شناخت سے محروم کسان عورتیں

اکرام عارفی

196

پاکستان کی معیشت کا زیادہ انحصار زراعت پر ہے، پاکستان کے بیشتر علاقوں میں خواتین کی بڑی تعداد بطور کھیت مزدور زراعت سے منسلک ہے۔ لیکن بدقسمتی سے زرعی پیداوار میں ان کے کردار اور فلاح کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ بحیثیت کھیت مزدور ان کی کوئی شناخت نہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کی مشکلات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ ریاست نے آج تک کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جس کے ذریعے کھیت مزدور عورتوں کی مشکلات اور استحصال کا خاتمہ ممکن ہو۔ زیر نظر مضمون میں اکرام عارفی نے جنوبی پنجاب میں عورتوں کی زراعت سے وابستگی اور ان کی مشکلات کا جائزہ لیا ہے۔ اکرام عارفی نے زرعی تعلیم میں ایم فل کیا ہے اور مختلف فلاحی تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ زرعی پالیسی ساز یہ تو مانتے ہیں کہ زراعت پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن خواتین کے کردار کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ روزانہ کتنی عورتیں تپتی دھوپ یا جان لیوا سردی میں اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے کھیتوں میں ماری ماری پھرتی ہیں؟ ان کی روزانہ اجرت کیا ہے؟ زمیندار کس طرح سے ان کا استحصال کرتا ہے؟ ان کی صحت کا معیار کیا ہے؟ بیماری کی صورت میں انھیں کو ن دوا ئی دیتاہے؟ انھیں دوا ملتی بھی ہے یا نہیں؟ وہ اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے کھیت مزدوری کے علاوہ اور کون سے کام سرانجام دیتی ہیں؟ اس طرح کے دیگرسوالات اپنی جگہ بدستور حل طلب ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ کیا اس کا ذمہ دار معاشرہ ہے، جس نے عورت کوبحیثیت کارکن ابھی تک تسلیم نہیں کیا ؟ کیا اس کا ذمہ دار اس کا خاندان ہے، جو اس کی قدر نہیں کرتا؟ یا اس کی ذمہ دار ریاست ہے جو ابھی تک ایسے قوانین لاگو کرنے سے قاصر رہی ہے جو زرعی کھیت مزدور عورتوں کے لئے جائے امان ثابت ہو سکیں یاکم از کم اسے پائدار روزی روٹی کی ضمانت ہی فراہم کر سکیں۔

دیہی آبادیوں کے مرد بہتر وسائل اور زیادہ آمدنی کی تلاش میں شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ ان حالات میں کھیت مزدور عورتیں مزید مشکلات کا شکار ہو گئیں ہیں۔ یہ عورتیں پہلے ہی بہت مصائب جھیل رہی تھیں۔ اب بیشتر صورتوں میں بحیثیت سربراہِ کنبہ ان کے لئے کھیتوں کی انتظام کاری مشکل ہو گئی ہے۔ ذرائع تک ان کی رسائی دن بدن محدود ہوتی جا رہی ہے اور پائیدار روزی روٹی کا بندوبست کرنامشکل ہوتاجا رہا ہے۔

کھیت مزدور عورتوں کی حقیقت حال:

ترقی پذیر ممالک میں کھیت مزدور عورتیں کل مزدور عورتوں کا 63 فیصد ہیں اور ایشیا میں آج بھی زرعی شعبوں میں خواہ وہ شہری ہوں یا دیہی، عورتوں کا حصہ زیادہ ہے۔ زراعت اور اس سے جڑے دوسرے غیر رسمی شعبے کم آمدنی والے ملکوں کی 80 فیصد عورتوں کو روزی روٹی کی ضمانت دیتے ہیں جبکہ متوسط آمدنی والے ملکوں میں یہ شرح 40 فیصد ہے۔ واضح رہے کہ یہ ممالک دنیا کی کل آبادی کے 85 فیصد پر مشتمل ہیں۔ تاہم یہ کام زیادہ تر شناخت اور تسلیم کے حوالے سے محروم ہی رہتا ہے۔ بحوالہ: (عمران ظفر، روزنامہ ڈان)

پاکستان میں دیہی عورت کا زراعت میں جو اہم کردار بنتا ہے اسے کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت کم و بیش 43 فیصددیہی عورتیں زرعی کاموں سے منسلک ہیں۔ کھیت میں ہونے والی بیشتر سرگرمیاں انہی کی وجہ سے پایہء تکمیل کو پہنچتی ہیں۔ مثال کے طور پر…

٭ جڑی بوٹیوں کی تلفی

٭ گوڈی و نلائی

٭ کپاس کی چنائی اور ٹانڈے(Sticks) اکٹھا کرنا

٭ بیجوں کو ریشوں سے الگ کرنا

٭ کاٹن جننگ فیکٹریوں میں کام کرنا

علاوہ ازیں کیڑے مار دواؤں کی تیاری اور مکسنگ میں بھی عورتیں مردوں کی مدد کرتی ہیں۔ تقریباً 12 لاکھ عورتیں 9 اضلاع (جن میں کپاس کاشت کی جاتی ہے) میں کام کرتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 25 فیصد عورتیں کھیتوں میں فیملی ورکرز کے طور پر کام کرتی ہیں اور 75 فیصد عورتیں جز وقتی کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔

(Source :Dr.Ali Mohamad, Daily Dawn April 4, 2004)

ستم ظریفی یہ ہے کہ مزدور عورتوں سے کھیتوں میں بارہ بارہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے لیکن ان کو عالمی ادارہ محنت کے قوانین کے مطابق معاوضہ نہیں دیا جاتا اور نہ ہی ان کے لئے لیبر قوانین بنائے گئے ہیں۔ پاکستان کی کل آبادی کی 36فیصد عورتوں کا تعلق دیہات سے ہے۔ لیکن ان میں سے صرف 7 فیصدعورتیں پڑھ لکھ سکتی ہیں۔ اگر صوبوں کے حوالے سے خواندگی کے اعدادو شمار کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال کچھ یوں نظر آتی ہے۔

ملک کی کم و بیش 70 فیصد افرادی قوت زرعی کاموں سے منسلک ہے۔ معاشرے کی دیگر ورکنگ کلاس عورتوں سے ان کا کام ہر حوالے سے سخت اور محنت طلب ہے مگر اس کے باوجود ان کے کام کو کسی بھی سطح پر دستاویزی شکل نہیں دی جاتی۔ دیہی عورتوں کی اکثریت غیر مہارت یافتہ ، ناخواندہ اور روایات میں جکڑی ہوئی ہوتی ہے۔ دیہی عورتیں دستکاری کی صنعت سے بھی وابستہ ہیں اور کھیتوں میں بھی کام کرتی ہیں۔ اس طرح ایک خاندان کے اکٹھے مل کر کوششیں کرنے سے ان کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ فصلوں کی کاشت اور برداشت سے قطع نظر مال مویشیوں کی دیکھ بھال سے بھی وابستہ ہوتی ہیں اور بیشتر کا م وہ خود ہی کر تی ہیں۔

کسان عورتوں کی مقداری و معاشی حیثیت:

دیہی گھرانوں کا مقداری و معاشی حوالوں سے اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات نظر آتی ہے کہ ایک عام گھرانے میں 9.87 افراد ہوتے ہیں، جن میں دو مرد، دو خواتین اور پانچ بچے شامل ہوتے ہیں۔ عام حالات میں دو بوڑھے افراد بھی ہوتے ہیں، کم و بیش کنبہ کے آدھے افراد کھیتوں میں کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ عورتوں اور مردوں کی تعلیمی حیثیت میں بھی بہت تفاوت ہوتا ہے۔ 70 فیصد مرد ناخواندہ ہیں جبکہ باقی 30 فیصد نے بھی واجبی رسمی تعلیم حاصل کی ہوتی ہے۔ دوسری طرف 13 فیصد خواتین ایسی ہوتی ہیں جنہوں نے ایسی تعلیم(واجبی رسمی) حاصل کی ہوتی ہے اور 87 فیصد خواتین ناخواندہ ہوتی ہیں۔ 80 فیصد کسان ایسے ہیں جن کے پاس اوسط 6.7 ایکڑ زمین ہے۔ تھوڑی زمین کی وجہ سے ایسی زمین پٹہ پر لینے یا دینے کی اوسط بھی 4.6 ایکڑ ہے۔ اوسطاً 2.0 مرد فارم پر کل وقتی کام کرتے ہیں، جبکہ 2.2 عورتیں کل وقتی کھیت پر سرگرمیاں سر انجام دیتی ہیں۔ غیر کھیتی سرگرمیوں میں اوسطاً 1.4 فیصد مرد جبکہ ایک فیصد عورتیں کام کرتی ہیں۔ غیر کھیتی سرگرمیوں سے اوسطاً ایک مرد کسان ماہانہ 3700 روپے جبکہ عورت کسان 2400روپے تک کماتی ہے۔

(Source:Dr.Ali Mohamad, Daily Dawn, April 4, 2004)

جبکہ خواندگی کا تناسب مردوں میں نسبتاً بہتر ہونے کی وجہ سے انہیں غیر کھیتی سرگرمیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوتی ہے۔ مندرجہ ذیل گوشوارہ سے یہ صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔

کپاس کی چنائی کے لیے کھیت مزدور عورتوں کے انتخاب کے وقت مر دعام حالات میں عورتوں سے مشاورت کرتے ہیں۔ نیز پہلی چنائی کب ہوگی ؟ کل کتنی چنائیاں ہوں؟ اور کپاس کو ذخیرہ کرنے کے لیے کون سی جگہ مناسب ر ہے گی؟ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل کاموں کی انجام دہی کے لیے بھی کسان عورتوں سے (28-42) فیصد مشاورت کی جاتی ہے۔ (بحوالہ : ڈاکٹر علی محمدروزنامہ ڈان، 4اپریل 2004 ء)

مال مویشیوں کی دیکھ بھال اور پرورش ابتدائی سطح پر ایک ایسی سر گرمی ہے جو بنیادی طور پر گھریلو خوراک کی ضروریات پورا کرنے اور مناسب آمدنی کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے۔ کم و بیش فارم پر کام کرنے والے ہر خاندان کے پاس کسی نہ کسی حد تک اپنے مال مویشی ضرور ہوتے ہیں۔ مال مویشیوں کی تعداد کا انحصار زمین ( فارم) کے سائز، فصلوں کی اقسام، چراگاہوں کی دستیابی (چارے کی فراہمی) پر ہوتا ہے۔ مندرجہ ذیل گوشوارہ سے یہ صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔

ایک عام زرعی کنبہ کے پاس 1.52بھینسیں اور2.78 گائیاں ہوتی ہیں جبکہ 1.57 گائے بھینس کے بچے ہوتے ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ لڑکیوں کے جہیزمیں بھی ایک آدھ گائے بھینس دینے کا رواج ہے۔ ایک فارم پر عام طور پر 3 کے قریب بھیڑیں یا بکریاں ہوتی ہیں۔ ایک عام اندازے کے مطابق ایک فارم پر مشتمل کنبہ کی آمدنی میں ان جانوروں کی فروخت سے سالانہ 5561روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔

Dawn ,April 4 , 2004

اس کے علاوہ دودھ کی فروخت اور مویشیوں اور دودھ کی بنی ہوئی مصنوعات کی فروخت سے بھی آمدنی ہوتی ہے۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ اکثر خاندانوںمیں دودھ کی فروخت کو براسمجھا جاتا ہے اور یہ چیز خاندان کی عزت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر خاندان دودھ فروخت نہیں کرتے۔ بہت سے خاندان جانوروں کی صفائی ستھرائی کے کام میں مصروف ہوتے ہیں۔ نیز ان کی غذائی ضروریات کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ جانوروں کی پرورش اور خریداری کے حوالے سے بھی عورتوں کی مشاورت قابل ذکر ہے۔

سماجی حیثیت:

مندرجہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زرعی کاموں کی انجام دہی کے حوالے سے عورتوں کے کام (مردوں کے غلبہ کی وجہ سے) اگرچہ کلیدی نہیں لیکن اس کے باوجود وہ اہمیت کے اعتبار سے کم نہیں۔ اگر کنبے اور معاشرے کی سطح پر دیکھا جائے تو ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جاتے ہیں۔ مثلاً

٭ معا ملا ت و مسائل کی سطح پر حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار صرف مرد کے پاس ہوتا ہے ۔

٭ وہ اپنے کمائے ہوئے پیسوں کو اپنے اوپر خرچ نہیں کر سکتی ۔

٭ دن رات کام کرنے کے باوجود اس کے کام کی کوئی اہمیت نہیں۔عورت بحیثیت زرعی کارکن تسلیم ہی نہیں کی جاتی۔
٭ معاشرہ میں حرکت کے لئے مرد کی پابند ہے ۔

٭ پردہ سسٹم کی وجہ سے اسے مردوں سے میل ملاپ میں مشکلات کا سامنا ہے۔

٭ خاندانی مسائل و معاملات میں اس کی حیثیت” کل ” کی بجائے جزوی نوعیت کی ہے۔

٭ ناخواندگی، جہالت اور سالہا سال تک امتیازی سلوک کا شکار رہنے کی وجہ سے وہ ایک طفیلیا (Parasite ) بن کر رہ گئی ہے۔

کھیت کاری کے حوالے سے در پیش مسائل:

زرعی ا مور کی انجا م دہی کے حوالے سے عورتیں مرد کسانوں سے کسی طور بھی کم نہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کے کام کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ایسا کیوں ہے؟ مندرجہ ذیل نکات سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہوئی نظر آتی ہے

٭ عورت کو اس کے کام کی کم اجرت ملتی ہے۔ کیوں؟

کیونکہ عورتیں زیادہ تر ایسی سرگرمیوں سے وابستہ ہوتی ہیں جو زرعی حوالے سے اہم کام متصور نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر وہ مارکیٹ میں جا کر بیج نہیں خرید سکتی۔ اسے اجناس کی خریدوفروخت کا کام بھی نہیں کرنے دیا جاتا۔ نیز زمین کی تیاری ( ہل چلانے،کھاد ڈالنے، وٹیں بنانے) کے کاموں میں بھی اس کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اس کے علاوہ

٭ مرد کسانوں کے مقابلے میں اس کی مزدوری کے مواقع تک رسائی بھی کم ہوتی ہے کیونکہ عورت ہونے کی حیثیت

سے وہ بہتر کاموں کی تلاش میں سرگرم ہونے سے قاصر ہوتی ہے۔

٭ تربیت کے بہتر مواقع نہ ملنے کی وجہ سے اس میں مخصوص زرعی مہارتوں کی کمی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ معاشرے میں اس کی امتیازی حیثیت ہے۔ اس کی عورتوں کی تنظیموں میں شمولیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ مذہبی و اخلاقی طور پر یہ بات بری سمجھی جاتی ہے کہ وہ اس قسم کی تربیتیں حاصل کرے۔

٭ اسے قرضہ کی سہولت میسر نہیں ،کیونکہ اس کے پاس زرعی اراضی کی ملکیت موجود نہیں ہوتی۔

٭ وہ سرمایہ کاری نہیں کر سکتی ،کیونکہ پیسے خرچ کرنے کا مجاز صرف مرد ہے۔

٭ اداروں تک اس کی رسائی با لکل نہیں ہوتی۔ کیونکہ جس وسیب میں وہ رہ رہی ہوتی ہے وہاں اس قسم کے کاروباری تعلقات کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔

٭ نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے قاصر ہوتی ہے کیونکہ تربیت کی کمی کے ساتھ ساتھ عورتوں کی جسمانی ساخت بھی اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے موزوں نہیں۔

کپاس چننے والی عورتوں کے مسائل:

میاں چنوں کے علاقہ میں کپاس چننے والی عورتوں کے مسائل پر ایک سروے کرایا گیا جس میں مندرجہ ذیل تلخ حقائق سامنے آئے ہیں۔

85%عورتیں عام الرجی کا شکار ہیں۔

45% ڈسٹ الرجی کا شکار ہیں۔

35% نے قے آنے کی شکایت کی۔

14% نے اعصابی دبائو کی علامات بتائیں۔

3%عورتوں کے بچے نومولود ہی مر جاتے ہیں ۔

2%عورتوں نے مردہ بچوں کی پیدائش کی شکایت کی ہے۔

(بحوالہ:مسز بدر، بی ایم ٹیکنالوجی اور کپاس کی کاشت ،این ایف آر سی، فیصل آباد)

کپاس چننے والی عورتیں صبح سے شام تک کھیتوں میں کام کرتی ہیں اور وہیں کھانا کھاتی ہیں۔ 100 فیصد خواتین کھیتوں ہی میں پانی پیتی ہیں۔ اس دوران ان کے بچے بھی ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ ایسی خواتین جو کپاس چننے کے بعد اپنا ہاتھ منہ دھوتی ہیں ان کا تناسب بہت ہی کم ہوتا ہے۔ تقریباً 22 لاکھ خواتین زہروں کے اثر کے ساتھ ہوتی ہیں اور تقریباً 1.5ملین روپے ان کے علاج معالجے پر خرچ ہوتے ہیں۔ کپاس کی چنائی کے دوران 5 دن بیمار رہنے کا مطلب ہے کہ کل 600 ملین روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جو سماجی طور پر بہت ہی پسماندہ ہے۔ اس طرح 765 ملین روپے کے اضافی اخراجات معاشرے کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

(بحوالہ:سروے نیشنل آئی پی ایم پروگرام بشکریہ ماہانہ” کاٹن پلس” مئی2004 ء)

کھیت مزدور عورتیں (عالمی تناظرمیں):

معاشی، جغرافیاتی اور سیاسی تبدیلیوں کے پیش نظر دیہی زندگی کے خدوخال بھی تبدیل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ خاص طو ر پر ان سر گرمیوں کی صورت تو بالکل تبدیل ہو گئی ہے جنہیں کسان عورت سر انجام دے رہی تھی۔ معاشی عالمگیریت نے ترقی پزیر مما لک کے دیہی ترقیاتی پیش منظر کو بالکل ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ہمارے دیہات میں:

٭ لسی اور گڑ کے شربت کی بجائے کوکاکولا کا استعمال

٭ پیکٹوں میں بند دودھ کی دستیابی

٭ کھڈی کے کپڑے کی بجائے مشینی کپڑے کا استعمال

٭ دیسی علاج معالجوں کی جگہ انگریزی ادویات کا استعمال

٭ معاشی تنگدستی کی وجہ سے دودھ ،مکھن اور اس طرح کی دیگر اشیاء کا بتدریج کم ہوتا ہوا استعمال اور

٭ پیکٹوں میں بند زرعی مصنوعات اجناس کا استعمال اس بات کی گواہی ہے کہ گلوبلائزیشن نے آج سے بہت پہلے غیر اعلانیہ اور نامانوس طریقے سے اس خطے میں اپنے قدم جماناشروع کر دیئے تھے۔ مستقبل میں اس منظر نامہ کو بد صورت کرنے اور مزید ناقابل برداشت بنانے میں مندرجہ ذیل عوامل اپنا خصوصی کردار نبھاتے نظرآرہے ہیں۔

٭ آزادتجارت اور کھلی منڈیوں کا تصور (خوراک اور زرعی مصنوعات کے حوالے سے)

٭ وسائل اور خدمات کی نجکاری

٭ سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام کے تحت معاشی پالیسیوں کی تشکیل

٭ زراعت کی کمرشلائزیشن اور جدید خطوط پر استواری

٭ ہائبرڈ / جینیاتی تحریف شدہ بیج ، زرعی اجناس کی درآمدہ اقسام،مصنوعی کھادوں و سپرے کی بھرمار ۔

موجودہ صورت حال اور بھی گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ عالمگیریت کے پھیلائو کے ساتھ زراعت زیادہ سے زیادہ ارتکاز حاصل کررہی ہے اور بالکل ہی مارکیٹ کی قوتوں کے تابع ہو کر رہ گئی ہے۔ پہلے زرعی امور کی انجام دہی ایک طریقہ زندگی تھا۔ اب ہر قسم کے زرعی کاروبار کی تان مارکیٹ پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ مال مویشیوں کا پالنا، فصلوں کی کاشت، جنگلات میں جاری کاروبار ! سب کے سب مارکیٹ کے رحم و کرم پر ہیں۔

حکمت عملیاں:

٭ دیہی عورت کی زرعی مہارتوں اور پیداواری مسابقت میں اضافہ (یہ مقصد سرکاری اور نجی شعبہ کے اداروں میں سرمایہ کاری سے حاصل کیا جا سکتا ہے نیز پیشہ ورانہ تربیت اور بنیادی تعلیم اور خواندگی کے منصوبوں کی تکمیل کے ذریعے بھی پورا کیا جا سکتا ہے)

٭ سماجی رویوں میں تبدیلی کے لئے عورت بھی معاشی و سماجی سرگرمیوں میں اتنی ہی حصہ لینے کی حقدار ہے جتنا کہ مرد ! اس مقصد کے لئے صنفی امتیازات کے حوالے سے تربیتوں اور ورکشاپوں کا اہتمام کرنے سے بھی دیہی عورت کی حالت زار میں بہتری آئے گی۔

٭ عورتوں کی تنظیموں کا قیام اور بد ستور بہتری اور مضبوطی تا کہ عورتوں کی فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت یقینی ہو سکے۔

٭ دیہی اداروں کے طریقہ کار اور ذہنی سطح پر تبدیلیاں لانا تا کہ وہ دیہی کسان عورت کی ضروریات سے واقفیت حاصل کریں اور صحیح سمت میں پیش رفت کریں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...