کیا اقتصادی راہداری آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج کا بوجھ اٹھا پائے گی؟

147

گذشتہ سے پیوستہ ہفتے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی گئی اسٹاف رپورٹ سے پاک چین اقتصادی راہداری کے سورماؤں میں اطمینان کی لہر دوڑی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ چین نے بھی سکون کا سانس لیا ہے جواپنے’ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹو‘ منصوبے کی پہلی کلیدی منزل کے طور پر پاکستان کا انتخاب کر چکا ہے۔ چین کے اس منصوبے کا مقصد اپنی اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنا اور مستقبل  کے عزائم کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔

اگر یہ محض اتفاق ہے تو انتہائی معنی خیز ہے۔ایک طویل  خاموشی کے بعد  پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے کچھ حوصلہ افزا آوازیں سننے  کو مل رہی ہیں۔ گذشتہ سے پیوستہ جمعہ کو 55 چینی کاروباری شخصیات کا ایک وفد وزیرِ اعظم عمران خان سے ملا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وفد نے آئندہ 5 برسوں کے دوران اقتصادی راہداری منصوبوں میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکومتی اقتصادی ٹیم کے ایک اعلیٰ سطحی رہنما نے کہا کہ ’’ممکنہ طور پر چینی کاروباری وفد کی عمران خان سے ملاقات طے شدہ تھی، تاہم آئی ایم ایف ڈیل کی تفصیلات کے منظرِ عام پر آجانے سے مستقبل کے بارے میں نئی امید پیدا ہوئی اور اسی باعث یہ ملاقات نتیجہ خیزبن  گئی۔‘‘

آئی ایم ایف نے اپنی اسٹاف رپورٹ میں پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کےتین سالہ بیل آؤٹ پیکج کی منظوری کے ساتھ ساتھ چین سے لیے گئے 21.8 ارب ڈالر دوطرفہ مالی معاونت اور تجارتی قرضے کی باقی ماندہ واجب الادا رقم 14.68 ارب ڈالر کا ذکر بھی کیا جو پاکستان نے واپس کرنے ہیں۔ یہ رقم پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضوں 85.8 ارب ڈالر کا 24 فیصد بنتی ہے۔ اس مسودے میں لکھا گیا ہے کہ اس بیل آؤٹ پروگرام کے 2022ء میں ختم ہو جانے سے پہلے ہی پاکستان چین سے لیا گیا تجارتی قرضہ واپس کرچکا ہوگا جبکہ دوطرفہ مالی معاونت کی مد میں لیے گئے قرض کی مجموعی رقم جو اس وقت 15.5 ارب ڈالرہے تین سال کے بعد آدھی، یعنی7.9 ارب ڈالر رہ چکی ہوگی۔

کچھ عرصہ قبل امریکا اس بارے اپنےخوف کا اظہار کرچکا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے بطور قرض لی گئی رقم کو چینی قرضے کی ادائیگی کے لیے استعمال میں لا سکتا ہے۔ درج  بالا امریکی نقطہِ نظر نے اربوں ڈالر کے اس چینی منصوبے کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات کو مزید برانگیختہ کیا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے باعث پیداواری صلاحیتیں بڑھی ہیں اوراس نے گذشتہ برس مئی کے بعد شروع ہونے والے نئے مرحلے سے پہلے ہی انفراسٹرکچر سے متعلقہ رکاوٹوں کو دور کر کے سرمایہ داروں کو سرمایہ کاری پر مائل کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل امریکا اس بارے اپنےخوف کا اظہار کرچکا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے بطور قرض لی گئی رقم کو چینی قرضے کی ادائیگی کے لیے استعمال میں لا سکتا ہے

اقتصادی راہداری منصوبوں میں تاخیرکےمسئلے پر چین کی جانب سے کوئی  باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ ایک قابلَ اعتماد دوست ملک کے جوش  و خروش نے مابعد انتخابات اقتصادی سمت کی شفافیت اور وضاحت سے متعلق چین کی خواہش کو مندمل کرنے کا کام کیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی گذشتہ حکومت کی جانب سے کیے گئے اقتصادی راہداری منصوبوں سے متعلق معاہدوں کے بارے میں نئی حکومت کے ارادے ابھی واضح نہیں تھے۔ نئے وزیرِ اعظم کی دیومالائی اقتصادی ٹیم کے اراکین کے اولین بیانات نے بھی صورتِ حال کو  ابہام کا شکار کیے رکھا جن میں انہوں  نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف سے کیے گئے طے شدہ معاہدوں پر سوالات اٹھائے تھے۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ عمران خان کے دورہ چین نے چینی حکومت کے تحفظات کو کم کرنے میں کس قدر کردار ادا کیا۔ آثار یہ بتاتے ہیں کہ چین اب اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے ماضی کی طرح پرجوش نہیں ہے۔

چین اکثرو بیشتر خاموشی کی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ تاہم شہرِ اقتدار کے واقفانِ حال جانتے ہیں کہ چین نے موجودہ حکومت کو بعض مواقع پر یہ یاددہانی کروائی ہے کہ پہلے سے طے شدہ معاہداتی ذمہ داریوں سے اعراض برتنے کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری کی نگرانی پر مامور متعلقہ چینی افسران سے اس حوالے سے بات کرنا ماضی کی طرح بے سود ثابت ہوا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چین کو متعدد معاہدوں سے متعلق تفصیلات مہیا کرنے میں کوئی دلچسپی ہے نہ ہی وہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ وہ متجسس صحافیوں کو جواب دینا اہم خیال نہیں کرتا۔ کچھ عرصہ قبل ایک ممتاز چینی سفارتکار نے راقم کے استفسار پر جواب دیا کہ وہ اقتصادی راہداری کے بارے میں جو کچھ جاننا چاہتی ہیں، اسے ہماری ویب سائیٹ پر ڈال دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا نظام ہمیں معلومات کی آزادانہ فراہمی کی اجازت نہیں دیتا۔ ’’ہمیں کوئی بھی رائے دینے سے پہلے بیجنگ سے اجازت لینا پرتی ہے۔ اس عمل میں وقت لگتا ہے اوریہ جمہوری روایت کی بنیادپر قائم  انتہائی سریع  ذرائع ابلاغ کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔‘‘

وفاقی حکومت کے متعلقہ عہدیدار اس تصور کی تردید  کرتے ہیں کہ موجودہ حکومتی جماعت اقتصادی راہداری کے سفر کو آگے نہیں بڑھانا چاہتی۔ تاہم خیبر پختونخوا کے علاوہ باقی تمام صوبائی حکومتوں کا  نقطہِ نظر وفاقی حکومت کے درج بالا موقف کی نفی کرتا ہے، ان کے مطابق موجودہ دورِ حکومت میں اقتصادی راہداری ایجنڈا سست روی کا شکار ہو چکا ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے ترجمان حسن داوود بٹ  کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اپنی متوقع رفتار سے ہی آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو ’’ایک خطہ ایک راہداری منصوبے کا بکل قرار دیا‘‘۔ انہوں نے اسلام آباد سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیرِ اعظم عمران خان پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے بارے میں اتنے ہی سنجیدہ ہیں جتنا کہ کوئی اور، چینی قیادت سے ان کی کامیاب ملاقاتیں ان کی سنجیدگی کا مظہر ہیں اور اس بات کی سند کہ وہ اس منصوبےکو ملک و قوم کے لیے کس قدر اہم خیال کرتے ہیں۔ ہم اقتصادی شراکت کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں اور اس مرحلے میں سماجی شعبوں کی ترقی اور اقتصادی معاونت ہمارا مطمحِ نظر ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم چینی ماہرین اور وفود سے ہر دوسرے دن  ملتے ہیں۔ حال ہی میں پٹرولیم کے شعبے سے وابستہ ایک وفد اسلام آباد آیا تاکہ اقتصادی مراکز میں مشترکہ کاروباری مواقع کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔‘‘ پاکستان میں مخصوص اقتصادی مراکز  کے قیام کےلیے 9 مقامات کا تعین کیا گیا ہے۔

حسن داود بٹ پاکستان میں پہلے کی نسبت چینیوں کی کم تعداد کا تعلق پہلے مرحلے کی تکمیل سے بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اب اگلے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جس میں کوئی بڑے  تعمیراتی منصوبے شامل نہیں ہیں کہ چینی ماہرین اور تکنیک کاروں کی ضرورت ہو، ہم اس مرحلے میں صحت، تعلیم اور زراعت کے شعبے کی بہتری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ زرعی اشتراک سے متعلق ہماری بات چیت چل رہی ہے۔ ایک بار اقتصادی مراکز فعال ہو گئے تو شاید صورتِ حال بہتر ہو جائے۔‘‘ تاہم صوبائی سطح پر صورتِ حال اس کے برعکس ہے، صوبائی افسران کا کہنا ہے کہ اگر اقتصادی راہداری منصوبے پر کلی طور پر کام ختم نہیں ہوا تو یہ اس قدر سست ضرور ہو گیا ہے کہ اس کا آگے بڑھنا دکھائی نہیں دے رہا۔

سندھ حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی رہنما کہتے ہیں کہ ’’باربرداری اور نقل و حرکت کی بات ہو یا پھر صنعتی مراکز کی، مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی اعلیٰ سطحی اجلاس میں ان کے بارے میں آخری بار بات کب کی گئی تھی۔ مجھے یہ کہنے میں بالکل تامل نہیں ہے کہ چین اور پاکستان  کی موجودہ حکومت، دونوں میں اس منصوبے کے حوالے سے عدمِ دلچسپی کا عنصر ِ مشترک پیدا ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ چین امریکا  دگرگوں تجارتی تعلق سے متعلق چین کو لاحق فکر ہو یا آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کردہ شرائط کی تعمیل کے لیے عمران خان کی اقتصادی ٹیم کا جوش و خروش، تاہم یہ طے ہے کہ اس سے پاک چین اقتصادی راہداری پسِ منظر میں چلی گئی ہے۔‘‘

پنجاب کے ایک  افسر کے مطابق ’’ایک طویل وقفے کے بعدپنجاب حکومت نے صنعتی مراکز کے لیے زمین کے تعین اور اس کی خریداری  کے عمل کا آغاز کردیا ہے۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق چلتا رہا تو بنیادی ڈھانچے کی تعمیراورسہولیات کی فراہمی کے عمل کے لیے  دو مزید برس درکار ہوں گے اور اس کے بعد ہی یہ مراکز پیداواری سر گرمیوں کے لیےفعال ہو سکیں گے۔‘‘

اس بات پر تمام لوگ متفق نہیں ہیں، پنجاب کے ہی ایک اعلیٰ افسر محمدامان اللہ حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’اقتصادی راہداری منصوبے کے اس مرحلے میں ہماری توجہ صنعتی ترقی، زرعی اور سماجی و معاشی نمو پر ہے۔ کام میں سست روی کا تصور غلط ہے۔ صوبائی حکومتیں اس وقت مخصوص اقتصادی مراکز کے لیےمنصوبوں کے تعین اور ان کی ممکنہ جہات پر کام کررہی ہیں۔ یہ عمل انتہائی تحقیق طلب اور منصوبہ بندی کا متقاضی ہے تاکہ ان منصوبوں سے خاطر خواہ نتائج برآمد کیے جا سکیں۔‘‘

خیبر پختونخوا کے سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ عاطف رحمان انتہائی پر امیددکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رشکئی اقتصادی مرکز پر کام ہورہا ہے اور وہ کام کی رفتار سے مطمئن ہیں۔

اندرونِ خانہ حالات سے واقف حضرات کے مطابق پہلے مرحلے میں طے شدہ  29 ارب ڈالر کے 22 منصوبے ابھی تک پایہِ تکمیل تک نہیں پہنچے۔ مکمل ہو جانے والے 8 توانائی منصوبے  بھی اخراجات کی عدم فراہمی کے باعث مالی زبوں حالی کا شکار ہیں۔

مترجم: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...