قومی یکجہتی و ہم آہنگی کے لیے سماجی مساوات اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے

184

سماجی مساوات ایک ایسی اخلاقی سیاسی قدر ہے جس کی اساس پر معاشرتی، اقتصادی اور ثقافتی استحکام کا دارومدار ہوتا ہے۔اگر کسی ملک میں یہ قدر کمزور ہو تو اس کی وجہ سے جنم لینے والے مسائل انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متأثر کرتے ہیں۔ سماجی مساوات جس طرح تمام شہریوں میں حقوق کی برابر فراہمی کا ذریعہ ہوتا ہے اور ریاست کے وسائل سے سب کو فائدہ اٹھانے کا موقع دیتا ہے، اسی طرح ملک وقوم کی ترقی وفلاح کو یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ گویا یہ ایک ایسا دوطرفہ عمل ہے جو شہریوں کے مابین تعلق کو پرامن ا ورخوشگوار بنیادیں فراہم کرتا اور ریاست کے ساتھ ان کے ربط کو صحت مند اورپیداواری بناتا ہے۔

ایک حقیقی جمہوری نظم کی تعبیر ایسا سماج ہے جہاں شہریوں اور ریاست کے مابین اعتماد پر قائم تعلق کی فضا بحال ہو اور سماج کے باہمی انفرادی واجتماعی روابط میںہم آہنگی پائی جائے۔ سماجی مساوات ایسا میزان ہے جس پر کسی ملک وسماج کی سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی حیثیت کو پرکھا اور تولا جاسکتا ہے۔کوئی اور سیاسی قدر یا آئیڈیالوجی سماجی مساوات کی قدر سے زیادہ طاقتور اور مؤثر نہیں ہوتی۔ اسی کے ذریعے سماج کی مختلف اکائیوں کو بلاتکلف اور فطری طور پرباہم متحد رکھا جاسکتا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور دورہ ہے تو اس کا واضح مطلب ہوتا ہے کہ وہاں سماجی مساوات کو اہمیت حاصل ہے۔

سماجی مساوات کے فروغ میں اگرچہ ریاست کا کردار بنیادی اور اہم ہے لیکن اس کا دائرہ صرف اسی تک محدودہے نہ وہ تنِ تنہا اس سے جڑے تمام مسائل کو حل کرسکتی ہے۔ اس سماجی قدر کا معاشرے میں بھی پختہ ہونا ضروری ہے۔دوسروں کے حقوق کے حوالے سے شہریوں میں حساسیت کا ہونا ناگزیر ہے۔ کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں انفرادی اور اجتماعی سطح پر لوگ ایک دوسرے کے لیے نرمی اور باہمی تعاون کے جذبات رکھتے ہوں اور دستیاب وسائل تک ایک دوسرے کو رسائی دینے میں مدد کرتے ہوں۔

سماجی مساوات کی عملی تعبیر یہ ہے کہ لوگوں کو شہریت کی اساس پر بلاتفریق حقوق حاصل ہوں اور میرٹ کی بنیاد پر تمام شہریوں کے لیے برابر مواقع یقینی بنائے جائیں۔ایسانہ ہو کہ کسی مخصوص طبقے، زبان،نسل یامذہب کے لیے تو ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع موجود ہوں جبکہ دیگر گروہوں کو آگے بڑھنے میں مشکلات کا سامنا رہے۔بدقسمتی سے پاکستان اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں یہ بنیادی اخلاقی وسیاسی قدر مفقود ہے۔پاکستان کا آئین سماجی مساوات کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے لیکن انتظامی سقم اورمتعصبانہ سیاسی کلچر کی وجہ سے اس کا عملی مظاہرہ ممکن نہیں ہوپاتا۔ چونکہ یہ معاشرہ شہریت کی اساس کی بجائے طبقاتی فکر کا حامل ہے اس لیے بلا تفریق ہر زبان، نسل اور مذہب کو برابر حقوق میسر نہیں آسکتے۔حکومتوں اور پارلیمان نے عملاََ ایسا نظام قائم کرنے میں کبھی دلچسپی نہیں دکھائی جس سے سماجی مساوات کو فروغ مل سکے۔ وی آئی پی کلچر اور قانون کی عملداری میں امتیاز برتنے کی روایت نے اس کے وجود کو اور مشکل بنا دیا ہے۔

اگر سماجی مساوات کے فقدان کے ساتھ سیاسی عدم استحکام بھی پیدا ہوجائے تو معاشرتی ڈھانچہ مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔سیاسی استحکام بھی ملک کی اقتصادی ترقی کے حصول اور سماجی اکائیوں کے باہمی تعلق کو متوازن ومعتدل رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک میں غیریقینی صورتِ حال سے جہاں ایک طرف معیشت متأثر ہوتی ہے وہیں اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سماج میں افتراق کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ایک ایسا ملک جہاں معاشرتی شکستگی اور اس میں تقسیم کے کئی اور سامان واسباب بھی وافر ہوں وہاں سیاسی عدمِ استحکام اور زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔اس سے جب معیشت،انصاف اور سکیورٹی کے شعبے متأثر ہوتے ہیں تو لوگ بھی خوف اور غیریقینیت کا شکار رہتے ہیں۔ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ مافیا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے گروہ مضبوط ہوجاتے ہیں اور شہری ریاست کے مقابل اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے لگتے ہیںجس کا انجام بالآخر سماجی ڈھانچے میں دراڑ کی صورت برآمد ہوتا ہے۔

پاکستان میں مسلسل سیاسی عدم ِاستحکام کی وجہ سے معاشی بدحالی اور سماجی اضطراب سنجیدہ مسئلہ بن کر نمودار ہوئے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کو قرضوں کی صورت میں بیرونی امدا دملتی رہتی ہے لیکن یہ امدادبڑے پیمانے پر کوئی مثبت تبدیلی اور بہتری لانے میں ناکام ثابت ہوتی ہے۔ خصوصاََاس کے ثمرات سماج کے نچلے طبقے تک توپہنچ ہی نہیں پاتے۔ حقیقی مضبوطی، داخلی سیاسی وسماجی نظم کی طاقت سے حاصل ہوتی ہے۔

عدمِ مساوات اور تیزرفتار گلوبلائزیشن کے عمل میں مسلسل سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی شعبے کی سست رفتاری نے ملازمت اور گورننس کے شدید مسائل پیدا کر دیے ہیں۔پاکستان کا متوسط طبقہ سکڑ تا جا رہا ہے، پچھلی دو دہائیوں میں اس کا تناسب کل آبادی کے 43فیصد سے گھٹ کر 32 فیصد ہوگیا ہے۔حالانکہ معاشرے میں سیاسی وسماجی تبدیلی لانے میںاس طبقے کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل اور ضروری ہوتا ہے۔یہ صورتِ حال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کم ازکم مستقبل قریب تک تو بہتر حالات ہمارا مقدر نہیں ہیں اور یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے۔

عدمِ مساوات اور سیاسی عدمِ استحکام سے پیدا شدہ معاشی ناہمواری نہ صرف ریاستی ڈھانچے کو متأثرکرتی ہے بلکہ سماجی روابط پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اس سے باہمی تعاون ختم ہوجاتا ہے اور بے اعتمادی بڑھ جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں معاشرے سے خوشگوار اور پرامن زندگی مفقود ہوجاتی ہے۔پاکستان میں غربت وبے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم کے مطابق دنیا میں تقریباً 30 ملین لوگ غلامی کی مختلف شکلوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن میں 2.1 ملین کا تعلق صرف پاکستان سے ہے اور انہیں کسی قسم کی قانونی امداد ملنے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ناانصافی اور امتیازی رویوں کا غلبہ غیرمحسوس غلامی کو فروغ دیتا ہے۔دیہی و مضافاتی علاقوں میں قبائلی اور جاگیرداری نظام انسانوں کے مابین کھلی تفریق روا رکھتا ہے۔ شہروں میں سیاسی پشت پناہی کے حامل مافیا اور گروہ تمام وسائل پر قابض ہیں۔

اس منظرنامے نے عام آدمی کے لیے سیاسی اشتراک کا راستہ تو روکا ہی ہے کہ وہ کسی طرح سیاسی نظم پر اثرانداز ہونے کی اہلیت وطاقت نہیں رکھتا،لیکن اس کے ساتھ معاشرے میں اپنے لیے اور خاندان کے لیے قابل احترام زندگی کا حصول بھی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ ملک کے 64 فیصد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی یا ان کے بچوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ناامیدی اورمایوسی کے یہ احساسات تفریق، نفرت اور اشتعال کو بڑھاوا دیتے ہیں اور یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اگر ان کا استحصال ہو رہا ہے تو اس کی کیا وجوہات ہیں، اگر وہ ملک کے پورے شہری نہیں ہیں تو پھر ان کی شناخت کیا ہے؟سماجی عدمِ مساوات کی خوف ناک شکل یہ ہے کہ ملک میں اس وقت صوبوں کی سطح پر حقوق اور شناخت کی بڑی تحریکیں چل رہی ہیں جن میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس واضح نظر آتا ہے۔

سماجی اضطراب اور قومی ومعاشرتی ڈھانچے کی تفریق وشکستگی سے چھٹکارے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف بیانیے اورلائحہِ عمل اپنائے جاتے رہے ہیں،لیکن ہنوز کامیابی ممکن نہیں بنائی جا سکی۔ اس کی وجہ ان حربوں کا غیرفطری، جز وقتی اور مصنوعی ہونا ہے۔ اگرپاکستان میں قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کے قیام کو ممکن بنانا ہے تو لازمی ہے کہ سماجی مساوات اور سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...