اب بیرسٹر شہزاد اکبر بھی؟

عامر ہزاروی

300

مرزا شہزاد اکبر، انیل مسرت اپنے ایمان کی صفائیاں دے رہے ہیں، لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ ہمارا ختم نبوت پر کامل یقین ہے، سرور کونین کی تقلید ایمان کا حصہ ہے۔ انیل مسرت کہہ رہے ہیں میں سنی العقیدہ ہوں، احرام میں لپٹا بدن اور جالیوں کو چھونے والی تصاویر دکھا رہے ہیں مگر پروپیگنڈہ جاری ہے۔

کچھ لوگ ہیں جو مسلسل اس پروپیگنڈے کا شکار ہو رہے ہیں، فیک تصاویر بنا کر ان لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں، ایک خوف ہے، ہیجان ہے۔ یہ لوگ وضاحتیں دے رہے ہیں اور وضاحتیں کام نہیں کر رہیں۔ اہل علم چپ ہیں۔ اہل مذہب خاموشی کی چادر تانے ہوئے ہیں۔ جبر کے ماحول میں کون بولتا ہے؟ کون کسی کی صفائی دیتا ہے؟ یہاں صفائی قبول کوئی نہیں کر رہا صفائی دے گا کون؟ جس سوسائٹی میں تحقیقی بات جرم ہو وہاں پروپیگنڈے راج کرتے ہیں۔ پروپیگنڈے کا موسم ہے۔

سوال یہ ہے یہ کون لوگ ہیں جو ہر تھوڑے وقت بعد ایمان والوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں؟

ماضی میں اس ملک کی طاقتور شخصیت جنرل باجوہ کو اپنا ایمان ثابت کرنے کے لیے احرام میں لپٹی تصاویر کا سہارا لینا پڑا تھا۔ انہوں نے اپنے گھر محفل میلاد منعقد کروائی۔ ملک کے نامور علماء مولانا طارق جمیل اور مولانا ثاقب رضا مصطفائی کو دعوت دی، پھر ان کی تصاویر شئیر کیں۔ اس سے پہلے نون لیگ اس پروپیگنڈے کی زد میں آئی، میاں صاحب کو جوتا لگا، خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی، احسن اقبال کو گولی لگی، زاہد حامد کو ایمان کی لکھ کر صفائیاں دینی پڑیں۔

سوال یہ ہے کہ ہر چار ماہ بعد لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والے کون لوگ ہیں؟

کیا ریاست غافل ہے؟ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ ریاست اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا کر ایسوں کے خلاف کارروائی کرے، کسی کی جان پر بنی ہو اور سکوت چھایا ہو یہ ٹھیک نہیں۔ ریاست سے بڑھ کر ذمہ داری اہل مذہب کی ہے۔ علماء کو سامنے آنا چاہیے، لوگوں کو بتانا چاہیے کہ بغیر تحقیق کے کوئی بات نہ کی جائے۔ ختم نبوت کا معاملہ حساس ہے، کسی مسلمان کو کافر کہنا از روئے اسلام کتنا بڑا گناہ ہے؟ متفق علیہ مسئلہ کو متنازعہ بنانا ٹھیک نہیں، جب ایک مسلمان کو ختم نبوت کا منکر ٹھہرایا جائے گا تو پھر لوگ علماء کی بات ہر یقین نہیں کرینگے۔

حکومتوں سے سیاسی اختلافات ہونے چاہیں لیکن مذہبی کارڈ کھیل کر ایمان والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا صریح زیادتی ہے

یہ سوسائٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ایک ہوجاتی ہے۔ میرے آقا کا نام اتحاد کی علامت ہے۔ جب میرے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا تو پھر یہ سوسائٹی تقسیم ہو گی۔ ہر چار ماہ بعد ایمان کی صفائیاں لوگوں کو کیوں دینی پڑ رہی ہیں؟

حکومتوں سے سیاسی اختلافات ہونے چاہیں لیکن مذہبی کارڈ کھیل کر ایمان والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا صریح زیادتی ہے۔ یہ زیادتی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ میری شہزاد اکبر اور انیل مسرت سے گزارش ہو گی کہ اگر لوگ آپ کے یقین دلانے کے باوجود بھی آپ کی بات پر یقین نہیں کر رہے تو پھر آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان لوگوں کی شکایت لگانا۔ ان کی ایف آئی آر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کٹوانا۔ یہاں انصاف نہ ملا وہاں انصاف ضرور ملے گا۔ یہاں اگر نہ سنی گئی وہاں ضرور سنی جائے گی۔ یہاں کسی نے آپ کو نہ ڈھانپا وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو چادر رحمت سے ضرور ڈھانپ لینگے۔ آج مشکل وقت ہے گزار لیں کل ان کی شکایت ضرور لگانا۔ وہاں سب کی سنی جاتی ہے۔ کچھ وقت پہلے شکایت کے نام سے رحمان فارس کا ایک کلام پڑھا تھا وہ پڑھ لیجئے موقع کی مناسبت سے بہترین کلام ہے۔

شکایت:

مری دُہائی سُنیں، اے مُحمّدِ عَربی

مَیں پیاسا قتل ہوا، ھائے میری تشنہ لَبی

حضُور! مَیں نے نہیں کی تھی کوئی بےاَدَبی

مری تو چیخیں بھی سب رہ گئیں گلے میں دبی

بغیر جُرم اذیّت کے گھاٹ اُتارا گیا

حضُورِ والا! مُجھے بے قصُور مارا گیا

حضُور! میری شریکِ حیات روتی ہے

حضُور! چھوٹی سی بیٹی بھی ساتھ روتی ہے

حضُور! میری بہَن ساری رات روتی ہے

وہ ماں کہ جو تھی مری کائنات، روتی ہے

ابھی تو میرے گُلابوں کے رنگ کچّے تھے

حضُورِ والا! مرے چھوٹے چھوٹے بچّے تھے

حضُور! عرض سُنیں، ماں کی زندگی تھا مَیں

ضعیف باپ کی آنکھوں کی روشنی تھا مَیں

بہَن کے دل کا سکُوں، بھائی کی ھنسی تھا مَیں

حضُور! آپ کا معصُوم اُمّتی تھا مَیں

تو پھر یہ ظُلم و ستَم کس لیے ہوا، مَولا ؟؟؟

کوئی دوا ؟ کوئی مرہم ؟ کوئی دُعا ؟ مولا !

حضُور ! آپ تو رحمت ھیں دوجہاں کے لِیے

جلائے آپ نے ہر سُو محبتوں کے دِیے

جناب! آپ ہمیشہ رحیم بن کے جِیے

مگر جناب کی اُمّت نے مُجھ پہ ظلم کِیے

حضُور! مَیں نے پڑھا تھا سبھی صحائف میں

کہ آپ نے تو دُعا دی تھی سب کو طائف میں !

حضور! آپ نے دشمن کو بھی دُعائیں دِیں

عدُوئے جاں کو بھی چاہت بھری صدائیں دِیں

جفائیں سہہ کے بھی ہر شخص کو وفائیں دِیں

جنہوں نے کانٹے بچھائے، اُنہیں قبائیں دِیں

سو مَیں نے آپ کی سُنّت کا اعتراف کِیا

گواہ رھیے کہ مَیں نے اِنہیں مُعَاف کِیا

نگاہ کیجے خُدارا، مرے عظیم نبی

مرے یتیموں کی سُنیے، مرے یتیم نبی

مرے وطن پہ کرم ھو، مرے کریم نبی

مرے شفیق مُحمّد ! مرے رحیم نبی !

بنامِ دِین کسی طَور کوئی قتل نہ ھو

کہ مَیں تو قتل ہوا، اَور کوئی قتل نہ ہو

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...