یوسف خالد،اسے تصویر کرنا ہے

تبصرہ نگار: شفیق منصور

82

زیر نظر شاعری کا مجموعہ’’اسے تصویر کرنا ہے‘‘ یوسف خالد کا جذبوں، رنگوں اور نغموں سے عبارت ایک ایسا تحفہ ہے جو شعری ادب میں قابل قدر اضافہ ہے۔ یہ شعری مجموعہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں آزاد نظمیں شامل ہیں جبکہ دوسرا حصہ غزلوں پر مشتمل ہے۔دونوں کی اپنی امتیازی خصوصیات ہیں جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔
عمدہ نظم کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ وہ قاری کے باطن میں تجربے سمیت داخل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو۔یوسف خالد کی نظمیں پڑھنے والے کو جذباتی سطح پر اپنا اسیر بنالیتی ہیں۔ ان میں کچھ ایسی معنوی تشکیلیں موجود ہیں جنہیں صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔نظموں کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے موضوعات فطری اور بلاتکلف ہیں اور مضامین بوجھل نہیں ہیں، بلکہ رنگوں اور باد صبا کے جھونکوں کی طرح لطیف اور پرمسرت احساس عطا کرتے ہیں۔ یہ جذبوں کی ایسی دنیا ہے جہاں انسان کو خود سے ہمکلام ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اس میں ناسٹلجیا بھی ہے اور حال سے عقیدت ومحبت بھی۔روحانی آسودگی بھی ہے اور زندگی کے سفر میں ہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی۔
یوسف خالد کی غزلوں میں احساسات اور معانی کا ایسا سمندر ہے جسے کسی ایک جملے میں قید نہیں کیا جاسکتا۔غزلوں میں محبت، توصیف اور اُمنگ کی ایسی تصویر کشی کی گئی ہے کہ اس میں رمزیت بھی ہے اور بے ساختہ اظہار بھی۔ وہ اشاروں کی ایسی زبان میں بات کرتے ہیں جس سے قاری اجنبیت محسوس نہیں کرتا۔ یہ شعری مجموعہ بلاشبہ اردو ادب میں ایک بہترین اضافہ ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...