پاکستان میں حقوق کی جدوجہد

پاکستان میں حقوق کی صورتحال مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر پیچیدہ اور تشویشناک ہے۔ لیکن ان میں سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ پاکستانی ریاست اور معاشرہ شاید ابھی تک انسانی حقوق کے اس تصور کا مکمل طور پر قائل ہی نہیں ہوپایا جس کا ابلاغ اور ترویج زیادہ تر مغربی دنیا کی طرف سے ہوتا ہے۔ایک طرح سے حقوق کی جدوجہد کو پاکستان میں اسی طرح کی مشکل درپیش ہے جس کا سامنا ایک مذہبی رجحانات رکھنے والی جدید قومی ریاست کو ہوسکتا ہے۔
پاکستان کا آئین بنیادی انسانی حقوق کا ایک مفصل خاکہ پیش کرتا ہے جس میں پاکستان کے شہریوں کو بغیرکسی مذہبی یا دیگر امتیازات کے کم وبیش وہ تمام آزادیاں میسر ہیں جوجدید دنیا کے کسی بھی ملک میں ہوسکتی ہیں۔لیکن ان پر کس حدتک اور کیسے عمل ہو رہا ہے ،یہ بات قابلِ بحث ہے۔ مثال کے طور پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP)نے 9 دسمبر2018 ء کو ’’انسانی حقوق کے عالمی منشور (UDHR)‘‘کے ستر سال پورے ہونے کی نسبت سے لاہور میں پاکستان کی صورتحال کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس کا انعقاد کیا۔ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر دیگر ممالک کی طرف سے پیش کیے جانے والے خدشات اور سفارشات میں بڑی تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ اور تأثر کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ UDHR کا دستخط کنندہ ہونے کی حیثیت سے یہ ریاست کی ذمہ داری بھی ہے۔
یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں حقوق کی جدوجہد اور ریاست کو بھی اس ضمن میں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں ۔خاص طور پر دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی ،قوانین اور پالیسیوں کے نفاذ ،متعلقہ استعداد کار کے مسائل،شعوروآگہی کی کمی ،وسائل کی قلت اور کمزور گروہوں کا تحفظ وغیرہ۔ فی الوقت حقوق کی جدوجہد کے مسائل کا بخوبی ادراک مذہبی اقلیتوں، عورتوں اور میڈیا کو درپیش خطرات سے ہوجاتا ہے۔

خاص طور پر جس طرح کچھ لوگ اور گروہ توہینِ مذہب کے قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں اس سے نہ صرف مذہبی اقلیتوں بلکہ اکثریتی مسلمان طبقے کے افراد کے حقوق بھی متأثر ہوتے ہیں۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ:
(الف) وہ آئین وقانون کا نفاذ بلاتفریق اور بغیر کسی مصلحت کے کرے ۔
(ب) کسی بھی طبقے کو مذہبی، لسانی، فرقہ وارانہ یا اسی نوعیت کے دیگر عوامل کی بنیاد پر لوگوں کے حقوق اور آزادیوں سے نہ کھیلنے دے۔
(ج) خود ریاست بھی کسی ایسے جواز کا سہارا لے کر حقوق پر قدغن نہ لگائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...