انسانی زندگی پر ماحول اور تربیت کے اثرات

133

ایک شخص اپنا راستہ بھول جاتا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ کدھر جائے، آخر کار اسے ایک گھر نظر آتا ہے وہ اس گھر کے دروازے پہ دستک دیتا ہے، ایک خاتون دروازہ کھولتی ہے۔ وہ اپنی صورتحال بتاتا ہے تو وہ خاتون اسے خوش آمدید کہتی اور فوراً اس کے لئے کھانے کا انتظام کرتی ہے۔ وہ کھانا کھا رہا ہوتا ہے تو اسی دوران اس خاتون کا خاوند آجاتا ہے وہ بولتا ہے یہ کون ہے؟ وہ بتاتی ہے یہ مسافر ہے اور راستہ بھول گیا ہے، لیکن اس کا خاوند اس کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتاہے۔ وہ بوجھل دل سے وہاں سے چلا جاتا ہے۔ اِدھر اُدھر بھٹکتے ہوئے آخر کار وہ ایک دوسرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، تو ایک عورت دروازہ کھولتی ہے وہ اسے اپنی صورتحال بتاتا ہے لیکن وہ عورت اس کے ساتھ بدزبانی کرتی اور اس کی بے حد توہین کرتی ہے۔ اسی دوران اس کا خاوند آجاتا ہے۔ وہ اپنی بدزبان بیوی سے کہتا ہے۔ یہ مہمان  ہے، اِسے خوش آمدید کہو۔وہ اس کے لئے کھانے کا انتظام کرتا ہے۔ مسافر کھانا کھانے کے دران مسکراتا ہے۔ وہ شخص پوچھتا ہے آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ اس نے کہا میں اس بات پہ حیران ہوں اس سے پہلے میں جس گھر میں گیا تھا وہاں بیوی خوش اخلاق اور خوش زبان تھی اور خاوند بداخلاق اور بد زبان تھا لیکن آپ کے گھر آیا ہوں تویہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ بیوی بداخلاق اور خاوند خوش اخلاق ہے۔ میزبان نے کہا میں تمہاری حیرانی دور کر دیتا ہوں اُس گھر میں بیوی میری بہن ہے اور اُس کا خاوند میری بیوی کا بھائی ہے۔

اس انگلش کہانی کا عنوان ہے ”The Family Traits ” خاندانی خصوصیات” اس کہانی میں پوشیدہ مقصد یہ ہے کہ انسان ایک خاندان میں پیدا ہوتا اور اس میں پرورش پاتا ہے۔ اپنی زندگی کے ابتدائی سال اس ماحول میں گزارتا ہے۔ اس کی ذات، عادات اور فکر کی تشکیل خاندان میں ہوتی ہے۔ جب وہ دوسروں کے ساتھ معاملات اور برتاؤ کرتا ہے۔ در حقیقت وہ اپنی خاندان سے حاصل کی ہوئی خصوصیات و تربیت کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ ایسی کہانی کو معیار و پیمانہ بنا کر جب ہم زندگی کے مختلف شعبوں اور لوگوں میں جاتے ہیں تو ہمیں ان کے رویے، برتاو اور ردعمل سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ تربیت کا فقدان ہے یا واقعی تربیت کا حق ادا کیا گیا ہے۔

امام مالک نے فرمایا ’کسی کے گناہ تجھ پہ اس کی آبرو اور عزت کو حلال نہیں کر دیتے‘

اس بات کا اندازہ فقط ایک بات سے ہو جاتا ہے، مثلاً اگر ہم کسی مجلس میں کسی ایسے شخص سے ملاقات کرتے ہیں جس سے ہماری اس مجلس سے پہلے کوئی شناسائی نہیں، وہاں بیٹھے بیٹھے کسی سیاسی یا مذہبی موضوع پر گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ دیر میں معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ کا اُن صاحب سے سیاسی موضوع پہ اختلاف ہے یا وہ آپ سے کسی مذہبی مسئلہ پہ نقطہ نظر مختلف رکھتے ہیں۔ ایک انداز یہ ہے کہ وہ عزت و احترام سے اختلاف کریں اور اپنا موقف بیان کر دیں اور آپ بھی یہی راستہ اختیار کریں۔ دوسرا انداز یہ ہے کہ وہ آپ کی ذات پہ حملہ کریں اور آپ کے خیالات و نظریات کی تضحیک کریں تاکہ آپ طیش میں آئیں اور بات بڑھے یہ دو طریقے ہیں۔

ہم اس تجربہ و مشاہدہ سے شب روز گزرتے ہیں جب لوگ ذرا سی بات پہ اس لئے بدزبانی، الزام اور تہمت پہ اتر آتے ہیں کہ آپ ان سے الگ سوچ رکھتےاور مختلف شخصیت کو پسند کرتے ہیں۔ حضرت امام مالکؓ کے سامنے کسی شخص نے حجاج بن یوسف کو گالی دی آپ نے جواباً ناراض ہو کر فرمایا “اس کے گناہ تجھ پہ اس کی آبرو اور عزت کو حلال نہیں کر دیتے”

مقامِ حیرت ہی نہیں مقامِ افسوس بھی ہے کہ لوگ سیاسی اختلاف کی بنیاد پہ سیاسی رہنماوں کو نازیبا القاب دیتے، بُرے ناموں سے پکارتے اور ان کی آبرو کو نیلام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ کہیں یہی لوگ اسی کہانی کا چلتا پھرتا کردار تو نہیں ہیں؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...