سعادت حسن مر گیا لیکن منٹو نہیں مرے گا

منٹو کے فن اور شخصیت پر لکھے جانے کا سلسلہ ان کی زندگی ہی میں شروع ہوگیا تھا۔ وہ زندہ ہی تھے کہ ان کی لیجنڈری حیثیت قائم ہونا شروع ہوگئی تھی۔ آج جب کہ ان کی وفات کو ساٹھ سے زائد برس بیت چکے ہیں، اس دوران میں ان کی شخصیت اور کام کا شاید ہی…

مرزا غالب: ایک بے مثال نثر نگار

مرزا غالب کا شمار ان معدودے چند شان دار ادبی شخصیات میں ہوتا ہے جن کی ادبی اور ذاتی شخصیت کو بیک وقت خاص و عام میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ اپنی ادبی شخصیت میں جیسے پُربہار ہیں اپنی ذاتی شخصیت میں بھی ویسی ہی رنگینی اور جاذبیت رکھتے ہیں۔ کچھ…

عالمی ادب کی عظیم داستان: الف لیلہ و لیلہ

دنیا کی عظیم ترین داستانوں کا شمار کیا جائے کہ جنھوں نے صدیوں سے انسانی تخیل کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور آج بھی وہ اسی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں، جیسے ماضی میں، اور یہ کہ انسانی مزاجوں اور زندگیوں پر جن کے اثرات میں کبھی کمی نہیں آئی…

ایک بھولا بسرا ادیب

اپنی زندگی میں خان فضل الرحمن خان پاک ٹی ہاؤس میں ہونے والے ادبی اجلاسوں کے مستقل شرکاء میں سے شامل ہوتے تھے ۔ عموماً پہلی قطار میں بیٹھتے ، پیش کی جانے والی ہر تحریر کو بغور سنتے اور پھر ایک یا دو جملوں میں بے لاگ اور حتمی انداز میں رائے…

الطاف فاطمہ کا جلالی فقر

الطاف فاطمہ نے صلے اور انعام کی خواہش کے بغیر تمام عمر پرورش قلم و ادب میں صرف کی۔ نہ صرف یہ کہ اس خواہش سے تمام عمر خود کو پاک و صاف رکھا بلکہ ایسے ہر موقع پر جب انھیں کسی فرد یا ادارے کی طرف سے اعتراف فن کے طور پر اعزاز یا انعام دینے کی…

ناول میں نئے بیانیہ کی جستجو

ہر نئے دور کا اختصاص اس کا نیا پن ہوتا ہے جو اسے باقی ادوار سے ممتاز و منفرد بناتا ہے۔ یہ نیا پن اس کے اخلاقی اور جمالیاتی نظام میں جھلکتا ہے اور اس کی اقدار، فنون اور ادب میں اپنا اظہار پاتا ہے۔ یہ نیا پن ہر دور میں اوراپنے اجزا میں…

غلام عباس: موجودہ منظرنامے کا پیشین گو

غلام عباس کا طویل افسانہ ’دھنک‘ جیسا 1969میں برمحل تھا،جب یہ تخلیق ہوا تھا، اور اپنی ایک خاص معنویت رکھتا تھا، ایسے ہی آج بھی اس کا جواز بہت واضح ہے اور اس کی معنویت کے کئی نئے پہلو وا ہوتے ہیں۔ پیلی، نیلی اور سفید پگڑیوں والے ملاؤں کی…

اردو ناول میں فنتاسیا کی روایت اور آمنہ مفتی

حیرت، فنتاسیا اور خوف جیسے عناصر کو، جو کہانی میں دلچسپی کو مہمیز کرنے کی ضمانت دیتے ہیں،اردو کے سنجیدہ فکشن لکھنے والوں نے درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے کہانی کو دلچسپ بنانے کی ضرورت کو اہم سمجھنے کا تردد ہی سرے سے نہیں…

حکومت اور این جی اوز کی ساجھے داری : چند معروضات

حکومتی ادارے جو کام کرتے ہیں‘ اس کا تو ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا آسان نہیں ہے‘ لیکن جس رفتار سے کرتے ہیں‘ اس سے ہم میں سے کم ہی نا واقف ہوں گے۔ سرکاری اداروں کی سست رفتاری اب ایک مثال کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ جاننے کے لیے یہ دو…

امتیاز علی تاج اور انارکلی

امتیاز علی تاج کے ادبی کارناموں کی فہرست یوں تو خاصی طویل ہے لیکن ان کے تخلیق کردہ ڈرامے انارکلی کو بے پایاں شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی اور یہ آپ کی پہچان کا بنیادی حوالہ بن گیا۔یہ ڈرامہ  اردو میں جدید کلاسیک کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔ انارکلی…