ہیگل کی سائنس آف لاجک کے بنیادی تعقلات و استخراجات

574

تحریر: عبدالله الطاف

قسط نمبر 1

ہیگل جب ایک کلی تصور بینگ سے استخراج کرنا شروع کرتا ہے تو در اصل وہ ایک کلی تصور سے  دوسرے کلی تصور کا احاطہ کر رہا ہوتا ہے یعنی  تجریدی کل  سے مقرونی کل  کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ جو طریقہ ہیگل (سائنس اوف لاجک) کی پہلی کتاب یعنی منطق کے مقولات کے استخراج کے لئے استمال کرتا ہے وہی طریقہ دوسری اور تیسری کتاب میں موجود ہے

 (چاہے وہ پھر پہلی کتاب منطق کا دوسرا یا تیسرا حصہ ہو یا کلی نظام کا دوسرا یا تیسرا حصہ)

( لیکن فرق اتنا ہے کہ اب ہم ریزن  کے استخراجات  سے ہٹ کر اصل دنیا میں آ گئے ہیں ساتھ ہی ساتھ ان کی ہئیت بھی بدل جاتی ہے کیونکہ اب ہم نے چند ایک تعینات لگا دی ہیں نیز یہی تعینات  ہیں جس کی وجہ سے اب مربوط  یعنی وجود محض  اب غیر مربوط   میں تبدیل ہو چکا ہے )

 اس کا یہ مطلب نہیں کہ منطق میں محض تجریدات ہیں بلکل نہیں ایسا نہیں ہے ہیگلی منطق کے تین حصے ہیں،

Being

Essence

Notion

پہلی کتاب بینگ نری تجرید سے شروع ہوتی ہے جہاں بینگ نوتھنگ اور نوتھنگ بینگ ہے دیکھیں پہلے ہم صرف بینگ کو لیں گے جو کے تمام متعینات سے ماورا ہے جس کی پیش گوئی محض (ہے – is) سے عبارت ہے ؛

Being is the notion implicit only: its special forms have the predicate ‘is’

(اس سیکشن کی مزید بھی بہت سی جہات ہیں جن پر تفصیلی بات کی جا سکتی ہے) یعنی یہ خاص جملہ

Being is the notion implicit only

اب بینگ وہ پہلا مقولہ ہے جہاں سے ہیگل اپنے استخراجات کی شروعات کرتا ہے نیز بینگ ہیگلی منطق کی پہلی کتاب بھی ہے اور نوشن (تصور) تیسری کتاب ہے اب یہ کیا بات ہوئی کہ بینگ میں داخلی طور پر پہلے سے تصور (نوشن) کے مقولات بھی موجود ہیں یہی اہم نقطہ ہے کہ جسے ہمیں سمجھنا ہے یعنی بینگ میں تمام استخراجات یعنی آخری مقولے تک تمام کے تمام مقولات موجود ہیں ہیگلی منطق کا آخری مقولہ مطلق خیال  ہے (اب بینگ میں داخلی طور پر نہ صرف مطلق خیال کا آخری مقولہ داخلی طور پر موجود ہے بلکہ مطلق خیال میں بھی بینگ کا مقولہ موجود ہے reversely طور پر لیکن اس کی ہئیت اب خارجی ہو گی. یہ بھی یاد رہے ہیگل مقولات کا استخراجات کسی ذہنی کیفیت کا نام نہیں بلکہ یہ منطقی لزوم ہے جہاں خالص بینگ سے تمام کا تمام وسیع پروجیکٹ نکل پڑتا ہے نیز ان استخراجات کی بنیاد علت و معلول نہیں بلکہ ریزن ہے جو کہ اپنی سرزشت میں منطقی لزوم کی علم بردار نیز  خود تعیناتی  بھی ہے )

آسان الفاظ میں بینگ کا مقولہ پہلے سے ہی اپنے آخری مقولے کو فرض  کرتا ہے یہی معاملہ مقولات کی  الٹ  نیچر میں بھی لاگو ہوتا ہے کہ آخری مقولہ (مطلق خیال) بھی اپنے بتن میں بینگ کو سمائے ہوئے ہے  اب ایسا کیوں ہے اس پر پھر بعد میں بات کریں گے بنیادی طور پر یہ Ex niholo nihil fit کی نفی ہے جو فارمل لاجک بھی استمال کرتی ہے کہ کوئی بھی چیز عدم سے وجود میں نہیں آ سکتی یہیں سے پھر یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ہیگل (علت) سے شروع کئے بغیر ریزن کی بنیاد پر اپنا وسیع نظام کیوں شروع کرتا ہے ۔

مزید دیکھیں

Being is the indeterminate immediate; it is free from determinateness in relation to essence and also from any which it can possess within itself. This reflectionless being is being as it is immediately in its own self alone. (Section 130 – Greater logic)

یعنی بینگ جو کہ غیر متعین  ہے کیونکہ ابھی اس میں کوئی پیش گوئی سوائے (ہے) یعنی بس ہے کے علاوہ کچھ نہیں اور یہ غیر تعیناتی  ہی اس کے غیر مربوط  ہونے کی دلیل ہے کہ جہاں کوئی بھی تصور نہیں ہے یہ بے عکس  ہے یعنی ابھی یہ صرف فی زاتہ  ہے یعنی ابھی اس کا داخلی عمل شروع نہیں ہوا۔

اس کے بعد ہم نوتھنگ کا مقولہ لیں گے جہاں شے کی اپنی حیثیت نفی کے برابر ہے اور محض اشیا کے خصائص موجود ہیں لیکن ہیگل اس سے آگے کا استخراج کیسے کرتا ہے وہ ایسے کے در اصل بینگ میں نوتھنگ ہے اور نوتھنگ میں بینگ یعنی یہ ایسے لکھا جائے گا AB X BA۔ یعنی ایک کل (آئیڈیا) کے اندر کا دائرہ جس دائرے کے اندر ایک اور دائرے کا استخراج ہوتا ہے اور وہ اپنی کاملیت میں  ابھرتا ہے اور پھر واپس پہلے دائرے میں لوٹتا ہے ۔

ہیگل اس دو طرفہ تعلق کو ان دو سیکشنز میں تفصیلی بیان کر دیتا ہے؛

But this mere Being, as it is mere abstraction, is therefore the absolutely negative: which, in a similarly immediate aspect, is just Nothing. (Shorter logic – section 87)

Nothing, if it be thus immediate and equal to itself, is also conversely the same as Being is. The truth of Being and of Nothing is accordingly the unity of the two: and this unity is Becoming. (Shorter logic – section 88)

ویسے اب کوئی کثر بچ نہیں جاتی لیکن پھر بھی ہیگل کی شارٹر لاجک کے سیکشن 84 کا یہ حصہ دیکھیں جہاں ہیگل اس تمام بحث کو تفصیلی بند لگا دیتا ہے ؛

when they are distinguished they are each of them an ‘other’: and the shape which dialectic takes in them, i.e. their further specialisation, is passing over into another. This further determination, or specialisation, is at once a forth-putting and in that way a disengaging of the notion implicit in being; and at the same time the withdrawing of being inwards, its sinking deeper into itself. Thus the explication of the notion in the sphere of being does two things: it brings out the totality of being, and it abolishes the immediacy of being, or the form of being as such.

(یھاں ہیگل وہی بات کر رہا ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کر دیا ہے : یہ سیکشن 84 کا اگلا حصہ ہے اس کے پہلے حصہ کا بیان ہم نے اوپر کر دیا ہے.

اب یھاں بھی یہی بات ہو رہی ہے یا مزید تفصیل ہے کہ جب جدلیاتی طرز پر مقولات کا استخراج شروع ہوتا ہے تو بینگ اپنے سے  دوسرے  کا استخراج کردیتا ہے یا اپنے سے باہر نون بینگ کا اخراج کرتا ہے یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ اخراج بینگ کے اندر ہی وقوع پذیر ہو رہا ہے نہ کے باہر اب یہ منطقی لزوم کیسے طے پاتا ہے یہ سمجھنا یا ہیگل کے بنیادی تعینات کو سمجھنا ضروری ہے لیکن یھاں اتنی جگہ نہیں ہے کہ اسے بیان کیا جا سکے بس اتنا که دینا کافی ہے کہ در اصل بینگ میں پہلے سے نون بینگ موجود ہوتا ہے نیز نون بینگ میں بینگ موجود رہتا ہے یعنی ان دونوں کا آپسی تعلق retroactive ہے یعنی اپنے سے باہر اپنے میں ہی جنم لینا اور جب یہ اپنے اندر ہی جھانکتا ہے تو اپنی کلیت کو باہر نکالتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی غیر مربوط کیفیت  کی نفی کر دیتا ہے لیکن نفی کے نتیجے میں ایک اور غیر مربوط بینگ  وجود میں آ جاتا ہے جو پچھلے سے زیادہ مشروطی (تعیناتی) حالت میں ہوتا ہے ۔

یہ بھی بات یاد رھے کہ یہ مقولات اور ان کے مفاہیم ہیگل بلکل مختلف لیتا ہے یعنی یہ مقولات محض تجریدات  نہیں ہیں بلکہ مقرونی بھی ہیں کیونکہ یہ مقولات خیال (تھاٹ) ہیں جس کا اظہار یا تصوراتی تفہیم مقولات کرتے ہیں مطلق کے اندر  جیسے کہ ماہئیت  کا مقولہ بھی اسی میں ہے لہذا اس طرح سب کچھ انہی مقولات کی حرکت میں ہے ۔

Absolute ======== Thought : Hegelian Categories = Substance , cause etc

یعنی یہ سب کچھ مطلق کی کلیت میں ہو رہا ہے اس سے باہر کچھ نہیں ہے حتی کہ خالص مقولات اور خیال بھی اور دراصل ماہئیت بھی کچھ اور نہیں اسی مطلق کا حصہ (مقولہ) ہے ۔

جیسے کہ اکثر لوگ مسٹر براڈلے  کا یہ جملہ ہیگل کی نقد پر سبط کر دیتے ہیں

Hegel absolute is not more than an ‘ unearthly ballet of bloodless categories ’

یہ جملہ اور دعوی غلط ہے میں اس حوالے ہیگل کی لاجک کے سیکشن 85 کا ایک جملہ یھاں نقل کروں گا

“ the special categories of it (being itself) , as well as those of logic in general , may be looked upon as definations of the absolute ”

یہی نقطہ ہے جو ہیگلی فلسفے کے شاگرد نہیں سمجھ پاتے اس سیکشن میں نا صرف ابہام ہے بلکہ تضاد بھی ہے کہ یھاں definitions of absolute سے کیا مراد ہے کہ کیا یہ مقولات در اصل از خود مطلق ہیں یا محض تفصیل یا تعریفات ہیں یہ اصل مسلہ ہے  دیکھیں یہ دونوں باتیں درست ہیں اس گتهی کو آپ اس جملے سے بھی سمجھ سکتے ہیں جس کی تفصیل اوپر دے دی ہے

Being is the notion implicit only

یعنی سب کچھ سب کچھ میں ہے  فی ذاتہ  کہ مقولات نہ صرف مطلق کی تعریفات ہیں اس کی تشکیل کرتے ہیں نیز اس کا اظہار ہیں بلکہ یہ مقولات خود بھی مطلق ہی ہیں کیونکہ ان مقولات کا اخراج خارج پر یا باہر  سے  نہیں ہوا بلکہ ان کا استخراج بینگ کے اندر ہوا ہے انعکاس   کی صورت میں اب جب یہ مراحل طے پاتے ہیں تو ان کا اظہار تین جہات کے ذریعے طے پاتا ہے ؛

Universality

Particularity

Individuality

اس حوالے سے میں تفصیل کے قابل نہیں ہوں کیونکہ مضمون بہت لمبا ہو رہا ہے بس اتنا کہنا ہے کہ ان تینوں کو آپ بینگ ، نون بینگ ، بکومنگ سے تشبیہ دے سکتے ہیں لیکن تفصیل درکار ہے کہ انفرادی  میں نہ صرف یونیورسلیٹی  ہے بلکہ پرتیکولر  بھی ہے یعنی درخت جو کہ ایک تجرید اور آفاقی تصور ہے اس کے مقابل متعین کردہ سیب کا درخت پارٹیکولر  ہے لیکن اس پارٹیکولرمیں درخت کا عکس دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ سیب کا درخت ۔۔۔۔ آفاقی تصور درخت سے ہی بر آمد ہوا ہے جو اسی کے بطن سے نکلا ہے نہ کہ خارج سے اور اس کا اخراج داخلیت کا متقاضی ہے اسی لئے اس پارٹیکولر میں آفاقیت بھی موجود  ہے نیز پارٹیکولر میں آفاقی – تجریدی تصور درخت بھی ضم ہے  اب تیسرا مرهلہ انفرادی ہے جہاں اب درخت کے تجریدی تصور اور  سیب کے درخت سے ہٹ کر مکمل تعیناتی شکل بطور سیب کے ہمارے سامنے آ گئی ہے. (گویا اب اس سیب میں نہ صرف آفاقی تصور درخت ضم ہے بلکہ پارٹیکولر بھی موجود ہے نیز اب یہ انفرادی سیب اپنی کاملیت کا اظہار کر رہا ہے جس میں ابھی  ممکنہ استعداد موجود (Fully potential) ہے پھر دوبارہ سے اپنا سفر شروع کرنے کے لئے۔ مزید بیان ؛ یعنی پہلے میں دوسرا ہے اور دوسرے میں پہلا یہ عکس (Mirroing) ہے یا جسے ہیگل منطق کی دوسری کتاب میں ریفلیکشن  کے مقولے سے اخذ کرتا ہے ۔ اب پھر اس طرح بیکومنگ (کچھ بننے) کا مقولہ آجاتا ہے جو دراصل مشروطی (تعیناتی) ہے اب منطق کی اس پہلی کتاب میں تجریدات بھی ہیں اور مقرونی تعینات بھی ، لیکن جب منطق کی پہلی کتاب (بینگ) ختم ہوتی ہے تو ہیگل منطق کی دوسری کتاب (جوہر) کو پھر سے نری تجرید سے شروع کر دیتا ہے یہ بہت مشکل مرحلہ ہے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اب بینگ محض تجرید نہیں ہے بلکہ متعین ہے فرق اتنا ہے کہ   جہاں بینگ inwardness کی بات کرتی ہے جوھَر outwardness کی بات کرتا ہے لیکن یہ خارج بھی کلی نظام یا آئیڈیا کا داخل ہی ہے مطلب کہ یہ جوھَر جو کہ وجود کا جوھَر ہے خارج سے نہیں آتا بلکہ بینگ کے اندر  ہی اس کا  جوھَر ہے  ؛ دیکھتے ہیں اس حوالے سے ہیگل کیا کہتا ہے!

      Essence first appear to be as abstract as being . But essence is reflection Being is raised up beyond itself into the mere show of its essence . Essence is a correlation (between itself and show)

یہ بہت اہم بات ہے آگے دیکھتے ہیں

, but it is at once only by the mediation of being raising itself up into this show۔ Lectures on logic (page 80)

یہ بات بھی یاد رکھنی ضروری ہے کہ چونکہ یہ خارج کا داخل ہے جو کہ دراصل کلیت ہے آئیڈیا کی ۔ اسی  لئے جوھَر میں بینگ کی متعینات  کا اظہار اس داخل میں پہلی تعینات انعکاس (ریفلیکشن) کے ذریعے ہو گا جو کہ تجرید ہے یعنی جوھَر کے پہلے حصے simple essence کا پہلا مقولہ identiy۔ مزید دیکھیں ؛

 The essence ‘ has the same referent as (being) . In going from being to its essence ,we pass grammatically from (is) to ( have) –

اس جملے پر خاص توجہ

– A thing in the logic of the essence hasits properties – it no longer is its determinations but rather has them ‘

          (یہی بات جو کہ اس پیرا میں ہیگل کا بیان ہے ہو بہو انسائیکلوپیڈیا کے سیکشن 125 میں ملے گی)

  • ابن حسن کی کتاب (ادب اور معروضی حقیقت) ؛

(پہلے کے سے پیوست)

 اصل بات یہ ہے کہ ہیگل کی منطق میں قدرت بھی شامل ہے (جو کہ دوسری کتاب ہے)  نیز قدرت میں منطق بھی شامل ہے کیونکہ یہ ایک تسلیاتی ڈھانچہ   ہے اور یہی تسلیتیں  ہیں جو ایک دوسرے کو جوڑتی ہیں اور ان تمام میں آئیڈیا کارفرما رہتا ہے جس کا اظہار سپرٹ ہے اور ریزن اس کو گرہن کرتا ہے .

پچھلے دنوں ابن حسن کی ایک کتاب منظر عام پر آئی میرا نہیں خیال ایسی کتاب پہلے کبھی اردو زبان کی زینت بنی ہو گی ۔

اس کتاب پر مفصل بات کرنے کا ارادہ ہے لیکن یھاں جو کہنا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب میں ہیگل پر دو مفصل مضمون موجود ہیں اور دونوں کے دونوں ہی ہیگل کی کتاب  ذہن کی مظہریات سے متعلق ہیں ۔

  • پہلا مضمون بعنوان (ہیگل کا نظریہ علم) سے متعلق ہے جہاں ابن حسن صاحب نے موضوعی سپرٹ ، معروضی سپرٹ اور مطلق سپرٹ کا کافی تفصیلی احاطہ کیا ہے۔
  • دوسرا مضمون بعنوان (ہیگل کا فلسفہ بعد) ہے جہاں وہ ذہن کی مظہریات کے پہلے حصے Consciousness کو بہت تفصیلی دیکھا ہے۔ اس کے علاوہ ذہن کی مظہریات کے دوسرے حصے Self Consciousness کے بھی چند حصوں پر روشنی ڈالی ہے جیسے کے (آقا اور غلام کی تمثیل) ویسے یہ بیان کرنا اس مضمون کی کاملیت کے لئے ضروری بھی تھا ۔

میں حیران ہوں کہ ابن حسن صاحب نے ہیگل کے نظریہ محنت پر بھی کیا لکھا ہے حوالوں کے ساتھ اسی کی مد میں پورے تین صفحات محنت اور شعور كنندہ کے ارتقا اور غربت کے حوالے سے بھی لکھا ہے  ؛ مشینی دور کے حوالے سے خاص طور پر چونکہ یہ مضمون بعد پر تھا تو (مشین اور بعد) کے پس منظر میں دو مکمل حوالے بھی دئیے ہیں ہیگل کے فلسفہ فطرت پر لیکچرز سے ۔

میرا خیال ہے کہ ابن حسن پاکستانی ماركسیستوں سے تھوڑے مختلف ہیں کہ انھوں نے دبے الفاظ میں یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ماركس نے محض ہیگل کو یا ہیگلی منطق میں موجود مقولات کی صرف ایک نئے زاویے سے تقلیب یعنی ٹرانسفارمیشن ہی کی ہے اور کچھ نہیں اور دراصل تقلیب کے یہ عناصر پہلے سے ہی ہیگل کے فلسفہ فطرت میں نظریہ محنت یا بیگانگی سے متعلق موجود تھے ۔۔۔۔۔۔ ابن حسن کیا لکھتے ہیں خود دیکھ لیں ؛

“ ہیگل پر تنقید کی بنیاد تقلیبی طریقہ  پر ہے جس کا استعمال ماركس نے شروع کی کئی کتابوں پر کیا “ ~ ادب اور معروضی حقیقت (صفحہ نمبر 354)

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ابن حسن صاحب پھر بھی ہیگل کو مسحور و مبحوت اور بهدی اور اٹکتی دھن کے القابات سے نوازتے ہیں جس میں کوئی مضحکہ نہیں ہے۔ ظاہری سی بات ہے ابن حسن صاحب بھی ایک ماركسی تھے ۔

یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہیگل پر دو تفصیلی مضامین میں سے کسی ایک مضمون میں بھی سائنس اوف لاجک کا ایک فکرہ بھی نظر نہیں آتا ویسے بھنڈر صاحب یہی بات ماركس کے حوالے سے کافی بار کر چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماركسی ہیگلی مقولات کو اپنی مادی تفہیم کے ذریعے الگ معنی سے نوازتے ہیں جیسے کے ان ابتدائی مقولات بینگ اور نون بینگ کو لے کر ۔۔۔۔۔  یہی وجہ تھی کے پہلے اوپر ہی میں ان کی وضاحت کر آیا ہوں کہ ہیگل ان سے کیا معنی لیتا ہے جو کہ اس کی منطق میں بعد کے استخراجات کی بنیاد ہے ۔

لیکن ماركسی بینگ کے مقولے کو نوتھنگ سے تشبیہ دئے بغیر نری مادی قدرت کہتے ہیں یہی نری مادی قدرت نون بینگ میں تب تبدیل ہو جاتی ہے کہ جب انسان اس نری مادی قدرت کو اپنی فعالیت سے بدل ڈالتا ہے اور اسی بدل ڈالنے کے نتیجے میں اپنے آپ سے بیگانہ ہو جاتا ہے نیز جب انسان نے پہلی بار ہزاروں سالوں کی شعوری محنت کے بعد آگ جلائی ہو گی پھر کوئی شے بنائی ہو گی پھر درجہ بہ درجہ ترقی کے بعد جدید معاشرے میں وہ شے مارکیٹ کی زینت بنی ہو گی اور تب یہ سلسلہ بینگ سے نون بینگ کی طرف راغب ہوا ۔۔۔۔۔۔ یعنی جب  قدرت میں موجود انسان نے اپنی فعالیت کے زریعے اس نری قدرت کو تبدیل کیا اور اسی تبدیلی کے زریعے اس کی بیگانگی اسی کی فعالیت سے مربوط شے یا معروض کے ساتھ منسلک ہو گئی ۔

یہی وجہ ہے کہ ابن حسن صاحب نے شاید ان ابتدائی مقولات کو (آقا غلام کی تمثیل) کی تفہیم کے لئے بھی استمال نہ کیا  ۔۔۔۔۔ کیونکہ ان مقولات کا استمال آقا اور غلام کی تمثیل کے حوالے سے بلکل وہی معنی فراہم کرتا ہے جو کہ ہیگل کا بینگ اور نون بینگ مطالب دیتا ہے ۔ وہ الگ بات ہے کہ ماركسی انداز میں سرمایہ اور مزدور کے درمیان تضاد کی تفصیل مختلف ہو جاتی  ہے ۔

اس سب سے قطع نظر بہت سی جگہوں پر ابن حسن صاحب ماركس سے زیادہ ہیگیلین نظر آتے ہیں ابن حسن کی کتاب میں کل چار تفصیلی  مضامین ماركس پر موجود ہیں بعنوان ؛

۔ مارکس کا نظریہ علم

۔ ماركس کا فلسفہ بعد

۔ معیشتی اور فلسفیانہ مسودات میں بعد کے حوالے سے ہیگل پر ماركس کی تنقید

۔ کتاب ‘ سرمایہ ‘ اور بعد

یہ چار مضامین اور بحیثیت کل یہ پوری کتاب پاکستانی ماركسیستوں کے لئے کسی خزانے سے کم نہیں کہ اگر وہ اپنی تجریدی اور میکانکی سوچ سے باہر آ کر اس معاشرے کا از خود تجزیہ کریں نا کہ محض ایک مشین کی مانند باہر سے آئی کسی خبر ، حکم یا تجزیہ  پر اپنا منشور منطبق کر ڈالیں۔

اس حوالے سے بھی ابن حسن صاحب نے بحث کی ہے جہاں وہ میکانکی طرز کے  جدلیات پسندوں اور حقیقی جدلی مادیت کی رو سے تجزیہ کرنے والوں  کے درمیان خط امتیاز کھینچا ہے

ابن حسن صاحب نے مزید اپنی کتاب اور پروجیکٹ کو بہت سی جگہوں پر بانٹا یا اپنے متن کے حوالے سے قاری کی تفہیم کو مزید پختہ کرنے کی بھی  کوشش کی ہے۔

اب میں اپنی تحریر کے پہلے حصے کی طرف واپس لوٹوں  گا جہاں میں نے کہا تھا کہ ہیگلی منطق کے تینوں حصے ایک دوسرے میں پوست ہیں یعنی وجود میں جوہر ، جوھَر میں وجود اور ماہیت نیز تصور اور پھر تصور میں بھی وجود جس کی ماہیت اب نری وجود سے بڑھ چکی ہے نیز جوھَر جو کہ وجود کا داخلی اظہار ہے اور الٹ ہے وجود کے کا اظہار اپنی کلی شکل یعنی معروضی سپرٹ کے تئں ہوتا ہے اور اپنی کاملیت تصور کے آعلیٰ اظھار یعنی مطلق خیال کی حیثیت ا کرتا ہے ۔

یعنی ایک حصہ جو اپنے لئے ہے اپنے سے دوسرے کے لئے بھی ہے پھر یہ اپنا اور دوسرا ایک اور اپنے کو وجود دیتے ہیں جس میں بالا کے دونوں عناصر موجود ہوتے ہیں جب اس کی تشکیل ہوتی ہے تو پھر یہ اظہار بلکل اسی طرح آعلیٰ اور برتر درجے پر ہوتا ہے ۔

یہ بات دوبارہ دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ ابن حسن بھی اس بات کو نقل کیا ہے ایک جدول کی شکل میں (صفحہ نمبر 291) میں یھاں ان کا بنایا گیا خاکہ جوں کا توں پیش کر رہا ہوں اور ساتھ ہی اس خاکے کی تفصیل اپنی تفہیم کے مطابق دے رہا ہوں ۔

لیکن پھر یہ بات یاد کروا دی جائے کہ  اس تسلیت میں

پہلی تسلیت کل کا اظھار کرے گی لیکن اس کلی تسلیت کے بھی تین حصے ہوں گے ظاہری سی بات ہے اسی لئے ہم اسے تسلیت کہتے ہیں اب ان تین حصوں میں سے بھی سب سے پہلا حصہ بینگ ، دوسرا حصہ نون بینگ اور تیسرا حصہ بیکومنگ ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ابن حسن اس طریقے سے اس بات کو سمجھاتے لیکن انہوں نے یہ تسلیتی خاکہ بنا کر (جو نیچے پیش کر رھے ہیں) اس کو مسیحی تسلیت سے تشبیح دے دی ۔

ابن حسن کی کتاب میں موجود خاکہ ؛

یھاں پہلی تسلیت ہیگلی منطق کی تین کتابوں کی طرف اشارہ کر رہی ہیں  یعنی (منطق ، قدرت اور خیال) پھر نیچے باقی کی تسلییتیں بھی ایسے ہی دیکھی جاییں گی جو کہ ایک ہی تصور کا احاطہ کر رہی ہیں یعنی پہلی تسلیت کے پہلے حصے  جسے ہم بینگ که سکتے ہیں (آفاقی ، وجود اور نیچے تک خاندان) کے مماثل ہے نیز قدرت جسے ہم نون بینگ که سکتے ہیں (جز اور ماہیت وغیرہ) کے برابر ہے اور یہی عمل خیال کے ساتھ ہے جو در اصل ایک نئی کلیت کا احاطہ کر رہی ہے جہاں ایک سبجیکٹ نمو پاتا ہے جسے ھگل (موضوعی سپرٹ) کہتا ہے مزید یہ کہ یہی سبجیکٹ پھر اپنے آپ سے مغائرت کی صورت میں سماجی اداروں کو تشکیل کرتا ہے جہاں وہ سبجیکٹ اور اس سبجیکٹ کی معروضی شکل آپسی تضاد میں ہوتے ہیں ہیگل اس کو (معروضی سپرٹ) کہتا ہے اور یہی وہ جیسا ہے جہاں ہیگل کی پہلی کتاب (ذہن کی مظہریات) میں آقا و غلام کی جدلیات میں   کار فرما نظر آتی ہے جو کہ خود شعوری کے طریق میں ظاہر ہوتا ہے اس کا آخری مرحلہ (مطلق سپرٹ) کی تشکیل ہے جہاں تمام عکس (ریفلیکشنز)  یعنی دوسرے  کا دوسرے  خود اپنے دوسرے میں ضم ہو جاتا ہے یعنی اب مطلق مقرونی و ٹھوس شکل میں واپس اپنے میں لوٹ آیا ہے اپنے سے (دوسرے) یعنی ریزن کی شکل میں یہ وہی ریزن ہے جو سپرٹ کی بنتریں یا از خود سپرٹ کی حرکت کو اپنے اندر اتارتی ہے ۔ (اس حوالے سے میں نے اپنی فہم کے مطابق ایک جدول بھی ترتیب دے دیا ہے)

   مزید یہ خاکہ بہت تفصیل کا محتاج ہے لیکن اوپر جتنا میں نے لکھ دیا فلحال کافی ہے بس  اتنا کہنا درکار تھا کہ یہ تسلیتیں کل سے جز کی طرف تو جا رہی ہیں لیکن ساتھ ہی ایک کلیت سے دوسری کلیت کی طرف بھی جا رہی ہیں جیسے کہ تسلیت کے پہلے حصے (منطق) پر توجہ مرکوز کریں جو کہ بینگ ہے اور تجرید ہے یہ کل سے جز کی طرف جا رہی ہے لیکن آپ اب تیسری کلیت یعنی (خیال) کی طرف توجہ مرکوز کریں جو کہ بیکومنگ ہے اور پہلی دو تسلیتوں کے باہمی تضاد یا رد و نمو کے سلسلے میں ابھرنے والی تیسری تسلیت ہے جو کہ جز سے کل کی طرف جا رہی ہے نیز جہاں پہلا جدول کی نوعیت بعد میں آنے والی تسلیتوں کے مقولات میں کلی سے جزوی نوعیت کی ہے وہیں آخری جدول  (خیال) کی نوعیت بعد کی آنے والی تسلیتوں کے مقولات میں جزوی سے کلی ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کل سے جز کی طرف جانے والے وجود یا منطق کے مقولات جزئیت کے باوجود اپنی اپنی متعین شدہ تسلیت میں کل کی حیثیت سے ہی کارفرما رہتے ہیں لیکن ظاہری سی بات ہے ہر مقولے کے  تعیناتی سلسلے میں اس کی کیفیت بدل جاتی ہے کیونکہ خیال کے مقولات  میں منطق بھی کارفرما ہے نیز منطق کی تسلیت  میں خیال کے مقولات بھی کارفرما ہے اسی حوالے سے میری بیان کردہ بات کو میکانکی طرز میں نہ لے لیا جائے بلکہ مقولاتی حرکت میں آپ خود متعین شدہ مقولے اور پھر تسلیت کا از خود تجزیہ کریں لیکن بنیادی صورت وہی ہو گی جو میں نے بتا دی ہے ۔ ایک اور اہم بات بھی ہے کہ جب ہم ہیگل کی منطق کو پڑھتے ہیں اور تجزیہ کرتے ہیں تو یہ سلسلہ چلتا تو ایسے ہی ہے لیکن ہر تسلیت میں مقولات کے استخراج کی ترتیب پہلی تسلیت کے استخراج سے بدل جاتی ہے کیونکہ ہم استخراجات کے زریعے تجریدی  کل سے مقرونی کل کا احاطہ کر رھے ہیں نیز بیچ میں ماہیت کی تسلیت نفی کا عمل  بھی کر رہی ہے لہذا منطق میں تو یہ استخراج ویسا ہی رہے گا جیسا ہے لیکن آخری تسلیت خیال میں اس کی ترتیب الٹ جائے گی جس کا بیان ہم پہلے ہی خاکے کی تفہیم میں کر آئے ہیں کہ اب یہ کل جز اور جز کل میں بدل جائے گا ۔

اگر میں اس بات کو خود پیش کرنا چاہوں (جو کہ محض منطق کے مقولات یا چند حصوں تک محدود  ہو) تو ایسے ہو گا کہ

یھاں اس جدول میں جن تین الفاظ کو ہم نے سب سے مماثل حیثیت سے لکھا ہے وہ ہیگلی فلسفے میں نفی کی اقسام ہیں ؛

Abstract negation

Determinate negation

Absolute negation

انشاالہ اگلے مضمون میں ہم ان نفی کی اقسام پر ہی بحث کریں گے جہاں بینگ ، نون بینگ پر مزید بات ہو جائے گی ۔

اب اس کی مزید تفصیل کا میں وارث نہیں لیکن اس تحریر کے شروع کی لائن اسی بات کا اظہار تھی کہ

‘ہگلی منطق ایک کل سے دوسرے کل کا سفر ہے یعنی تجریدی کل  سے  مقرونی کل  کا سفر اور یہ سفر جدلیاتی نوعیت کا ہوتا ہے جہاں ایک کل دوسرے کے جز کا اظہار بنتا ہے اور ایک جز دوسرے کے کل کی جگہ پاتا ہے کہ جیسے ہم نے پہلی (منطق) اور آخری (خیال) کی تسلیتوں کے مقولات کی حرکت کو دیکھا۔‘

لیکن ہم نے بیچ والی تسلیت یعنی ماہیت کو نہیں دیکھا یاد رھے ہیگل خود اس حوالے سے کہتا ہے کہ میری منطق کی جان و روح منطق کی دوسری کتاب (تسلیت) جوھَر یا ماہئیت ہے نیز یہی سب سے مشکل ، مبهم اور پیچیدہ بھی ہے کیونکہ اس کے بغیر مقولات کا استخراج آگے بڑھ ہی نہیں سکتا در اصل یہ تسلیت نفی کے مقولے کے ساتھ نتھی ہے اس پر بھی ہم محتصر بات کر آئے ہیں کہ کیسے بینگ میں نون بینگ اور نون بینگ میں بینگ موجود ہوتا ہے ۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ ہیگیلی فلسفے کی بنیاد دو مقولات پر ہے نفی اور تحدید کے مقولے پر ۔

(جاری ہے)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...