اصفہان نصف جہان

 ڈاکٹر زاہد منیر عامر

527

ڈاکٹر زاہد منیر عامر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اُردو کے سربراہ اور ملک کے معروف شاعر ونقاد ہیں۔زیرنظر رُوداد اُن کے سفرنامہ ایران کی ہے۔ان کے مطابق سماج کا علم کتابوں سے اتنا نہیں آتا جتنا کہ وہاں کے عام لوگوں سے ملنے جلنے اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے سے آتا ہے۔پھر بات اگر حافظ،سعدی اور صائب کے شہروں کی ہوتو حاضری کے بغیر شوق کو راحت آشکار کیسے کیا جاسکتاہے۔اسی لیے وہ گلیوں بازاروں میں گھومتے ہیں، خریداری کرتے ہیں اور جدیدوقدیم روایت کا حظ اُٹھاتے ہیں۔رُوداد کے اسلوب کی چاشنی قاری کو ایک سحر میں گرفتار کرلیتی ہے۔

جس طرح شخصی زندگی میں محض گفتار سے کردار نہیں جانچاجاسکتا اسی طرح علمی اداروں یا محض معاشرے کے ذہین و فہیم افراد سے مل کر معاشرے کا اندازہ نہیں کیاجاسکتا۔اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ عام آدمی جس سطح پر زندگی گزار رہاہے اس سطح کو دریافت کیاجائے اور فائیو اسٹار ہوٹلوں،تقریبات اور کانفرنس ہالوں سے باہر نکل کر”یمشی فی الاسواق“(7-25)کی روسے گلیوں بازاروں میں گھوم پھر کر زندگی کو دیکھاجائے۔خوبیِ قسمت سے ہمیں جہاں ایران کے ہوٹلوں، تقریبات اور کانفرنسوں کو دیکھنے کا موقع ملا وہاں اپنے حالیہ اور پہلے سفر ایران کے دوران میں،اس کے بازاروں،قہوہ خانوں،ٹیکسی ڈرائیوروں،طالب علموں،دکانداروں، راہی مسافروں سے ملنے اور عام آدمی کی زندگی کے مسائل سے آشنا ہونے کے مواقع بھی ملے۔

پہلے قیام ایران کے دوران میں اگرچہ زاہدان،تہران،شیراز،اصفہان، تبریز،شبستروغیرہ میں گھومنے پھرنے کے مواقع میسر رہے لیکن زیادہ قیام تہران میں رہا۔یہاں دکان کو فروشگاہ اور مارکیٹ کو بازار کہاجاتاہے۔ اگر یہ بہت بڑے ہوں تو ان کے ساتھ’بزرگ‘کااضافہ ہوجاتاہے۔ ہم اپنے میزبانوں کی راہ نمائی میں ان’بزرگوں‘کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔اسی زمانے کی ایک خریداری کا واقعہ ناقابل فراموش ہے۔دورانِ خریداری جب دکاندار سے تخم ِ مرغ یعنی انڈوں کی نسبت دریافت کیاتو جواب نفی میں ملا ایک،دو،تین سب جگہوں سے یہی جواب تھا کہ ”تخمِ مرغ وجود ندارد“……میں حیرت زدہ کہ پرچون فروشوں کے پاس جہاں کھانے پینے اور ناشتے وغیرہ کے سب لوازم موجود ہیں انڈے کیوں نہیں ہیں ……؟ کیا ایرانی انڈے نہیں کھاتے؟بارے تلاش جاری رہی اورایک دکان پر جہاں انڈے سامنے دھرے تھے اپنا مطالبہ دوہرایا لیکن یہ کیا ……اس دکاندار کا جواب بھی نفی میں تھا! میں نے تعجب سے انڈوں کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈے تو سامنے دھرے ہیں اور آپ ان کی موجودگی سے انکار کررہے ہیں آخر کیوں؟اس پر ان صاحب نے خالص تہرانی انداز میں جواب دیا کہ”این تخم مرغ است، تخمِ مرغ نیست“……آپ تخمِ مرغ کہہ رہے ہیں یہ تخمِ مرغ نہیں بلکہ تخم مرغ ہیں (یعنی تخم اور مرغ کے درمیان کسرۂ اضافت کے بغیر) ……اللہ اللہ زبان کے بارے میں اتنی نزاکت ِاحساس کہ میں نے تخم اور مرغ کو اضافت سے ملادیا تھا (اورہمارے خیال میں ایسا ہی ہونابھی چاہیے)لیکن ان کے خیال میں مرغی کے انڈوں کے لیے اس اضافت کی کوئی ضرورت نہیں تھی چنانچہ ہم نے آئندہ ہمیشہ یہی بلا اضافت انڈے کھائے۔

ہم تبریزپہنچے تو مجھے تبریز اور خاص طور پر شیخ محمود شبستری سے متعلق کسی کتابچے کی تلاش تھی لیکن میرے رفیق سفر ڈاکٹرمحمدسلیم مظہر کا خیال تھا کہ ہمیں اس کتابچے سے زیادہ ایک ویکیوم جگ کی ضرورت ہے تاکہ تبریز سے شبستر جاتے ہوئے راستے میں کام و دہن کی تواضع کاسامان بھی ہوسکے۔ چنانچہ ہم تبریز کے بازاروں میں ویکیوم جگ ڈھونڈتے پھرے اورکتابچہ چھوڑنے کی پاداش میں جگ بھی نہ مل سکا۔ تاہم اس عمل نے تبریزی دکانداروں سے متعارف کروادیا۔

حافظ اور سعدی کے شہر میں غیر از حافظ و سعدی کسی مصروفیت میں الجھنا اچھا نہیں لگتا تھا لیکن ان بزرگوں کے شہر کی یادگار کے طور پر ہم نے مختلف بازاروں سے بہت سی خریداری کی۔زیادہ توجہ کتابوں کی دکانوں پر رہی۔سب سے پہلے تو”حافظیہ“  ہی سے”دیوان حافظ“ کا ایک نسخہ خریدا۔ میرے پاس  دیوان حافظ کے متعدد نسخے موجود ہیں لیکن یہ نسخہ محض حافظ کے مزار کی یادگار کے طور پر خریدا گیا۔شہر میں بھی کتابوں کی دکانوں پر توجہ رہی لیکن تہران میں کتابوں کی دکانیں دیکھنے کے بعد یہاں کوئی خاص نئی شے دکھائی نہ دی۔ہدایا کی دکانیں بھی دیکھیں اور بہت سے ہدایا خریدے۔ تحائف میں ایرانیوں کا ذوق بہت عمدہ ہے۔میں نے تو خاطرات (یعنی ڈائریوں)کے بہت سے نسخے جمع کرلیے، تہنیتی کارڈ بھی ایک سے بڑھ کر ایک تھے اور ان کی بڑی خوبی ان پر لکھے ہوئے فارسی اشعار اور مصرعے تھے۔تہنیتی کارڈوں کا تو اب ہمارے ہاں بھی رواج ہے اور بڑے اسٹورز پر کارڈ ملتے ہیں لیکن دشواری یہ ہے کہ سب زبانِ فرنگی میں چھپے ہوتے ہیں۔ کاش کوئی پبلشر اردو میں تہنیتی کارڈ چھاپنے کی طرح ڈالے…… اردو میں چھپے ہوئے عیدکارڈ ملاکرتے تھے اب یہ روایت بھی دم توڑ چکی ہے۔ ہماری بیگم صاحبہ نے کپڑے کی دکانیں دریافت کیں اور کچھ ملبوسات خاص طور پر ایرانی ”مانتو“خریدے گئے۔ دکاندار،تعا رف حاصل کرتے،باتیں کرتے اور پھر بڑی اپنائیت سے کہتے کہ آپ اگرزمانہ ماضی میں ایران آتے تو یہی سامان آپ کو بہت ارزاں نرخوں پر ملتا……یہی حال ٹیکسی ڈرائیوروں کا تھا جو اِدھراُدھردیکھ کر ماضی کی یادوں میں کھوجاتے ……شیرازکے سہ روزہ قیام میں،آب رُکنا باداور بادِخوش نسیم کے جھونکوں سے مستفید ہونے کے ساتھ ہم نے جہاں حافظیہ،سعدیہ اور خواجوکرمانی کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل کی وہاں اس خوب صورت شہر کے کوچہ و بازار سے بھی خوب خوب آشنائی حاصل کی اور یہاں سے خریدی ہوئی یادگاریں ہمارے ساتھ شامل سفر ہوگئیں۔مجموعی طور پر شیراز کے دکاندار تہران کے دکانداروں سے زیادہ خلیق محسوس ہوئے اور غیرملکیوں کے ساتھ مہربان……

اصفہان میں پہلی بار آئے تھے توزیادہ وقت پلِ خواجو اور پل سی و سہ، چہل ستون اور صائب اصفہانی کی تلاش کی نذرہو اتھا۔مسجدامام اور مسجد لطف اللہ کے جوار میں واقع روایتی بازار کی سیر کی تھی جہاں چیزوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں۔ اس بار بھی ایسا ہی تھا چنانچہ ان یادگاری تحائف کی جانب تو ہم نے نگاہ نہیں اٹھائی جہاں تک اصفہان کے’سنتی‘تحائف کا تعلق ہے جن میں سب سے بڑی شے یہاں کا”گز“اورمٹھائیاں ہیں۔وہ ہمیں یہاں کے گورنر صاحب نے اپنی جانب سے عطاکردی تھیں لہذا ان کی لیے بھی خریداری کی ضرورت پیش نہ آئی۔ البتہ یہاں بہت زیادہ گردش کے باعث میرا گلا شاکی ہوگیا چنانچہ رات کے وقت میں اور ڈاکٹر شریف حسین قاسمی باہر نکلے اور میڈیکل اسٹور تلاش کیے۔ یہاں میڈیکل اسٹور کو ’دارو خانہ‘ کہتے ہیں اورمصرمیں ’اجزاخانہ‘یاصیدلیہ …… ہمارے ہاں تو ’دارو‘ کسی اور ہی شے کو کہتے ہیں۔ایک داروخانہ سے گلے کی راحت کے لیے اسٹریپسلز خریدیں جن کا نام کچھ اور تھا۔دواخانے والے نے کوئی اور دوا بھی تجویز کی لیکن میں نے دوران سفر میں کوئی نیا تجربہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اگرچہ گلے کی خراش کے لیے جو دوا لی اس سے کوئی افاقہ نہ ہوا اور بہ ہر حال مجھے اینٹی بائیوٹک لینا پڑی جس سے بچنے کے لیے میں رات کے اس پہر دوا لینے نکلاتھا۔دکاندار کا رویہ معمولی تھا۔ مشہد میں ہوٹل کاراستہ بھول جانے کے باعث بھٹک جانے کے عالم میں خریداری،سفر نیشاپورکے لیے ٹکٹ خریدنے اور ٹیلی فون کا’اعتبار‘ ختم ہوجانے پر اسے تازہ دم کروانے اور امریکی ڈالروں کو ایرانی تومان سے بدلوانے کے اسباب نے بازاروں میں پھرایاتاہم قیام ایران کی سب سے یادگار خریداری وہ تھی جس میں انتشارات ققنوس سے1389 ھ میں شائع والی ایک کتاب ”پاکستان“مصنفہ ولیم گودوین فارسی ترجمہ فاطمہ شاداب،حافظ وخیام کے کلام کی سی ڈیز اور کچھ تابلو وغیرہ خریدے گئے۔یہ خریداری ڈاکٹر وفا یزدان منش کی رفاقت و راہ نمائی میں کی گئی اوران کی مہارت قدم قدم پرکام آئی۔ ہم خیابان ولی عصر سے چلتے چلتے فروش گاہ فرہنگ تک پہنچے۔یہاں ایک الماری پر’نفیس‘ کی تختی لگی دیکھ کر مجھے پاکستان کے نام ور خطاط سیدنفیس الحسینی مرحوم یاد آئے کہ شاید یہاں بھی ان کے فن پارے سجائے گئے ہوں لیکن دریافت کرنے پرمعلوم ہوا کہ اس الماری میں ایران سے شائع ہونے والی وہ کتب رکھی جاتی ہیں جو بہت عمدہ طباعتی معیار پر شائع ہوتی ہیں اور تحفہ دینے کے کام آتی ہیں۔ میں اپنے پہلے سفر ایران میں اس قسم کی بہت سی کتابیں خرید چکاتھا لیکن بہ طور یادگار اس بار بھی خیام کی رباعیات کا ایک دیدہ زیب مصور نسخہ مع انگریزی ترجمہ از فٹزجیرالڈ (دوزبانہ بغلی طرح) خرید لیا۔اس نوع کی چند چیزوں کا’یک ملیون وپانصد وبیست و سہ ہزارریال‘ قابل پرداخت بل بنا۔دورانِ خریداری نماز مغرب کا وقت ہوا،نماز کے لیے کوئی جگہ مخصوص نہ تھی میں نے ایسے ہی ایک الماری کے عقب میں اپنا رومال بچھاکر زمین پرنمازپڑھ لی۔ اس پر دکان دار خفیف ہوا اور کہنے لگا کہ آئندہ ہم اپنی فروش گاہ میں نماز کے لیے بھی جگہ بنائیں گے۔ پھر وہ پاکستان میں میرا ٹھکانہ معلوم کرنے لگا تاکہ جب وہ پاکستان آئے تو مجھ سے ملاقات کرسکے۔میں نے علاوہ دیگرتحائف کے جو’تابلو‘خریدے ان پر نہایت عمدہ خط میں فارسی کے مصرعے لکھے ہیں اور اب وہ دونو تابلو ہمارے گھر کی راہداری میں آویزاں،سفر ایران کی یاد دلاتے رہتے ہیں ان میں سے ایک پر درج مصرع آپ بھی سن  لیجیے

ہمہ حمال عیب خویشتنیم طعنہ برعیب دیگران چہ زنیم

(ہم سب اپنے اپنے عیوب کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں دوسروں کو ان کی کوتاہیوں کا کیا طعنہ دیں)

شاعری کی دنیا میں آسمان کو ایسے ظالم کے روپ میں پیش کیاجاتاہے جو کسی کو خوش اور کامیاب نہیں دیکھ سکتالیکن آسمان اپنی اس روش پر صائب اصفہانی کی زندگی میں عمل نہ کرسکا اور اس نے باوجودیکہ ایک شاعر تھا مطمئن اور کامیاب زندگی گزاری اس نے فراغت وخوش حالی زیادہ اور غم کم دیکھا،وہ ایک روشن دل اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا قائل شاعر تھا اسے بڑے مناصب بھی لے شاید یہی وجہ تھی کہ اس کے ہاں ہمیں مثالیہ انداز دکھائی دیتاہے جسے شفیعی کدکنی نے’معادلہ‘ سے تعبیر کیاہے یعنی وہ پہلے مصرعے میں ایک دعویٰ پیش کرتاہے اور دوسرے مصرعے میں اس کی دلیل لاکر اسے محکم کردیتاہے:

دوردستان  رابہ احسان یادکردن ہمت است

ورنہ  ہر  نخلی  بہ  پای  خود  ثمر  می  افگند

(ترجمہ:دسترس سے دورلوگوں کو محبت سے یادکرنا ہمت والوں کاکام ہے ورنہ ہردرخت اپنے پھل اپنے ہی قدموں پر گراتاہے)

اس کے ساتھ شہرت ایسی کہ وقت کے حکمران اس کے دیوان کا مطالبہ کرتے اور اس کا دیوان بادشاہوں کی طرف سے بادشاہوں کو بہ طور تحفہ بھیجاجاتارہالیکن آسمان نے اس کی شہرت کا بدلہ مرنے کے بعد یوں لیاکہ آج وہ اصفہان کے  ایک گوشے میں کنج خمول میں پڑاہے ……”چون آسمان درست حسابی ندیدکس“ میں جب پہلی بار اصفہان گیا توا س کی آرام گاہ تلاش کرتا شہر کی سڑکوں پر پھررہاتھا، عام لوگ تو اس کے نام ہی سے بے خبر تھے جو اس کانام جانتاتھا وہ میراسوال سن کر کہتا صائب یہاں کہاں وہ تو تبریز میں دفن ہے کوئی کہتا وہ ہندوستان میں مدفون ہے حالانکہ ان قیاسات کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ تبریزمیں پیداہوا اورچھ برس سے کچھ اوپر برصغیر میں رہا لیکن اصفہان اس کامنشا اور مدفن ہے جس کی یاد میں اس نے اپنے زمانہ قیام ہند میں کہاتھا:

خوش آنروزی کہ صائب من مکان در اصفہان سازم

زوصف زندہ  رودش  خامہ را  رطب اللسان سازم

جی ہاں یہ اصفہان میں بہنے والے اسی دریاکا ذکر ہے جس سے متاثر ہوکر علامہ اقبال نے اپنانام’زندہ رود‘ رکھاہے،وہ اصفہان کا اتنامداح تھا کہ اس نے ہندوستان جانے سے پہلے کہا:

بجای لعل و گوہراززمین اصفہان صائب

بملک ہند خواہدبرد این اشعار ِرنگین را

میں اصفہان میں ایک کے بعد دوسری سڑک اور ایک کے بعد دوسرے کوچے میں صائب کا مزار ڈھونڈتاڈھونڈتا بالآخر محلہ عباس آباد میں پہنچ گیاتھا۔ حسب سابق یہاں بھی ہر ملنے والے سے اپنا سوال دوہراتارہا”آقای! آرام گاہِ صائب اصفہانی کجاست؟“اور جواب میں ٹھوڑی کو زرا اوپر کرکے منہ سے نکلنے والی نفی کی آواز سن رہاتھا،تھک کر اس سڑک پر واقع ایک دکان میں داخل ہوا اور دکاندار سے یہی سوال کیا اور پہلے کی طرح یہاں سے بھی نفی میں جواب پایا…… اینجانیست ……قدرے مایوسی ہوئی یوں لگا کہ آج کی محنت کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکے گاباہر نکلا تو سامنے ایک بڑے سے بورڈ پر”مجتمع  فرہنگی ہنر صائب“ اور”کتاب خانہ عمومی صائب“کے الفاظ دکھائی دیے ……ارے ہو نہ ہوجااینجاست ……میرے قدم بے تابانہ سامنے کی سمت بڑھے، ان اعلامات کے سامنے کھڑے ہوکر دائیں جانب دیکھاتو ایک چھت کے نیچے کچھ محرابوں میں ایک قبر دکھائی دی کچھ ویران کچھ ٹوٹی ہوئی یہی صائب کی قبر تھی میں نے منزل کوپالیاتھا بڑی بے تابی سے اس تک پہنچااور فاتحہ پڑھی،اس کے برآمدے میں لکھی صائب کی غزلیں پڑھیں اس کے تعویذ پر لکھی ہوئی غزل اور یادگاری تحریریں نوٹ کیں،معمار نے بہ طور یادگار جو تحریر محفوظ کی وہ یوں تھی ”تحریراً شہرجمید ی الاول  1087ھ فقیرمحمدصالح“(جمادی الاول کو جمیدی الاول لکھاہے)جس سے مقبرے کی تعمیر کی تاریخ معلوم ہوگئی ویسے صائب کے انتقال کی تاریخ تو ”صائب وفات یافت“میں محفوظ ہے جس سے  1081ھ کا سنہ برآمد ہوتاہے۔ صفوی دور میں ناقدری کا احساس اسے اصفہان سے ہندوستان اور کابل لے گیا تھالیکن اس کادل اصفہان ہی میں تھا 1039ھ میں جب وہ شاہجہان کے ساتھ برہان پور آیاہواتھا تو اسے اطلاع ملی کہ اس کا والد اصفہان سے اسے لینے کے لیے اکبرآباد پہنچاہواہے،سعادت مند بیٹے نے مستعد خانی اور ہزاری منصب چھوڑ کر باپ کے ساتھ لوٹ جانے کا فیصلہ کیا اور ظفر خان سے گزارش کی کہ:

ہفتادسالہ والد پیری است بندہ را

کزتربیت بود بمنش حق بی شمار

صائب نوجوان تھا تو اس زمانے کے سینیرز نے اس کاجوہر آزمانے کے لیے آزمائشی طور پر دو مصرعے دیے۔ دونو مصرعے استادی کے طلب گار تھے  پہلا مصرعہ ”ازشیشہ بی می می بی شیشہ طلب کن“اور دوسرا ”دویدن رفتن استادن نشستن خفتن و مردن“تھاصائب نے دونو پر گرہ لگائی اور میدان مارلیا:

حق را زدل خالی ازاندیشہ طلب کن

ازشیشہ بی می می بی شیشہ طلب کن

۔۔۔۔۔۔

بقدر  ہر سکون  راحت بود  بنگرتفاوت را

دویدن رفتن استادن نشستن خفتن و مردن

راقم اس بار اصفہان پہنچاتو دوبارہ صائب کی خدمت میں حاضری کی تمناتھی،اس بارہماری شہرگردی کا انتظام سرکاری طور پر کیاگیاتھا۔میں نے گاڑی میں ساتھ جانے والے راہ نما سے اپنی خواہش ظاہر کی اس نے کہا کہ ہماراپروگرام تو پل خواجو،پل سی وسہ، مسجد لطف اللہ اور مسجدامام وغیرہ تک محدود ہے اگر ان کے بعد کچھ وقت بچا تو آپ کی خواہش ضرور پوری کی جائے گی۔ خوشی اس بات کی بھی تھی کہ وہ نوجوان صائب کے مقبرے کے محل وقوع سے واقف تھا گردش کے دوران پل سی و سہ کی سیر منسوخ ہوگئی چنانچہ واپسی پر اتنا وقت بچ گیاکہ ہم صائب کی آرام گاہ پر جاسکیں میں نے اس نوجوان کو اس کا وعدہ یاددلایا، وہ مان گیا اور میری اس خواہش کی تکمیل یوں ہوئی کہ بین الاقوامی اقبال کانفرنس کے تمام شرکا صائب اصفہانی کی خدمت میں پہنچ گئے۔گرد وپیش میں کوئی خاص تبدیلی نہ تھی البتہ منظر میں صائب اصفہانی کے ایک سردیس Bustکا اضافہ ہوچکاتھا جس کے نیچے لکھے الفاظ بتارہے تھے کہ ہماری پہلی حاضری کے بعد یہاں کچھ مرمت و بازسازی کاکام ہواہے جس کی یادگا میں یہ مجمسہ نصب کیاگیا،صائب کی شبیہ محض خیالی ہے جو چلتی ہوئی ہوا کے دوران بنائی گئی ہے، ایک باریش شخص ہے جس نے سرپر سادہ سی پگڑی باندھ رکھی ہے اور گلے میں چادرڈال رکھی ہے،داڑھی اور چادر اس کے بائیں جانب کو اڑی جارہی ہیں ”مجتمع  فرہنگی ہنر صائب“ اور”کتاب خانہ عمومی صائب“ بیس برس پہلے کی طرح آج بھی بندتھے،اس روز کی طرح آج بھی یہاں سے کوئی تعارفی کتابچہ خریدنے کی خواہش پوری نہ ہوسکی،نماز کا وقت ہوا تو میں نے چاہا کہ کہیں نماز ادا کی جائے میرا خیال تھا کہ اس مکتب یاکتابخانے کے اندر نمازکی کوئی جگہ بھی ہوگی لیکن دونو کا صدردروازہ بند تھا قریب کی مارکیٹ میں جاکردیکھا تو وہاں بھی ایسی کوئی صورت دکھائی نہ دی کہ نماز اداکی جاسکے،ناچار اس فریضے کی ادائیگی کو واپس ہوٹل آنے تک موخرکرناپڑا۔

ایک زمانے تک یہاں صائب کی قبرجھاڑ جھنکار میں گم رہی،اس وقت اس کے ساتھ کچھ اور قبوربھی تھیں،احمدسہیلی خوانساری اور احمد گلچین معانی کی توجہ سے اس کی بازسازی عمل میں آئی اور یہاں ایک باغ بنایاگیا،اب وہ باغ تو موجودنہیں نہ ہی کوئی اور قبرباقی ہے البتہ مقبرہ اور مذکورہ دفاتر موجود ہیں، قبرکاتعویذ قدیم ہے،راقم کے سابقہ سفرکے زمانے میں جہاں جہاں شکستگی تھی اب اس کی مرمت ہوچکی ہے ایک جگہ ایک نئی دراڑ البتہ آچکی ہے، سامنے کی خالی جگہ پر فوارے لگادیے گئے تھے جن کی اطراف میں محلے کے

لڑکے اپنی سائیکلوں کے ساتھ کھیل کود میں مصروف تھے ایک نے گیند اچھالی تو صائب کی قبر اس کی زد میں تھی قبر کے تعویذ میں رکھاگیا خلا پانی سے بھراہواتھا اور لڑکے بالے اپنی گیند لینے آتے تو اس سے چھیڑ چھاڑاوراس کے اوپر بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔قبر جس چھت کے نیچے بنائی گئی ہے اس کی دیواروں پر نیلے گراؤنڈ میں صائب

کی غزلیں لکھی گئی ہیں ویسے ہی جیسے ’حافظیہ‘ اور’سعدیہ‘میں حافظ و سعدی کا کلام لکھا گیاہے۔ قبر کے تعویذ پرصائب کی غزل (درہیچ بردہ نیست نباشدنوای تو+عالم پراست از تو وخالی است جای تو)کے پانچ اشعارحاشیہ بنارہے ہیں اور ”قبر کی ایک جانب ”سینہء صائب زیارت گاہ ارباب دل است“اسی طرح لکھاہواہے جیسے انارکلی کے تعویذ پر ”آہ گرمن بازبینم روی یار خویش را“……فرق یہ ہے کہ انارکلی کی قبر پردوسری جانب شعرکادوسرامصرعہ بھی لکھاہے:

تاقیامت شکرگویم کردگار خویش را

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...