بلوچستان سے ہجرت کرتی اقلیتیں

بلوچستان ملک کا وہ صوبہ بن چکا ہے کہ یہاں سے اقلیتی برادری کی ہجرت کرنے کی تعداد شاید باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔1990 تک حالات کافی اچھے تھے۔ ایک ہی خاندان کے اندر مختلف مذہبی وفکری رجحان رکھنے والے افراد ساتھ میں رہتے تھے۔…

تمدنی شعور اور شہری ذمہ داریوں کا احساس

ہم بطور سماج  اپنے ہر مسئلے کا ذمہ دار ریاست اور اس کے اداروں کو ٹھہراتے ہیں۔ یہ درست  ہوسکتا ہے کہ جب نظام میں خرابی ہو تو اقدار اور تمدنی تقاضوں کا پاس ہر جگہ نہیں رکھا جاسکتا، لیکن اس کے ساتھ کیا یہ بات بھی سچ نہیں کہ ہم تمدنی اور شہری…

جیسا نصاب ویسا سماج

آج سے کچھ سال قبل بلوچستان ایک سیکولر و لبرل انسانوں کا آئیڈیل معاشرہ ہوا کرتا تھا۔ ترقی پسند ادیبوں سے لے کر روس کے کارل مارکس،  اینگلز و لینن کے پیروکار یہاں بھی ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب بلوچستان کے وہ سارے رنگ دھندلے ہو کر رہ گئے ہیں اور…

بلوچستان کے دیہی علاقوں کی خواتین کو خودمختار بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں

بلوچستان کی خواتین میں ماضی کے مقابلے میں اب بیداری اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ سیاست اور سماجی خدمات جیسے شعبوں میں ان کے کردار میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ سال2018-19کا صوبائی…

سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ اپنا احتساب بھی کریں

کوئی معاشرہ اگر مکمل طور پہ خرابی کا شکار ہے، اس کے تمام شعبوں میں کرپشن اور بدعنوانی کا غلبہ ہے تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ حکومتی مشینری اس کی ذمہ دار ہے اور اسی کی نااہلی کے سبب حالات اتنے بگاڑ کا شکار ہیں، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ سماج…

بلوچ نوجوان کو سڑک سے کلاس رُوم میں لائیں

بلوچستان میں یوں تو پسماندگی کی کوئی ایک کہانی ہے، نہ ایک پہلو، لیکن صحت اور تعلیم کے شعبوں کی جو حالت ہے وہ انتہائی تکلیف دہ اور سنگین نوعیت کا مسئلہ ہے۔ ان دونوں شعبوں میں سہولیات کا فقدان تو ہے ہی اس پر مستزاد متعلقہ افسران و عملے کی…

خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ، بلوچ تہذیب کا چہرہ مسخ ہو رہا ہے

بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا، جبکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ بلوچستان کی ثقافتی تاریخ ہزاروں سال پرانی تہذیب ’مہر گڑھ‘ سے جڑی ہوئی ہوئی ہے۔ یہاں کے لوگ فطرتاََ امن پسند ہیں۔ روشن فکری اور وسعت ظرفی ان کی ثقافت…

بلوچستان کے طلبہ بھوک ہڑتال پہ بیٹھے ہیں

آج سے نہیں بلکہ قیام پاکستان سے لے کر بلوچستان کو صوبہ کا درجہ ملنے تک، شروع سے ہی بلوچ نوجوانوں کو تعلیم کے میدان سے دور رکھا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی طلبہ اپنے حقوق کے لیے جب تک سڑکوں پہ نہیں نکلتے اس وقت تک سوال ہی پیدا…