2020ء: تبدیلی کی تبدیلی کا سال؟

گردشِ ایام ہمیں 2020ء میں لے آئی ہے۔ حکومت اِسے ترقی، خوشحالی اور نوکریوں کا سال قرار دے رہی ہے تو اپوزیشن نئے الیکشنوں کی پکار کے ساتھ اسے ’تبدیلی‘ کی ’تبدیلی‘ کا سال بنانا چاہتی ہے۔ تاہم پاکستان کے شہری یہ چاہتے ہیں کہ مسائل اور مشکلات کی…

محترمہ بےنظیر بھٹو کا پارلیمانی کردار

محترمہ بینظیر بھٹو کی 30 سالہ جدوجہد جو 1977ء میں شروع ہوئی عزم، ہمت اور وژن کی کئی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ تاہم اِس سفر میں ایک حوالہ اُن کا پارلیمانی کردار ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کا پارلیمانی کردار 1988ء سے لے کر 1999ء تک کم وبیش گیارہ…

ہم ایسے تو نہ تھے

پاکستانی سماج کو کیا ہوگیا ہے؟ جسے دیکھو وہی نفرت کے نصاب کی مجسم تصویر بنتا جا رہا ہے۔ ہاتھوں میں پتھر، تیزابی لہجے اور سوچ کا فقدان۔ المختصر فکری افلاس اور تدبر کے قحط کا زمانہ لگتا ہے۔ ویسے تو ہجو اور قصیدہ ہمارے ادب کی عرصہ سے معروف…

پاکستانی بحران دراصل سیاسی جماعتوں کا بحران ہے

مفکرین سیاسی جماعتوں کو ’’جمہوریت کے بچے‘‘ کہتے ہیں۔ جمہوری سماج کا ارتقاء دیگر عوامل کے علاوہ مضبوط، فعال اور مؤثر سیاسی جماعتوں کا مرہونِ منت ہے۔ پولیٹیکل سائنس کی تعریف کے مطابق سیاسی جماعتیں عوام کا رضاکارانہ انداز میں اپنی اپنی سوچ اور…

مساویانہ حقوق کے لیے دستوری و قانونی پیش رفت اور ثمرات سے محروم عوام

ویسے تو کیلنڈر کا ہر دن انسانی حقوق کا دن ہونا چاہیے، تاہم 10 دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پہ منایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کا آغاز کب ہوا؟ غالباََ اسی دن جب روئے زمین پر دوسرا انسان آیا انسانی حقوق کی پامالی کی کہانی…

لوکل گورنمنٹ سے گھبرائی سیاست

پاکستانی سیاست میں جس واحد نکتے پر محمود و ایاز ایک پیج پر ہیں وہ 21 کروڑ عوام کو مؤثر لوکل گورنمنٹ کے نظام سے محروم رکھنا ہے۔ اگر پاکستان کی حقیقی تصویر دیکھی جائے تو یہ اصل میں وفاق، دفاع، ڈونرز اور عالمی ڈیبٹ اسٹیبلشمنٹ(قرضہ دینے والی)…

تعلیم اور نصاب کی منتقلی: ایک اہم تشویش

آئین کی اٹھارہویں ترمیم میں تعلیم اور نصاب سے متعلق اداروں اور ذمہ داریوں کو وفاق سے صوبوں کو منتقل کرنا شامل تھا۔ اس اقدام میں بعض اداروں کا انضمام، تشکیلِ نو اور بعض ذمہ داریوں میں ترمیم و تنسیخ کی گئی۔ منتقلی کی اس عمل کے لیے جو خاکہ…

بات سیاسی کلچر کی ہے

مارشل لاؤں کے طویل ادوار نے اسٹوڈنٹس یونین پر 1984ء سے پابندی لگا رکھی ہے ۔مارکیٹ اکانومی نے ٹریڈ یونین کی اسپیس بھی سکیڑ رکھی ہے ۔مقامی حکومتوں کا نظام بھی آتا جاتا رہتا ہے ۔گویا سیاست سیکھنے کی تمام نرسریاں بند ہیں ۔ آغاز تو ہمارا بھی خوب…

چارٹر آف ڈیموکریسی کی تحریر مدہم پڑ چکی ؟

آج چارٹر آف ڈیموکریسی کی دسویں سالگرہ مناتے ہوئے نجانے کیوں لگتا ہے کہ اب اس کی تحریر مدہم پڑرہی ہے بالکل اسی طرح جیسے فیکس کے کاغذ پر لکھے حرف کچھ عرصے بعد خود بخود مٹنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ مئی 2006 ء میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں…

ریاست کا سافٹ ویئر کرپٹ ہو چکا ہے؟

بھئی مت بھولئے جب1973ءکے آئین میں آرٹیکل6 رکھا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ اس کا اطلاق23 مارچ1956ءسے ہوگا تو اس وقت جنرل ایوب خان بھی زندہ تھے اور جنرل یحییٰ خان بھی لیکن مقدمہ تو کیا ایف آئی آر تک درج نہ ہوئی۔ ہم تسلیم کریں یا نہ کریں ہماری…