علم اور معیشت کا عہد

626

عہد وسطیٰ کے جاگیر دارانہ عہد میں علم وادب کی سرگرمی، تفریح طبع کی خاطر ہوا کرتی تھی، اور تفریح طبع کا مفہوم بھی تفریح نہیں حقیقی ذہنی انبساط کا تھا، مگر صنعتی عہد کے ساتھ ہی Commodificationکا عمل شروع ہوا، اور آج اپنی غیر معمولی حدوں کو چھو رہا ہے۔ ان حدوں کا دوسرا نام گلوبلائزیشن ہے۔ کیا ہم آج کسی ایسی شے کی نشان دہی کر سکتے ہیں، جسے کموڈیٹی یعنی جنس ِ بازار نہ بنایا گیا ہو؟ آج کیا کچھ نہیں بِکتا! آپ ذرا اس کی نشان دہی کیجیے اور چار دنوں بعد اس کی مارکیٹنگ کا تماشا دیکھیے۔ پہلے ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر اشیا تخلیق کی جاتی تھیں، اب ضرورتیں پہلے تخلیق کی جاتی ہیں، اور اشیا بعد میں۔ اب ہم عالمگیریت اور کا رپوریٹ کلچر میں زندہ ہیں، وہی طے کرتے ہیں کہ ہمیں کیا چاہیے۔ کیا چیزیں اور کیا خیالات، کیا خبریں، کیا تفریح، کیا کھیل، کیا جنگیں، کس قسم کے جذبات ہماری ضرورت ہے، اس کا فیصلہ ہم نہیں کرتے۔ یہ سب پیدا کوئی اور کرتا ہے اور صَرف ہم۔!

ہمارے زمانے کا سب سے بڑا سچ اور اتنا ہی بڑاچیلنج یہ ہے کہ ہم ’علم اور معیشت‘ یا ’علم کی معیشت‘ کے زمانے میں زندہ ہیں۔ رومی ایمپائر، عثمانی ایمپائر، مغل ایمپائر، برٹش ایمپائر کا زمانہ لد گیا، اب علم کی عظیم الشان ایمپائر کا زمانہ ہے۔ اس زمانے کا آغاز اٹھارویں صدی میں ہوا۔ تب اسے صنعتی عہد کہا گیا۔ صنعتی عہد انسانی تہذیب کے سر میں پیدا ہونے والا ایک نیا گومڑ تھا، جس نے علم کی مدد سے سرمایہ پیدا کرنے کی کبھی ختم نہ ہونے والی پیاس سے آدمی کو آشنا کیا۔ انسانی تہذیب میں غالباً پہلی مرتبہ علم اور سرمائے میں ایک ایساتعلق استوار ہوا، جواساطیر میں ’بھنبھوڑنے والی ماں‘ یعنی Devouring Motherاور اس کے بچوں میں ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ علم اور سرمائے میں سے ’بھنھوڑنے والی ماں‘ کون ہے؟ علم ماں کی مانند سرمائے کو جنم دیتا ہے، اور سرمایہ علم کی تخلیق کے وسائل مہیا کرتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو کھائے جاتے ہیں، اور ان کی پیاس ہے کہ بجھنے میں نہیں آتی۔

جو کچھ ٹھوس ہے، ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے۔ جو کچھ مقدس ہے، اپنی حرمت کھو دیتا ہے

مجھے یہ ابتدا ہی میں یہ بات کہنے میں عار نہیں کہ علم کی تخلیق انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے؛ آزادی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ علم تعصبات، جہالت، احتیاجات، پیچیدہ سوالوں کی گھٹن سے آزادی دلاتا ہے۔ علم کے ذریعے سرمائے کی تخلیق میں بھی اصولاً کوئی حرج نہیں، حرج اگر ہے تو اس سرمائے اور اس کی پیدائش پر کچھ طبقوں، کمپنیوں، ملکوں کے اجارے میں ہے۔ اس اجارے کی وجہ سے انسانی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ محرومی و غربت کی زندگی بسرکرتا ہے۔ یہ طبقہ علم کی برکات سے یا تو محروم رہتا ہے، یا ان سے ادنیٰ سطح پر فیض یاب ہو پاتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ گلوبلائزیشن کی برکات سے درمیانے طبقے کا حجم بڑھا ہے (مغربی ممالک میں زیادہ اور ہمارے یہاں کم ) اور اس کی معاشی صورتِ حال بھی بہتر ہوئی ہے۔ نیز وہ ترقی کے ثمرات اور سیاسی عمل میں اپنا حصہ طلب کرنے لگا ہے۔

سرمائے کی خاطر علم کی تخلیق اور علم کے لیے سرمائے کی مسلسل فراہمی کو اوّل اوّل(1848 ءمیں) کارل مارکس واینگلز نے کمیونسٹ  مینی فیسٹو میں موضوع ِ بحث بنایا۔ مارکس نے صنعتی سرمایہ دارکو بورژوازی کا نام دیا۔ انھوں نے بورژوازی کی جو خصوصیات بیان کی ہیں، وہ حیرت انگیز طور پر گلوبلائزیشن کے خدوخال محسوس ہوتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ گلوبلائزیشن، خواہ کس قدر نئی صورتِ حال معلوم ہوتی ہو، حقیقتاً صنعتی عہد کی لازمی ارتقائی شکل ہے۔ مارکس لکھتے ہیں:

بورژوازی پیداوار کے آلات کو انقلابی طور پر تبدیل کیے بغیر نہیں رہ سکتا، جس کے نتیجے میں پیداواری رشتے اور سوسائٹی کے تمام رشتے تبدیل ہوتے ہیں تمام متعین، جلد منجمد ہوجانے والے رشتے، اپنے قدیم اور باوقار تعصبات و آرا مسترد کر دیے جاتے ہیں؛ اس سے پہلے کہ نئے رشتے کسی شکل میں ڈھلیں، ازرکاررفتہ ہوجاتے ہیں۔ جو کچھ ٹھوس ہے، ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے؛ جو کچھ مقدس ہے، اپنی حرمت کھو دیتا ہے۔ بورژوازی اپنی اشیا کے لیے مسلسل پھیلتی منڈی کی ضرورت کے تحت پورے کرہ ارض کو چھان مارتا ہے۔ اسے ہرجگہ گھسنا ہوتا ہے، ہر جگہ آبادہونا ہوتا ہے، ہر جگہ رابطے قائم کرنا ہوتے ہیں۔ بورژوازی نے عالمی منڈی تک رسائی کی خاطر اپنی اشیا اور ان کے صَرف کو کوسموپولیٹن خصوصیت دی ہے تاکہ وہ ہر ملک میں پہنچ سکیں پرانی ضرورتوں کی جگہ، جنھیں ملکی پیداوار پورا کرتی تھی، ہمیں نئی ضرورتیں نظر آتی ہیں جن کی تکمیل دور دراز کے ملکوں اور خطوں میں تیار اشیا سے ہوتی ہے۔

پرانی قومی خود انحصاری و تنہائی کی جگہ، ہم ہر سمت میں دور رس رابطے دیکھتے ہیں، قوموں کے ایک دوسرے انحصار کو آفاقی سطح پر دیکھتے ہیں۔ جو کچھ ہمیں مادی سطح پر نظر آتا ہے، وہ علم کی پیداوار میں بھی نظر آتا ہے۔ انفرادی قوموں کی علم کی تخلیق مشترکہ جائیداد بن گئی ہے۔ قومی یک سمتی اور تنگ نظری بیش از بیش ناممکن ہوگئی ہے، اور متعدد قومی و مقامی ادب میں عالمی ادب ابھر رہا ہے۔ (دی کمیونسٹ مینی فیسٹو، (ترجمہ سیموئل مور)، پلوٹو پریس ،لندن ،2008(1818)ص 38۔39)

گلوبالائزیشن کی اب تک جتنی تعریفیں کی گئی ہیں، وہ بڑی حد تک اسی اقتباس کی تشریح یا تعبیر ہیں۔ مثلاً یہ کہ گلوبلائزیشن اپنی اصل میں سرمایہ دارانہ ہے؛ قسم قسم کی صنعتی اشیا کو مسلسل پیدا کرنا، انھیں دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا، ان کے صَرف کے لیے نئی نئی انسانی ضرورتوں کی ’تخلیق‘ کرنا، ان کے لیے ذہن سازی کرنا، قوانین بنانا، قومی حکومتوں کے کردار کو کم کرنا، ثقافت و زبان کو بروے کار لانا، گلوبالائزیشن کی خصوصیات ہیں۔ اشیا، ٹیکنالوجی، لوگوں، خیالات، خبروں، کتابوں کی ہر سمت اور محیر العقول تیز رفتاری کے ساتھ  نقل و حرکت، گلوبالائزیشن ہے۔ لیکن یہ ساری نقل وحرکت مساویانہ نہیں۔ لہٰذا دنیا کا یک حصہ پروڈیوسر ہے اور دوسرا حصہ کنزیومرہے؛ ایک حصہ خالق و حاکم ہے اور دوسرا محکوم وصارف ہے۔ دنیا بھر کی اشیا، زبانوں، ثقافتوں کی آزادانہ نقل و حرکت نہیں، بلکہ مغربی دنیا( بالخصوص امریکا ،ہالی ووڈ، میکڈونلڈ،امریکی پالیسی) کی اشیا کی یک طرفہ نقل ہے باقی دنیا کی طرف۔

دنیا کو عالمی گاﺅں کہا جاتا ہے، بلکہ اب تو عالمی ڈرائنگ روم کہاجانے لگا ہے، مگر اس میں جو کچھ ہے، مغربی، امریکی ہے۔ کسی زمانے میں صرف صوفے افرنگی تھے اور قالین ایرانی ہوا کرتے تھے، مگر اب کھانے پینے، پہننے، سننے، پڑھنے، وقت کا حساب رکھنے، روزمرہ رابطوں اور معلومات تک رسائی کے ذرائع، نام نہاد قومی پالیسی بنانے، خیالی جنت کا نقشہ تیار کرنے، اور جنت ِ ارضی کو لاحق خطرے سے نمٹنے تک کے سب نسخے، طریقے امریکی ہیں۔

اس حقیقت کے خلاف محض شدید ردّعمل ظاہر کرنے سے پہلے، یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ میرے ہی کمرے میں، جو اس دنیا میں واحد جگہ ہے جسے میں ’اپنا‘ کَہ سکتا ہوں(دنیا میں کتنے لوگ ہیں جن کے پاس اپنے کمرے ہیں، خصوصاً عورتوں کے پاس؟)،اس قدر ’غیر‘ کیوں بھرا ہوا ہے؟ اس کا جواب بے حد سادہ ہے۔ مغرب و امریکا نے سرمایہ داریت کی ’روح‘ پر عمل کرتے ہوئے علم، ٹیکنالوجی کی مسلسل تخلیق کی ہے، اور اسے ہر جگہ پہنچایا ہے، یعنی ان کی گلوبالائزیشن کی ہے۔ کریانے کی ایک چھوٹی دکان سے لے کر بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور تک گلوبل اشیا سے بھرے ہیں۔ ہمارے بازاروں میں ہمارا کیا ہے؟ اور جو تھوڑا بہت ہے، اس کا معیار کیا ہے، نیز ان سے متعلق ہماری رائے کیا ہے؟ ہم خود اپنی چیزوں کو کتنا اپنا سمجھتے ہیں؟ ہم باہر کی دنیا میں اپنی ’مقامیت‘ یاNativity کا واویلا کرتے ہیں، اور ہمدردی حاصل کرتے ہیں، اور کچھ مالی فائدے بھی سمیٹتے ہیں، لیکن خود اسے کہاں تک قبول کرتے ہیں، اور اس کی ترقی کے لیے کیا کسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...