انصاف پسند استبداد کا تصور

288

ہمارے ہاں جب سیاسی نظم کی بات ہوتی ہے تو عوام کی اکثریت اگرچہ آمریت اور ڈکٹیٹرشپ کی مخالفت کرتی ہے، تاہم ان کے ہاں جمہوریت کے جدید نظم و اقدار کی واشگاف قبولیت و حمایت بھی نہیں پائی جاتی۔ اس حوالے سے بالخصوص ملک کے سربراہ اور حاکم کے اختیارات کے ضمن میں جو مثالیت پسند تصور پایا جاتا ہے وہ ایسے حکمران کا ہے جو سخت گیر، مکمل قوتِ تنفیذ کا مالک، مگر انصاف پسند ہو۔ جس طرح آجکل بعض لوگ یہ کہہ رہے کہ وزیراعظم عمران خان اس لیے کچھ نہیں کرپا رہے کہ وہ جمہوری نظم کے جنجال اور اس کے پھیلے ہوئے ڈھانچے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس ایسی مکمل اتھارٹی نہیں ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور کابینہ سے رجوع اور کسی نظام کے جھنجٹ میں پڑے بغیر اقدامات کرسکیں۔ کرپشن کو ختم کرنے میں بھی وہ عدلیہ سمیت کئی اداروں کے تارِعنکبوت میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اس طرح کی تمام باتیں اکثر اوقات جمہوریت کو موردالزام دے کر تو نہیں کی جاتیں لیکن یہ ضرب جمہوریت پر ہی ہوتی ہے۔ متعدد بار خود وزیراعظم بھی اس جانب اشارہ کرچکے ہیں کہ اگر وہ اس جھنجھٹ میں نہ پھنسے ہوتے تو سب کچھ ٹھیک کرچکے ہوتے۔

حاکم اور سربراہ مملکت کے اس نوع کے تصور کو سماجیات کے ماہرین کے ہاں ’انصاف پسند استبداد‘ کی اصطلاح کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ تصور یورپ میں بھی رہا ہے۔ مگر اسلامی تاریخ اور سیاسی فقہ میں حاکم کا تصور عین یہی پیش کیا گیا ہے۔ یوں ایک اچھے اور کامیاب حاکم کی جو تصویر ہمارے ہاں عام مروج ہے اس کی تاریخی جڑیں ہیں۔ انصاف پسند استبداد کی اصطلاح اگرچہ پہلی بار 19ویں صدی میں جمال الدین افغانی نے استعمال کی تھی لیکن سیاسی فقہ میں حاکم کا جو تصور پیش کیا گیا ہے وہ اسی کی تفصیلی شکل ہے۔ یہ تصور ہمارے سماج میں اس قدر راسخ ہے کہ اکثر لوگ ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ ہمیں ایسے حاکم کی ضرورت ہے جو ڈنڈے سے سب کو سیدھا کردے، جو سخت گیر، مکمل قوت تنفیذ کا مالک، مگر انصاف پسند ہو۔

ایک ایسے خلیفہ کی جانب استبداد کی نسبت کرنا جس نے یہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ ’’تم نے کب سے لوگوں کو غلام سمجھنا شروع کردیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا ہے‘‘ سراسر ناانصافی ہے

حاکم کا یہ مثالیت پسند تصور محض ایک مغالطہ ہے جس کی عملی کامیاب مثال موجود نہیں ہے۔ استبداد کے ساتھ عدل کا وجود ایک محال خواہش ہے جو صرف مطلق العنانیت کا راستہ کھولتی ہے۔ اس تصور میں استبداد کا مطلب یہ ہے کہ حاکم ریاست کے ادارہ جاتی قانونی ڈھانچے، مشاورت اور انتظامی پراسس کے ماتحت نہ ہو، وہ سماج کی بہتری کے لیے جو چاہے اس کی خاطر مکمل قوتِ تنفیذ رکھتا ہو۔ مگر یہ کہ وہ اس مکمل بااختیار قوت تنفیذ رکھنے کے ساتھ یہ خصلت بھی رکھتا ہو کہ وہ انصاف پسند اور عدل کرنے والا ہو۔ یہ سوچ صرف خیالی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے مذہبی بنیادیں کھڑی کی گئی ہیں۔ سیاسی فقہ میں مسلم ریاستوں کے سلاطین کے غیرشوارئی طرز حکومت کے ساتھ عدل کا لاحقہ لگا کر معتبر بنایا گیا تھا۔ ورنہ استبدادِ عادل یا انصاف پسند استبداد کا تعلق اسلامی تعلیمات سے ہر گز نہیں ہے۔ انصاف پسند استبداد خلافت راشدہ کے بعد کے زمانے کا تصور ہے۔ دین کی حقیقی تعبیر میں سیاسی نظم شورائیت اور قانونی انصرام کے ستونوں پر قائم ہے۔ حیران کن طور پہ عام طورپہ انصاف پسند استبداد کے حوالے سے بطور مثال حضرت عمرؓ کی شخصیت کو پیش کیا جاتا ہے۔ خلیفہ راشد کی ذات سے استبداد کو منسوب کرنا درست نہیں ہے۔ ان کی ذات میں زبردست عزم، حق کے لیے جرأت اور ارادے کی پختگی کے اوصاف نمایاں تھے، مگر یہ استبداد سے قطعی مختلف شے ہے۔ خلیفہ راشد شورائیت اور قانونی انصرام کے انتہائی پابند تھے۔ وہ اپنی صفائی میں عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوجاتے تھے۔ ان کی بہادری، قوت فیصلہ اور حزم کو آمریت و معلق العنانیت کا نام دینا ٹھیک نہیں ہے۔ ایک ایسے خلیفہ کی جانب استبداد کی نسبت کرنا جس نے یہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ ’’تم نے کب سے لوگوں کو غلام سمجھنا شروع کردیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا ہے‘‘ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے ہی کہا تھا کہ ’’میں ڈرتا ہوں کبھی ایسا وقت آئے جب لوگ مجھے مشورہ دینا ترک کردیں‘‘۔

دین میں انصاف پسند استبداد کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ یہ محض افسانوی تصور ہے کہ کوئی فرد درہ لے کر آئے گا اور سماج میں انصاف کا بول بالا کردے گا۔ اس دھوکے نے صرف آمریتوں اور بادشاہتوں کے لیے راہیں کھولی ہیں۔ اس سے فردواحد یا ایک خاندان میں طاقت کا ارتکاز ہوتا ہے جو معاشرے میں مزید تلخیاں بھر دیتا ہے۔

70 اور 80 کی دہائیوں میں مسلم دنیا میں اسی تصور کی بنیاد پر آمریتوں نے جڑیں پکڑیں۔ ہم نے جنرل ضیاء الحق کی شکل میں ایک مسبتد انصاف پسند خلیفے کا عکس ہی دیکھا تھا، جس میں استبداد طول پکڑ گیا مگر انصاف کہیں نہ دیکھا جاسکا۔ صدام حسین، معمر قذافی اور جمال عبدالناصر بھی اسی طرح گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے تلوار لہراتے عدل کے پرچار کا نعرہ بلند کرتے آئے تھے۔ مگر اپنے پیچھے ادھڑے ہوئے معاشرے چھوڑ گئے۔

انصاف پسند استبداد کا تصور ان معاشروں میں جڑ پکڑتا ہے جہاں سیاسی سماجی انصرام ناکامی کی حد تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے اور اس کے نتیجے میں مایوسی پھیل جائے۔ اگر حقیقی قانونی اور جمہوری انصرام موجود ہی نہ ہو یا اس کے راستے میں روڑے اٹکائے گئے ہوں تو ایسے میں قانونی وجمہوری انصرام کو الزام نہیں دیا جاسکتا اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سارے مسائل طاقت کی قانونی تقسیم کی وجہ سے ہیں، لہذا اس نظم کو لپیٹ کر کسی فرد واحد کو قوت تنفیذ دے دی جائے۔ اس متبادل کا تجربہ بارہا ہوچکا ہے، اس سے استبداد تو طول پکڑتا ہے مگر انصاف نہیں ملتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ باوجود خامیوں اور مسائل کے قانونی ڈھانچے، جمہوری انصرام اور طاقت کی تقسیم کے نظم کو ہی باوقعت اور مضبوط بنانے کی جدوجہد کی جائے۔ فردواحد سب کچھ ٹھیک کردے گا۔ یہ بس دھوکا ہے جس کے پیچھے عوام کا درد نہیں ہوتا، بلکہ مطلق العنانیت کی خواہش چھپی ہوتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...