فرقہ واریت کی جغرافیائی سیاست

مشرق وسطیٰ کے تنازع کی سب سے اہم تزویراتی جہت یہ ہے کہ اس کی جڑیں خطے کےفرقہ وارانہ تقسیم میں پیوست ہیں اور  اس کی سیاسی تعبیرات بشمول متشدد واقعات کو عام طور پر اسی زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ پاکستان اس کا براہ راست فریق نہیں ہے تاہم اس…

دہشتگردی کا چیلنج ابھی باقی ہے

سال 2019ء  کے دوران پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں مزید کمی ہوئی اور اس وجہ سے جانی نقصان بھی کم ہوا۔ اگرچہ اس کی ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ دہشتگرد عناصر کی عملی صلاحتیں کمزور ہوگئی ہیں تاہم دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی بھی جاری  ہے۔…

ایغور حراستی مراکز اور چینی نقطہ نظر

امریکی ایوان نمائندگان میں ایغور حقوق انسانی پالیسی ایکٹ 2019 کی منظوری کے بعد ریاستہائے متحدہ امریکہ اور چین کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور عالمی…

نوجوانوں کا مسئلہ اور مقتدر اشرافیہ کے مفادات

ہمارے ہاں ”سیاست“ کا لفظ ایک گالی کی سی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور اس کوچہِ خراباں میں نوجوانوں کا قدم دھرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کچھ عرصہ سے پاکستان میں یہ تصور پنپ رہا ہے کہ مقتدر اشرافیہ ملک میں سیاسی سماج کی تشکیل پر یقین رکھتی ہے…

عظمت کی تلاش میں

مولانا فضل الرحمن اپنا دھرنا سمیٹ چکے ہیں۔ اس وقت وہ اپنی تحریک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جسے انہوں نے ’پلان بی‘ کا نام دیا ہے۔ اس مرحلے میں ملک بھر کی بڑی شاہراہوں پر دھرنے دینے اور انہیں بند کرنے کاعمل شامل ہے۔ مولانا کے اس…

مولانا فضل الرحمن کی عملیت پسند سیاست اور سیاسی استحکام کی جانب پیش رفت

مولانا فضل الرحمن کا ’آزادی‘ مارچ بالا ٓخر اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ آزادی مارچ کے باعث ملکی سیاسی منظر نامےمیں کافی ہلچل پیدا ہو ئی ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف اور تحریکِ لبیک کے دھرنوں کے بعد اسلام آباد میں یہ تیسرا بڑا عوامی پڑاؤ ہے۔…

بھوک کی سیاست

ایسے لگتا ہے کہ موجودہ حکومت فلاحی ریاست بارے بہت ہی سادہ تصور رکھتی ہے۔ تبدیلی کا نعرہ جسے بارہا دہرایا جاتا ہے اور جو مذہبی بیانیوں اور غیرواقعاتی خیالات کا کوئی مرکب بن گیا ہے، بظاہرعوام کے سامنے زبانی جمع خرچ کے سوا اس کی کوئی بامعنی…

افغان طالبان دوراہے پر

افغان طالبان ایک بار پھر دوراہے پر کھڑے ہیں۔ انہیں افغانستان میں اپنی عسکری قوت کھوئے بغیر مستقبل کی سیاسی حکمت عملی تشکیل دینی ہے۔ ابھی تک تو طالبان کی قیادت کو یہ یقین تھا کہ امن مذاکرات ان کی فتح پر منتج ہوں گے۔ درحقیقت طالبان نے امریکہ…

شدت پسندی کے خلیوں کو نظرانداز کرنے کی روِش

گزشتہ ہفتے سندھ کے ضلع گھوٹکی میں جس طریقے سے ہندوؤں کے مندروں کو مسمار کیا گیا اور نجی املاک تباہ ہوئیں یہ ایک وارننگ ہے کہ ہم مذہبی شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خطرے کے حوالے سے جو اندازہ رکھتے ہیں معاملہ حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ گھمبیر…

نئے نظم کی تشکیل

یہ بات باعث تعجب ہے کہ اس بار انتہائی دائیں بازو کی مذہبی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں کشمیر کے بارے میں عوام میں جوش و خروش پیدا کرنے کے بجائے محض رسمی سوانگ رچانے تک ہی محدود ہیں۔ جبکہ ماضی میں اس سے کہیں کم اہمیت کے واقعات پر بھی یہ جماعتیں…