اصلاحات اور قانونی کاروائیوں کے عمل کو انجام تک پہنچانا ضروری ہے

172

انسداد دہشت گردی کے ادارے نے کالعدم تنظیم جماعۃ الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو گزشتہ روز گرفتار کرلیا ہے۔ اپنے چند دیگر ساتھیوں سمیت ان کو پاکستان میں 23 مقدمات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ منگل کی رات آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے مدارس اصلاحات کے حوالے سے جی ایچ کیو میں علما کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی۔ مفتی نعیم کے مطابق آرمی چیف نے انہیں یہ یقین دہائی کرائی کہ وہ ذاتی طور پہ اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ حکومتی اقدامات سے مدارس پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں، البتہ ایسے مدارس جو نفرت اور فرقہ واریت کا پرچار کریں گے انہیں بند کردیا جائے گا۔

پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف اس طرح کی وقتی کاروائیاں اگرچہ معمول کا حصہ سمجھی جاتی ہیں لیکن پچھلے کچھ عرصے سے جس طرح ملک میں اصلاحات اور کاروائیوں کا دائرہ بڑھایا گیا ہے اس سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ریاست بڑی حد تک اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے آمادہ ہے۔ اس پیش رفت کا سبب ایف اے ٹی ایف کا دباؤ، افغانستان سے متوقع امریکی فوجی انخلا سے قبل پاکستان سے شدت پسند عناصر کے خاتمے کا امریکی و بھارتی مطالبہ اور چین کی اپنے مفادات کے لیے محفوظ و پرامن پاکستان کی خواہش، بتایا جاتا ہے۔ یوں ہم ایسے مرحلے پر کھڑے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

مدارس اصلاحات کے حوالے سے حکومت صرف چند علما پر تکیہ نہ کرے، خصوصاََ وہ جو پہلے سے ہی سیاسی یا تنظیمی سرگرمیوں   کے حوالے سے متحرک ہیں۔ ایک ایسی غیرجانبدار کمیٹی تشکیل دی جائے جو دیہی وشہری تمام مدارس تک براہ راست خود تبدیلی کے اثرات کی رسائی مساوی طور پہ یقینی بنائے۔ اس تمام عمل کی بہتر طریقے سے نگرانی کی جائے کیونکہ یہ ایک بیانیے سے دوسرے بیانیے کی جانب انتقال ہے جس کے نتائج کا مستقبل میں سامنا کرنا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے حامل ہزاروں مدارس میں اصلاحات کا ایک ایجنڈا سودمند و کامیاب طریقے سے لاگو کرنا آسان نہیں ہے اور نہ اس بات کی ضمانت موجود ہے کہ مذہبی طبقے کے ان نمائندگان کی سربراہی میں مطلوب ثمرات کا حصول یقینی ہوگا۔

ملک کو دہشت گردی اور شدت پسندی سے پاک کرنے کے لیے جن کوششوں کا آغاز کیا گیا ہے انہیں انجام تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ اگر اس منصوبے کو تکمیل تک نہ پہنچایا گیا تو زیادہ خطرناک مسائل جنم لیں گے۔ کیونکہ وہ عناصر جو خود کو ریاست کے قریب سمجھتے تھے یا ان کی سرگرمیوں سے صرف نظر کیا جاتا تھا وہ ریاست پر دوبارہ اعتماد نہیں کریں گے اور وہ اپنے تحفظ کے لیے متبادل راستے تلاش کریں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اصلاحات اور قانونی کاروائیوں کے عمل کو انجام تک بھی  پہنچایا جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...