی جینے کا سلیقہ سیکھتا ہے، تا وقتیکہ وہ جس امن کے لیے سوچتا ہے اس امن کا ماحول اس کو میسر ہو جائے۔ جب کسی مظلوم کو اپنی مظلومیت ادراک ہو جائے اور جب اس نے یہ طے کر لیا ہو کہ وہ اپنے اوپر مزید ظلم برداشت نہیں کرے گا، تو مظلوم کی کمٹمنٹ کے سامنے کوئی بھی طاقت ہو، اسے آسانی سے کمزور نہیں کر سکتی۔ جس دن مظلوم اپنی نجات کے لیے کسی بھی تحریک یا کاز میں شامل ہوگیا، تو وہ اُسی دن اپنی منزل پر پہنچنے کا سوچتا ہے نہ کہ کمزوری یا پیچھے ہٹنے کا۔ لہٰذا، ریاست کی مقتدرہ قوتیں اس بات کا مشاہدہ ضرور کریں اور اس پہلو پر ضرور نظرثانی کریں کہ اب یہ دنیا کو اچھی طرح معلوم ہوچکا ہے کہ یہ کوئی پراکسی نہیں بلکہ یہ زمین و بقا کے ساتھ ساتھ بلوچ ماورائے عدالت قتل و نسل کشی کے خلاف ایک منظم اور مہذب انداز کا اظہار ہے۔ ہم کسی کو اپنے رویوں سے یہ تاثر کیوں دیتے ہیں کہ یہ وطن ہمارا ہے، تمھارا نہیں جیسا کہ کل اسلام آباد میں بلوچ خواتین کے پرامن احتجاج کا استقبال لاٹھی چارج و شیلنگ سے ہوا۔ اس سے پہلے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، جب آپ اسلام آباد میں ڈی چوک پر عمران خان کے دھرنے پر ذرا نظر دوڑائیں، وہاں کیسے شرکا کیسے “‬فیض یاب” ‬ہوئے، ہر طرح کے تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے، پی ٹی وی پر حملہ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے تک، باوجود اس کے اُن میں لفافے بھی تقسیم ہوئے، انہیں اقتدار سے نوازا گیا، کیونکہ وہ اپنے اور فیض کے آشیرباد سے یہ سب کچھ کر رہے تھے اور یہ سب اسکرپٹڈ تھا۔ دوسری جانب مظلوم بلوچ تربت سے بلوچ نسل کشی اور ماورائے عدالت بلوچوں کی نسل کشی کے خلاف ایک پرامن ریلی تربت سے نکال کر اسلام آباد تک کسی بھی سرکاری املاک کو ذرا بھی نقصان پہنچائے بغیر اس امید سے اسلام آباد کا رخ کرتے ہیں کہ شاید کوئی ان کے غموں کا مداوا ہو گا مگر رات گئے اُن ماؤں، بہنوں اور بچیوں کے ساتھ کیا ہوا، یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ ایک طرف عمران خان اور پنجاب کے ایلیٹ ہیں اور دوسری جانب مظلوم بلوچستان کے سالوں سے لاپتہ افراد کی وہ بوڑھی مائیں ہیں جو کہ ایک امید کے ساتھ اسلام آباد کی طرف دیکھ رہی ہیں، ان کے ساتھ کیا ہوا اور بلوچ بچیوں اور خواتین کے ساتھ کیا ہوا، یہ سب صرف یاد رکھا جائے گا۔‬‬
اس میں نگران وزیر اعظم کی بلوچ سے نفرت اور انا کے پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ایسے متعصب اور بلوچ دشمن عناصر جو کہ ہمیشہ سے چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں یہ شورش جاری رہے اور وہ اس سے مستفید ہوتے جائیں، ایسے لوگوں سے یہ امید رکھنا کہ بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل نکالنے میں ریاست کی مدد کریں گے ، میرے خیال میں یہ خام خیالی ہے۔ ایسے لوگ صرف مظلوم دشمنی پر تُلے ہوئے ہوتے ہیں۔ ریاست کو اب اپنی انا سے نکل کر بلوچ جدوجہد سے سیاسی و برابری کی بنیاد پر برتاؤ کرنے کے لیے سوچنا ہو گا۔ یہ محض ایک خوش فہمی ہے کہ انوار اور سرفراز جیسے افراد، بلوچستان میں ریاست کے لیے ہمدردی کا ایک بیانیہ تراشیں گے۔ یہ ان کی بھول ہے، اب چیزیں اور رنگ اختیار کر چکی ہیں، بلوچ جدوجہد سیاسی محاذ پر انتہائی منظم و شعوری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
بلوچ سیاسی و نظریاتی جدوجہد کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ تربت سے نکلی ہوئے ہزاروں نوجوان ، جس میں بڑی تعداد خواتین کی تھی، بلوچستان کے جس جس شہر میں داخل ہوئے، ہزاروں لوگوں نے ان کا ایسا شاندار استقبال کیا جو شاید ہی وہاں کے دہائیوں سے نمائندگی کرنے والی کسی سیاسی لیڈر کا ہوا ہو۔ برکھان جیسے کٹر فرعونیت نما سرداری نظام کے سامنے خوف سے کوئی پتا تک نہیں ہلتا ہے مگر وہاں ماہ رنگ کے شاندار استقبال سے یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ بلوچ قوم غلامی کی زنجیریں توڑ چکی ہے۔ اب اس کے کاز کے سامنے کوئی بھی رکاوٹ نہیں ہے، بس سب کو اپنا نظریہ اور زمین عزیز ہے۔
رضاکارانہ طور پر قوموں کی بقا کی جدوجہد میں شمولیت اختیار کرنا ایک فطری عمل اور انسان کا انفرادی فیصلہ ہوتا ہے۔ کسی کاز سے وابستہ ہونے میں شعور کا عمل دخل ہوتا ہے، اگر شعوری طور پر انسان نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنی بقا و زمین کی جدوجہد کی خاطر شاملِ کارواں ہوگا تو ایسے زمین زادوں کو کسی بھی لالچ یا خوف سے کسی بھی صورت کسی قومی نوعیت کے کاز سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا۔ مکران، تربت سے اپنے اپنے لخت جگر کی بازیابی اور بلوچ نسل کشی کے خلاف، ہزاروں کی تعداد میں لواحقین نے اسلام آباد کا رخ اس لیے کیا کہ شاید وہاں ان کی کوئی سنتا ہو، مگر ہوا یوں کہ لاپتہ افراد کے لیے پہنچے بلوچ، مرد خواتین خود لاپتہ ہو گئے۔ ریاست نے ان آوازوں کو سُنا ہو گا، اگر ان آوازوں کو بروقت نہ سُنا گیا تو یہ ہرگز ریاست کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...