ایران جنگ نہیں کرے گا

472

اللہ کو جان دینی ہے ایک ماہ پہلے تک میں نے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کا نام نہیں سنا تھا، مجھے ایران کے پاسدارن انقلاب کا علم ضرور تھا اور یہ بھی اندازہ تھا کہ اِس کا کوئی یونٹ ہے جو بیرون ملک ایران کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے اورجاسوسی اور فوجی آپریشن انجام دیتا ہے مگر یہ نہیں پتا تھا کہ جناب قاسم سلیمانی اِس یونٹ کے سربراہ ہیں اور انہیں ایران میں دیومالائی حیثیت حاصل ہے۔ امریکہ نے جب ڈرون حملے کے ذریعے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا تو دنیا میں بھونچال آ گیا اور تیسری عالمی جنگ چھِڑنے کی باتیں ہونے لگیں اور ساتھ ہی وہ لوگ بھی مشرق وسطیٰ کے خصوصی تجزیہ کار بن کر میدان میں کود پڑے جو پارٹ ٹائم چولھے ٹھیک کرنے کا کام کرتے تھے / ہیں۔ یار لوگوں نے ایک دوسرے کوطرح طرح کی ویڈیوزبھیجنی شروع کر دیں، کسی میں قاسم سلیمانی کی آخری تقریر تھی تو کسی میں اسرائیلی وزیر اعظم کی فون کال جس میں وہ ایک نامعلوم عربی سے بات کرتے ہوئے سلیمانی کی ہلاکت پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں (واللہ اعلم)۔

یہ تمام باتیں دیکھ کر مجھے یوں لگا جیسے سوائے میرے ہر لکھاری کے پاس قاسم سلیمانی سے متعلق ایسی معلومات ہیں جو شاید سی آئی کو بھی دستیاب نہیں۔ پھر مزید بد قسمتی یہ کہ مجھے ایران جانے کا تا حال اتفاق نہیں ہوا تاہم میری شدید خواہش ہے کہ میں وہاں جا سکوں اسی لیے میں نے سوچا ہے کہ مشرقی اور مغربی یورپ کے باقی ماندہ ممالک، امریکہ کی بقیہ ریاستیں، کنیڈا، جنوبی افریقہ، برازیل، میکسیکو، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، ارجنٹینا، مکاؤ اور ہانگ کانگ جیسے ملک بھگتانے کے بعد اطمینان سے ایران کا مفصل دورہ کروں گا اور وہاں کے آزادانہ ماحول میں بیٹھ کر ایرانی تاریخ و ثقافت پر ایک کتاب لکھوں گا۔

ایرانی حکومت کے ماڈل کی بنیاد دو باتوں پر ہے، پہلی، ایران کی سخت گیر خارجہ پالیسی، ایرانی حکومت نے اپنی عوام کے سامنے ایک دلیرانہ تأثر قائم کر رکھا ہے کہ یہ دنیا کی واحد حکومت ہے جو امریکہ سے خوف نہیں کھاتی، اسرائیل کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے اورمغربی یورپ کو جس نے تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے۔ ایرانی عوام بڑی حد تک اِس پر یقین رکھتے ہیں سو ایرانی حکومت اِس حکمت عملی سے  legitimacyحاصل کرتی ہے۔ ایرانی ماڈل کی دوسری بنیاد اندرون ملک ایک جابرانہ نظام پر ہے جس نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ جمہوریت چونکہ مغربی تصور ہے اِس لیے ایران نے اسے مذہب کا چوغہ پہنا کر عوام کے لیے قابل قبول بنانے کی کوشش کی ہے اور جو شخص بھی اِس چوغے پر لگے داغوں کی نشاندہی کرتا ہے پاسداران انقلاب اسے انقلاب کا دشمن قرار دے کر نشان عبرت بنا دیتے ہیں۔

اِس قسم کا نظام اُس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک اندرون ملک عوام کی مکمل زبان بندی نہ کر دی جائے، لہذا جو غریب اِس نظام پر تنقید کرتا ہے اسے انقلاب کا دشمن بنا دیا جاتا ہے، اِس کے بعد کسی مقدمے وغیرہ کی عیاشی کی ضرورت نہیں رہتی اور قانون ’’انصاف‘‘ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا

ویسے توپاسداران انقلاب ایک اعلیٰ قسم کی پولیس یا خصوصی فورس ہے جس کا کام انقلاب دشمنوں کو بے نقاب کرکے انہیں قرار واقعی سزا دینا ہے مگر اِس کے علاوہ پاسدارن ملکی مفاد میں بڑے بڑے ٹھیکے بھی حاصل کرتی ہے۔ اِس کا ایک انجینئرنگ ونگ ہے جو ایران کے تمام میگا پراجیکٹس کرتا ہے، ایران کی ایک تہائی معیشت اِس کے زیراثر ہے، ہاؤسنگ سے لے کر ڈیم بنانے تک اور تیل اور گیس نکالنے سے لے کر مواصلات تک، کوئی ایسا بڑا کاروبار نہیں جو پاسداران انقلاب نہ کرتے ہوں۔ یہی نہیں بلکہ میڈیا میں پروپیگنڈا کرنا ہو یا تعلیمی اداروں میں ثقافتی سرگرمیاں، یہ سب بھی انقلاب کے تحفظ کے نام پر پاسداران کا کام ہے۔ یہاں سے ریٹائر ہونے والے بھی گھر بیٹھ کر مکھیاں نہیں مارتے بلکہ انہیں فوراً حکومت میں اعلیٰ ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہیں، ملکی مفاد میں!

اِس ماڈل کا فائدہ اٹھانا والا ایک گروہ اور ہے اور وہ ہے مذہبی طبقہ، انگریزی میں جسے  clergyکہتے ہیں، ایران کی ایک تہائی زرعی زمین اب  اِس طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ ایرانی معیشت کا تیسرا بڑا ستون جدید ریاست کے معاشی ادارے اور کاروبار ہیں جیسے کہ بینک، بیمہ کمپنیاں، جہاز رانی کی صنعت، یہ تمام ادارے ایک فاؤنڈیشن کے تحت چلتے ہیں جس کے سربراہ آیت اللہ ہیں، عملاً تمام فیصلے انہی کی مرضی سے ہوتے ہیں۔ اِس پر پارلیمان کا کوئی اختیار نہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ عدلیہ کی اہم تقریاں بھی آیت اللہ کی مرضی کے خلاف نہیں ہو سکتیں۔ اِس کے بعد وہ لوگ آتے ہیں جو اہم سیاسی عہدوں پر فائز ہیں جیسے سپیکر، مئیر وغیرہ، اِن کے لیے ایرانی ماڈل میں یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ کاروبار جو پاسداران سے بچ جاتے ہیں ان سے یہ فائدہ اٹھا لیں، مثلاً حکومت انہیں کوئی پرمٹ دے دیتی ہے جس کا مقصد اہم لوگوں کو نوازنا ہے۔

سو یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں پوری معیشت چند طاقتور گروہوں کے ہاتھ میں ہے۔ دولت کا ارتکاز مخصوص بالائی طبقے میں ہے اور پارلیمان کے امیدواروں کی تطہیر اُن کے آرٹیکل 62/63 کے تحت علما اور فقیہہ پر مشتمل ایک کونسل آف گارڈین کرتی ہے اور یہ کونسل پارلیمان کے فیصلوں کو ویٹو کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ اِس قسم کا نظام اُس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک اندرون ملک عوام کی مکمل زبان بندی نہ کر دی جائے لہذا جو غریب اِس نظام پر تنقید کرتا ہے اسے انقلاب کا دشمن بنا دیا جاتا ہے۔ اِس کے بعد کسی مقدمے وغیرہ کی عیاشی کی ضرورت نہیں رہتی اور قانون ’’انصاف‘‘ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ اِس ضمن میں مختلف قسم کے فتوے بھی مدد کرتے ہیں اور عدلیہ بھی انقلاب کے دشمنوں سے ہمدردی نہیں رکھتی اور یوں اشرافیہ ہنسی خوشی رہتے ہیں۔

ایرانی ماڈل کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکہ / مغرب کو دشمن ضرور بنائیں مگر جنگ نہ کریں کیونکہ جنگ کی صورت میں یہ تمام عیاشیاں، یہ کروفر، یہ بڑے بڑے محلات، یہ قیمتی گاڑیاں، سب داؤ پر لگ جائے گا۔ یہ حکومتی عہدے دار اب انقلابی نہیں رہے جو کبھی 80ء کی دہائی میں ہوا کرتے تھے۔ یہ انقلاب کے beneficiaryہیں، یہ لوگ جس زندگی کے عادی ہو چکے ہیں اُس میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں چہ جائیکہ وہ امریکہ سے ہو۔ ایران ایسا کچھ نہیں کرے گا جس سے امریکہ بھڑک کر طبل جنگ بجا دے۔ یہ اعصاب کی جنگ ہوگی، ایرانی لیڈر شپ خطر پسندی کا مظاہرہ کرے گی۔ امریکہ کو نشان عبرت بنانے کے بیانات بھی دیے جائیں گے اور شاید دو چار راکٹ ادھر ادھر فائربھی کیے جائیں۔ اِس کے جواب میں اگر ایرانی شہروں میں ایک دو امریکی فضائی حملے ہو گئے تو وہ بھی ایران کے اِس ماڈل کو legitimacyدینے کے کام  ہی آئیں گے بالکل ویسے جسے قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے دی، ثبوت کے طور پر اُن کا جنازہ دیکھ لیں۔ سو ایران خود جنگ نہیں کرے گا، جس دن جنگ شروع ہوئی اُس دن ایرانی اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ دینے والا یہ ماڈل زمین بوس ہوجائے گا۔

کالم کی دُم: اِس کالم میں صرف ایرانی ماڈل کا احاطہ کیا گیا ہے، دوسرے ملک سے کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...