کڑے اور مشکل وقت میں ہماری سماجی اخلاقیات کے نمونے

ہمارے جیسے زوال پذیر یا زوال شدہ معاشروں میں اخلاقی اقدار اور انسانی جذبات کی صورتیں بھی بگڑتی اور خراب ہوتی چلی جاتی ہیں، اور لوگوں نے اچھائی یا برائی سے متعلق اپنی رائے قائم کرنے کے لیے عجیب و غریب پیمانے بنائے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہر…

ہمارا سماجی شعور جذباتی بیانیوں کا اسیر ہے

ہمارے سماج میں سیاست اور سیاستدانوں کو کارکردگی کی بنیاد پر نہیں تولا جاتا، بلکہ سب کے  اپنے اپنے ’فین کلب‘ ہیں اور یہیں تک ایک عام سماجی شعور کام کرتا ہے کہ اپنی جماعت کی حمایت کرو، کیونکہ اس کے مطابق اسی سے انقلاب آئے گا۔ اس عام سوچ کا…

دوسروں کے بارے رائے قائم کرنے کا شوق

ہم سب دوسروں کے متعلق ایک رائے رکھتے ہوتے ہیں اور اس پر پختگی سے قائم بھی ہوتے ہیں۔ ہم دوسروں کا محاسبہ بھی شوق سے کرنا چاہتے ہوتے ہیں۔ لیکن اپنی ذات اور اس کی خامیوں کو بھول جاتے ہیں۔ اپنا تزکیہ نہیں ہوتا، لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہم سب اپنی…

متبادل مسیحا کی تلاش

شیخ ابراہیم ذوق کا کہنا ہے: اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نا پایا تو کدھر جائیں گے یہ شعر انسان کی فطرت کا صحیح عکاس ہے۔ یہ درست ہے کہ موجودہ صورتِ حال سے انسان کبھی مطمئن نہیں ہو تا، بالخصوص ایک ایسے معاشرے میں کہ…

80 کی دہائی کا اسلام، اکیسیوں صدی اور ہم شہری

میں جب یہ کہتا ہوں کہ ہمار ے اداروں میں 80 کی دہائی سے پہلے کا ماحول ہونا چاہیے تو بہت سے لوگوں کو میرے اسلام اور مسلمانیت پہ شک ہونے لگتا ہے۔ ان کا خیال ہے بھٹو کا زمانہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ساز گار نہیں تھا اور ضیاءالحق صاحب کا…

ہمارے ہاں ’کمیونٹی سنٹر‘ کا تصور

ہمارے معاشرے میں سماجی سرگرمیوں اور اخلاقیات و روحانیت کے اداروں کو کمیونٹی سنٹر سے زیادہ ہسپتال اور کلینک خیال کیا جاتا ہے۔ کمیونٹی سنٹر اور ہسپتال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کمیونٹی سنٹر آپ کی ذہنی، نفسیاتی صحت کا خیال کرتا ہے۔ جہاں آپ…

مثالیت پسندی کے نام پہ جمہوری عمل کے راستے میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں

جمہوریت اور سماج کا باہمی تعلق کیا ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کر نے سے بہت سے فکری مغالطے دور ہوجاتے ہیں۔ ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے دیکھنے اور گفتگو کرنے سے کبھی بھی اشکالات دور نہیں ہوتے۔ جمہوریت پہ جتنے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں اس کی…

ہمارے مذہبی رویے تحقیق پر نہیں، بلکہ تاریخ پر استوار ہیں

پہلے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں، اور اس کا مقصد بلا کسی مسلکی رجحان پر زور دینے کے، صرف اور صرف یہ سمجھنا ہے  کہ بطور سماج بغیر کسی مسلکی و مذہبی تفریق کے، ہمارا مجموعی رویہ مذہب اور مذہب کے نام پہ پختہ ہوچکی ثقافت کے حوالے سے کیسا بن چکا…

ڈاکٹر عامر لیاقت تو چلے گئے لیکن کچھ سوال چھوڑ گئے

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین گزشتہ روز 9 جُون 2022ء بروز جمعرات و فات پا گئے۔ تادمِ تحریر اُن کی وفات کی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی۔ دنیا سے جانے والا اپنی یادیں چھوڑ جاتا ہے۔ یہی یادیں ہیں جن سے زندہ لوگ بہت کچھ کشید کرتے اور مرنے والے کی باتوں سے…

اخلاق اور دیانتداری، سیاسی تعصب کی نذر ہو رہے ہیں

ہماری ایک عزیزہ جو بیرون ملک رہتی ہیں اور پی ٹی آئی کی شدید حامی ہیں۔ وہ مجھے کچھ ماہ پہلے کثرت سے عمران خان کے حق میں پوسٹیں بھیجا کرتی تھیں۔ میں نے اُن سے اُن پوسٹوں کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا کہ اِن کی حقیقت کیا ہے؟ یہ کہاں سے آپ…