نوجوانوں میں شہریت اور سیاسی حقوق بارے آگاہی پیدا کی جائے

208

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اسلام آباد کے زیرِ اہتمام مارگلہ ہوٹل اسلام آباد میں 24 جولائی 2019ء بروز بدھ پاکستان میں نوجوانوں کے لیے مواقع اور ان کے کردار کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کی تقریب رونمائی کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ تقریب سے نوجوانوں کے لیے کام کرنے والی مختلف تنظیموں کے سربراہان، سماجی کارکنان اور صحافیوں نے اظہار خیال کیا۔

سماجی کارکن شفقت منیر نے پاکستان میں نوجوانوں کو درپیش مسائل کے حل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا واحد اور درست راستہ یہ کہ نوجوانوں کا ربط سیاسی عمل کے ساتھ بحال کیا جائے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹ یونینز کو دوبارہ فعال بنانے کی ضرورت  پر زور دیا۔ ان کے مطابق جب تک اس ملک میں نوجوانوں کو یہ آزادی میسر رہی کہ وہ بطور شہری سیاسی طور پہ اپنا کردار ادا کر سکیں تب تک سماج میں شدت پسندی کے اثرات بھی کم نظر آتے تھے۔ کیونکہ ان کے پاس اپنی صلاحیتوں کو مفید عمل میں صرف کرنے کے مواقع موجود تھے۔ ماضی میں دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کا زور تھا اور ہر طرف سے اپنے کیمپ کے حق میں نعرے بلند کیے جاتے تھے۔ تعلیمی اوقات کے علاوہ طلبہ مثبت سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ حکومت نے اس پر یہ کہہ کے پابندی عائد کردی کہ اس سے طلبہ کی تعلیم متأثر ہوتی ہے اور تشدد  کے عناصر پروان چڑھ رہے لیکن جب اس کے نتائج سامنے آئے تو پتہ چلا کہ ہمیں بہت سارا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایک تو شہریت اور سیاسی حقوق کے حوالے سے جو آگہی  حاصل ہوتی تھی وہ ختم ہو گئی۔ اب نوجوانوں کی اکثریت ان بنیادی اقدار کے بارے میں کم علم رکھتی ہے۔ ان کے اندر جمود اور فرسٹریشن کا غلبہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ سماج کے ہر شعبہ میں ان کی جگہ ختم کردی گئی۔ میڈیا میں ان کے مسائل پر بات نہیں ہوتی۔ پارلیمنٹ میں ان کی ضروریات اور مشکلات کا ذکر نہیں ہوتا۔ کرئیر کونسلنگ کہیں نظر نہیں آتی۔ ایک سوال پر کہ اگر سیاسی جماعتوں سے ان کا تعلق ختم کرکے اسٹوڈنٹ یونینز سے پابندی اٹھائی جائے تو اس سے تشدد کے عناصر میں کمی ہوسکتی ہے؟ شفقت منیر کا کہنا تھا کہ یہ تصور سراسر غلط فہمی ہے کہ سیاسی جماعتیں یا سیاسی عمل تشدد پر ابھارتے ہیں بلکہ تشدد کو کنٹرول کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ  نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ سیاست، حقوق اور شہریت بارے آگہی حاصل ہو۔ جب طلبہ کی جمہوری سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی ختم کی گئی تو انہوں نے برادی اور ذات پات کی گروہ بندیاں شروع کردیں جس سے تعصب، تشدد اور نفرت کے جذبات کو مہمیز ملی۔

صحافی سبوخ سید نے سوشل میڈیا کے نوجوانوں پر اثرات پہ گفتگو کی۔ انہوں نے کہا  کہ اس پلیٹ فارم پر شدت پسندی کے رجحانات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر شہری اخلاقیات اور سیاسی  اقدار کے حوالے سے آگاہی مفقود ہے اس لیے وہ برداشت کا مظاہرہ نہیں کرپاتے۔ سوشل میڈیا جو تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتا تھا وہ ہمارے سماج میں اس کے مخالف کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوانوں کو سیاسی عمل سے دور رکھنے کا تجربہ کرلیا گیا ہے اس کا پورے ملک کو جو نقصان اٹھانا پڑا وہ سب کے سامنے ہے۔

پچھلے بیس سالوں میں انتہاپسندی کا مقابلہ ہر جگہ نوجوانوں نے کیا ہے

علی عباس زیدی نے حالیہ عرصے میں نجی سطح پر نوجوانوں کی فعالیت پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں میں بیداری نظر آرہی ہے۔ پچھلے بیس سالوں میں انتہاپسندی کا مقابلہ ہر جگہ نوجوانوں نے کیا ہے۔ وہ پاکستان کی تاریخ کا روایت سے ہٹ کر علمی مطالعہ بھی کر رہے ہیں، وہ جناح کے روادار پاکستان کی تشکیل کے لیے آواز بلند کرنے نظر آتے ہیں۔ یہ بھی امید کی کرن ہے کہ نوجوانوں میں اعتماد پیدا ہوا ہے۔ ان کے لیے شعور اور تعمیر واحد پیمانہ ہے جس پہ وہ اب ہر نظریے اور فکر کو پرکھتے ہیں۔

فہمیدہ برچہ نے پاکستان میں خواتین کے کردار اور مسائل پر  اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سماج میں حواتین کے حقوق اور کردار کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ عورتوں کے حقوق بارے  ہر فکر کو مغربی ایجنڈا کہہ دیا جاتا ہے۔ قانونی حوالے سے بھی ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ انہوں نے خواتین کو بااثر اور طاقتور بنانے کے لیے ان کے سیاسی عمل میں اشتراک کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں خواتین کی ریزو نشستوں پر ٹیکنوکریٹس اورحقدار کو منتخب کیا جانا چاہیے لیکن سیاستدان اپنی رشتہ دار خواتین کو پارلیمنٹ میں پہنچا دیتے ہیں۔

بختیار احمد نے نوجوانوں کو درپیش مواقع کی کمی کی نشاندہی  کرتے ہوئے کہا کہ دنیا سکڑ گئی ہے جس سے نوجوانوں کو نئے چیلنجز اور حالات کو قریب سے دیکھنے اور جانچنے کا موقع میسر آیا ہے۔ وہ اس کا حصہ بن کر بھرپور کردار ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے لیے راستے مسدود ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوانوں کا تعلق ان کی اپنی ذات سے کاٹ دیا گیا ہے۔ یہ بحران کی شدید شکل ہے۔

ذیشان نویل نے نوجوانوں کے کردار کو غیر محدود کرنے کی ضرورت پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق آزادی کے ساتھ تمام شعبوں میں اپنا کردار ادا کرنا ہر نوجوان کا حق ہے جواسے دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوکہا کہ اس کے حاصلات ونتائج سے سب کو استفادہ کرنا چاہیے۔

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ریسرچر اور تجزیہ کار صفدرسیال نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں نجی سطح پر نوجوانوں کی فعالیت میں اگرچہ اضافہ ہوا ہے لیکن ان مختلف تنظیموں کا آپس میں باہمی ربط کم ہے اور اس کے علاوہ سماج میں بھی ان کی اثر انگیزی کا دائرہ محدود ہے جسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...