طالبان اور ان کے ہمسایہ ممالک

336

پاکستان ابتدائی طور پر افغان طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے لیے بے چین تھا مگر اب اسے اپنے لاحاصل  توقعات کا سامنا ہے۔ دو سال گزرنے کے بعد بھی سرحد پار دہشت گردی جیسے مسائل حل نہیں ہوئے اور اس سے سیکورٹی کے لیے اہم خطرات لاحق ہیں۔ افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک بھی طالبان کی قیادت کے بڑھتے ہوئے جارحانہ انداز سے سیکورٹی، بارڈر مینجمنٹ اور آبی وسائل کی منتقلی سے ناخوش ہیں۔

پاکستان کو طالبان کی ذہنیت کو سمجھنا ہوگا جو افغانستان کے قریبی پڑوسیوں کے ساتھ معاملات میں کردار ادا کر رہا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اپنے تعلقات اور دو طرفہ تنازعات کے حل کے لیے ان کے نقطہ نظر کو کس طرح تشکیل دیتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ صورت حال مکمل طور پر پریشان کُن  نہ ہو لیکن اس کے لیے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اہم حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔ پہلا قدم یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ باضابطہ ذرائع سے بات چیت کی جائے چاہے وہ مسائل دہشت گردی کے خطرات، سرحدی سلامتی، تجارت اور معیشت یا بین الاقوامی میگا پراجیکٹس سے متعلق ہوں۔ طالبان قیادت کی جانب سے زبانی وعدے اور مبہم بیانات پابند نہیں ہوں گے اور ان سے حرکیات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ پاکستان میں طالبان کے معذرت خواہ طالبان کے سپریم لیڈر کی طرف سے جاری کردہ غیر ملکی سرزمین پر جہاد سے متعلق مذہبی فرمان پر خوش تھے۔ تاہم اس سے کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اب بھی بڑھ رہے ہیں۔ ضلع بنوں میں حال ہی میں ایک خودکش حملے میں نو فوجیوں کی شہادت اس بات کی یاددہانی ہے کہ مبہم مذہبی فتوؤں کے ذریعے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹا نہیں جا سکتا۔ مستقبل کے چیلنجز کا اندازہ لگانے کے لیے پاکستان کو طالبان کے اپنے دوسرے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات پر غور کرنا چاہیے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ طالبان ممکنہ طور پر علاقائی آبی تنازعہ کو جنم دے سکتے ہیں۔ آبی وسائل کے بارے میں گروپ کے نقطہ نظر نے پہلے ہی ایران اور ازبکستان کے ساتھ تناؤ بڑھا دیا ہے۔ افغانستان اور ایران کے درمیان پانی کا ایک دیرینہ تنازعہ ہے جس کی مثال 1973 کے افغان-ایران دریائے ہلمند کے پانی کے معاہدے سے ملتی ہے، جس کی کبھی مکمل توثیق یا عمل درآمد نہیں ہوا۔ اس کے باوجود دونوں ممالک نے سفارت کاری کے ذریعے کسی حد تک متوازن تعلقات برقرار رکھے۔ طالبان کے تیز رفتار ڈیم منصوبوں نے ایران کے ساتھ سرحدی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ اگر پانی کی حفاظت کے مسائل کو احتیاط سے منظم نہیں کیا جاتا ہے، تو وہ ایران اور طالبان کے درمیان گہرے تنازعات ،جیسے نظریاتی اختلافات اور شیعہ مخالف جذبات کو سامنے لا سکتے ہیں۔ ازبکستان نے اقتصادی اور تجارتی تعاون پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ عملی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ پاکستان کے بعد، یہ طالبان کی حکومت کی صلاحیت کے بارے میں سب سے زیادہ پر امید ملک تھا جو خشکی سے گھرے علاقوں کے ساتھ رابطوں کو آسان بنا سکتا ہے۔

تاہم یہ امید اس وقت ختم ہو گئی جب طالبان نے آمو دریا سے پانی ہٹانے کے لیے کوش ٹیپا کینال کا منصوبہ شروع کیا جس سے متعدد وسطی ایشیائی ریاستیں متاثر ہوئیں۔ اس کی وجہ سے تعلقات کشیدہ ہوئے اور یہاں تک کہ ازبکستان سے افغانستان کو بجلی کی سپلائی میں بھی عارضی کٹوتی ہوئی، جسے بعد میں بحال کر دیا گیا۔ ان پیچیدگیوں کے باوجود ازبکستان نے افغانستان اور پاکستان کے ساتھ سہ ملکی ریلوے پر اتفاق کیا ہے۔ 5 بلین ڈالر کے اس منصوبے کا مقصد افغانستان میں مزار شریف کو ازبکستان کے ترمز اور افغانستان کے صوبہ لوگر سے گزرتے ہوئے پاکستان کی خرلاچی سرحدی گزرگاہ سے جوڑنا ہے۔ اس ریلوے کو علاقائی روابط اور تجارت کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اصل منصوبہ مزار شریف سے کابل اور پھر پاکستان کی سرحد پر طورخم تک ریلوے لائن کی تعمیر کا تھا۔ تاہم اس کے بجائے کرم سے گزرنے کے لیے راستے میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ طالبان کی حکومت افغانستان کے مشرقی اور وسطی صوبوں کو ترقی دینا چاہتی ہے، جو اس وقت پسماندہ ہیں، اور ان کی تحریک کے لیے ایک مضبوط حمایتی بنیاد ہے۔ چین باضابطہ طور پر افغانستان کو اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور سہ ملکی ریلوے میں شامل کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے BRI کا حصہ بنایا جا سکے۔ تاہم یہ منصوبہ ابھی منصوبہ بندی کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ پاکستان کی معاشی صورتحال اس پر عمل درآمد میں مزید تاخیر کا سبب بن سکتی ہے، لیکن اس کا انحصار طالبان کے اس رویے پر بھی ہے کہ وہ ازبکستان کے ساتھ دیگر تنازعات، خاص طور پر آمو دریا  کوموڑ نے اور طالبان کے پاس آبی ماہرین اور تجربہ کار سفارت کاروں کی کمی سے کیسے نمٹے گا۔

وسطی ایشیائی ریاستوں، پاکستان اور افغانستان کے پاس بہت سے بین الاقوامی توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تلخ یادیں ہیں جو ابھی تک مکمل نہیں ہوسکے ہیں جیسے کہ CASA-100 بجلی کا منصوبہ جو وسطی ایشیا کو پاکستان سے ملاتا ہے اور ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت گیس پائپ لائن منصوبہ. ان اقدامات میں بنیادی طور پر سیکورٹی خدشات اور پیچیدہ علاقائی تزویراتی منظرناموں کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ طالبان بین الاقوامی منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں، لیکن اس طرح کے اقدامات کے لیے سازگار سٹریٹجک اور سیاسی ماحول پیدا کرنے کے لیے یہ کافی نہیں ہو سکتا۔

پاکستان بھی افغانستان کے ساتھ دریائے کابل کا حصہ دارہے لیکن ان کے پاس پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں ہے۔ ماضی میں پانی کے مسئلےنے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ پیدا کر دیا تھااور اب مقامی طالبان حکام نے دریا کا رُخ  موڑنے   اور ڈیم کی تعمیر کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ دریائے سندھ پاکستان کی لائف لائن ہےاور اس کے بہاؤ کا رخ موڑنا ملک کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہوگا۔ اگرچہ یہ ایک مہنگا معاملہ ہے اور طالبان حکومت اکیلے اس پر عمل درآمد نہیں کر سکتی یا  اس کے لیے کوئی بین الاقوامی امداد حاصل نہیں کر سکتی، لیکن انہوں نے اپنے ارادے ظاہر کر دیے ہیں۔

طویل عرصے سے تاخیر کا شکار پانی سے متعلق منصوبوں کو آگے بڑھا کر طالبان کا مقصد اپنی حکومت کے لیے  حمایت حاصل کرنا اور اسے مذہبی  قوم پرستی کی ایک شکل سے جوڑنا ہے۔ افغانستان کے پڑوسی ممکنہ طور پر طالبان کی نظریاتی طور پر چلنے والی قوم پرستی پر اعتراض نہیں کریں گےبشرطیکہ اس سے ان کے بنیادی مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔

اب تک افغانستان کے ہمسایہ ممالک طالبان کی کارروائیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم  جیسے متعدد علاقائی فریم ورک کے باوجودوہ دو طرفہ قراردادوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ پاکستان کی کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی ہیں، جس کی بڑی وجہ غیر رسمی ذرائعوں  پر ملک کا انحصار ہے، جو ماضی میں غیر موثر ثابت ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی بہت کم سودمند ثابت  ہوں گے۔

چین افغانستان کے ساتھ اپنی سفارتی مصروفیات میں سب سے ماہر رہا ہے۔ اس نے نہ صرف طالبان کے ساتھ ایک فعال دو طرفہ تعلقات کو برقرار رکھا ہے بلکہ سہ فریقی اور چار فریقی  چینلز بھی قائم کیے ہیں جن میں پاکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ اگرچہ شنگھائی تعاون تنظیم چین کے کثیرالجہتی مفادات کو پورا کرتا ہے لیکن چین  افغانستان کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو بڑھانے میں محتاط رہتا ہے۔

پاکستان کو طالبان کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے جنہوں نے اپنے سفارتی معاملات میں غیر متوقع کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ طالبان کے سفارتی بیان میں ایک واضح جارحیت ہے جس سے اس کے پڑوسیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پاکستان کو اس کے مطابق اپنے ردعمل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...