مسلم دنیا کا فیمینزم

فیمینزم کی اصطلاح پہلی مرتبہ اُنیسیوں صدی میں 80کی دہائی کے دوران سامنے آئی۔ اس کا سب سے پہلے استعمال فرنچ مصنفہ Hubertine Auclert نے اپنی کتاب ’شہریت‘ میں کیا، ان کا کہنا تھا کہ مرد و عورت کے مابین امتیازی فرق کا خاتمہ انقلابِ فرانس کا ایک…

فقیہ یا دانشور؟

نوآبادیاتی عہد میں جب مسلم سماج کا تعارف جدید ریاستی نظم اور اس کی اقدار سے ہوا تو اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ ترقی کے نئے مرحلے کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے روایتی فکری و انتظامی خدوخال کے حامل دائروں سے باہر نکلنا ہوگا۔ جدید…

مسلم سماج اور طبقاتی فکری حقوق

کولمبیا یونیورسٹی میں پروفسیر سلیمان بشیر دیان نے اپنی کتاب اسلام اینڈ اوپن سوسائٹی میں لکھا ہے کہ علامہ اقبال نے ایک دفعہ اپنے احباب میں سے کسی سے کہا کہ اگر میری کتاب the reconstruction of religious thought in islam عباسی خلیفہ مامون کے…

مسلم دنیا کے سینما اور مذہبی تشخص کی صورت گری

مذہب اور فنونِ لطیفہ کا تعلق اتنا قدیم ہے جتنا کہ یہ دونوں شعبے۔ قدیم دور سے دینی شعائر اور اس کے مختلف عملی و اخلاقی  مظاہر و تعلیمات کا فنونِ لطیفہ کی متنوع صورتوں میں اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ بلکہ آرٹس کی چند نمایاں شاخیں مذہبی میلانات و…

کوالالمپور سمٹ: سیاسی اسلام کے احیاء کا خواب؟

گزشتہ ہفتے چار دنوں پر محیط کوالالمپور سربراہی اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس دوران سمٹ کے اغراض ومقاصد اور اثرات کے حوالے سے کافی گہماگہمی رہی۔ بالخصوص خلیجی ممالک کی جانب سے اس پر تنقید ہوئی۔ اجلاس میں ایرداوان کی طرف سے پاکستان کے شرکت…

لبرل آرٹس کی تعلیم ناگزیر ہے

جمہوریت، طرزِ حکومت سے پہلے طرزِ زندگی ہے جس کی اولین اساس آزادانہ سوچنے، سیکھنے اور اظہار کرسکنے کی صلاحیت کا مضبوط ہونا ہے۔ اس صلاحیت کی پرورش تعلیمی ادارے کرتے ہیں اور صرف وہی کرسکتے ہیں۔ یعنی کہ جمہوریت کا حقیقی محافظ کوئی دستاویز یا…

اُمید کی ثقافت زندہ کریں

تہذیب و ترقی اور بالادستی کے استعارے کے طور پہ مشرق ومغرب کی روایتی تقسیم رفتہ رفتہ اپنی معنویت اور حیثیت کھو رہی ہے۔ گلوبلائزیشن کے اثرات اور اس کے پیداکرہ مواقع نے طاقت و ترقی کے توازن اور ان کے مراکز میں بدلاؤ پیدا کیا ہے۔ یوں تو دنیا…

مذہبی طبقے کی گروہ بندی اور طاقت کے مظاہرے کارجحان

مجموعی طور پہ مذہبی حلقے کی ادارہ جاتی حیثیت اسے امتیازی مقام عطا کرکے علامتی سیاسی بالادستی کا حامل بناتی ہے۔ یہ ادارہ جاتی حیثیت دو طرح سے متشکل ہوتی اور کردار ادا کرتی ہے۔ ایک تو دعوتی حیثیت میں کہ وہ مثالیت پسند دین کی تبلیغ کرتی ہے،…

مذہبی طبقے کی ادارہ جاتی حیثیت اور علامتی سیاسی بالادستی

دینِ اسلام میں پاپائیت نہیں ہے، لیکن مذہبی طبقے کے اندر ایک نوع کی بالادستی کی نفسیات راسخ ہے جو اسے پاپائیت کی حیثیت تو عطا نہیں کرتی تاہم اس کے اندر عوامیت کا احساس بھی موجود نہیں ہے۔ مذہبی طبقہ خود کو عوام کا حصہ شمار نہیں کرتا۔ عوام…

مذہبی جماعتیں اور شناخت کی سیاست

مسلم دنیا کی مذہبی سیاسی جماعتوں کے اندر ماضی قریب سے ایک نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے کہ وہ اب اپنے عوامی بیانیوں میں پہلے کی طرح نفاذشریعت کا مطالبہ نہیں کرتیں، کم ازکم اس اسلوب میں نہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے تک کرتی آئی ہیں۔ سیاسی اسلام کی…