بلتستان میں خوبانی میلہ اور اس پھل کی پیداوار کے رنگ

278

ان دنوں بلتستان میں خوبانی کا پھل پک کر تیار ہو رہا ہے۔ خوبانی بلتستان میں بکثرت  پائے جانے والے  جانے والے پھلوں میں سے ایک ہونے کے  ناطے یہاں کے لوگوں کی اکثریت کی زندگی میں کہیں نہ کہیں اس کا عمل دخل موجود ہے۔ بلتستان میں خوبانی کی اسی اہمیت کے پیش نظر محکمہ زراعت بلتستان شگر میں خوبانی میلے کا انعقاد کر رہا ہے جو  کہ بلتستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا میلہ ہے۔

یوں تو بلتستان اپنی مخصوص آب و ہوا اور جغرافیہ کے باعث مختلف قسم کے خوش ذائقہ پھلوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، لیکن جو پھل بلتستان میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے وہ خوبانی کا ہے۔ بلتستان کی تما م وادیوں بالخصوص شگر، سکردو اور کھرمنگ میں خوبانی کے درخت بڑی تعدداد میں لگے ہوئے ہیں۔ یہاں قدیم زمانے سے اس کے درخت اتنی بڑی تعداد میں لگے ہوئے تھے کہ جب چودھویں صدی عیسوی میں ایرانی مبلغین اشاعت ِ اسلام کے لئے بلتستان پہنچے تو یہاں جابجا خوبانی ہی خوبانی کے درخت دیکھ کر اُنہوں نے بلتستان کو “سری بُتان” یعنی خوبانی کی سرزمین کا نام دیا۔ یہ نہیں معلوم کہ خوبانی کا پھل یہاں کس دور میں متعارف ہوا تاہم دستیاب تاریخی واقعات اور قبل مسیح دور سے سینہ بہ سینہ آنے والی لوک کہا نیوں اور لوک گیتوں میں خوبانی کا ذکر ملتا ہے۔ جس کے باعث یہ کہا  جا سکتا ہے کہ ہزاروں سال  سے یہاں خوبانی کا درخت لگایا جاتا رہا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہاں دوسرے پھل بھی متعارف ہونے لگے لیکن  خوبانی کے درختوں میں بھی ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق گلگت بلتستان میں اس وقت خوبانی کے درختوں کی تعداد لگ بھگ 30 لاکھ سے زائد ہے۔ جن کی مجموعی پیداوار 125188.08میٹرک ٹن ہے۔ بلتستان دویژن میں 63345 میٹرک ٹن خوبانی پیدا ہوتی ہے، جس کا 34.93 فیصد یعنی لگ بھگ 26920 میٹرک ٹن ضائع ہوجاتا ہے۔ جبکہ گھریلو استعمال اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والی تازہ خوبانی  لگ بھگ 675 ٹن وزن ہوتی  ہے، اور مارکیٹ میں39474  میٹرک ٹن خُشک  خوبانی  فروخت ہوجاتی ہے۔ گلگت بلتستان میں کُل پیدوار کی 56 فیصد خوبانی بلتستان سے پیدا ہوتی ہے۔

گلگت بلتستان مارکیٹ میں 39474 میٹرک ٹن خُشک خوبانی فروخت ہوجاتی ہے

بلتستان میں 70 اقسام کی خوبانیاں پائی جاتی ہیں جن میں زیادہ معروف ہلمان، مرغلم، شڑہ کارفو، وافو، بدام چُلی، شغندہ، برو چُولی، یارقن، خو اور خو ستار چولی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ماضی میں لوگ اپنی غذائی ضروریات  کو پورا کرنے کے لئے خوبانی سمیت دیگر میوہ جات کے درخت لگاتے اور ان سے پھل حاصل کرتے تھے۔ لیکن آج کل رسل و رسائل کے ذرائع میں  پیدا ہونے والی آسانیوں کے باعث  بظاہر کسی علاقے میں فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ سنگین نہیں ہے جس کے باعث اب لوگ پھلوں کو کمرشل بنیادوں پر اور مارکیٹینگ کے نقطہ نظر سے اُگاتے اور حاصل کرتے ہیں۔ جس پھل کی مارکیٹ ڈیمانڈ زیادہ ہے اُسی پھل ک ادرخت زیادہ لگانے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ یو اب چیری اور سیب، خوبانی و دیگر پھلوں کی نسبت لوگوں کی زیادہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوے ہیں۔

ماضی میں خاص طور پر خوبانی کو سُکھا کر لوگ ذخیرہ کر لیتے تھےاور خُشک خوبانی کو سردیوں  کی لمبی راتوں میں بھوک مٹانے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ خوبانی کو اُبال کر اس کا رس  نکالتے پھر اس میں ستو یا جو کا آٹا ملا کر حلوہ نما ڈش تیار کر تے اور صبح و شام استعمال کرت ۔ جس کے ہاں خُشک خوبانی  زیادہ ذخیرہ ہوتی اُس گھرانے کو خوشحال گھرانہ تصور کیا جاتا تھا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق گلگت بلتستان میں اس وقت خوبانی کے درختوں کی تعداد لگ بھگ 30 لاکھ سے زائد ہے

خوبانی  کے ساتھ ساتھ خوبانی کی گرِی اور اس کے تیل کا استعمال بھی ان علاقوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ ماضی میں خوبانی کا تیل لوگوں کی روزمرہ خوارک کا لازمی حصہ تھا۔ اسی طرح کیمیکل سے پاک دوسرے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال معمول کی بات تھی اور کھانے کے لئے انہی دستیاب اشیا پر ہی انحصار کرنا تنگ دستی وغربت کے اُُس دور میں لوگوں کی مجبوری بھی تھی۔ اس میں خطے میں لوگ زیادہ  صحت مند اور توانا ہوتے تھے آج کی طرح کی مختلف اور پیچیدہ امراض ان دنوں عام  نہیں تھیں۔ جس کی بڑی وجہ اُس دور کے لوگوں کا خالص غذا بالخصوص پھلوں اور سبزیوں کا کثرت سے استعمال تھا۔

دوسرے پھلوں  کی طرح خوبانی کے بھی بہت زیادہ طبی فوائد ہیں۔ خوبانی کے یہ طبی فوائد اب جدید سائنسی اصولوں  کے مطابق تحقیق سے بھی ثابت ہیں۔ اس میں وٹامن A اور C کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ اس میں موجود خوبیوں  کے باعث یہ انسان کی بصارت کی قوت کو بڑھاتی ہے۔ خوبانی میں موجود ریشہ کے باعث اسےکولسٹرول کم کرنے اور دل کےجملہ امراض کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ خوبانی میں موجود فائبر نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے۔ انسانی جلد کے امراض بالخصوص جلد کے سکڑ نے کے عمل کو روکتا ہے۔ اس میں وجود کیلشیم کی مقدار کے باعث ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ دافعِ قبض ہے خوبانی کی گری سے حاصل ہونے والا تیل کینسر جیسے موذی مرض کو دور کرنے کیلئے مفید ہے۔ جبکہ یہ تیل جلدی امراض کے علاج  کیلئے مفید ہونے کے ناطے کا سمٹکس میں اسکااستعمال بہت زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔

خوبانی کی لکڑی بلتستان جیسے سرد علاقے میں سب سے بہتر “ایندھن” جلانے کی لکڑی کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ دوسرے درختوں کی لکڑی کی نسبت یہ زیادہ حدت دیتی ہے اور اس کے انگارے چوبیس گھنٹے تک گرم رہتے ہیں۔

پھل  کے ساتھ ساتھ اس کی گرِی اور اس کے تیل کا استعمال بھی ان علاقوں میں زیادہ ہوتا ہے

ان ساری خوبیوں کی وجہ سے محکمے کی جانب سے اس پھل کو فروغ دینے، بالخصوص کاشت کاروں کو سہولتیں فراہم کرکے بڑی مقدار میں ضائع ہونے والی خوبانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر کام کیا جانا چاہیے۔ ضائع ہونے والی خوبانی کو بچانے کے بعد اس کو حفطان ِ صحت کے اصولوں کے مطابق سکھانے اور یہاں پراسیسنگ یونٹس لگا کر اس سے مختلف اشیا کی تیاری پر کام کیا جاتا تو بہتر تھا۔ لیکن بد قسمتی سے ابھی تک محکمہ ضائع ہونے والی خوبانی کو بچانے میں ناکام ہے، ساتھ ہی پورے بلتستان میں کہیں پر بھی تازہ خوبانی کو جمع کر کے پراسیسنگ  کے لیے جمع کرنے کے لئے کوئی وئر ہاوس موجود ہے نہ ہی جس مقدار میں یہاں خوبانی پیدا ہوتی ہے اُسے سکھانے کے لئے ڈی ہائڈریشن یونٹس کی سہولت دستیاب ہے۔

محکمہ زراعت نے بلتستان میں بڑئے ڈی ہائڈریشن کی ضرورت کے پیش نظر شگر میں 3 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے ایک منصوبے کی چند سال پہلے منظوری دی۔ مارکیٹ سے زیادہ ریٹ پر اس کی عمارت اور چاردیواری  کا کام کیا گیا۔ لیکن جو مشینری یہاں لگائی گئی ہے اُس کی کوالٹی پرابھی سے سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ ایک سال سے زیادہ عرصے سے منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود ابھی تک اس کو چیک کرنے کے لیے بھی نہیں چلایا جا سکا ہے۔ جب یہ منصوبہ محکمہ زراعت نے منظور کرایا تھا تب بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ پورے بلتستان سے یہاں خوبانی آئے گی جسے بہترین کوالٹی کے ساتھ سکھا یا جا سکے گا لیکن اب یہ کہا جارہا ہے کہ یہ پلانٹ جہاں لگایا گیا ہے شاید صرف اسی گاؤں وہاں کی خوبانی کے لئے بھی ناکافی ہو۔

حکومت نے گلگت بلتستان میں زراعت کے فروغ کے لیے اکانومک ٹرانسفارمیشن انشیئٹیو (ETI)  پروگرام متعارف کرایا۔ یہ منصوبہ 12 ارب روپے کی لاگت کا ہے لیکن ابھی تک  زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے اس  کے تحت ہونے والا کوئی قابل ذکر  کام سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...