پنڈی وال گھروں سے کیوں نہیں نکلے ؟

سول ملٹری تعلقات کی گچھی تو شاید پیچیدہ ہو مگر کارکن کیوں باہر نہیں آئے ؟ اس کے جواب کے لئے نوازشریف اگر اپنے گریبان میں جھانکیں تو سب سامنے آجائے گا

288

ریلی سے تین روز قبل جب نوازشریف راولپنڈی کی مسلم لیگ ن کے عہدے داروں سے پنجاب ہاؤس میں ملاقات کر رہے تھے تو اس دوران ایک کارکن کھڑا ہوا اور میاں صاحب سے کہا ’’میاں صاحب تسی ساڈی نال چنگی نئی کیتی، پر فِر  وی مشکل وقت اچ اسی تہانوں چھڈاں گے نئیں‘‘۔

میاں صاحب کو اس کا اندازہ تو ڈی چوک پر آتے ہی ہو گیا تھا جب چند درجن کارکن یہاں پر میاں صاحب کے استقبال کے لئے موجود تھے ۔میاں صاحب کو ایک روز پہلے تک یہ یقین دلایا جاتا رہا کہ کارکن آپ کی ایک جھلک دیکھنے کو بیتاب ہیں بس آپ ایک بار نکل کر تو دیکھیں لیکن کسی نے یہ تک نہیں سوچا کہ کارکنوں کو گھر سے لائے گا کون ؟ کون کدھر سے جلوس لائے گا ؟کارکنوں کی ٹرانسپورٹ اور ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا ہوگا؟ ان بنیادی چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہوا میں تیر چلائے گئے اور نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔راولپنڈی اسلام آباد جن کی موجودہ آبادی 70لاکھ کے قریب ہے اس میں سے صرف تیس سے پینتیس ہزار لوگ اکھٹے کئے جا سکے ان میں سے بھی کئی کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن پنڈی کے کارکن تھے جنہیں اس وقت ریلی میں شرکت کا حکم ملا جب اس کی تعداد قلیل دیکھی گئی ۔

اگر ہم مزید وجوہات کا جائزہ لیں جن کی وجہ سے ریلی کے ابتدائی مرحلہ پر عوام کی شرکت محدود رہی تو اس میں ایک وجہ موسم کی بھی تھی ۔گزشتہ تین دن ،حبس کے حوالے سے جڑواں شہروں کے سب سے شدید دن تھے ۔ اس کڑی دھوپ اور حبس میں دس سے پندہ منٹ کھڑا ہونے والا نڈھال ہو جاتا تھا ۔اس لئے بہت سے لوگ گھروں سے ہی نہیں نکلے ۔ دوسری بڑی وجہ فیڈرل کیپٹل اور راولپنڈی کی لیگی قیادت میں شدید اختلافات ہیں ۔ضلعی میئر سردار نسیم ، سینیٹر چوہدری تنویر ،حنیف عباسی اورچوہدری نثار الگ الگ خانوں میں کھڑے ہیں ۔شہباز شریف نے راولپنڈی کے معاملات حنیف عباسی کو تفویض کر رکھے ہیں تو نوازشریف کا وزن سردار نسیم اور چوہدری تنویر کے پلڑے میں ہے ۔چوہدری نثار کو گلہ ہے کہ پنڈی میرا شہر ہے مگر ا س کے معاملات مجھ سے بالا بالا کیوں  طے کئے جاتے ہیں ۔یہی حال اسلام آباد کا ہے ۔کابینہ کے رکن  ڈاکٹر طارق فضل کا حلقہ اثر شہر کے بجائے مضافات میں ہے ۔شہر سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے انجم عقیل خان پر جب مشکل وقت پڑا تو قیادت نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ۔انجم عقیل کو گلہ ہے کہ وہ مشکل وقت میں ہر ایک کے کام آئے مگر جب ان پر مشکل وقت پڑا تو وہ اکیلے کھڑے تھے ۔

اسلام آباد  کی میئر شپ کسی کارکن کو دینے کی بجائے میاں صاحب نے اپنے ایک ذاتی مصاحب کو بخش دی جو عوامی رابطہ تو درکنار شہریوں کے روز مرہ ٹریفک  کے مسائل بھی حل نہ کر سکے ۔اسلام آباد  ہائی وے ہو ،بہارہ کہو ہو یا آئی جے پرنسپل روڈ ، اسلام آباد کی ان انتہائی اہم شاہراؤں پر ٹریفک  روزانہ گھنٹوں بلاک رہتی ہے۔راولپنڈی اسلام آباد کی نئی ایکسٹینشن جس کی آبادی پرانے شہروں سے بھی بڑھ چکی ہے  اور جو کھنہ پل سے روات تک اور پیرودھائی موڑ سے ٹیکسلا تک ،بنی گالا سے نیو مری تک اور ترنول سے فتح جنگ تک پھیل ہوئی ہیں مگر ان کے مسائل پر لیگی قیادت کی نظر ہی نہیں جس کی  وجہ سے ان آبادیوں میں تحریک انصاف کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔جب میٹرو بس کی ایکسٹینشن کی باری آئی تو چند لوگوں کی زمینوں کی قیمت بڑھانے کے لئے نوازشریف نے پشاور موڑ سے نیو ائیرپورٹ تک اٹھارہ ارب جھونک دیئے حالانکہ میٹرو ایکسٹینشن کی اصل ضرورت فیض آباد سے روات تک تھی جہاں آبادی کا دباؤ کہیں زیادہ ہے ۔

 

ایک اور وجہ جو شاید ان سب سے بڑی ہو وہ میاں صاحب کی نرگسیت ہے اور ا س نرگسیت کا شکار پاکستان کا ہر پارٹی سربراہ ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ ووٹ بنک صرف اس کی ذات کا ہے یا پارٹی کا ہے اس کے ممبران پارلیمنٹ اور پارٹی عہدے داروں کی کوئی اوقات ہی نہیں ہے

 

۔میاں صاحب نے اس کا بھرپور مظاہرہ اپنے حالیہ  دور میں کیا جب ان سے کارکن تو درکنار ممبران اسمبلی بھی نہیں مل سکتے تھے بلکہ بعض خبریں تو یہاں تک بھی تھیں کہ کابینہ کے اجلاس میں بھی کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی وہاں بھی ایک کلاس روم جیسا ماحول ہوتا تھا ۔

صوبہ پنجاب جو کہ نواز لیگ کا بیس کیمپ ہے اس صوبے کے تمام وسائل کا58فیصد صرف  لاہور شہر کی ترقی پر صرف کئے گئے جس کا نتیجہ باقی علاقوں کی پسماندگی کی صورت میں سامنے آیا ۔ایک طرف لاہور میں میٹرو ٹرین بن رہی ہے تو دوسری جانب راولپنڈی جیسے شہر کا کوئ بائی پا س نہیں ہے تمام ہیوی ٹریفک 40کلومیٹر کا فاصلہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے بیچ سے گزر کر طے کرتی ہے جس کی وجہ سے ماحولیات کے ساتھ ٹریفک کے بھی شدید مسائل جنم لے رہے ہیں مگر میاں صاحبان کی توجہ صرف دکھاوے کے منصوبوں پر ہے وہ پائیدار ترقی کے شہری ویژن سے ہی عاری محسوس ہوتے ہیں ۔اس لئے سوائے لاہور کے میاں صاحبان سے کوئی خوش نہیں ہے ۔اگلے الیکشن میں اگر ان کی جماعت صرف لاہور تک  ہی محدود ہو کر رہ گئی تو انہیں ا س پر حیران نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس میں اپنی کوتاہیوں کو دیکھنا چاہئے کہ ان سے کہاں پر غلطیاں ہوئیں۔

سول ملٹر ی تعلقات کی گھمن گھیریاں پیچیدہ ہو سکتی ہیں اور ا س میں شاید ان کی  کوتاہیاں کم ہوں مگر عوام سے اور اپنے کارکنوں سے دوری کی گتھی اتنی پیچیدہ نہیں ہے اس میں وہ آسانی سے اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ لوگ گھروں سے کیوں نہیں نکلے ؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

Comments

Loading...