تحریکِ طالبان پاکستان پولیس کو نشانہ کیوں بناتی ہے؟

488

خیبر پختونخواہ میں گزشتہ ماہ ہونے والے دہشت گردانہ دھماکوں کے بعد اپنے گمشدہ ساتھیوں کے جنازے پر ایک پولیس افسر کے آنسو بہہ نکلے۔دہشت گردانہ حملوں کے مسلسل خطرے کی زد میں رہنے والے ایسے ساتھیوں اور سوگوار خاندانوں کا سامنا کرنے کا تصور ہی نہایت جانکاہ ہے ۔ بنیادی طور پر خیبرپختونخوا میں ناکامی ہتھیاروں اور کم تربیت یافتہ پولیس فورس نے دو دہائیوں سے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے اور ایسے میں انہیں شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے عروج نے مختصراً امن کی امیدیں روشن کر دیں۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ تشدد میں ایک وحشیانہ اضافہ ہوا ہے اور پولیس اہلکار اب براہ راست نشانے پر ہیں۔

اگرچہ پولیس ایک اہم ہدف ہے مگر قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو بھی دہشت گرد حملوں اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں جانی نقصان ہوا ہے۔ اگست 2021 میں افغان طالبان کے قبضے کے بعد سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس جیسے گروہوں نے سیکیورٹی فورسز پر 368 بار حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں 652 اہلکار ہلاک اور 1,049 زخمی ہوئے ہیں۔ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز PIPS کے ڈیٹا بیس کے مطابق، پولیس نے 244 ہلاکتوں کے ساتھ نمایاں جانی نقصان اٹھایا ہے، جب کہ فوج نے 101، لیویز کے 55، اور ایف سی کے 29 اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ 2001 سے جب ملک میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ گیا تو 2,100 پولیس اہلکار جان بحق اور 7000 زخمی ہوئے ہیں۔

مہلک خطرات کے باوجود پولیس فورس کا مورال بلند ہے۔اس کی ایک مثال اس پولیس اہلکار کی ہے جس نے حال ہی میں خیبر میں ایک مسجد کو نشانہ بنانے والے خودکش بمبار کا پیچھا کیا اور اسے روکنے کی کوشش کی جس سے متعدد جانیں بچ گئیں۔ تاہم پولیس اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی طرف سے ایک سوال یہ ہے کہ وہ دہشت گردوں کا بنیادی ہدف کیوں ہیں؟

اس سوال کے متعلق کئی نظریات اور وضاحتیں موجود ہیں، جن میں یہ خیال بھی شامل ہے کہ پولیس ایک نرم ہدف ہے کیونکہ ان کے پاس عسکریت پسندوں سے نمٹنے یا انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں مؤثر طریقے سے کرنے کی تربیت کی کمی ہے۔ پختونخواہ پولیس کا استدلال ہے کہ انہوں نے عسکریت پسندوں کو ملک کے قلب میں دراندازی سے کامیابی سے روکا ہے۔ اگرچہ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں تاہم ٹی ٹی پی کا دعوی ٰہے کہ پولیس فوج کو نشانہ بنانے کے ان کے منصوبے میں ایک اہم رکاوٹ ہے اور اس نے پولیس کو متعدد بار خبردار کیا ہے کہ وہ خود کو فوج سے الگ کردے۔

پولیس فورس پر حملہ کرنے کا ٹی ٹی پی کا جواز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد کو ختم کرنے کی حکمت عملی معلوم ہوتا ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر حملے فوجی تنصیبات سے دور شہری مراکز میں یا اس کے آس پاس کے پولیس اسٹیشنوں پر ہوتے ہیں۔ یہ حکمت عملی لڑایوں کو سرحدوں سے باہر پھیلانے کی ان کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔اس طرح طالبان کے اس دعوے کی تائید ہوتی ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر کام کرتی ہے نہ کہ افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہوں سے۔

پاکستان نے باضابطہ طور پر احتجاج کیا ہے اور افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کو ملک پر حملہ کرنے سے روکے لیکن کابل نے ابھی تک عوامی سطح پر اس کا اعتراف نہیں کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ کمیٹی سمیت بین الاقوامی نگران ادارے اور تنظیمیں پاکستان کے اس دعوے کی حمایت کرتی ہیں کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے سابق قبائلی علاقوں میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو سال قبل افغان طالبان کے قبضے کے بعد سے ٹی ٹی پی نے کس طرح افغانستان میں زور پکڑا ہے اور کس طرح دوسرے دہشت گرد گروپ اس کی آڑ میں کام کر رہے ہیں۔

پولیس پر ٹی ٹی پی کے حملے ان کے حوصلے پست کرنے، ان کی مزاحمت کو کم کرنے اور فوج کو شہروں کی طرف دھکیلنے کی ایک وسیع منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ ٹی ٹی پی سمجھتی ہے کہ فوج شہروں میں آکر پولیس کے فرائض سنبھالنے کے لیے موزوں نہیں ہے یوں پولیسنگ کا ان کا کردار ممکنہ طور پر عوامی ناراضگی کو جنم دے گی۔ انہوں نے اس حکمت عملی کا سوات میں تجربہ کیا اور فاٹا کے انضمام کے بعد قبائلی ضلع میں اسی طرح کے نتائج کا مشاہدہ کیا۔ طالبان نے افغانستان میں تقابلی حکمت عملی کا استعمال کیا، جس سے وہ شہروں پر قبضہ کرنے اور شیڈو حکومتیں قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر اور سیکورٹی فورسز اور عوام کے درمیان تقسیم پیدا کرنا ایک خطرناک حربہ ہے۔

تحریکِ طالبان اور اس سے وابستہ گروپ تمام صوبوں اور بڑی ٹرانسپورٹ لائنوں کو جوڑ کر اپنا اثر و رسوخ خیبر پختونخواہ، جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ کے قریب بلوچستان کے اضلاع تک بڑھا رہے ہیں ۔ یہ وہ علاقے ہیں جو ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ٹی ٹی پی ان علاقوں میں کامیابی سے دہشت گرد اڈے اور بلوچ ذیلی قوم پرست گروہوں کے ساتھ اتحاد قائم کر لیتی ہے تو یہ سی پیک سمیت پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔

ٹی ٹی پی افغان طالبان کے طرز پر اپنی تنظیم سازی کررہی ہے، جس میں بلوچستان میں اپنی موجودگی قائم کرنا بھی شامل ہے۔ افغان طالبان کی تنظیم 1996 سے شروع ہوئی جب کہ ٹی ٹی پی صرف 2007 میں ابھری اور ابتدا میں اس نے بلوچستان میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب اس نے سابق فاٹا میں اپنی طاقت کو مضبوط کیا تو اپنا بلوچستان چیپٹر بھی بنایا جسے تحریک طالبان بلوچستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ٹی ٹی پی نے اسلام آباد کے مضافات سمیت پنجاب میں بھی اپنی رسائی کو بڑھا دیا ہے۔ یہ پاکستان کے اہم علاقوں میں ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی رسائی کو نمایاں کرتا ہے۔

دہشت گردی سے لاحق خطرات کو کم اہمیت دینے سے دہشت گردوں کی مدد ہی ہوتی ہے۔ مذہبی مدارس اور گروہوں کے وسیع نیٹ ورک سے تقویت پانے والے ان گروہوں کی نظریاتی طاقت کو کم نہیں سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ ٹی ٹی پی مذہبی اداروں کے مذہبی اور نظریاتی نمونے سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ٹی ٹی پی اپنے بیانیے کے ذریعے مذہبی اداروں کے فارغ التحصیل افراد کو متاثر کر سکتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے جوابی کارروائیوں کو جابرانہ عمل کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔

مذہبی طور پر محرک دہشت گرد گروہ بیانیہ تیار کرنے اور اپنے دلائل تیار کرنے کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی اور اسلامک اسٹیٹ-خراسان گروپ اس میدان میں مقابلہ کر رہے ہیں لیکن جب پاکستانی ریاست کی بات آتی ہے تو دونوں کے مشترکہ مقاصد ہیں۔ ریاست زیادہ تر متحرک اقدامات پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور یہاں تک کہ اگر وہ دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی پیغام دیتی ہے، تب بھی وہ اسے لوگوں کے ذہنوں میں نہیں ڈال سکتی کیونکہ بیانیے کو بڑھنے کے لیے ایک سازگار سیاسی ماحول کی ضرورت ہے۔ پولیس کو درپیش ایک اور چیلنج ان کا عوامی امیج ہے۔ نہ ہی ریاست اور نہ ہی محکمہ نے ہنوز اس پر ضروری توجہ دی ہے۔

بہرحال، پولیس دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک کلیدی جزو ہے جس کو مضبوط بنانے اور مناسب انٹیلی جنس تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ انہیں شہروں کی حفاظت کو برقرار رکھنے اور فوج اور نیم فوجی دستوں کو سرحدی خطرات سے زیادہ مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے اپنی توجہ مرکوز کرنے کے قابل بناتا ہے۔

انسداد دہشت گردی کے محکمے ہر صوبے میں موجود ہیں لیکن پختوانخواہ کے محکمے کئی مسائل سے دوچار ہیں، جیسے کہ ڑیونیور سیکیورٹی، صلاحیت، تربیت اور بجٹ کی کمی۔ اہم بات یہ ہے کہ اعلیٰ سیکورٹی اداروں اور سویلین حکومتوں کی جانب سے پولیس اور سی ٹی ڈی پر اعتماد ناگزیر ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...