ایک بھولا بسرا ادیب

اپنی زندگی میں خان فضل الرحمن خان پاک ٹی ہاؤس میں ہونے والے ادبی اجلاسوں کے مستقل شرکاء میں سے شامل ہوتے تھے ۔ عموماً پہلی قطار میں بیٹھتے ، پیش کی جانے والی ہر تحریر کو بغور سنتے اور پھر ایک یا دو جملوں میں بے لاگ اور حتمی انداز میں رائے…

الطاف فاطمہ کا جلالی فقر

الطاف فاطمہ نے صلے اور انعام کی خواہش کے بغیر تمام عمر پرورش قلم و ادب میں صرف کی۔ نہ صرف یہ کہ اس خواہش سے تمام عمر خود کو پاک و صاف رکھا بلکہ ایسے ہر موقع پر جب انھیں کسی فرد یا ادارے کی طرف سے اعتراف فن کے طور پر اعزاز یا انعام دینے کی…

ناول میں نئے بیانیہ کی جستجو

ہر نئے دور کا اختصاص اس کا نیا پن ہوتا ہے جو اسے باقی ادوار سے ممتاز و منفرد بناتا ہے۔ یہ نیا پن اس کے اخلاقی اور جمالیاتی نظام میں جھلکتا ہے اور اس کی اقدار، فنون اور ادب میں اپنا اظہار پاتا ہے۔ یہ نیا پن ہر دور میں اوراپنے اجزا میں…

غلام عباس: موجودہ منظرنامے کا پیشین گو

غلام عباس کا طویل افسانہ ’دھنک‘ جیسا 1969میں برمحل تھا،جب یہ تخلیق ہوا تھا، اور اپنی ایک خاص معنویت رکھتا تھا، ایسے ہی آج بھی اس کا جواز بہت واضح ہے اور اس کی معنویت کے کئی نئے پہلو وا ہوتے ہیں۔ پیلی، نیلی اور سفید پگڑیوں والے ملاؤں کی…

اردو ناول میں فنتاسیا کی روایت اور آمنہ مفتی

حیرت، فنتاسیا اور خوف جیسے عناصر کو، جو کہانی میں دلچسپی کو مہمیز کرنے کی ضمانت دیتے ہیں،اردو کے سنجیدہ فکشن لکھنے والوں نے درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے کہانی کو دلچسپ بنانے کی ضرورت کو اہم سمجھنے کا تردد ہی سرے سے نہیں…

حکومت اور این جی اوز کی ساجھے داری : چند معروضات

حکومتی ادارے جو کام کرتے ہیں‘ اس کا تو ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا آسان نہیں ہے‘ لیکن جس رفتار سے کرتے ہیں‘ اس سے ہم میں سے کم ہی نا واقف ہوں گے۔ سرکاری اداروں کی سست رفتاری اب ایک مثال کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ جاننے کے لیے یہ دو…

امتیاز علی تاج اور انارکلی

امتیاز علی تاج کے ادبی کارناموں کی فہرست یوں تو خاصی طویل ہے لیکن ان کے تخلیق کردہ ڈرامے انارکلی کو بے پایاں شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی اور یہ آپ کی پہچان کا بنیادی حوالہ بن گیا۔یہ ڈرامہ  اردو میں جدید کلاسیک کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔ انارکلی…

اردو ادب پر کافکا کے اثرات

اردو ادب کو ہی نہیں جرمن ادیب فرانز کافکا نے عالمی ادبی منظرنامے کو اپنے اسلوب نگارش سے متاثر کیا۔ تاہم بہت ضروری ہے کہ کافکا کے اردو ادب پر اثرات سے پہلے اس کے فن کے بنیادی محرکات سے آگاہی حاصل کی جائے اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ وہ…

امرتا پریتم اور محبت کی تثلیث

ایک زمانہ تھا کہ امرتا پریتم کی نظم کا یہ مصرعہ "اج آکھاں وارث شاہ نوں"  زبان زد خاص و عام تھا۔ اس مصرعے کی گونج ہم آج بھی سنتے ہیں۔یہ گونج اہل پنجاب کے دلوں کی پکار بن کر ابھری تھی۔اس نظم میں کیا ہے؟ ایک عورت کی پکار اور چیخ، ایک للکار  …

افضل احسن رندھاوا: پنجابی ادب کی عظیم روایت کے امین

پنجابی زبان و ادب میں افضل احسن رندھاوا کی حیثیت وہی ہے جو ہسپانوی زبان میں لورکا اور عربی زبان میں فلسطینی شاعر محمود درویش کی، یا اردو میں فیض کی۔ تینوں کے ہاں انقلاب، احتجاج اور محبت کے مضبوط عناصر کا اشتراک پایا جاتا ہے۔ یہ عناصر اتنے…