اسلم اعوان، جنگ دہشت گردی: تہذیب و ثقافت اور سیاست

تبصرہ نگار: حذیفہ مسعود

33

ملک اسلم اعوان معروف صحافی اور صاحبِ اسلوب قلمکار ہیں۔ وہ گذشتہ کئی برسوں سے ملک کے متعدد قومی و مقامی اخباروں کے ساتھ صحافیانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس وقت وہ موقر قومی اخبار ’’دنیا‘‘ کے ساتھ وابستہ ہیں اور باقاعدگی سے کالم لکھ رہے ہیں۔ وہ ’تجزیات‘ آن لائن کے لیے بھی لکھتے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کے پسندیدہ موضوعات کون سے ہیں۔ سیاست، ریاست، سماج ومعاشرت، ادب و ثقافت، تاریخ و روایت، بین الاقوامی معاملات اور قومی مسائل، غرض کسی بھی موضوع پر لکھنا جیسے ان کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ غالباً شعرو صحافت کے ساتھ ان کی طویل وابستگی نے انہیں تقریباً تمام موضوعات سے متعلق لکھنا ان کے لیے سہل کردیا ہے۔ ان کے مضامین میں ہمیں خانہ پری کی بجائے حقائق و واقعات نظر آتے ہیں، وہ کبھی کبھی تخیلاتی دنیا میں ضرور جاتے ہیں لیکن اصلاً وہ حقیقت پسند ہیں اور سماجی کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ یہ بات ان کے صاحبِ مطالعہ ہونے، زبان و بیان پر دسترس اور اچھے مشاہدے کی عکاس ہے۔
ان کی زیرِ نظر کتاب ’’جنگ دہشت گردی: تہذیب و ثقافت اور سیاست‘ ان کے کالموں کا مجموعہ ہے جو پاکستان کے متعدد اخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔ ان کی یہ کتاب مضامین کے موضوع کے حساب سے پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ جنگ دہشت گردی کے حوالے سے لکھے گئے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان مضامین میں خیبر پختونخوا اور سابق فاٹا علاقوں کا مقدمہ بڑی عمدگی اور کرب سے پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ وہ سرائیکی خطے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن خیبر پختونخوا سے ان کی وابستگی ان کے مضامین سے عیاں ہوتی ہے جہاں وہ اپنے صوبے کے حالات، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثرات، افغانستان کی صورتِ حال اور امریکا کے اقدامات اور اس جنگ کا شکار علاقے کے باشندوں کو درپیش مشکلات کا حقیقی بنیادوں پر تجزیہ کرتے ہیں۔ ان کے مضامین ایک جنگ زدہ علاقے کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
دوسرا حصہ ’تہذیب و ثقافت ہے‘ جس میں وہ قومی و تہذیبی ورثے کی تحسین، ہماری سماجی وسیاسی صورت گری میں اس کے کردار اور مستقبل میں ان کی بقا کی آواز اٹھاتے نظر آتے ہیں، وہ اس حصے میں اردو کی بقا، خواتین کے حقوق، تہذیب کا ماتم، مغربی ثقافتیں، شاعری، تصوف، تعلیم و تعلم، مادری زبانیں جیسے متنوع موضوعات پر قلم اٹھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا ہر مضمون موضوع پر ان کی گرفت کا مظہر اور انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ تیسرے حصے میں وہ ملک کی سیاسی صورتِ حال، سیاسی کشمکش اور دیگر انتظامی امور کے تناظر میں ملکی حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان مضامین کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان میں قاری کو صرف حالات کے بھنور میں ڈوبتا نہیں چھوڑتے بلکہ ساحل پر پہنچنے کی راہ بھی سجھاتے ہیں۔
چوتھے حصے کا عنوان ’احوالِ عالم ‘ ہے جس میں وہ عالمی دنیا کے حالات کے بارے میں آگاہی اور ان کا تجزیہ و تبصرہ پیش کرتے ہیں۔ ان کے مضامین میں ترکی، مشرقِ وسطیٰ، داعش، امریکی عزائم، اسرائیلی چیرہ دستیاں، مذہبی و تہذیبی کشمکش جیسے موضوعات پر خامہ فرسائی ملتی ہے۔ یہ مضامین عالمی منظرنامے کو سمجھنے میں بہت حد تک ممدو معاون ثبات ہوسکتے ہیں۔ آخری حصہ فاٹا کے بارے میں لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے جسے ہم ’’قبائل کی آواز‘‘ کا عنوان دے سکتے ہیں۔ ان مضامین میں وہ قبائلی علاقوں کے مسائل کو نہایت جاں فشانی سے پیش کرتے اور قبائلی عوام کا مقدمہ پیش کرتے نظر آتے ہیں۔
ملکی سیاست پر لکھے گئے ان کے مضامین مظلوم اور محروم طبقات کی آواز ہیں اور اہلِ حکم کے جبر اور ان کی زیادتیوں کو انتہائی دکھ اور کرب کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ وہ سرائیکی وسیب کے لکھاری ہیں اور ان کی تحریروں میں اپنے وسیب سے محبت اور اس کی محرومیوں کے سبب سینے میں موجود بے چینی ان کے مضامین سے عیاں ہوتی ہیں۔ وہ ایک صحافی ہیں اور ملکی میں اہلِ صحافت پر پرنے والی حالیہ افتاد پر لکھ کر انہوں نے اپنے قلم قبیلے سے وفاداری کا حق ادا کیا ہے۔ ان کی یہ کتاب سیاست وسماج میں دلچسپی رکھنے اور محروم طبقات کی محرومیوں اور انہیں درپیش مسائل کے ادراک کا شعورکھنے والے اردو قارئین کے لیے انتہائی جامع، سہل، رواں اور عمدہ کتاب ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...