ایف اے ٹی ایف کی شرائط اور پاکستان کی مشکلات: گرے لسٹ یا بلیک لسٹ؟

خلیق کیانی

ممکن ہے کہ یہ کوئی اتفاقیہ امر نہ ہو کہ گذشتہ ہفتے پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور پیرس میں قائم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے علاقائی دفتر ایشیا پیسیفک گروپ سے آئے ہوئے وفد کی میزبانی کی۔ ان تمام مہمانوں کی ایک ہی وقت آمد سے ہمیں اس صورتحال کا چہار جانب اندازہ لگانے میں مدد ملی ہے کہ ہمارے پاس غیر ملکی قرضے کی واپسی کے لئے کس قدر صلاحیت موجود ہے، ہم نے منی لانڈرنگ کے انسداد کی کوششوں میں کس قدر کامیابی حاصل  کی ہے اور ہم دہشتگردوں کی مالی امداد روکنے میں کتنے مؤثر ثابت ہورہے ہیں۔

پاکستان کے لئے عالمی مالیاتی دارے کے چیف مشن ارنسٹو رامیریز ریگو نے گزشتہ ہفتے پاکستان کا 2 روزہ دورہ کیا جس میں انہوں نے اعلیٰ سطحی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے دورے کا مقصد اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ کیا پاکستان نے آئی ایم ایف  کے اس بیل آؤٹ پیکج میں شامل ہونے کے لئے ضروری تیاری مکمل کرلی ہے جو آئندہ 3 سے 4 ہفتے میں جاری کردیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے جس روز آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچا۔ اسی روز ایشیا پیسیفک گروپ کا ایک نمائندہ وفد 3 روزہ دورے پر پاکستان پہنچا تھا۔ اس وفد نے اپنا دورہ پاکستان آئی ایم ایف کے وفد سے ایک دن بعد مکمل کیا۔ امکانات ہیں کہ اس دوران ایف اے ٹی ایف کی جانب سے عائد پاکستان پر شرائط کی سختی سے جانچ پڑتال کی گئی اور ان 8 تنظیموں کے خلاف پاکستانی کاروائی کا جائزہ لیا گیا جنہیں اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

اگرچہ اس پر کوئی باقاعدہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم اس دورے کے مندرجات سے آگاہ افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پہ بیان کیا ہے کہ دورے کے اختتام پہ ایشیا پیسیفک گروپ نے پاکستان کی جانب سے عالمی اداروں سے کئے گئے وعدہ کی پاسداری کے لئے لازمی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ اس دوران انہوں نے دہشتگردی کےخلاف پاکستانی اقدامات میں تضادات کی نشاندہی کی اور اسٹیک ہولڈرز کے مابین رابطہ کاری کو بھی غیر تسلی بخش قراردیا۔ ایشا پسیفک گروپ نے مختلف حکومتی سطح پہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین تعاون کے فقدان کی نشاندہی کی اور کالعدم تنظیموں کے مالیاتی نظام کو روکنے کے لئے سرکاری کوششوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ان پر تحفظات کا اظہار کیا۔ تاہم وہ اس سارے معاملے میں وفاق کی سطح پر کی جانے والی کاغذی کاروائی سے مطمئن نظر آئے جس میں کالعدم تنظیموں کے متعلق قانون سازی، حد بندی، معلومات کا حصول اور ان کے متعلق انتباہات شامل ہیں۔ حکومت اور فوجی انتظامیہ اس اعلیٰ سطح کے وفد کے دورے اور اس کے اثرات کے متعلق متفق نظر آتے ہیں۔ انہوں نے وفد کے شرکا کو یہ وضاحت مؤثر طریقے سے کی کہ وہ اس صورتحال اور اس کے مضمرات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں کہ پاکستان کو عالمی برادری کی شکایات کے ازالے سے ضروری اقدامات کرنے ہوں گے۔ پوری قیادت نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام ادارے مل کر پاکستان میں سے دہشتگرد عناصر کا مکمل صفایا کریں گے اور اس میں درپیش مشکلات پر قابو پائیں گے ۔

اگرچہ اس پر کوئی باقاعدہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم اس دورے کے مندرجات سے آگاہ افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پہ بیان کیا ہے کہ دورے کے اختتام پہ ایشیا پیسیفک گروپ نے پاکستان کی جانب سے عالمی اداروں سے کئے گئے وعدہ کی پاسداری کے لئے لازمی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور سیکرٹری خزانہ کو اس معاملے میں ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ متعلقہ اداروں میں موجود مسائل کی نشاندہی کریں اور جن شعبوں میں کوتاہی ہو رہی ہے ان میں بہتری لائیں تاکہ اپریل کے تیسرے ہفتے میں ایف اے ٹی ایف کو ایک جامع رپورٹ پیش کی جاسکے۔ تکنیکی بنیادوں پر وزارت خزانہ کی ٹیم نے آئی ایم ایف کی طے شدہ شرائط میں سے نصف پر عملدرآمد کردیا ہے، ملک میں گیس اور بجلی کے نرخ بڑھا دیئے گئے ہیں، دسمبر 2017 سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 33 فیصد کمی کردی گئی ہے۔ مرکزی بینک کے پالیسی ریٹ میں 450 پوائنٹس تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے اطمینان کے لیے دوسرے مرحلے کے دوران جب مالی سال 2019 – 2020 کا بجٹ پیش کیا جائے گا تو ملکی آمدن میں اضافے کے لئے مزید بندوبست  کئے جائیں گے۔

آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف، دو مختلف کردار کے حامل ادارے ہیں اور دونوں ہی ادارے کثیر الجہت اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ دونوں آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ ان دونوں اداروں کے فیصلوں پر کبھی جیوپولیٹیکل حالات اور کبھی بڑی طاقتیں اپنے ووٹ کے بل بولتے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ تاہم ان دونوں اداروں کے اہداف و مقاصد ایک دوسرے سے ملتے جلتے  بھی ہیں۔ آئی ایم ایف، جس کا صدر دفتر امریکہ کے دارلحکومت واشنگٹن میں ہے۔ اس کی حالیہ سربراہ ایک فرانسیسی خاتون کرسٹین لیگارڈ ہیں۔ آئی ایم ایف کی ذمہ داری میں ممبر ممالک کو تکنیکی اور مشاورتی مدد کے علاوہ بڑے معاشی بحران میں قرضہ فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ اس کی انتظامیہ بورڈ آف گورنرز کے تحت چلتی ہے جس میں سب سے زیادہ ووٹنگ کے اختیارات امریکہ کے پاس 16 اعشاریہ 5 فیصد، اس کے بعد جاپان 6 اعشاریہ 15 فیصد، پھر چین کے پاس 6 اعشاریہ 9 فیصد، اس کے بعد جرمنی کے پاس 5 اعشاریہ 32 فیصد جبکہ فرانس اور برطانیہ کے پاس مساوی ووٹنگ اختیارات 4 اعشاریہ  3 فیصد ہیں۔ آئی ایم ایف میں جرمنی، برطانیہ اور فرانس عام طور پر امریکہ کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

اس  کے برعکس اتفاقیہ طور پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا صدر دفتر فرانس کے دارلحکومت پیرس میں واقع ہے۔ اس ادارے کے موجودہ سربراہ کا نام مارشل بلنگسلیا ہے اور ان کا تعلق امریکہ سے ہے۔ مسٹر بلنگسلیا اس سے پہلے امریکی محکمہ خزانہ میں ٹیررسٹ فنانسنگ اینڈ فنانشل کرائمز آفس کے اسسٹنٹ سیکرٹری کے طورپر اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی موجودہ ذمہ داریوں میں ادارے کی پالیسی ترتیب دینا اور اینٹی منی لانڈرنگ / کاؤنٹڑنگ فنانسنگ آف ٹیرر ازم پرعالمی ممالک کو اعتماد میں لینا شامل ہے۔ انہیں اس ادارے کی صدارت گزشہ سال جون میں سونپی گئی جب پاکستان کو اپنی تزویراتی ذمہ داریوں میں کوتاہی کی پاداش میں ’’گرے لسٹ‘‘ یا ’’زیر نگرانی لسٹ‘‘ میں شامل کیا گیا تھا۔ آئی ایم ایف کے بعض شراکتداروں کے مطابق اس فیصلے میں ان کا کردار بہت اہم تھا۔

یہ امر باعث حیرت نہیں ہے کہ بعض ماہرین یہ مانتے ہیں کہ اس خطے میں امریکی  جیو پولیٹیکل مفادات  کا زیادہ تعلق پاکستان کے آئی ایم ایف سے قرض اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجودگی سے جڑا ہے، اسے پاکستان کے مالی بحران یا اینٹی منی لانڈرنگ / کاؤنٹڑنگ فنانسنگ آف ٹیررازم  کے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے زیادہ دلچسپی نہیں  ہے ۔

دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بنک کی موسم بہار میں متوقع سالانہ ملاقات 12 تا 14 اپریل کو واشنگٹن میں ہورہی ہے۔ اس ملاقات کے دوران ممکنہ طور پر  وزیر خزانہ اسد عمر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ڈائریکٹرز کو اس امر پہ قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ پاکستان کے لئے جلد ہی آئی ایم ایف مشن کا آغاز کریں۔ انہیں توقع ہے کہ وہ اگلے بجٹ کے لئے مئی تک ایک بیل آؤٹ پیکج لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اسی اثناء میں پاکستان ایف اے ٹی ایف کو اپنی نئی رپورٹ پیش کرے گا جس میں ادارے کی جانب سے عائد شرائط پر پاکستانی پیش رفت کے بارے میں اسے آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد ایف اے ٹی ایف پاکستانی رپورٹ کی جانچ ایشیا پیسفک گروپ کے حالیہ مشاہدے کی روشنی میں کرے گا ( مئی کے مہینے کے دوران اسی دوران میں آئی ایم ایف کا فیصلہ بھی سامنے آجائے گا)۔ پھر اس کے بعد ایف ے ٹی ایف میں پاکستان کی  ”اینٹی منی لانڈرنگ / کاؤنٹرنگ فنانسنگ آف ٹیررازم ” کے لئے کی گئی کوششوں کے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

رواں سال جون میں ایف اے ٹی ایف کے سربراہ کی مدتِ صدارت مکمل ہوجائےگی۔ اتفاقیہ طور پر جون ہی کے مہینے میں یہ فیصلہ بھی ہوگا کہ پاکستان کا نام ”گرے لسٹ ” میں باقی رکھا جائے یا نکال دیا جائے، یا یہ کہ ستمبر 2019 تک بلیک لسٹ کردیا جائے۔

مترجم: شوذب عسکری، بشکریہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...