صنفی شناخت کا ارتقائی مرحلہ

سعدیہ بخاری

70

موجودہ زمانے میں جب سماج مختلف طرز کی تقسیمات کا شکار ہے، مارچ 2019ء میں خواتین کے حقوق کے لیے کوشاں’ ہم عورتیں‘ نامی اتحاد کا خواتین کے عالمی دن پر ملک بھر میں ایک متحد ہ مارچ یکجہتی کا بہت خوبصورت اظہار تھا۔ عورتیں، مرد، ٹرانس جینڈرز غرضیکہ سبھی لوگ ہاتھوں میں ہاتھ دیے اپنی طبقاتی، مسلکی اور مذہبی تفریق کو پس پشت ڈال کر انسانیت کے رشتے میں جڑے ہوئے گیت گاتے اور نعرے لگاتے جارہے تھے۔ اگرچہ اس آہنگ کی عمر تھوڑی تھی۔ کیونکہ اگلے چند روز ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور سندھ اسمبلی میں ایسی عرضیاں جمع کر دی گئی تھیں جس میں اس عورت مارچ کو ہماری اخلاقیات کے منافی قرار دیے جانے کی سفارشارت موجود تھیں۔ اس روش نے نوجوان نسل کو بہت دھچکا دیا۔

ناقدین کا یہ خیال ہے کہ پاکستان کو اس وقت خواتین کے حقوق کی ایسی تحریک کی ضرورت ہے جو سماج کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرتی ہو، اس لیے لازم ہے کہ کوئی بھی اقدام اگر کیا جائے تو اس میں ہمارے ثقافتی، روایتی اور اخلاقی معیارات کو لازماً ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ عورت مارچ کو بے حیا کہنے کی وجہ وہ حقیقت تھی کہ اس کے دوران بعض نعرے اور پوسڑ ایسے کھلے اظہار پر مشتمل تھے جنہیں عمومی مذہبی تشریحات اور نظریۂ پاکستان کے منافی سمجھا جاسکتاہے۔ اس دوران اس حقیقت کو نظرانداز کیا گیا کہ دنیا بھر میں غیرت کے نام پر ہونے والے ہر سو میں سے بیس قتل پاکستا ن میں ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمیں اس معاملے پر متوجہ ہونا ہوگا۔ بہر حال عدالت کی جانب سے عورت مارچ کے خلاف درج عرضی یہ کہہ کر خارج کردی گئی کہ اس معاملے پرلگائے گئے اعتراضات ایک مخصوص پروپیگنڈے کا حصہ ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، لہٰذا اس معاملے پر کارروائی کی گنجائش نہیں ہے۔

یہ ممکن ہے کہ خواتین کی جانب سے عوامی جگہوں پر یہ تقاضا کرنا کہ جنسی تعلق کے لیے خاتون کی رضامندی لینا ضروری ہے، ہماری اقدار میں شامل نہ ہو اور نہ ہی ہمارے سماج کی جانب سے یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ صنفی ذمہ داریوں کو فیمینسٹ نقطۂ نظر سے دیکھنے کی کوشش کی جائے۔ شاید یہ بھی پہلی بار ہوا کہ پاکستان میں عوامی جگہوں پر خواتین کی جانب سے ان حساس معاملات پر جارحانہ اور پرزور آواز بلند کی گئی۔ اب جب سے عورت مارچ میں شامل احتجاج کرنے والی خواتین کی جانب سے پلے کارڈز پر درج ایسے نعرے بلند کیے گئے ہیں جو گھروں پہ کام کاج کی غیر منصفانہ تقسیم کو چیلنج کرتے ہیں یا عوامی مقامات تک خواتین کی رسائی نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں، یا اس امر پہ معترض ہوتے ہیں کہ خواتین کو اپنی جنس پہ اختیار نہیں ہے، یا سب سے بڑھ کر اہم یہ کہ ایسے معاملات روزمرہ زندگی میں خواتین کو روزانہ سہنے ہوتے ہیں، یہ عوامل کام کرنے والی ورکنگ کلاس خاتون کی مشکلات کو بیان کرتے ہیں ،اس سے پہلے ان معاملات پر بھرپور احتجاج اور مزاحمت نظرنہیں آتی تھی۔ خواتین کی مشکلات کو پاکستان جیسے معاشرے میں بجائے دکھ اور حساسیت سے دیکھنے کے طنزیہ اور مضحکہ خیز انداز سے دیکھا جاتا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بہت سی خواتین کے لیے ان کی زندگیاں جبر اور تکلیف کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن کر رہ گئی ہیں اور اب جب انہوں نے سالہا سال کے اس جبر کے خلاف ایک جملہ لکھ کر پلے کارڈ بلند کیا ہے تو وہ اس لیے کہ انہیں یقین تھا کہ اگر وہ اب بھی احتجاج نہیں کریں گی تو کب کریں گی ؟ کیونکہ پدرسری نظام کی اقدار تو ہمیشہ ہی غیرمنصفانہ صنفی تقسیم کی حمایت کریں گی اور کسی بھی ایسے مکالمے کی راہ میں رکاوٹ ہوں گی جو صنفی تقسیم کومنصفانہ کرنے کے لیے کیا جائے گا۔

خواتین مارچ میں شامل شرکا پر یہ اعتراض کہ انہوں نے خواتین کے حقیقی مسائل مثلاً تعلیم کا حق، حق رائے دہی، اور دیگر ایسے حقوق کا تقاضا کیوں نہیں کیا اور اس کی بجائے ریپ، جنسی ہراسانی، اور تشدد کے خلاف نعرے کیوں لگائے، دراصل اس معاملے سے گہری واقفیت نہ ہونے کے سبب ہے۔ شاید یہ اعتراض اس معاملے کو سطحی طور پر دیکھنے کے سبب عائد کیا گیا ہے۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔ سماج میں اس قدر شعور آگیا ہے کہ اب وہ اس دیرینہ تکلیف پر، جو خواتین سالہا سال سے سہہ رہی تھیں، توجہ دے رہا ہے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کررہا ہے۔ اب وہ ایسی اقدار پر نظرثانی کرنا چاہتا ہے جنہوں نے خواتین کے لیے سماج میں مشکلات بڑھائیں اور پدرسری ساختیات کو مضبوط کیا۔ اس عورت مارچ کے بعد یہ معاملہ ابھر کر سامنے آیا ہے کہ صنفی برابری کو یقینی بنانے کے لیے یہ لازم ہے کہ خواتین کے پاس بغیر کسی تعصب، بغیر کسی تشدد کے خوف، اور بنا کسی جبرکے اپنی جنس پر اختیار ہونا ضروری ہے کیونکہ اب خواتین اپنی آزادانہ شخصیت اور موجودگی کا احساس دلانے کے لیے اپنی آواز بلند کررہی ہیں۔

پاکستان میں اب کسی بھی فرد خاص طور پر خواتین اور ٹرانس جینڈر آبادی کے جنسی حقوق پر جدید معنوں میں بحث کا آغاز ہوچکا ہے۔ صنفی برابری بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔ اس کی فراہمی غربت کے خاتمے اور آئندہ نسلوں کو بااختیار بنانے کے لیے لازم ہے۔ یہ لازم ہے کہ بچپن کی شادیوں، بچیوں کے ختنے اور دوسری نوعیت کے صنفی تعصبات کے خاتمے کے لیے قانون سازی اور حکمت عملی وضع کرنے کاعمل مزید مستحکم کیا جائے۔

لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہم صنفی برابری کی کوششوں کو جاری رکھیں تاکہ ہمارا قومی سفر مثبت راہ پر چلتا رہے کیونکہ اس سفر کے دوران ہم نے جو مقاصد حاصل کرلیے ہیں اب ان سے پیچھے ہٹنا ہمارے قومی مفاد کے منافی ہوگا۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم خواتین اور بچیوں کے حقوق خاص طور پر انہیں اپنی جنسی زندگی پہ اختیار اور بچوں کی پیدائش کے معاملے پر حقوق کی فراہمی کی کوشش جاری رکھیں گے۔ ہماری یہ کوشش اس عالمی جدو جہد کا حصہ ہوگی جو دنیا بھر میں قدامت پسند قوتوں کے خلاف جاری ہے تاکہ انسانی حقوق اور جنسی حقوق کے مابین ایک ربط قائم ہو جو کہ جنسی صحت کے تحفظ کے لیے ایک لازمی اقدام ہے۔ لہٰذا یہ لازم ہے کہ
مساوات یقینی بنائی جائے اور ہر قسم کے تعصب کا خاتمہ کیا جائے۔
تشدد، جارحیت، غیر انسانی سلوک اور جسمانی سزا کا خاتمہ کیا جائے۔
ذاتی زندگی اور ذاتیات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ صحت بشمول جنسی صحت کے اعلیٰ معیار یقینی بنائے جائیں گے ۔
اپنی پسند سے شادی کرنے کا حق اور اپنی خواہش کے مطابق شادی ختم کرنے کا حق یقینی بنایا جائے۔
اولاد پیدا کرنے کے فیصلے میں اختیار یقینی بنایا جائے۔
معلومات کے حصول اور تعلیم حاصل کرنے کا حق یقینی بنایا جائے۔
آزادی اظہار رائے اور بولنے کا حق یقینی بنایا جائے۔
بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں ازالے کا حق یقینی بنایا جائے۔

ہمیں عالمی مونٹیویڈو کونسنسز آن پاپولیشن اینڈ ڈویلپمنٹ 2013ء پہ دستخط کرنے ہوں گے جس کا مقصد ایسی حکمت عملی وضع کرنا ہے کہ فرد اپنی جنسی زندگی پہ اختیار قائم رکھ سکے جو صحتمندانہ اور آزادانہ جنسی زندگی کے حق سے مشروط ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اپنی جنسیت، جنسی رجحان، اور صنفی شناخت کے مطابق آزادانہ، رضاکارانہ، اور پورے شعور کے ساتھ اپنی زندگی کے فیصلے کرسکے۔اس دوران اسے کسی جبر، دبائو اور تشدد کا خطرہ لاحق نہ ہو تاکہ اپنی جنسی اور پیداواری صحت کو یقینی بنا نا اس کے دائرہ اختیار میں ہو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...