حکومتی کار کردگی کا سال، تبدیلی اور طاقت کا مظاہرہ ایک ساتھ

246

پاکستان تحریک انصاف کا حکومت میں ایک برس مکمل ہوگیا ہے۔ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق ٹیکس، سیاحت اور مواصلات سمیت ملک کے کئی شعبوں کو بہتر بنانے کے لیے متعدد جدید اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جن کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ وزیر اطلاعات نے گزشتہ سال کو استحکام  کے حصول کا اور نئے سال کو تعمیر کا سال قرار دیا۔

موجودہ حکومت کا ایک برس مکمل ہونے پر بعض اصلاحات کے ذکر کے ساتھ ایک رپورٹ تو جاری کی گئی لیکن اس کے ساتھ آئندہ کا لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا جس سے عوام کو اندازہ ہوسکتا کہ ان کی بہبود کے لیے یہ ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، یا جو اصلاحات لاگو کی گئی ہیں نئے سال میں ان سے یہ نتائج حاصل کرلیے جائیں گے۔ عوام ان حالات میں کسی معجزے کی توقع نہیں رکھتے لیکن یہ جاننا ان کا حق ہے کہ حکومت ان کے لیے ہنگامی اور مستقل بنیادوں پر کیا واضح و ثمرآور منصوبے رکھتی ہے، تاکہ کنفیوژن کا ماحول ختم ہو اور عام آدمی کو اطمینان کا احساس ہو۔

گزشتہ ایک برس کے دوران جہاں تبدیلی لانے کے لیے کچھ شعبوں میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں وہیں اس کے ساتھ ’استحکام‘ کے حصول کے لیے طاقت کا مظاہرہ بھی جاری رکھاگیا، جس کا نقصان ملک کے سیاسی عمل اور سماجی ڈھانچے دونوں کو پہنچا۔ خصوصاََ آزادی اظہار ِرائے پر مختلف حوالوں سے قدغن نے ایک طرف حقائق کو اوجھل کیا اور کنفیوژن پیدا کی تو دوسری طرف سماج میں ہیجان و عدمِ اعتماد کو مہمیز دیتے ہوئے مکالمے و بات چیت کی ثقافت کو بھی متأثر کیا۔ مختلف سیاسی  و سماجی طبقات ایک دوسرے سے دُور ہوئے ہیں اور عمومی طور پہ خوف کی فضا نے جنم لیا۔ آزادی اظہار رائے پر پابندی کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کو تنقید کا سامنا بھی ہے۔

حقیقی تبدیلی اور استحکام  کی راہ یہ ہے کہ سیاسی کلچر میں بھی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جس کا انتخابات سے قبل وعدہ کیا گیا تھا اور جمہوری ثقافت کی بِنا رکھتے ہوئے تعمیری رویوں کوفروغ دیا جائے۔ استحکام، طاقت کے مظاہرے سے ممکن نہیں بنایا جاسکتا، یہ عمل حکومت کے ساتھ ملک کو بھی مزید کمزور کرتا جائے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...