یورپ: وحدت کے خواب سے شناخت پسند سیاست تک

352

یورپ کو دنیا میں ہم آہنگی اور اتحاد کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سخت ترین اختلافات اور جنگخوں کی تاریخ کو بھلا یا جانا ممکن ہوتا ہے۔ سیاست، معیشت اور امن و امان پر باہمی تعاون ممکن بنایا جاسکتا ہے اور ایک مشترکہ پالیسی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ یہ یورپی ممالک کی عوام کا خواب تھا جو 1952ء میں کوئلے واسٹیل کمیونٹی کی بنیاد رکھنے کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ لیکن کیا اس خواب کی عملی تعبیر مستقبل میں بھی باقی رہے گی یا حالات بدل رہے ہیں تو نئے سماجی معاہدہ کے ساتھ ایک نیا یورپ سامنے آنے کو ہے؟

سخت گیر دائیں بازو کی اور نسل پرست جماعتوں نے یورپ کو بدلنے کا عزم کیا ہے۔ یورپ میں یہ عناصر کیسے وجود میں آئے اور کامیاب ہوئے اس کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ سخت گیر دائیں بازو کی جماعتوں نے نوے کی دہائی میں اس وقت سر اٹھانا شروع کیا جب سوویت یونین کے ٹکڑے ہوئے، نتیجہ میں چھوٹے چھٹے ممالک منصہ وجود پر آئے جن کا قومی و نسلی شناختوں پر اصرار بہت زیادہ تھا۔ اس کے اثرات یورپ میں بھی ظاہر ہوئے اور وہاں خاص فکر کے حامل عناصر نے شناخت پسند سیاست کے بیج بو دیے۔ سرد جنگ کے بعد دنیا میں علیحدگی کی تحریکوں نے بھی یورپ کو متأثر کیا۔ 2008ء میں کوسووو کی سربیا سے علیحدگی اور 2011ء میں سوڈان کی تقسیم نے بھی یورپی باشندوں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کیا۔ اس کےعلاوہ مہاجرت، دہشت گردی اور مسلم مذہبی آئیڈیالوجی نے یورپی سماج میں شناخت پسند جماعتوں کے لیے جگہ بنانے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ 2008ء کے اقتصادی بحران اور بے روزگاری کو بھی یورپ کا عام آدمی مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ جوڑتا ہے، جو زیادہ تر مسلمانوں کی ہے۔ اس اقتصادی بحران کے بعد یورپ میں کئی نئی سخت گیر جماعتیں بھی وجود میں آئیں جنہوں نے تھوڑے ہی وقت میں غیرمعمولی طاقت وکامیابی حاصل کرلی۔ مثال کے طور پہ جرمنی میں الٹرنیٹو فار جرمنی نامی سیاسی جماعت کی 2013ء میں بنیاد رکھی گئی، اسی سال ا س نےانتخابات میں بھی حصہ لیا مگر پانچ فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ 2017ء کے عام انتخابات میں اس نے پارلیمان میں 94 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرلی اور یہ اب جرمنی کی تیسری بڑی سیاسی پارٹی ہے۔ اس کے منشور میں معیشت اور مہاجرت کے مسائل سرفہرست ہیں۔ سیاسی وسماجی تحریکوں کے علاوہ یورپ کے فکری وصحافتی حلقوں میں بھی شناخت پسند عناصر موجود ہیں۔

سخت گیر جماعتیں معیشت اور امن سے جڑے پیچیدہ سوالات کا سادہ سا جواب دیتی ہیں جس پہ یورپ کا عام آدمی یقین کر رہا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اپنے تحفظ اور حقوق کے لیے یورپ اور اس کی عوام کے ساتھ براہ راست مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جوروایتی طرز سے ہٹ کر اور نئے اسلوب میں ہو۔ مسلمانوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ یورپ کے لیے خطرہ نہیں ہیں

شناخت کی سیاست میں ایک اہم عنصر مذہب کا بھی ہے۔ یورپ میں مذہب اگرچہ انفرادی معاملہ ہے۔ اسے اجتماعی وانتظامی امور کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا لیکن پچھلے چند سالوں سے صورتحال تبدیل ہو رہی ہےاور اس بِنا پر یہ سوال کیا جارہا ہے کہ کیا یورپ مسیحی ہوسکتا ہے؟ فرنچ مفکر اولیور رائے کی نئی کتاب اسی عنوان کے تحت آئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ یورپ میں مسیحیت بطور ایمان،عقیدہ واقدار کے موجود نہیں ہے لیکن یہ مذہب ایک اور صورت میں ظاہر ہوا ہے جسے وہ محض شناختی علامت کہتے ہیں۔ یعنی کہ مسیحیت بطور نظری شناخت کے سر اٹھا رہی ہے۔ اولیور رائے کے مطابق یورپ میں مذہب کی جدید اٹھان مذہب اسلام اور اس کے نام پر دہشت گردی کے باعث ہو ئی۔ اس میں داعش اور القاعدہ جیسی جماعتوں کا اہم کردار ہے۔ یہ منظرنامہ کم وبیش ویسا ہی ہے جیسے انڈیا کا، کہ وہاں بھی مذہب اسی شکل میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔

یورپ کی بڑی اور لبرل سیاسی جماعتوں کی فکرمیں بھی تغیر واقع ہو رہا ہے۔ یورپی اتحاد میں جرمنی اور فرانس بڑی طاقتیں ہیں اور اس اتحاد کو قائم رکھنے کے سب سے بڑے حمایتی بھی۔ لیکن ان کے مابین جدید یورپ کی ہیئت کے حوالے سے اختلاف موجود ہے۔ فرانس قومی شناختوں کی مزید تحلیل کا قائل ہے۔ فرانسیسی صدر یہ مطالبہ بھی کرچکے ہیں ہیں کہ  یورپی اتحادی مشترکہ فوج بھی بنائی جائے۔ لیکن ان  کے برخلاف انجلینا میرکل کے بعد بننے والی کرسچن ڈیموکریٹک یونین آف جرمنی کی نئی سربراہ کرمپ کرمباور متعدد بار یہ کہہ چکی ہیں کہ یورپی اتحاد قائم رہنا چاہیے لیکن قومی شناختوں کے تحفظ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک آرٹیکل لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’یورپی اتحاد کی درست تشکیل کا راستہ‘‘ جس میں انہوں نے ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مہاجرت پر ایک سیمینار میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بہت سبق سیکھ لیا ہے، ہم انسانیت اور اپنا تحفظ دونوں کو ترجیح دیں گے۔ اس سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یورپ کی بڑی اور وسیع خیالات کی حامل جماعتیں بھی کم ازکم قومی شناختوں کی حد تک حساس ہورہی ہیں۔

یورپ کے بدلتے حالات میں جہاں عمومی طور پہ سارا یورپی سماج متأثر ہوسکتا ہے وہاں مسلمانوں کے لیے زیادہ بڑا چیلنج ہے۔ یورپ میں 21 ملین مسلم رہتے ہیں۔ اس حساس موڑ پر ان کی زیادہ تر تگ و دو دائیں بازو کی جماعتوں اور سفید فام نسل پرستوں پہ تنقید تک محدود ہے۔ سیکولرازم اور انسانی حقوق کی اصطلاحوں کا سہارا لے کر تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ یہ نعرے بائیں بازو کی جماعتیں بھی لگا چکی ہیں اس کے باوجود شناخت پسند سیاست مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ سخت گیر جماعتیں معیشت اور امن سے جڑے پیچیدہ سوالات کا سادہ سا جواب دیتی ہیں جس پہ یورپ کا عام آدمی یقین کر رہا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اپنے تحفظ اور حقوق کے لیے یورپ اور اس کی عوام کے ساتھ براہ راست مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جوروایتی طرز سے ہٹ کر اور نئے اسلوب میں ہو۔ مسلمانوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ یورپ کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ اس کے لیے مسلم دنیا کا کردار بھی اہم ہے۔

اگلے ماہ یورپی یونین کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ پیشین گوئی کی جارہی ہے کہ سخت گیر جماعتیں اکثریت حاصل کرلیں گی۔ اگر انتخابات سے قبل یورپ میں کوئی بڑا سانحہ رونما ہوتا ہے تو شناخت پسند گروہوں کی کامیابی یقینی ہوسکتی ہے۔ بہرحال مئی کے انتخابات کے بعد کیسا یورپ سامنے آئے گا،اس بارے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ شاید ویسا تو نہیں جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...