نئے نقاد کے نام وارث علوی کا آٹھواں خط

565

عزیزی و محبی!

اس مرتبہ بھی تمھارے خط کا جواب تاخیر سے دے رہا ہوں۔ برخوردار! سنو، نقادِ محشر خیز کے مکتوبات نے ہماری ہی مغز پاشی نہیں کی، بہشت کے پر امن ماحول کو بھی یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہاں وہ کچھ ہو رہا ہے جو ما قبل نہ کبھی کسی نے دیکھا نہ سنا۔ بوجہ ہڑتال اہل کارانِ محکمہء ڈاک بہشت، تین ماہ تک خطوط کی آمد و رفت بند رہی۔ بھئی تم ہی کہو، ڈاک کے ہرکارے سہی لیکن باسی تو خلدِ بریں کے ہیں۔ وہ خلد جہاں ہر گل یاقوت رنگ، قامتِ رعنائے محبوب کو شرماتے سرو، رقاصانِ قمر پیکر کے قدموں سے دہکتے زمردیں فرش، صد ہا گل رخ، یاسمین پیکر کنیزیں اور وہ صنم ہائے زیبا ہیں کہ نقشِ بندِ خیال نے ان تمثال ہائے فقید النظیر کو خواب میں بھی نہ دیکھا ہو گا۔ جی ہاں یہ وہی بہشت ہے جہاں فضائیں حافظ و رومی کے نغموں سے معمور ہیں، سخن ہائے انوری، بیدل و فردوسی مثلِ کرنِ آفتاب ہر سو شعاع بیز ہیں۔ سخنِ میر و غالب کی صدائے ارغنون ماحول میں رچی ہے۔ اس آب و ہوا میں رہنے والے اور حورانِ عین کے روئے آفتابِ محشر، چشم ہائے سرمہ آگیں اور شکم ہائے موجِ قلزم کا روز نظارہ کرنے والے کچھ اور ہوں تو ہوں؛ بدزوق نہیں ہو سکتے۔ ایسے باذوق اور خوش مذاق جو لفافہ سونگھ کر مضمونِ مکتوب بھانپ لیتے ہوں، بھلا کب تک نقادِ ذوق شکن کے بے تہ، نکمے اور بد اسلوب خطوط کا بار اٹھاتے۔

اور پھر وہی ہوا جس کا احتمال تھا۔ جو قاصد بھی نقادِ تشویش انگیز کا خط پہنچاتا مہینوں لٹریچر سے منغص رہتا۔ ادب کے نام سے اوبتا اور شعر و سخن کا نام سن کر کاٹنے کو دوڑتا۔ جن خفتہ بخت قاصدوں نے نقادِ تشویش انگیز کے خطوط کی چند سطور پڑھ لیں، وفورِ اضطراب سے اپنے بال نوچتے بھی پائے گئے۔ شروع شروع میں تو ان واقعات کو اتفاقی سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔ لیکن جب نقادِ مضرت رساں کا ہر خط ایک بندہ کھانے لگا تو اہل کارانِ محکمہء ڈاک بہشت کے کان کھڑے ہوئے۔ سب سر جوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ کیا: اب وہ یہاں رہیں گے یا نقادِ تصدیع رساں کے خطوط۔ ہڑتالی کارندے یک زبان تھے کہ میاں! ہم جنت میں عیش و عشرت کے لیے آئے تھے کشٹ بھوگنے نہیں۔ تین ماہ تک ہڑتال رہی۔ اہل کاران ماننے ہی میں نہ آتے تھے۔ منت سماجت، بھاری معاوضے اور معززین کی ضمانتوں کے بعد بھی نہ مانے۔ فاروقی، حنفی اور وزیر آغا بھی سمجھانے آئے لیکن محکمہ ڈاک کے ہرکارےاردو قارئین تو تھے نہیں جو ان کی باتوں میں آ جاتے۔ بالآخر اس شرط پر ہڑتال ختم ہوئی کہ موصوف کے مکتوبات کی ترسیل کے لیے جہنمی قاصد متعین کیے جائیں۔ شرط یوں بھی قرینِ انصاف تھی: فرض کا فرض اور سزا کی سزا۔ تین ماہ کی تاخیر سے کل ہی نقادِ صعوبت ساز کا مکتوب موصول ہوا سو جواب حاضر ہے۔

بھئی یہ تو ماننا پڑے گا کہ نقادِ مبہم بیاں، سب کچھ کہہ کر بھی کچھ نہ سمجھانے کے فن میں طاق ہے۔ یہ سعادتِ جاوید اسے علم و فضل کے کال اور زبان و بیان کے عجز کی بدولت نصیب ہوئی ہے۔ اب یہی دیکھ لو:

” میں اس کا قائل ہوں کہ تخلیق کا شور اسی وقت سنا جا سکتا ہے جب تخلیق کار خاموش ہو۔”

بھئی سبحان اللہ! ” تخلیق کا شور” کا جواب نہیں۔ تخلیق جیسے لطیف عمل کے لیے شور جیسے کثیف اسمِ صفت کا انتخاب وہی شخص کر سکتا ہے جو لائبریری سے زیادہ رکشے میں بیٹھتا ہو۔ لفظ ترسیلِ معنی کا زریعہ ہوتے ہیں نقادِ کوتاہ سخن نے انھیں تذلیلِ معنی کا وسیلہ بنا دیا ہے۔

موصوف مزید بیانی ہے:

” ایک شعر یا ناول اور ایک انڈے میں کچھ مشترک نہیں مگر ایک مرغی کے اعلانِ بیضہ کی مثال سے، کتاب کی تصنیف کے بعد مصنف کی اس سے متعلق کسی بھی گفتگو کو ضرور سمجھا جا سکتا ہے۔ میرا خیال ہے مصنف اور مرغی اپنی آسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے دونوں کی آسودگی میں فرق ہے۔ ناول لکھنے میں خاصی شعوری کوشش ہوتی ہے جو انڈہ دینے میں بالکل نہیں ہوتی۔ کوئی مرغی، اپنے انڈے کے رنگ اور ہئیت کا انتخاب نہیں کر سکتی مگر ایک ناول نگار کر سکتا ہے۔ مرغی انڈے کے مستقبل یا اس میں مضمر بچے کے بارے میں کوئی رائے نہیں دیتی۔ یوں بھی مرغیوں کو اپنے انڈوں اور بعد میں انھی انڈوں سے نکلنے والے بچوں کی فکر ہوتی ہے۔ انھیں باقی مرغیوں کے انڈوں بچوں سے بہتر و برتر ثابت کرنے کا خبط نہیں ہوتا۔ یوں سمجھیں، بس ایک قدم کے بعد مصنفوں اور مرغیوں کی دنیائیں الگ ہو جاتی ہیں۔”

ایسی مرغ صفت تنقید وہی نقاد لکھ سکتا ہے جو فکری اعتبار سے کُڑک ہو چکا ہو۔ محولہ بالا افکارِ نقادِ بے ہنگام: تخیل پر مادے کی فتح کا حتمی اعلان ہیں۔ میاں! ایسے نادر العصر تنقیدی کلیے ذوقِ کتب خوانی سے نہیں شغلِ مرغی بانی سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے مطابق، جب تک تم کتب خوانی ترک اور مرغی بانی میں غرق نہیں ہو جاتے کم از کم نقاد تو بننے سے رہے۔

اس بسیار نویس نقاد نے تمھیں اتنی کثیر تعداد میں خطوط لکھے ہیں کہ جہد البقاء کا قانون حرکت میں آ گیا ہے۔ ان خطوط سے نقد و نظر کے سوتے تو خیر کیا پھوٹتے؛ انھیں اپنی بقا ہی کا غم کھائے جا رہا ہے۔ موضوعات کی عسرت اور ابلاغ کی حسرت نے نقادِ عجز بیاں کا یہ حال کر دیا ہے کہ:

‘ وحشتیں بڑھتی گئیں فکر کے افلاس کے ساتھ ‘

موصوف کو کون سمجھائے کہ نقد و نظر کے مہر و ماہ و انجم کی رفعتوں کو لرزاں کرنا نہ سب کے لیے ہوتا ہے اور نہ سب کو اس کی طرف للچانا چاہئیے۔ ‘ ایں سعادت بزورِ ” نامہ” نیست ‘

میرے پیارے تمھیں ان غیر دلچسپ اور میکانکی خطوط کو ابھی مزید بھگتنا ہے۔ شنید ہے کہ نقادِ جگر سوز نے اپنی پٹاری میں سے اب تک ان خطوط کے محض آٹھ دس سانپ ہی نکالے ہیں لیکن واقفانِ حال بیانی ہیں کہ ابھی موصوف کے پاس بڑے موذی مکتوباتی ناگ موجود ہیں۔ فی الحال تو یہ مکتوب بھگتو۔

موصوف بیانی ہے:

” مصنف اپنی تخلیق کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی خرابی نہیں۔ مصنف اپنی کتاب کی رائلٹی کا پورا حق رکھتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مصنف کی ملکیت کا دائرہ تخلیق کے معانی تک پھیلا ہوتا ہے؟ مجھے یہ سوال مزید کھول کر بیان کرنا چاہیے۔ معنی پر مصنف کی ملکیت کے سوال سے پہلے یہ سوال اٹھانا چاہیئے کہ جسے ہم معنی کہتے ہیں وہ کس کی ملکیت ہو سکتا ہے؟ اس پر کوئی ایسا دعویٰ ممکن ہے جو کسی شے پر کیا جا سکتا ہے؟”

نقادِ فرسودہ سخن یہیں بس نہیں کرتا بل کہ محولہ بالا “پیچیدہ” افکار کی تفہیم کے لیے مثالیں بھی دیتا ہے:

” زید یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں موجود کتاب، اس کی ملکیت ہے۔ وہ اسے جہاں چاہے رکھ سکتا ہے، اسے محفوظ رکھ سکتا ہے یا ضائع کر سکتا ہے، اسے پرانی کتابوں کے بازار میں اس بھاؤ سے بیچ سکتا ہے، جس کا فیصلہ وہ خود کرے گا۔ اسے کسی کو عاریتاً یا مفت دے سکتا ہے۔ وہ اس کتاب کی نقل و حرکت، تبادلے سے متعلق کوئی فیصلہ بھی کرنے کا مجاز ہے۔ لیکن کیا یہی زید خود اپنی کتاب کے معنی پر بھی ایسا دعویٰ کر سکتا ہے؟ کیا وہ کتاب کے معنی کی نقل و حرکت پر کامل اختیار رکھنے کا مدعی ہو سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ چاہے تو کتاب کے معنی کو خود تک محدود رکھے، چاہے تو عین اسی صورت میں دوسرے کو تھما دے، جس کا تعین وہ خود کرے۔”

نقادِ رخنہ پسند نے یہ خطوط لکھ کر ثابت کر دیا ہے کہ ناکامی کے صدمہ سے کامیابی کا صدمہ برداشت کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ شاید اسی کیفیت میں موصوف تنقید کے ساتھ وہی سلوک کر رہا ہے جو شریعت زانی کے ساتھ کرتی ہے۔

محولہ بالا ” تنقیدی” افکار پڑھتے ہوئے؛ میں مسلسل سوچ رہا ہوں کہ موصوف اگر ایسی ” نادر” باتیں مع امثال، اردو قارئین کو “بروقت” نہ سمجھاتا تو بے چاروں کا کیا حال ہوتا؟ (یقیناً موجودہ حال سے بہتر ہوتا)۔ اردو تنقید آج اگر ان حالوں میں ہے تو ان خطوط کو پڑھ کر اس کی کامل وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔

برخوردار! سنو، نقادِ درس بستہ کے خطوط تنقیدی فکر کی کم مائیگی کے ناقابلِ ابطال ثبوت ہیں جو صرف اور صرف تمھیں کالج کا قیدی بنا سکتے ہیں۔ میرے عزیز، یاد رکھنا تحریر کے عکس کی تابانی سے آئینہ وہی توڑ سکتا ہے جو لفظوں میں علم و فضل کے ستارے اگانے کا ہنر جانتا ہو۔ نقادِ کم نظر کے مکتوبات میں فکر و نظر کی تازگی ہے نہ اجتہادی شعور کی شادابی۔ وہی مدرسانہ پند و نصائح کا دفترِ پارینہ ہے جو لفظوں کے ہیر پھیر اور نٹ بازی سے اتنی مرتبہ دوہرایا گیا ہے کہ خود اپنی ہی نظروں سے گِر گیا ہے۔ اور اس پر طرہ یہ کہ نقادِ مہمل بیاں کے مد نظر چھلکا زیادہ اہم ہے اور مغز کم۔ آفتاب میں زرہ اور قلزم میں قطرہ دیکھنا ہو تو نقادِ زود نویسں کے خطوط کا مطالعہ لازم ہے۔ جو لکھا وہ خبط، جو سمجھا وہ غلط اور جو بولا وہ جنون ۔۔۔۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

موضوعات کی ندرت، افکار کی حدت، زبان و بیان کی جدت، زاویہء نگاہ کی انفرادیت اور فکر و نظر کے نئے آفاق دریافت کرنے کے ولولوں کی شدید قلت کے ساتھ ایسے خطوط لکھنے کا ایک ہی مطلب ہے کہ خط نویس کو پیش پا افتادگی اور فرسودگی کا زرہ بھر بھی احساس نہیں ہے۔ یہ بیگارُو کام نقادِ آزار پسند ہی کر سکتا ہے۔ ان خطوط میں حنوط افکارِ پریشاں کو تنقید سمجھنا ایسے ہی جیسے ختنے کرنے والے کو سرجن سمجھ لیا جائے۔

پہلے خط کے کچے خیالات نویں مکتوب میں بھی پختگی سے محروم ہیں۔ فکری اضمحلال کا ایسا استقلال اردو تنقید میں مفقود نہیں تو کم یاب ضرور ہے۔ موصوف نے اردو تنقید میں ایسی طرزِ تحریر ایجاد کی ہے جس نے رطب و یابس کے فزوں سے معنی کا ابھرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ عبارت آرائی اور الجھاؤ کی ایسی پاس داری کہ میں صدقے واری۔ یہ طبیبِ نا حاذق مطبِ تنقید میں بیٹھا اپنے مکتوبات کی کھرل میں ایسا تنقیدی سفوف تیار کر رہا ہے کر رہا ہے جو مرض نہیں مریض کو مارتا ہے۔

یہ ” تنقیدی افکار” کلاس روم کے حبس زدہ ماحول میں؛ ایک ایسے ذہن میں پھلے پھولے ہیں جو بدیہی طور پر تازہ کاری، جدت اور ندرت جوئی سے تہی ہے۔ نقادِ جماعت بند کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ کلاس روم کی حدود سے نکل کر بھی مدرسانہ ذہن سے پیچھا نہیں چھڑا پایا۔ سو قارئین کو بھی اپنے مجبوراً باادب سٹوڈنٹس سمجھ کر بلیک بورڈ پر تنقیدی کلیے سمجھا رہا ہے۔ سطحی معلومات اور فرسودہ خیالات کے ایسے بھدے نمونے نحیف و نزار اردو تنقید میں بھی کم یاب ہیں۔ عرض کرتا ہوں: بصیرت افروزی اور تازہ کاری سے محروم تنقید لکھنے سے ترکاری کاٹنے کی افادیت کہیں زیادہ ہے کہ اس سے سنجیدہ قارئین بھی ناراض نہیں ہوتے اور بیگم بھی خوش ہو جاتی ہے۔ نقادِ کوتاہ دریافت کے خطوط سے بھلے کوئی اور فائدہ نہ ہوا ہو کم از کم ادبی تنقید میں ایک نئی صنف کا اضافہ ضرور ہوا ہے۔ موصوف اردو ادب میں غبی تنقید کا بانی قرار پایا ہے۔ غبی تنقید کی یہ عدیم النظیر کتاب بوریت کی بائنڈنگ میں پیش کی گئی ہے۔ موصوف کو کون سمجھائے کہ فکشن کی طرح تنقید بھی اگر دل چسپ نہیں تو وہ اس بنیادی عنصر ہی سے محروم ہے جو اس کے ہونے کا جواز ہے۔ ایسی بے مغز تنقید سے نقاد نہیں صرف پروفیسر پیدا ہوتے ہیں جو جنم لیتے ہی اپنے جیسے اور پروفیسر پیدا کرنے میں جُت جاتے ہیں ۔ لیکن کچھ اور ہو نہ ہو بہ ہر حال یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ نقادِ شکستہ سخن، سازگار کو ناسازگار اور خوش آہنگ کو بد آہنگ بنانے کا ہنر جانتا ہے۔ اصل میں نقادِ کہنہ فروش جو مذہبِ نقد لے کر آیا ہے اس کا واحد امتی بھی یہ خود ہی ہے۔

ان خطوط میں وہ تمام عیوب موجود ہیں جو خود آگاہ تنقید کی منصوبہ بندیوں کے زائدہ ہیں۔ میرے عزیز! معاصر نقادوں کی طرح اس ہذیان سے عرفان برآمد کرکے رسوا مت ہونا کہ بد صورتی میں خوب صورتی تلاش کرنا میاں بیوی کا کام ہے نقادوں کا نہیں۔

اے نخلِ نو خاستہ! تنقید بے مغز خطوط کے باغ میں مدرس کی چہل قدمی نہیں؛ فکر کے ریگ زاروں میں جلتی ریت پر چلنے کا نام ہے۔ نقاد روح کی پرواز کو ذہن کی ورزش نہیں بناتا؛ فکر و نظر کی تندیء صہبا سے آبگینوں کو پگھلاتا ہے۔ فکر و نظر کے آبلہ فرسا، ائیر کنڈیشنڈ کلاس روم میں سوئی ہوئی کلاس کے سامنے تنقیدی کلیوں کی جگالی نہیں کرتے، خارِ بیاباں کی پیاس اپنے آبلوں سے بجھاتے ہیں۔

میرے عزیز! مجھ میں اب اتنی سکت نہیں رہی کہ نقادِ کوتاہ سخن کے خطوط کا مزید بار اٹھا سکوں۔ مجھے اس عمر میں رسوا مت کرو۔ تمھاری محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے اس ظالم کے نو خطوط کے صدمے سہے ہیں۔ واللہ مزید کی مجھ میں تاب نہیں۔ فاروقی، حنفی اور وزیر آغا کا ساتھ کیا کم ہے کہ نقادِ ستم کیش کے خطوط کے صدمے بھی جھیلوں۔ تمھیں بھی نصیحت کرتا ہوں کہ ڈاکیا کو کچھ دے دلا کر ٹال دیا کرو؛ جیسے بھی ہو ان مہلک خطوط سے خود بھی بچو اور مجھے بھی بچاؤ۔ ادب، شعر و سخن اور فکشن کے جس سنجیدہ پہلو پر چاہو مجھے لکھو۔ میں تمھیں بہ خوشی جواب دوں گا۔ لیکن ان سوہانِ جاں مکتوبات سے مجھے بچاؤ۔ خاطر نشان رہے، جو نو خطوط سے نہیں سدھرا؛ وہ سو سے بھی نہ سدھرے گا۔ نقادِ مستِ حال کو اس کے حال پر چھوڑ کر ادب کے ان سبزہ زاروں کا رخ کرو جہاں فکر و نظر کی صد ہا روشن جبیں کنیزیں اپنے ہاتھوں میں تدبر و عرفان کے پھولوں کے منقش تھال اٹھائے جانے کب سے تمھاری آمد کی منتظر ہیں۔ جاؤ اور ادب کی ان شاداب وادیوں سے مجھے فکر و نظر کو مہمیز کرتے ایسے خطوط لکھو کہ جن کو پڑھ کر اسپِ خیال تدبر کی شاہراؤں پر مستانہ وار دوڑنے لگے۔

فی الحال، میں تم سے رخصت چاہوں گا۔ اپنا اور اپنے قلم کا خیال رکھنا۔

خیر اندیش

وارث علوی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...