سعادت حسن مر گیا لیکن منٹو نہیں مرے گا

223

منٹو کے فن اور شخصیت پر لکھے جانے کا سلسلہ ان کی زندگی ہی میں شروع ہوگیا تھا۔ وہ زندہ ہی تھے کہ ان کی لیجنڈری حیثیت قائم ہونا شروع ہوگئی تھی۔ آج جب کہ ان کی وفات کو ساٹھ سے زائد برس بیت چکے ہیں، اس دوران میں ان کی شخصیت اور کام کا شاید ہی کوئی پہلو، کوئی جہت ایسی ہو جس پر لکھا نہ گیا ہو۔ لیکن منٹو کو یاد کرنے کے لیے یہ بات اہم نہیں ہے کہ اس کے کس خاص پہلو کو زیر بحث لایا جائے۔ منٹو کو کہیں سے بھی شروع کیا جائے، وہ اپنے ہر رنگ میں ایک سا مؤثر، پرقوت اور شدید ہے۔

منٹو جس دور میں لکھ رہے تھے، تب پریم چند اپنا جادو جگا کر جا چکے تھے، اور غلام عباس، بیدی اور کرشن چندر اور عصمت چغتائی جیسے بڑے لکھنے والے ان کے ہم عصروں میں شامل تھے اور جو آج بھی اردو افسانے کی آن سمجھے جاتے ہیں۔ جب کہ انھی کی وجہ سے منٹو کا دور افسانے کے زریں دور کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ سب لکھنے والے اعلی خوبیوں کے مالک تھے۔ کوئی زبان میں یدطولی رکھتا تھا تو کسی کو افسانے کے کرافٹ میں غیر معمولی کمال حاصل تھا کسی نے افسانے کی نثر کے جداگانہ اور منفرد اسالیب متعارف کروائے تھے، اور کسی کے پاس حواس کو گرفت میں کرلینے والی اور انسانی گہرائیوں کی خبر لانے والی کہانیاں تھیں، اس کے باوجود منٹو ان میں ایک روشن سورج کی طرح چمکے۔ جس کی وجہ بنیادی طورپر ان کی تحریروں کی اثر پذیری ہے۔ یہ ایسی خوبی ہے جس میں کوئی دوسرا افسانہ نگار منٹو کی برابری نہیں کرسکا۔ وہ اردو کے افسانوی ادب میں سب سے معروف لکھنے والے ہیں اور یہ مرتبہ ان کے علاوہ کسی دوسرے کے حصے میں نہیں آیا۔ جب کہ اس مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہی ان کی اثر پذیری ہے۔ انھوں نے معاشرے کے ٹیبوز پر ہی نہیں ضرب ماری، اور اس کے سٹیٹس کیو کو ہی نہیں چنوتی دی بلکہ انھوں نے لکھنے والوں کی کئی نسلوں کو اپنی ادبی رویے اور تحریروں سے متاثر کیا اور اردو ادب پر ان مٹ نقوش چھوڑے۔

منٹو نے اپنے عصر کے لکھنے والوں اور بعد کی لکھنے والوں کی نسلوں پر جن کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، جیسے گہرے اثرات مرتب کیے، اس کی مثال اردو میں کوئی دوسری نہیں ملتی۔ کم از کم نثر میں تو بالکل نہیں۔

منٹو کے بعد سامنے آنے والی نسلوں نے حقیت یہ ہے کہ تجربے کا شوق اور سکت منٹو سے ورثے میں حاصل کی ہے

منٹو کی اثر پذیری نے اس کے خلاف پیدا ہونے والی آوازوں اور تحریکوں کو وجہ بھی دی اور ان کے منہ بھی بند کیے کیوں کہ ہر طرح کے نامساعد حالات میں بھی اس نے اپنے لیے زندہ رہنے کی صورت نکالی۔ کسی ہیرو کی مانند منٹو نے اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کے ٹیبوز کے نظام اور اس کی متضاد اور کھوکھلی اقدار کو للکارا دیا اور کہا کہ میں یہاں ہوں، اور میں تمھارے خلاف لکھو ں گا تم میرا جو بگاڑ سکتے ہو، بگاڑو لیکن میں اپنے خو سے نہیں ہٹوں گا۔ تو اس للکار نے سبھی کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اور اسے اس کی سزا بھی بھگتنی پڑی۔ اس نے ایک غیر آسودہ اور مضطرب زندگی گزاری، مالی بدحالی کا شکار ہوا، عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑے ہوکر اپنی صفائی میں بیانات قلم بند کروائے، اداروں کی مخالفت سہی اور جوانمرگی سے دوچار ہوا۔ لیکن اس نے اس جنگ میں کبھی پسپائی اختیار نہیں کی۔ اپنے نقش کو ان مٹ بناگیا۔

یہ تاثیر محض کہانی کی پختگی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی، نہ یہ زبان اور نثر اور اسلوب کے کمال کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے، یہ تاثیر پیدا ہوتی ہے جب قلم کو اپنے خون جگر میں ڈبو کر لفظ لکھے جائیں تو پھر ان لفظوں میں زندگی کا رس دوڑتا ہے اور روشنی پھوٹتی ہے۔ جب کہ ایسا تب ہوتا ہے جب آپ کا ذاتی دکھ ہی اجتماعی دکھ بن جائے۔

والد کے ساتھ

منٹو کا زمانہ انقلابات کا زمانہ تھا۔ اور معاشرہ تضادات سے کب خالی رہ پایا ہے۔ یہ تضادات منٹو کو کھلتے تھے۔ اس کا اولین افسانہ ’تماشا‘ جلیانوالہ باغ کے قتل عام پر پیدا ہونے والے غم و غصہ کے اظہار کے طور پر لکھی گئی کہانی ہے۔ اس کے بعد ہر کہانی ایسے ہی جذبے کے اظہار کے طور پر قلم بند ہوئی۔ معاشرتی تضادات، عورت اور طوائف کے ساتھ معاشرے کا غیر انسانی رویہ، نیا قانون کے منگو کوچوان جیسے سادہ لوح عوام کے ساتھ حکمران طبقوں کا استحصال، غربت، اور کھول دو کی انسانی جنسی سفاکی۔ یہ اور کتنے ہی ایسے موضوعات تھے جنھوں نے منٹو میں غصے، دکھ اور بغاوت کی آگ کو ہمیشہ بھڑکائے رکھا۔ اس آگ نے اس کی تحریروں میں حدت بھری لیکن خود اسے جلا دیا۔ اس کا باغیانہ پن، احتجاج اور داخلی کرب، یہی تین کیفیات اس کی شخصیت اور تحریروں کے پس منظر میں کار فرما دکھائی دیتی ہیں جب کہ ان تینوں کے ڈانڈے گہرے اور مضبوط انسانی ضمیر سے جاملتے ہیں۔ حتی کہ منٹو نے جو مزاح لکھا اس میں بھی ان کیفیات کی جھلک بہت واضح ہے اور مزاح طنز کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بشن سنگھ کی مضحک صورت حال کے پس پشت یہی دکھ اور کرب کارفرما ہے۔ یہ افسانہ منٹو کو سمجھنے اور تحریک آزادی سے متعلق ان کے نقطہ نظر کی تفہیم کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ کچھ یہی وجہ ہے کہ اس افسانے کی تفہیم پر خاص طور پر زور دیا گیا اور سرحد کے دونوں طرف دونوں ملکوں کے ناقدین نے اس کی دو مختلف اور متضاد تفاسیر پیش کیں جو تقسیم اور تحریک آزادی سے متعلق ان کے مختلف نقطہ ہائے نظر کی ترجمانی کے زیادہ موافق ہیں۔

منٹو کی طنز نگاری پر ایک تبصرہ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ ایک قصاب ہے اور مردہ جسموں پر سے کھال نوچنے میں اور گوشت کی بوٹیاں کاٹنے میں اسے لطف آتا ہے۔ نشتر چبھوتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ قصاب ہے اور اس کے ہاتھ میں چھری بھی ہے لیکن جس کے گلے پر وہ چھری پھیر رہا ہے، اس کی صورت میں بھی وہ خود ہی لیٹا ہوا ہے۔ اور جس کے گوشت کی وہ بوٹیاں کاٹ رہا ہے، وہ بھی اس سے مختلف کوئی اور نہیں ہے۔ اور یہی اس کے قلم کی حیرت انگیز تاثیر کا بنیادی جوہر بھی ہے۔

منٹو کے قلم کی تاثیر کی ایک وجہ ان کے مزاج میں موجود جدت طرازی بھی ہے۔ وہ صرف معاشرتی و اخلاقی ٹیبوز پر ہی چوٹ نہیں کرتا۔ وہ ادبی معیارات، اس کی روایتی جمالیات، فکشن کی نثر اور اسلوب، اور روایتی ادبی دانشوروں کے بنائے ہوئے پیمانوں پر بھی ضرب لگاتا ہے۔ اس نے نئے زاویہ نظر کی ضرورت محسوس کی اور جب اس زاویے سے دیکھا تو اسے سب کچھ مختلف دکھائی دیا۔ جسے اس نے پوری سچائی کے ساتھ لکھ دیا۔ اس کے ہاں افسانے کی سطح پر ہمہ جہت اور متنوع تجربات ملتے ہیں جن کی گونج ہم آج بھی ادبی ایوانوں میں سن سکتے ہیں۔ اسی جودت طبع کے باعث منٹو کے ہاں ایک طرح کا بانکپن اور کاٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس کی ہر کہانی شائع ہونے کے بعد موضوع اور اسلوب کے حوالے سے نئے مباحث کا باعث بنتی تھی۔

زندگی کے مختلف عکس

منٹو کے بعد سامنے آنے والی نسلوں نے حقیت یہ ہے کہ تجربے کا شوق اور سکت منٹو سے ورثے میں حاصل کی ہے۔ حتی کہ اس دور میں منٹو جو زبان لکھ رہے تھے، وہ کم ہی لوگ تب سمجھ پائے تھے کہ یہ مستقبل کی فکشن کی نثر ہے جو ہر طرح کے تکلفات اور رسمیات سے مبرا اور براہ راست ہے۔ آج ہم مانتے ہیں کہ فکشن کی نثر اپنے مزاج، اور لفظیات میں مضمون، داستان، اور تنقید کی زبان سے مختلف ہوتی ہے جب کہ اردو میں اس کے بنیاد گزاروں میں منٹو سر فہرست ہیں۔

لیکن ان تمام ظاہری اور پوشیدہ مخالفتوں کے باوجود جو منٹو کو اپنی زندگی میں اور بعد میں بھی اب تک مختلف افراد اور اداروں کی طرف سے درپیش ہوئیں، ان کی اثرانگیزی کی قوت اور پھیلاؤ میں کوئی فر ق نہیں آیا اور نہ ہی اس اثر انگیزی کے تاریخی عمل پر کوئی باڑ باندھی جا سکی۔منٹو کی تاثیر کاسلسلہ آج بھی جاری ہے اور یہ تسلسل یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ دنو ں میں بھی جاری رہے گا بلکہ اور بڑھے گا۔ جوں جوں معاشرے میں تنقیدی شعور اپنے قد میں بڑھے گا، سوچ اور فکر کی نئی راہیں وا ہوں گی، اس اثرانگیزی کا دائرہ بھی اسی تناسب سے پھیلے گا۔ اور کیا یہ ایسا موقع نہیں ہے کہ ہم بلند آواز میں یہ اعتراف کریں کہ منٹو کا دور دراصل اب شروع ہوا ہے۔ منٹو نے اپنے بارے میں درست کہا تھا سعادت حسن مرگیا لیکن منٹو نہیں مرے گا۔ وہ معاشرے میں موجود گھٹن کے خلاف ایک سنگین خطرے کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی۔ منٹوآج بھی زندہ ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...