سعودی عرب میں مرد کی سربراہی کا خاتمہ

173

سعودی عرب میں خواتین کو شخصی حقوق دینے کے لیے وسیع تر اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے اور ایسی خبریں تسلسل کے ساتھ شہ سرخیوں میں شائع ہو رہی ہیں۔  رواں ماہ کے اوائل میں سعودی عرب  میں خواتین کو سفری دستاویزات  کے حصول کے لیے مرد سرپرست کی اجازت جیسی شرط کا خاتمہ اور دیگر اصلاحات  بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان اصلاحات کے مطابق 21 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین از خود پاسپورٹ حاصل کر سکیں گی اور انہیں بیرونِ ملک سفر کے لیے کسی  سرپرست کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ علاوہ ازیں خواتین کو اپنے بچے کی پیدائش، شادی اور طلاق کے اندراج جیسے حقوق بھی دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ اب خواتین پہلی مرتبہ خود سرکاری خاندانی دستاویزات حاصل کر سکیں گی۔

سعودی حکومت  کی طرف سے خواتین کے لیے متعارف کروائی گئی  نئی اصلاحات بلاشبہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور ان سے خواتین بھرپور طور پر فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ خواتین کو سفرکی آزادی، طلاق، پاسپورٹ کے حصول کی آزادی اور بہت سے امور میں ولی یا سر پرست کی اجازت سے آزادی حاصل ہو گئی ہے جسے بین الاقوامی میڈیا اور حقوق نسواں تنظیموں کی جانب سے بنظر استحسان دیکھا جا رہا ہے۔

یکم اگست سے نافذ العمل اس فیصلے پر ملک کے  طول عرض سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا، خواتین کی طرف سے جہاں اس اقدام کو غیرمعمولی طور پر سراہا جا رہا ہے وہاں بعض حلقوں کی جانب سے اس اقدام پر کڑی تنقید بھی کی جارہی  ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی ایک 30 سالہ خاتون عزہ نے نئے حقوق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے خواتین کے لیے نئے اقدامات بہت سے مسائل کے حل میں مدد گار ہوں گی۔ میرے والد 2000ء میں وفات پاگئے تھے اور میرا کوئی دوسرا سرپرست نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے پاسپورٹ کے حصول میں بہت مشکل پیش آئی۔ سنہ 2018ء میں مجھے کئی مشکلات سے گزر کر پاسپورٹ مل پایا مگر اب میری جیسی بہنوں کی یہ مشکل حل کر دی گئی ہے۔ 32 سالہ عبیر مبارک بن فہد کا کہنا ہے کہ مملکت میں بہت سی چیزیں قبائلی روایات کے تحت چل رہی تھیں جن کا دین اسلام کی تعلیمات سے  کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ صرف معاشرتی رواج تھے جن کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اسلام مردو زن میں مساوات کی تعلیم دیتا ہے۔

سعودی حکومت نے گذشتہ پانچ سال کے دوران میں خواتین کو افرادی قوت کا حصہ بنانے کے لیے نمایاں اور دوررس نتائج کے حامل اقدامات کیے ہیں۔ اس کی اصلاحات کا تنوع اور گہرائی بڑی اہمیت کا حامل ہیں۔ ماضی میں سعودی عرب میں خواتین کی شرح روزگار سب سے کم تھی جسے بڑھانے کے لیے منظم اور منضبط انداز میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر2018ء کے اوائل میں سعودی حکومت نے مملکت میں بچوں کی نگہداشت کے لیے 233 نئے مراکز کے قیام کا اعلان کیا تھا تاکہ برسرروزگار خواتین اطمینان کے ساتھ اپنے بچوں کی ان مراکز میں چھوڑ کر اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔ اسی طرح بعض عہدوں پر صرف مردوں کے تقررکی پابندی بھی ختم کردی گئی ہے۔ مثال کے طور سعودی وزارت داخلہ میں پہلے صرف مردوں کو مختلف عہدوں پر فائز کیا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ قانونی اصلاحات کے تحت اب خواتین کو بھی اعلی عہدوں پر بٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال شہزادی ریما بنت بندر آل سعود کا واشنگٹن میں سعودی سفیر کی حیثیت سے تقرر ہے۔ نیز نجی کمپنیوں کو بھی ایک شفٹ میں کم از کم دو خواتین کے تقرر کا پابند کیا گیا ہے بصورت دیگر ان پر چار ہزار ڈالر تک جرمانہ عاید کیا جاسکے گا۔

قانونی اصلاحات کے تحت اب خواتین کو بھی اعلی عہدوں پر بٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال شہزادی ریما بنت بندر آل سعود کا واشنگٹن میں سعودی سفیر کی حیثیت سے تقرر ہے

ان اصلاحات  سے جہاں  بہت سی مثبت معاشرتی تبدیلیاں رونما ہوں گی وہیں ایک  خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ جنسی ہراسیت کے واقعات   میں اضافہ ہو گا، اس مشکل کے سد باب اور خواتین کو جنسی ہراسیت کا شکار ہونے سے بچانے کےلیے بھی قوانین کا نفاذ کیا گیا ہے۔

ان اقدامات کا مقصد سعودی معاشرے کو بین الاقوامی معاشرے کے طور پر اجاگر کرنا، خواتین کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کر کے اور غیر ملکی ملازمین کو بے دخل کر کے ملکی معاشی شرح نمو میں اضافہ کرنا اور اس کی بدولت آبادی کی شرح نمو میں فوری کمی کرنا بتایا جاتا ہے۔ نیز متعدد سعودی خواتین کا ملک سے فرار ہوتے ہوئے بیرون ملک جا کر سیاسی پناہ کی درخواستیں دینا بھی ان اقدامات کی ایک وجہ ہے کیونکہ اس طرح کے فرار کے واقعات سے خواتین کے حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے سعودی عرب پر دباؤبڑھ رہا تھا کہ وہ خواتین کے لیے قوانین میں نرمی کرے۔

سعودی عرب میں ہر خاتون کا کوئی مرد سرپرست ہوتا ہے، جس کے اختیارات میں سفر کی اجازت، بچے کی پیدائش کا اندراج، کسی کی وفات یا نکاح و طلاق کا اندراج کروانا اور تعلیم و شادی کے حقوق کا فیصلہ کرنا شامل تھ ۔ شادی سے پہلے تک والد ہی سرپرست ہوتا ہے لیکن شادی کے بعد یہ اختیار شوہر کے پاس چلا جاتا ہے۔ غیر شادی شدہ خواتین کا سرپرست ان کا بھائی، چچا یا پھر کوئی اور محرم مرد بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بیوہ خواتین اپنی بیٹے کو بھی اپنا سرپرست بنا سکتی ہیں۔ بعض ایسی بھی خواتین تھیں کہ وہی اپنے والدین کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کا خیال رکھتی ہیں اور تمام گھریلو ذمہ داریاں اٹھاتی ہیں لیکن سفر اختیار کرنے کے لیے انہیں  بسا اوقات اپنے بچوں سے اجازت لینا پڑتی تھی جو کہ والدین کی عزت کا درس دینے والے معاشرے کے لیے سوالیہ نشان تھا۔

ماضی میں سعودی خواتین کو گھر سے باہر کام یا ملازمت کے لیے اپنے مرد سرپرستوں کی اجازت لینا پڑتی تھی، انہیں ڈرائیونگ کی اجازت نہیں تھی اور اہم عہدوں پر بھی فائز نہیں کیا جاتا تھا لیکن حالیہ اصلاحات کے بعد مرد کے ساتھ ساتھ عورت کو بھی سرپرست بنا دیا گیا ہے اور اب وہ تمام امور مرد کی اجازت کے بغیر سرانجام دے سکیں گی۔ انہیں یہ سب کام کرنے کی قانونی طور پر اجازت مل چکی ہے مگر اس کے باوجود ایک رکاوٹ ایسی ہے جو تاحال حائل ہے اور اس کے ازالے کے لیے ابھی وقت درکا ہو گا اور وہ ہے معاشرتی اور سماجی رکاوٹ۔ قانونی اجازت کے باوجود معاشرتی سطح پر خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے ان کے سماجی سطح پر کام کی عدم منظوری ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان اس سماجی رکاوٹ کے ازالے کے لیے کس طرح کے اقدامات اٹھاتے ہیں؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...